پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ کیوں ختم نہیں ہوتا

پاکستان میں جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ جبری گمشدگیوں کا معاملہ پہلی بار پرویز مشرف کے دور حکومت میں اس وقت شروع ہوا تھا جب پاکستان نے امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت اختیار کی اس کے بعد سے لاپتا افراد کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سب سے زیادہ لوگ لاپتہ ہوتے ہیں دیگر صوبوں مثلاً پختونخوا میں وزیرستان میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں مگر بلوچستان میں جبری طور پر گمشدہ افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
بلوچستان میں یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ ان میں ایسے افراد بھی ہیں جو دس بارہ سال سے لاپتہ ہیں۔ جبری طور پر لاپتہ افراد کے لواحقین یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہمارے پیاروں کو پاکستانی اداروں نے اغوا کیا ہے۔ ان میں بعض لاپتہ افراد کے لواحقین پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی پہ الزام لگاتے ہیں کہ ان لوگوں نے اغوا کیے ہیں۔ کچھ لوگ سوشل میڈیا پر ایسی خبریں شیئر کرتے ہیں کہ ہمارے لوگوں کو نامعلوم افراد نے فلاں جگہ سے غائب کیا ہے۔
مگر یہ سب باتیں ایک طرف کہ کس نے اغوا کیا کس نے کہاں سے ان افراد کو لاپتہ کیا، سوال یہ ہے کہ لوگ لاپتہ کیوں ہوتے ہیں، جبری گمشدگیوں میں روز بروز اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ میرے خیال میں بنیادی اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے، کون ہیں جو عام شہری بلکہ ایک پاکستانی کو جبری طور پر لاپتہ کرتے ہیں؟ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد افراد لاپتہ ہو چکے ہیں، ان میں سے اکثریت بلوچ طالب علموں کی ہے جو بلوچستان یا ملک کے دیگر علاقوں کی یونیورسٹیز میں زیرتعلیم رہے ہیں۔
آج سے چند ماہ پہلے ایک خاتون بتا رہی تھی کہ ”شام کے وقت کچھ لوگ سفید رنگ کے کپڑوں میں ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور میرے شوہر کا پوچھا کہ وہ کہاں ہے، میرے شوہر گھر میں تھے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ ہم ان کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور تفتیش کے بعد ہم ان کو رہا کر دیں گے۔ میں نے اصرار کیا کہ میرے شوہر کو چھوڑ دو میرے گھر میں کوئی نہیں ہے میں اکیلی عورت ہوں میرے شوہر نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے میرے شوہر نے گریجویشن کی ہے اور اپنی جاب کر رہا ہے مگر ان لوگوں نے میری ایک بات بھی نہیں سنی اور میرے شوہر کو رات کے وقت اپنے ساتھ لے گئے۔
اس خاتون نے بتایا کہ اس واقعے کو پانچ مہینے ہوئے ہیں اور ان پانچ مہینوں میں کبھی پریس کلب کے سامنے اور کبھی سڑکوں پر حکومت وقت سے مطالبہ کر رہی ہوں کہ میرے شوہر کو بازیاب کرو۔ مگر اب تک وہ بازیاب نہیں ہوئے ہیں۔“ یہ ایک بہت سنگین مسئلہ ہے مگر کوئی میڈیا چینل اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ ان لاپتہ افراد کے لواحقین روزانہ سڑکوں پہ ہوتے ہیں اور حکومت وقت سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے مطالبہ کرتے ہیں مگر کوئی سننے والا نہیں ہے۔
لاپتہ افراد کی مائیں بہنیں کبھی پریس کلب کے سامنے تو کبھی سڑکوں بازاروں میں میں بیٹھے احتجاج کرتی نظر آتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان لاپتہ افراد کے لواحقین میڈیا پہ ٹرینڈ چلاتے ہیں کہ ہمارے پیاروں کو بازیاب کرو۔ ان لوگوں سے پاکستان کا مستقبل جڑا ہوا ہے اگر یہ لوگ اسی طرح سڑکوں پہ اور پریس کلب اور وزیراعلی ہاؤس کے سامنے بیٹھے اپنے باپ بھائی کی بازیابی کے لیے مطالبہ کرتے ہیں تو یہ ملک ترقی کیسے کرے گا کیونکہ دانشور کہتے ہیں کہ مستقبل کا تعلق حال سے ہے اور حال کے بطن سے مستقبل پیدا ہوتا ہے تو اگر حالات اس طرح کے ہوں تو اس میں ملک ترقی کیسے کرے گا۔
