چسکا زبان کا


بچپن کی یادوں میں سے ایک یاد یہ بھی ہے کہ ایک دفعہ گھر میں شامی کباب بننے کی تیاری ہو رہی تھی اور ہنڈیا میں بنتے ہوئے شامی کبابوں کے مصالحہ کی خوشبو سارے گھر کو معطر کر رہی تھی۔ جب مصالحے کو پیسنے کا وقت آیا تو مجھے یاد ہے کہ ہمارے گھر میں ایک مضبوط پتھر کی بنی ہوئی سل ہوا کرتی تھی جس پر مصالحہ جات وغیرہ رگڑ کر پیسے جاتے تھے۔ ویسے بھی اس دور میں پیسنے والی جدید مشین تو ہوتی ہی نہیں تھیں یا بہت کم دستیاب تھیں۔

والدہ صاحبہ کو اس پتھر کی سل پر پیستا دیکھ کر میں نے یہ پیشکش کی کہ میں اس قیمہ والے مصالحے کو پیس دیتا ہوں۔ اس قیمہ کو پیسنے کے بعد ازراہ شفقت والدہ صاحبہ نے سل پر لگے مصالحہ کو کھانے کی اجازت دے دی اور فرمایا اس کو انگلی سے چاٹ لو تا کہ ضائع نہ ہو۔

میرا اس قیمے کے مصالحے کو انگلی پر اکٹھا کر کے منہ میں ڈالنا ہی تھا کہ میرے چاروں طبق لذت سے روشن ہو گئے اور گویا میں اک لطف اور لذت کے معراج یا نروانہ پر چلا گیا۔ (اسے انگریزی میں بلس بھی کہتے ہیں ) یعنی نروانہ کا مقام، شنگریلا، وہ مقام جو آپ کو بہت ہی اوپر لے جائے جہاں ہر دفعہ پہنچنا ممکن نہ ہو اور نہ ہی آسانی سے پہنچا جا سکتا ہو۔ ایسے مقام انسان کو اور بہت چیزوں میں بھی نصیب ہوتے ہیں یا انسان کوشش کرتا رہتا ہے ان کو حاصل کرنے کے لیے جیسے عبادت میں لذت اور حد سے بڑھ کر خوشی کے مقام وغیرہ، مگر آج میں کچھ ذکر زبان کی لذت اور نروانہ کو حاصل کرنے کے لے انسان کیا کیا پاپڑ بیلتا رہا ہے اس پر بات کر ون گا

اطالوی سیاح کرسٹوفر کولمبس جس نے غلطی سے امریکہ دریافت کر لیا تھا یہ بھی زبان کے ذائقے کو حاصل کرنے کے لیے مصالحہ جات کی تلاش میں نکلا تھا۔ اس کے سفر کرنے کے اور بھی مقاصد ہو سکتے ہیں مگر ان میں سے ایک ضرور یہی تھا کہ وہ لوگ پھیکے کھانے کھا کھا کر تنگ آ گئے تھے اور انہوں نے سن رکھا تھا کہ انڈیا میں مصالحہ جات ہوتے ہیں جو آپ کے کھانوں کی لذت دوبالا کر دیتے ہیں۔ غرض یہ زبان کا چسکا ہی تھا جس نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہوئے سمندر کا لمبا سفر اختیار کریں اس لذت کو حاصل کرنے کے لئے۔ اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈالا

آپ دنیا کے کسی بھی علاقے میں چلے جائیں وہاں کی تاریخ شاہد ہو گی اور آپ کو ان کے کھانا بنانے کے طریقہ سے معلوم ہو گا کے وہ لوگ خوراک اس لیے نہیں کھاتے ہیں کہ صرف پیٹ بھر جائے بلکہ وہ پوری کوشش کرتے ہیں کہ جو بھی خوراک تیار ہو وہ بے حد لذیذ اور ذائقہ دار ہو اور اس کے حصول کے لئے وہ بے انتہا کوشش اور تجربے کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً مختلف جڑی بوٹیوں اور سبزیوں کا استعمال کرتے ہیں کہ کون سی چیز زیادہ لذت دے گی اور اس کو کس انداز سے اور طریقے سے پکایا جائے کبھی کوئلوں پر بھون کر کبھی زمین کے اندر دبا کر ، کبھی پتوں میں لپیٹ کر ، کبھی مصالحہ اس کے اوپر لگا کر کبھی مصالحہ اس کے اندر لگا کر ، غرض قسم قسم کے پاپڑ بیلتے ہیں لذت کی خاطر۔

ہزاروں سال پہلے دفن ہونے والے فرعونوں کے پاس سے بھی صرف سو کھی دال اور چاول کے دانے اور روٹی کے ٹکڑے ہی نہیں بلکہ ساتھ میں مصالحہ جات بھی ملے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی ذائقے کا ذوق رکھتے تھے۔

ہمارے بر صغیر پاک و ہند میں راجوں اور نوابوں کی تاریخ اٹھا کر کے دیکھ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ انہوں نے ایسے استاد خانساموں کو رکھا ہوتا تھا جو اپنے کام میں بہت ماہر اور مشہور ہوتے تھے وہ ان سے طرح طرح کے پکوانوں کی فرمائش کیا کرتے تھے۔ اور وہ استاد لوگ بھی ہر قسم کے مختلف تجربے کیا کرتے تھے مثلاً کبھی زعفران کا استعمال اور کبھی کسی اور نایاب چیز کا استعمال کر کے مختلف چیزوں کو مختلف طریقوں سے تیار کرتے تھے۔ مرغی کو ہی لے لیں نہ جانے اس کو کتنے طریقوں سے پکایا جا سکتا ہے کڑاہی سے لے کر چکن جلفریزی وغیرہ۔

اسی طرح ہر علاقے میں ان کے اپنے رواج و تمدن کے مطابق پکانے والے ہوا کرتے تھے۔ کشمیر میں وازوان ہوتے ہیں اور دوسرے علاقوں میں خانساما، نانبائی، نائی، شیف، وغیرہ۔ یہ استاد کبھی بھی اپنے پکانے کے طریقے لوگوں کو نہیں بتایا کرتے تھے اور ہمیشہ راز رکھا کرتے تھے۔ آج کل بھی مشہور ہوٹل وغیرہ اپنے پکانے کی ترکیب کسی کو نہیں بتاتے ہیں۔ امریکہ میں مشہور کرنل سینڈرز نے 1952 میں کے ایف سی کے نام سے چکن فرائیڈ کا بزنس شروع کیا اور اپنی خاص بنائی ہوئی ترکیب کا استعمال کیا جو لوگوں کو بہت ہی پسند آئی۔ وہ ترکیب آج تک کوئی نہیں جان پایا، صرف اتنا معلوم ہے کہ انہوں نے گیارہ مصالحہ جات کا استعمال کیا تھا اس میں۔ اب وہ کون سے مصالحہ جات ہیں آج تک کوئی نہیں جانتا۔

اسی طرح بڑی بڑی فوڈ کی کمپنیوں نے ٹیسٹ کچن بنائے ہوئے ہوتے ہیں جس میں وہ مختلف تجربے کرتے رہتے ہیں کے ایسا برگر ایسا چکن سینڈوچ بنایا جائے جو لوگوں کی زبان کو چھو جائے اور وہ بار بار انہیں کے پاس واپس آئیں وہ لذت حاصل کرنے کے لئے۔ آج کل امریکہ میں فرائیڈ چکن سینڈوچ کو بہترین سے بہترین بنانے کی جنگ جاری ہے مختلف کمپنیوں میں۔ پاپائے چکن امریکہ نے کچھ ماہ قبل ایک چکن سینڈوچ کا تعارف کروایا جو بہت ہی پسند کیا گیا۔ یہاں تک کہ لوگ گھنٹوں لائنوں میں کھڑے رہتے تھے اس کے حصول کی خاطر اور اس میں وہ دھکم پیل بھی برداشت کرتے تھے اور بعض جگہوں پر تو بندوقوں سے شدید لڑائی ہوئی اس چکن سینڈوچ کے پیچھے۔

تھائی لینڈ میں عیش اور عشرت کے شائقین کے لیے ایک ایسی کافی کے بیج تیار کیے جاتے ہیں جو ہاتھیوں کو کھلائے جاتے ہیں۔ جب وہ ہاتھی ان کافی کے بیجوں کو کھا کر پاخانہ کر دیتے ہیں تووہ بیج ان کے پاخانوں میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ پھر ان کو دھو کر ان کی کافی بنائی جاتی ہے جو بہت ہی مہنگی بکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طریقہ عمل سے کافی کی افادیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ کافی آپ کو دنیا میں ہر جگہ دستیاب ہوگی۔ دبئی میں اعلی درجے کی کافی کے اندر 24 کیرٹ سونے کی پتیاں ڈالی جاتی ہیں، غرض قسم قسم کی ترکیبیں کی جاتی ہے اس نروانہ کو حاصل کرنے کے لیے۔

ٹیکساس امریکہ کا باربی کیو دنیا میں بہت مشہور ہے، وہ ایک اچھی نسل کی گائے کا گوشت لے کر اس پر مصالحہ لگا کر ہفتہ بھر چھوڑ دیتے ہیں اور پھر اس کو ہلکی کوئلوں کی آگ پر چوبیس گھنٹوں کے لیے پکاتے ہیں۔ یہاں میں یہ بھی ذکر کر دوں کے ذائقے کے حصول کی خاطر صرف مصالحہ جات کا استعمال ہی نہیں بلکہ اس کی تیاری کا انتظام بہت پہلے شروع کر دیتے ہیں۔ مثلاً اچھا بار بی کیو کھانے کے لیے اچھا گوشت بھی ضروری ہے، جس کے لئے وہ ان جانوروں کی بہت اچھے طریقے سے پرورش کرتے ہیں اور ان کو اچھی خوراک فراہم کرتے ہیں۔ پھر ان جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد ان کے گوشت کو چربی میں لپیٹ کر ایک سال کے لئے ٹھنڈ خانوں میں رکھ دیا جاتا ہے۔ پھر ان کے گوشت کے بنے ہوئے برگر اور سٹیکس بہت ہی مہنگے داموں میں بیچے جاتے ہیں۔

میرے بھائی نے ایک دفعہ مجھے آ کر بتایا کہ اس نے ایک برگر کھایا تھا جس کی قیمت 300 ڈالرز تھی اور وہ نہایت ہی لذیذ تھا اور اس نے اس سے پہلے کبھی بھی اتنا لذیذ اور ذائقہ دار برگر نہیں کھایا۔ بہرحال میں حیران ہوا کیونکہ ہمارے دیسی لوگ تو ایسی فضول خرچی نہیں کرتے، مگر اس نے مجھے بتایا کہ اس کو کمپنی کی طرف سے خاص دعوت تھی مگر اس کا کہنا تھا کہ جب بھی موقع ملا وہ خود بھی اپنی جیب سے خرچ کر کے کھائے گا اس لذت اور اس نروانا کے حصول کی خاطر۔ مگر سچ پوچھیں تو جو لذت ماں کے سل پر پیسے مصالحہ میں پکے کھانوں میں تھی وہ کسی بھی ماہر پکواں خوان کے ہاتھ میں نہی ملی کیونکہ اس میں محبت کا وہ عنصر شامل نہیں جو ماں کے دل میں ہوتی ہے

ماواں پھکی دال کھواون سوہنی نیندر آوے

مائیں پھیکی دال کھلائیں اور سوہنی نیند آئے

Facebook Comments HS