میں حق پر تھی میں کیوں ڈرتی؟ مان جاؤ ورنہ میں تماشا لگاؤں گی!

سرکاری بنک کے ”ایف بی آر“ سیکشن میں بیٹھا وہ شخص سنجیدہ عمر تھا۔ لڑکی اس کی سب سے چھوٹی بیٹی جیسی تھی۔ انیس سالہ لڑکی کی آنکھوں میں فطری خوف اور تذبذب کی جگہ خود اعتمادی عیاں تھی۔ وہ ہاتھ میں تھامے موبائل کیمرہ کا رخ اس کلرک کی جانب کرچکی تھی۔ لڑکی کی آواز بلند ہوئی اردگرد گہرا سکوت چھا گیا۔ در فاصلہ متحیرین کی سرگوشیاں جاری ہو گئیں۔ اب وہاں صرف وہی بول رہی تھی۔ لڑکی کا لہجہ کرخت تھا۔ وہ کسی ماہر تفتیش کار کی طرح سوالات کی بوچھاڑ کر رہی تھی بنک عملہ و صارفین لڑکی کو متجسس نظروں دیکھتے جاتے تھے۔
السلام علیکم
غلام مصطفیٰ صاحب مجھے یہ بتائیں آپ سرکاری ملازم ہیں۔ آپ کو تنخواہ ملتی ہے۔ ایک تو سرکاری فیس ہوتی ہے اس کے علاوہ آپ نے مجھ سے دس ہزار روپیہ مانگا!
وہ کس بات کا تھا؟
ملازم ہڑبڑاتے ہوئے میں نے نہیں مانگا آپ کا کام ہو جائے گا آپ سے میں نے فیس نہیں لینی۔
لڑکی : آپ نے مجھ سے دس ہزار مانگا؟
ملازم: گھبرایا ہوا بدستور انکاری تھا اور لڑکی سخت لہجہ میں تکرار کر رہی تھی۔
آپ نے مجھ سے دس ہزار کا تقاضا کیا میرے پاس ریکارڈنگ موجود ہے میں محکمہ رشوت ستانی جا رہی ہوں آپ اقرار کر لیں میں ویڈیو بند کر دیتی ہوں آپ مسلمان ہیں سچ بولیں۔
ملازم مکمل حواس باختہ ہوا چاہتا تھا کہ لڑکی نے آخری نفسیاتی ضرب لگائی ”یس“ اور ”نو“ آپ نے مانگا یا نہیں مانگا؟ بتا دیں ورنہ یہاں تماشا لگاؤں گی۔
ایف بی آر ملازم: یس میں نے مانگا۔
یہ لڑکی علیشہ سہگل تھی۔ کلرک نہیں جانتا تھا کہ معصوم صورت یہ بچی جامعہ ساہیوال میں شعبہ قانون کی طالبہ ہے۔ علیشہ اپنی والدہ کے ساتھ ”ٹیکس فائلر رجسٹریشن فیس“ جمع کروانے بنک پہنچی تھی۔ حکومت کی جانب سے ٹیکس گزار بننے کی فیس مبلغ 1000 روپیہ مقرر ہے۔ ایف بی آر ملازم نے قانونی رقم وصول کی اور بعد ازاں دس ہزار روپے کا تقاضا کر دیا۔ لڑکی ضابطہ سے آگاہ تھی۔ اصرار کیا فیس تو ایک ہزار ہے آپ کو دس ہزار کس کام کے دوں؟ کلرک نے روایتی لیت و لعل سے کام لیا۔ وکالت کی طالبہ ہو کر خاموش رہنا اس کی توہین تھی۔ وہ حق پر تھی وہ کیوں ڈرتی؟
سماجی روابط کے صفحات پر ویڈیو آن کی آن میں مشتہر ہو گئی۔ اکثریت معترف دکھائی دی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ لڑکی نے سستی شہرت کے لئے ویڈیو پھیلائی۔ ایسا تھا بھی تو یہ لڑکی کا ذاتی فعل تھا۔ عمر کے ایک حصہ میں انسان نرگسی یا پھر توجہ طلب شخصیت کا حامل ہو سکتا ہے۔ سیکھنے کی بات حق پر آواز اٹھانے کا عمل ہے نہ کہ کسی کی ذات کو موضوع بحث بنا کر اصل مدعا سے ہی توجہ ہٹا دینا۔ آپ میں سے بھی بہت سوں نے وہ عکس بندی دیکھی ہوگی نہیں دیکھی تو انٹرنیٹ پر موجود ہے ضرور دیکھئے اس میں راشی ظالمین اور مظلوم عوام دونوں کے لئے سبق ہے۔
پاکستانی معاشرہ جہاں بیٹیوں کو خاموش رہنا سکھایا جاتا ہے صبر کے نام پر ظلم سہنا ان کے ڈی این اے کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ سچ کے لیے آواز اٹھانا لڑکیاں تو کجا لڑکوں کے لئے بھی شجر ممنوعہ قرار پاتا ہے۔ ایسے ماحول میں اس لڑکی کا اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا اور تماشا لگانے کی دھمکی دے کر سچ اگلوا لینا بڑی بات ہے۔ جائز جگہ خصوصاً جب لوگ آپ سے ناواقف ہوں ”حفاظت خود اختیاری“ کے لئے لئے تماشا لگانا سکھایا جانا دور جدید میں ناگزیر ہو چکا ہے۔ معاشرہ میں ظالم مظلوم کا تماشا بنا دے تو وہ درست اور مظلوم کا ایسا کرنا غلط کیوں؟ جب کوی بربریت کی اوج پر پہنچ کے کسی بھی لحاظ سے انسانی تذلیل کرنے کی ٹھان لے تو اس کو نشان عبرت بنا دینا ضروری ہوجاتا ہے۔
خواتین بعض اوقات اپنی صنف کا ناجائز استعمال کرتی ہیں جو کہ یقیناً قابل مذمت عمل ہے۔ البتہ سماج سچ اور جھوٹ کی پہچان کرنا جانتا ہے دوسروں کا ناجائز تماشا بنا کر انہیں رسوا کرنے والیاں بعض اوقات ”عائشہ اکرم“ کی طرح خود رسوا ہو جایا کرتی ہیں۔
خوب تماشا ہم کو بنایا آپ تماشا آپ ہوئے
ہم کو رسوا کرنے نکلے کیسے رسوا آپ ہوئے
خواتین کے برمحل جائز تماشا لگانے یا بالفاظ دیگر لوگوں کو اپنی مدد کے لئے پکارنے کو معاشرے کی جانب سے سراہا جانا چاہیے۔ لڑکیوں کو غیر محرمات کے معاملہ میں سخت اور محتاط رو ہی ہونا چاہیے یہی تقاضا دین بھی ہے۔ ماں بیٹی کی تربیت گاہ ہوتی ہے جہاں دختر کو پیکر وفا و سراپا ایثار بنا کر اس کا روم روم خلوص سے بھرا جاتا ہے وہیں جگر گوشوں خصوصاً بیٹیوں کو برای کے خلاف نفرت کا اظہار کرنا بھی سکھایا جانا چاہیے۔
علیشہ کی والدہ کا یہ عمل مستحسن ہے جو انہوں نے بچی کو باپ کی عمر کا آدمی کہہ کے اس کی تشہیر کرنے سے نہ روکا۔ میرے نزدیک بدی دیکھ کر طاقت کے باوجود ”چشم پتھرانا“ بھی بدی ہے۔ برای کے سامنے عمر کا فرق بھی ملحوظ خاطر نہیں ہونا چاہیے۔ عمر کا لحاظ ہی تو ہے جس کے رہتے بہت سے بڑے اپنے سے چھوٹوں کا استحصال کر جاتے ہیں اور بچے ادب اور مروت میں بعض اوقات ناقابل تلافی نقصان اٹھاتے ہیں۔
اٹھا ساقیا پردہ اس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے
بچیوں کو کم سنی سے سکھایا جانا چاہیے کہ بیٹی خود کو کوی تمہارا بھائی یا بڑا بن کے اعضاء مخصوصہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے تو فوراً سے چیخو چلاؤ لوگوں کو اکٹھا کرو اور بتاؤ کہ یہ غلط حرکت کر رہا ہے۔ جان مادر، اگر سامنا ظاہر جعفری یا شاہنواز جیسے درندوں سے ہو تو اس حقیقت کو قبول کرو کہ تم کمزور ہو مصلحت سے کام لو وہ جگہ چھوڑ کے اپنی جان بچاؤ اور بذریعہ قانون اس سفاک کا جینا حرام کردو۔ درسگاہ جاتے ہوئے کوی تمہارا مستقل پیچھا کرے چھچھوری حرکتیں کرے تو غلط تم نہیں وہ ہے۔
تمہارے والدین کی عزت اس میں ہے کہ غیر کی بات ماننے کی بجائے رش بھری جگہ سے پہلے پولیس اور دس منٹ بعد گھر والوں کو مطلع کردو۔ پولیس تاخیر سے آئے گی اگر تمہارا بھائی پہلے آ گیا تو اس کا حال مقتول شاہزیب جیسا بھی ہو سکتا ہے۔ تمہیں تدبیر سے شارخ جتوئی جیسے کسی امیر زادے سے بھائی کی جان اور اپنی عزت کو بھی محفوظ رکھنا ہے۔ دختر پدر، تم شوہر کی امانت ہو کسی اور کو اپنے پاس پھٹکنے نہ دینا کوی بغیر رضا ناپاک ارادہ سے پاس آئے تو لب بستہ ہوکے لمحہ لمحہ سسکنے کی بجائے فوراً پکار اٹھنا۔ اگر باس، استاد، کولیگ یا کوی بھی شخص تمہاری مجبوری کا فائدہ اٹھا کے ہراساں کرے تو فی الفور کسی خونی رشتہ کو اعتماد میں لے لینا۔
عورت ناتواں ضرور ہے البتہ اس کو نفسیاتی کمزور بنا دینا والدین کی خطا ہے۔ ماں باپ کو بچیوں کو دانائی کے ساتھ جائز و ناجائز میں فرق کر کے درست بولنے کی تربیت دینا چاہیے اطفال کی شخصیات میں رہ جانے والے خلاؤں کو غیر پر کیا کرتے ہیں۔ نیکی کا ساتھ سکھانا اولاد کا حق ہے اور حق تلفی کے خلاف بعض دفعہ ”علیشہ سہگل“ بن جانا بہترین عمل ہے۔ بیٹیوں کو بھی اپنے عمل سے ثابت کرنا ہو گا کہ سہمے وہ ستم گر میں تو حق پر ہوں میں کیوں ڈروں؟ ظالم کا تماشا لگانا پڑا تو میں تماشا لگاؤں گی۔