پاکستان میں کئی سالوں سے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے اور روز اس میں اضافہ ہو رہا ہے یہ مسئلہ کیوں ختم نہیں ہوتا ہے اس کا دو ٹوک جواب دینا تو مشکل ہے۔ تاریخ کس طرح حرکت کرتی ہے اس سے ہم یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ مسئلہ کیوں ختم نہیں ہوتا۔ مورخ اور فلسفی تاریخی عمل اور اس کی حرکت کے سربستہ راز کو جاننے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے تاریخ کے چار عمل متعین کیے ہیں ؛ چکردار، پنڈولم، آرا اور تیر! جب تاریخ کی چکردار گردش کی بات کی جاتی ہے اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ تاریخ ایک سرکل میں محو گردش ہے اس لیے ایک جیسے واقعات بار بار آ رہے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس چکر سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اور جو اس میں مقید ہو گیا اس کے لیے اس کے سوا اور کوئی دوسری صورت نہیں ہے کہ وہ ایک ہی قسم کے واقعات کو دہراتا رہے۔ دوسری حرکت تاریخ کی پنڈولم ہے۔ اس عمل میں تاریخ دائیں اور بائیں حرکت کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے لیے اور کوئی انتخاب نہیں ہوتا ہے کہ وہ اوپر یا نیچے کی جانب جائے۔ ”سی سا“ (آرا) کی حرکت میں تاریخی عمل اونچا اور نیچا یا نشیب و فراز کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس حرکت سے مورخ تہذیبوں اور حکمران خاندانوں کے عروج و زوال کو بتاتے۔
آخری اور چوتھی حرکت تیر کی ہے اس میں تاریخی عمل متحرک ہوتا ہے۔ اس حرکت میں تاریخ بغیر کسی رکاوٹ اور دشواری کے برابر آگے کی جانب جاتی ہے اور کبھی اس کی راہ میں رکاوٹیں آتی ہیں مگر وہ انہیں دور کرتے ہوئے بڑھتی رہتی ہے۔ اس حرکت سے قوموں کی ترقی کا عمل ظاہر ہوتا ہے۔ چکر، پنڈولم اور سی سا کی حرکت میں قومیں ترقی کی جانب نہیں ہوتی ان کا دائرہ عمل بہت محدود ہوتا ہے صرف تیر کی حرکت قوموں کو ان دائروں سے نکال کر وسعت اور کشادگی میں لاتی ہے۔
اگر اس نظریے کو صحیح مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان میں تاریخ تیر کی حرکت نہیں کرتی بلکہ باقی تینوں کی طرح حرکت کرتی ہے اس لیے ایک جیسے واقعات بار بار رونما ہو رہے ہیں کیونکہ ہم ایک دائرے کے اندر زندگی گزار رہے ہیں اور دائروں کی زندگی میں کوئی آخری پوائنٹ نہیں ہوتا بلکہ ایک پوائنٹ ہوتا ہے جہاں سے انسان شروع کرتا ہے مطلب جو سٹارٹ پوائنٹ ہے وہی اینڈنگ پوائنٹ بھی ہے۔ دائروں میں انسان جہاں سے شروع ہوتا ہے اگر دائرہ چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو انسان آخر میں اسی پوائنٹ پر آ کے رک جاتا ہے جہاں سے اس نے چلنا شروع کیا تھا۔
یہ بھی واضح رہے کہ دائروں کی زندگی میں کوئی خوشی نہیں ہوتی بلکہ وہی واقعات بار بار انسان کے سامنے آتے ہیں۔ اتنی بڑی کہانی بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ جو جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ہے اس لیے ختم نہیں ہو رہا کیونکہ پاکستان کی تاریخ دائرے میں گھومتی ہے۔ ایک سیاسی جماعت حکومت میں آنے سے پہلے کہتی ہے کہ ہماری حکومت آئے گی تو میں یہ مسئلہ ختم کروں گا پھر جس اس جماعت کو اقتدار مل جاتا ہے وہ اپنے وعدے سے مکر جاتی ہے اور اس طرح یہ مسئلہ ویسے ہی رہتا ہے۔ ان لاپتہ افراد کے لواحقین جب احتجاج ریکارڈ کرتے ہیں یا پریس کلب کے سامنے بیٹھتے ہیں اور حکومت اپنے ذاتی کاموں سے تھوڑا فارغ ہوتی ہے تو پھر بھی اس مسئلے کو ختم کرنے کی بات نہیں کرتی بلکہ ہومیوپیتھک ٹائپ کی تنقید اور مذمت کرتی ہے اس لیے برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔

