چہرے تھے جن کے چاند سے۔ دوسری قسط
سیکوسن کب کی جا چکی تھی لیکن دل میں اس کی یاد باقی تھی لیکن جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا وہ خواب و خیال بنتی جا رہی تھی خیال یار تیرے سلسلے نشوں کی رتیں ان کے جانے کے بعد اچانک مجھے باد سموم کا جھکڑ آتا محسوس ہوا میرے سامنے ہاگی ہارا کھڑا تھا آپ مسٹر لاوانی ہیں۔ اس کو دیکھ کر دل میں اک ہوک سی اٹھی کیوں اندھیری ہے شب غم ہے بلاؤں کا نزول چند ہڈیوں کا ڈھانچہ چہرے پر بے بسی اور سلوٹیں گزرے وقت کے نشیب و فراز کا پتہ دے رہی تھیں نغمہ نو بہار اگر تیرے نصیب میں نہ ہوتو تم کیا کر سکتے ہو۔
مسٹر ہاگی ہارا کا ایک دانت سنہری تھا۔ جو لشک رہا تھا۔ جاپانیوں میں شاید یہ امارات کی نشانی سمجھا جاتا ہے مسکرایا تو ہونٹوں کا پھیلاؤ کانوں تک پہنچ گیا۔ قہر درویش برجان درویش۔ بظاہر تو منحنی سا وجود دکھائی دیتا تھا لیکن حیرانی تھی کہ ہاگی ہارا تھا بہت سمارٹ اور چاق و چوبند میرے سینے پر جو JICA کا بیج لگا تھا اسے دیکھ کر فوراً میرے پاس آیا اور مجھے خوش آمدید کہا اور کہا کہ آپ یہاں ٹھہریں عراق سے بھی دوست آئے ہیں میں ان کو لے کر آتا ہوں۔
تھوڑی دیر میں وہ دو آدمیوں کو لے کر آ گیا یہ مسٹر خالصی ہیں اور یہ مسٹر بنیل کرما ایک سرخ و سپید دوسرے کی سانونی رنگت بعد میں پتہ چلا کہ مسٹر الخالصی مسلمان ہیں اور مسٹر نبیل کرما عیسائی ہیں۔ عراق میں عیسائیوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے اور دونوں قومیں امن و سکون سے رہ رہی ہیں۔ مسٹر ہاگی ہارا بجلی کی سی تیزی سے کسٹم اور امیگریشن کے مسائل نبٹا رہا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر دونوں نئے دوستوں سے مصافحہ کیا وہ بڑی گرم جوشی سے ملے۔
ہاگی ہارا نے اشارے سے ٹیکسی منگوائی اور پہلے دونوں عراقی دوستوں کو بٹھایا۔ ٹیکسی لیموزین گاڑی تھی بہت خوبصورت اور کشادہ تھی اگر چاہتے تو ہم چاروں آسانی سے ان میں بیٹھ سکتے تھے لیکن اس نے ایک دوسری ٹیکسی منگوائی اور کہا ”اس میں ہم دونوں بیٹھ جاتے ہیں“ دونوں ٹیکسیاں اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئیں اور منزل ہماری ٹوکیو انٹرنیشنل سنٹر تھا۔ ٹیکسی مختلف راستوں سے گزر رہی تھی جہاں سے بھی گزرتی عالیشان عمارتیں پر رونق بازار اور دیدہ زیب مارکیٹیں روشنیوں سے بقعہ نو ر بنی ہوئی تھیں اور انسانوں کا ایک ہجوم دیکھنے میں آ رہا تھا۔ کیا کوئی نمائش لگی ہوئی ہے؟ میں نے پوچھا۔ ”نہیں یہاں کی روٹین ہے“ اتنی بڑی روٹین۔
اتنا اژدھام، اتنی رونق اور اس قدر خوبصورت ماحول! اس نے مجھے حیران کر دیا میں نے چند گھنٹے قبل فلائٹ کے دوران ٹوکیو کے بارے میں جو اندازہ کیا تھا کہ ٹوکیو ایک بڑا گاؤں تو ہو سکتا ہے میرے تمام اندازے دھرے کے دھرے رہ گئے تھے ہاگی ہارا کی اس دوران کمنٹری جاری تھی وہ مجھے مختلف علاقوں اور مقامات کے بارے آگاہ کر رہے تھے اور میں اس شہر کی دل فریبی میں کھویا ہوا تھا۔ کہ شہر اتنے خوبصورت اور دیدہ زیب بھی ہو سکتے ہیں۔ ہاگی ہارا نے بتایا کہ جنگ عظیم کے دوران یہ شہر بارود اور آگ کی لپیٹ میں تھا اس کی کوئی جگہ محفوظ نہیں تھی۔
اچانک ایک گولہ پھٹتا پھر دوسرا، تیسرا اور آسمان سے گولوں کی بارش شروع ہو جاتی ایک عمارت زمین بوس ہو جاتی پھر دوسری انسانوں کے لاشے تڑپتے عمارتیں مٹی کا ڈھیر بن جاتیں دیکھتے ہی دیکھتے آگ اور خون کا منظر سامنے پینٹ ہو جاتا ایک افراتفری مچی ہوتی کوئی ادھر بھاگ رہا ہے کوئی ادھر عورت مرد کا کوئی امتیاز نہیں تھا ہر آدمی گولوں کی زد میں تھا۔ تباہی تھی کہ پھیلتی جا رہی تھی جنگ کا عذاب انسانوں پر نازل ہو رہا تھا۔
بلند و بالا عمارتیں دیکھتے ہی دیکھتے صفحہ ہستی سے مٹ رہی تھیں چاروں طرف بار ود کا دھواں اور دھوئیں کے بادل پھیلے رہتے جدھر دیکھو موت کا منظر ہے انسانوں کی شیطنت تباہی کا بھوت بن کر ناچ رہی ہوتی آگ، خون اور بھوک کا طوفان تھا کہ تھمنے میں نہیں آ رہا تھا کوئی جائے پناہ نہیں تھی۔ گاڑی اچانک روشیوں کے طوفان میں داخل ہوتی اور منظر بدل جاتا۔
آپ کئی دہائیوں بعد ایک نئے شہر میں داخل ہو رہے ہیں اس طرح کہ پہلے سے بھی زیادہ بلند ترین عمارات نے ان کی جگہ لے لی ہے اور جگ مگ کرتی ایک نئی دینا آباد ہو گئی ہے۔ جو ہم نے اپنے خون پسینے سے اور شہنشاہ کے تدبر سے بنائی ہے۔ میں ان انسانوں کی محنت دیکھ کر حیران ہو رہا تھا کہ جنہوں نے خون اور آگ کی راکھ سے ایک نئی زندگی بنائی ہے دمکتے چہروں والی حسیناؤں کا یک ہجوم ہے جن کی چال میں ایک وقار اور تمکنت ہے لوگوں کی اس قدر بھیڑ میں نے پہلے یا صرف قاہرہ میں دیکھی ہے۔ جہاں لوگ اتنے خوشحال نہیں ہیں لیکن شام ہوتے ہی پورا شہر تفریح کے لئے سڑکوں پر نکل آتا ہے۔ کشادہ سڑکیں ان کے سامنے تنگ داماں لگ رہی ہوتیں۔ ”یہ ڈیٹ ہے“ اچانک ہاگی ہارا مجھ سے مخاطب ہوا۔ یہ ہماری قومی اسمبلی ہے جسے ہم ڈیٹ کہتے ہیں۔
ہاگی ہارا ”جن دنوں اسمبلی کا سیشن ہو رہا ہو تو آپ نے اس میں میری تقریر کرانی ہے“ ہاگی ہارا نے کہا مسٹر لاوانی آپ تو بہت دلچسپ آدمی ہیں۔ مسٹر ہاگی ہارا ”میں سنجیدہ ہوں میں نے اس میں اپنے مسائل اور اپنا موقف پیش کرنا ہے کہ ادھر آپ لوگوں کے پاس رقبہ کم ہے تین چوتھائی رقبے پر یہاں پہاڑ اور دریا ہیں ایک چوتھائی پر آپ کو اتنا بڑا کام کرنا پڑتا ہے اس میں انسانی آبادی کے لیے بستیاں بسانی ہیں فصلیں اگانی ہیں باغات لگانے ہیں طرح طرح کی انڈسٹری لگانی ہے ادھر ہمارے کتنے علاقے بنجر پڑے ہیں فیکٹریاں ہر سال نقصان میں جاتی ہیں اور حکومت کو مجبوراً با اثر لوگوں کے کروڑوں روپے کے قرضے معاف کرنا پڑتے ہیں“ ۔
”آپ نے ہمارے ساتھ اشتراک کر کے ہماری حالت کو سدھارنا ہے“ ۔ ”یہ عجیب ملک ہے۔ آپ کا ملک کھاتے پیتے لوگوں کے قرضے معاف بھی کر دیتا ہے لیکن اس نقصان کو سہارا کیسے جا تا ہے ہم ڈونر ملکوں سے مزید قرضہ لے کر اپنی کمی پوری کر لیتے ہیں۔ “ میں تو صرف آپ کو دلچسپ آدمی سمجھتا تھا لیکن آپ کا تو ملک بھی دلچسپ ہے ”۔
”مسٹر لعلوانی آپ کے ہاں سے پہلے منشیات کی سمگلنگ زوروں پر تھی اب بندوق کا استعمال زیادہ ہو رہا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ ہاگی ہارا نے براہ راست دہشت گرد کہنے کی بجائے الفاظ کو شائستگی کا جامہ پہنا کر پوچھا“ ۔ میں نے کہا ہم مارشل قوم ہیں لڑائی ہماری گھٹی میں پڑی ہے اور کیا کہتا اس نے دوسرا سوال کیا ”آپ کے ہاں تعلیم کا معیار کیا ہے؟“ ۔ مجھے معلوم تھا کہ اس کا اگلا سوال تعلیم کے بارے ہو گا کیونکہ تعلیم ہی انسانوں کو شائستگی اور امن کا درس دیتی ہے۔ میں نے سوال کا جواب دینے کی بجائے بات کو گھما کر کہا آپ کے ہاں تو بادشاہت ہے پھر ڈیٹ کیا کرتی ہے۔
”جی ہاں بادشاہت بھی ہے اور جمہوریت بھی ہم اپنے امور زندگی پوری تندہی اور ایمانداری سے سر انجام دیتے ہیں اور شہنشاہ کو بھی دل و جان سے چاہتے ہیں“ ۔ ہاگی ہارا نے پوچھا آپ کے ہاں تو جمہوریت ہے۔ ”لیکن ہم سنتے ہیں کہ ہرچند سال بعد فوجی سربراہ آئین کو اٹھا کر پھینک دیتا ہے اور کہتا ہے کہ کاغذ کے ان چند پرزوں کی کیا وقعت ہے“ ۔ ”مسٹر ہاگی ہارا آپ کی بات ٹھیک ہے جہاں آمریت ہوگی یہی کچھ ہو گا لیکن یہ بات مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آپ کی شہنشائیت اور اسمبلی ساتھ ساتھ کیسے چلتے ہیں“ ۔
”دونوں ادارے بڑی عمدگی اور عزت و احترام کے رشتے کے ساتھ چلتے ہیں پوری قوم اپنے شہنشاہ کے لیے جان دینے کو تیار ہے جب امریکہ نے ہم کو سر نڈر کرنے پر مجبور کیا تو اس وقت اسی شہنشاہ نے اپنی دانش سے اپنی قوم اور ملک کو سنبھالا دیا۔ ورنہ تو گلی گلی پوری قوم ہارا کری کرنے تو تیار تھی کہ ہم نے امریکہ کے آگے سرنڈر نہیں کرنا اور اپنے ملک پر جان قربان کر دینی ہے“
گاڑی اندھیرے سے نکلی اور روشنیوں کے ایک اور طوفان میں داخل ہو گئی جگمگ کرتی دکانیں ریستوران بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور اور ان میں بھی لوگوں کا وہی ہجوم دکھائی دے رہا تھا گاڑی ہر لمحہ آگے جا رہی تھی اور سارے منظر ایک ایک کر کے پیچھے ہٹتے جا رہے تھے اور یہ سارے منظر اتنے خوبصورت تھے جتنا کہ کوئی اندازہ کر سکتا ہے اور میں مبہوت ہو کر یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپانیوں نے ہٹلر کا ساتھ دیا تھا۔ اتحادی فوجوں نے جاپان کی اور خاص طور پر ٹوکیو شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ لیکن نو ر بارش میں دھلے ان علاقوں سے گزرتے ہوئے مجھے کہیں بھی احساس نہیں ہو رہا تھا کہ اس شہر میں کبھی کسی تباہی کا گزر ہوا ہو۔
ہاگی ہارا نے بتایا سر جنگ کے دوران کوئی مکان کوئی عمارت تندو تیز بمباری سے بچ نہ پائی تھی لیکن جاپان کسی طور ان طاقتوں کے آگے سر جھکانے کو تیار نہیں تھا امریکہ نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا جاپان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ جاپان کچھ عرصہ مزید اتحادی فوجوں کے خلاف جنگ کو طول دے سکتا تھا لیکن اس حادثے نے شہنشاہ کے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اس نے اپنے اور قوم کو بچانا ہے اس لیے اس نے ہتھیار ڈال دیے اور ہارا کری کے ذریعے ہزاروں لوگوں نے اپنے آپ کو گلیوں میں بازاروں میں ختم کر لیا لیکن وہ شکست کا داغ قبول کرنے کو تیار نہ ہوئے یہ شہنشاہ تھا جس نے ہم کو ہارا کری سے باز رہنے کی تلقین کی اور ہمیں ٹھنڈا کیا وگرنہ بچہ بچہ کٹ مرتا اور ہم نے خود ہتھیار نہیں پھینکنے تھے۔
سرنڈر کرنے کے ساتھ ہی جنگ ختم ہو گئی ایٹم بم گرانا امریکہ کی دہشت گردی تھی اور ایک چال تھی جو اس نے اتحادی طاقتوں کے ساتھ کھیلی کہ بجائے اس کے جاپان اتحادی طاقتوں کے آگے سرنگوں ہو اور اس میں اس کو صرف اپنا حصہ ملے اس کی بجائے سارے جاپان پر اس کا براہ راست قبضہ ہو جائے جب شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا تو یہ خبر بجلی بن کر جاپانیوں پر گری اور ہزاروں لوگ اپنی ہی تلواروں سے تہ تیغ ہو گئے۔
”اتنی بڑی شکست کے بعد ہارا کری کی کیا ضرورت تھی“
”یہ دل شکستگی تھی دراصل ہم جاپانیوں کا عقیدہ تھا کہ ہم نا قابل تسخیر قوم ہیں اور ہمارا شہنشاہ خدائی اور آسمانی طاقتوں کا نمائندہ ہے اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی یہ عقیدہ جب پاش پاش ہو گیا تو پھر جینے کا کوئی مقصد نہ رہا۔“
”شکست کے بعد شہنشاہ کا کیا کردار تھا“ میں نے پوچھا
”ہتھیار ڈالنے کے بعد جنرل میکار تھر نے شہنشاہ کو اپنی رہائش گاہ پر بلایا اگرچہ قوم نے یہ برداشت نہیں کیا جنرل میکارتھر کی بجائے شہنشاہ چل کر اس کے پاس جائے لیکن شہنشاہ نے قوم کو سمجھایا کہ قوموں کی تاریخ میں ایسے لمحات آتے ہیں جو بہادری، جرات اور صبر سے نبٹائے جاتے ہیں قوم نے ان کی آواز پر لبیک کی شہنشاہ ہیروہیٹو نے جس تدبر، صبر اور وقار کے ساتھ مکارتھر سے ڈائیلاگ کیا یہ ان کا ہی حصہ تھا۔ انہوں نے عبرت ناک شکست کے باوجود اپنی قوم کو ڈپریشن کی اتھاہ گہرائیوں سے نکالا اور اس میں عزم و ہمت پیدا کی اور اس کو نئی منزل کے لیے تیار کیا اور ترقی کی نئی راہ پر گامزن کر دیا“
”میں سوچ رہا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ اس قوم نے تھوڑے ہی عرصے میں وہ ترقی کی کہ دنیا کو حیران کر دیا اور قوموں پر اپنی عظمت کا سکہ بٹھا دیا دنیا نے نہ صرف ان کی عظمت اور طاقت کا لوہا مانا بلکہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ جاپانی قوم ایک عظیم قوم ہے۔“ اب ہم اس عظیم قوم کے عظیم ہیرو کے محل کے سامنے سے گزر رہے تھے۔
”یہ گنزا کا علاقہ ہے“ مسٹر ہاگی ہارا کی کمنٹری جا رہی تھی یہ وہ علاقہ ہے جو آپ نے خوابوں میں بھی نہ دیکھا ہو گا یہ ٹوکیو کا پوش علاقہ ہے آپ اپنی پہلی فرصت میں اسے ضرور دیکھیے گا۔ گاڑی دوڑی چلی جا رہی تھی یہ شنجوکو (Shinjuku) کو ہے۔ ہاگی ہارا بول اٹھا یہ بھی ٹوکیو کا دل ہے دنیا کی کون سی چیز ہے جو یہاں نہ ہے میں اپنے اردگرد کے ماحول کی چکا چوند میں کھویا ہوا تھا۔ پیچھے اپنے وطن کے اندھیرے میرے سامنے تھے۔
یہ چیری بلاسم ہیں۔ ہاگی ہارا نے سامنے پھیلے اشجار کی طرف اشارہ کیا اور بتایا کچھ دنوں بعد یہ پھولوں سے اٹ جائیں گے۔
”مجھے ان کے دیکھنے کا بہت اشتیاق ہے ان کی بہت تعریف سن چکا ہوں اور پڑھ چکا ہوں اور ان پر اتنی بڑی شاعری کی گئی ہے سمورائے دوران جنگ بھی ان کے اوپر سے گزر جانے کا تصور نہیں کر سکتے تھے۔ یہ اتنی پوتر اور پاکیزہ چیز ہے“ ۔ جب موسم آئے تو مجھے ضرور دکھانا۔
مسٹر لاوانی چیری بلاسم دکھانے کی اور یاد دلانے کی چیز نہیں ہے نہ ہی مجھے آپ کو یاد دلانے کی ضرورت پڑے گی جب موسم آئے گا تو ڈال ڈال پھولوں سے جھوم جائے گی فاختائیں اپنے گیت گا رہی ہوں گی نیلگوں آسمان گلابی پھولوں سے ڈھک جائے گا اور دھرتی سفید پھولوں سے اٹ جائے گی آپ کو جاپانیوں کے سارے قافلے باغوں پارکوں اور پہاڑوں کی طرف رواں دواں دکھائی دیں گے پھر آپ کو چاروں طرف صرف چیری بلاسم کے مسکراتے شگوفے اور شانت پھول چہروں پر پھیلی ہوئی مسکراہٹ دکھائی دے گی۔
میں نے دل میں کہا کتنی خوش قسمت ہے یہ قوم جو پھولوں سے اتنی محبت کرتی ہے اور جنون کی حد تک کرتی ہے اسی لیے تو ان کی باتوں میں گلوں کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ ان کی شائستگی کی کیا حد ہوگی ہمیں تو تلوار اور بندوق سے فرصت نہیں اور ہم کتنے بد نصیب ہیں کہ ہمارے رہنما اپنے کالے کرتوتوں کی وجہ سے اس پھول کی خوبصورتی کو بوٹ پالش کی سیاہی سے تعبیر کرتے ہیں۔
ٹیکسی مختلف علاقوں سے ہوتی کئی راستے عبور کرتی آخر کار (TIC) ٹوکیو انٹرنیشنل سنٹر کی عمارت کے سامنے رکی۔ ہاگی ہارا نے میری کو شش کے باوجود میرا بیگ اٹھایا دوسرے ساتھیوں کو ساتھ لیا عمارت میں داخل ہو گئے کوریڈور سے گزرتے ہوئے ہاگی ہارا نے بتایا کہ یہاں پر کامن باتھ روم ہیں۔
میں ٹھٹھک گیا کہ وہ جو بچپن سے ایک محاورہ سنتے آرہے تھے ایک حمام میں سب ننگے اب شاید اس کے عملی مظاہرے کا وقت آ گیا ہے۔ آفس میں داخل ہوئے تو وہاں پر ایک جاپانی خاتون کو موجود پایا۔
یہ مسٹر لعلوانی، الخالصی اور نبیل کرما ہیں۔ ہاگی ہارا نے خاتون سے ہمارا تعارف کروایا۔ خاتون نے مسکراہٹ اور شائستگی سے ہمیں خوش آمدید (ارسے مسے ) کہا اور لسٹ دیکھ کر کہا۔ مسٹر لعلوانی آپ کا روم نمبر 72 ہے یہ اس کی چابی ہے اس طرح مسٹر الخالصی اور نبیل کرما کو بھی چابیاں دیں۔ خاتون بولیں آپ رات کو پہنچے ہیں ہو سکتا ہو کہ آپ کو جاپانی کرنسی کا مسئلہ ہو۔ میں آپ کو مقامی کرنسی دے رہی ہوں۔ تاکہ آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو انہوں نے ہمیں ایک ایک لفافہ دیا میں نے لفافہ کھولا تو اس میں دو ہزار ین تھے لفافے کے اوپر میرا نام لکھا تھا۔
میں اپنے کمرے کی طرف آیا دروازہ کھولا بتی جلائی انتہائی صاف ستھرا کمرہ میرا منتظر تھا ایک شاندار بیڈ اس پر نرسوں کی یونیفارم کی طرح بے داغ بیڈ شیٹ بچھی ہوئی اس پر خوبصورتی سے بچھائے دو کمبل ساتھ رائیٹنگ ٹیبل موجود تھی اس پر ٹیبل لیمپ اور رائٹنگ پیڈ رکھے تھے ساتھ دو فالتو کرسیاں۔ کپڑوں کے لیے الماری، الماری میں ہینگر لٹکے ہوئے نچلے خانے میں جاپانی سلیپر میں نے الماری میں کپڑے لٹکائے اور اپنا بیگ نیچے رکھ دیا اور بیڈ پر لیٹ گیا اور دو دن میں جو کچھ مجھ پر گزرا اسے حیرانی سے دیکھ رہا تھا اور محسوس کر رہا تھا کہ نارتیا ائر پورٹ پر جس الجھن کا شکار ہوا تھا کہ اجنبی شہر میں اجنبی لوگوں کے درمیان انجانے راستے کیسے طے ہوں گے جو بڑے بڑے شہروں کے مافیا ہیں ان کے چنگل سے کیسے نکل سکوں گا۔ لیکن یہاں ایک ایک مرحلہ ایسے طے ہو رہا تھا جیسے ہم کوئی بہت بڑے سلیبرٹی ہوں اور ہمارے لیے سرخ قالین بچھا دی گئی ہو۔ جیسے اللہ دین کا جن ناریتا ائر پورٹ سے مجھے جادو کی قالین پر بٹھا کر ہوا کے دوش پر بحسن و خوبی یہاں لے آیا ہو اب مجھے ہاگی ہارا بہت پیارا لگنے لگا تھا۔
اب تک تو سیکوسن کا معصوم اور حسین چہرہ میرے تصورات پر چھایا ہوا تھا لیکن یہ سب کچھ دیکھ کر میں جاپانیوں کے حسن انتظام کا بھی قائل ہو گیا۔


