ایل جی بی ٹی، ہمارے مدرسے اور ہمارے دانشور!
ملک عزیز کے ”بڑے“ کالم نگار لکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ ”بڑے“ سے مراد ایسا کالم نگار ہے جس کے والد گرامی کا ایک نام ہو اور اسی نام کی برکت یا سفارش سے آپ کو کسی بڑے اخبار میں لکھنے کا موقع میسر آیا ہوا ہو۔ تو وہ بڑے کالم نگار ٹرانسجینڈر بارے قانون کے بارے میں لکھتے ہیں، ”اگر کوئی شخص اپنی جنس M سے F یا F سے M کروانے کی درخواست نادرا میں جمع کروائے گا تو نادرا اس کے شناختی کارڈ پر جنس کے خانے میں X لکھے گا۔ یعنی باطنی احساس کے تابع اگر کوئی شخص اپنی جنس کا تعین کروانا بھی چاہے گا تو اسے X کی شناخت دی جائے گی نہ کہ اس کی ’جنس تبدیل‘ کر کے مرد کو عورت اور عورت کو مرد بنا دیا جائے گا“ ۔
تو پوچھنا تو بنتا ہے کہ حضور جب آپ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ اگر کوئی F سے M یا M سے Fکی طرف جانا چاہے تو نادرا اسے X کی شناخت دے گا تو اور جنس کی تبدیلی کیا ہوتی ہے؟ کسی مرد نے عورت اور کسی عورت نے مرد ہونے کی درخواست تو دے دی اور اسی نقطے پر اعتراض ہو رہا ہے جس کو آپ نے نادرا کی طرف سے Xکی شناخت دیے جانے کی کمزور دلیل مہیا کی ہے۔ معاملہ تو یہ ہے ہی نہیں کہ نادرا اسے کون سا شناختی حرف دے گا بلکہ معاملہ Mسے FاورF سے M کی طرف جانے کا ہے، نادرا بھلے اسے Xکی بجائے آپ کا نام دے دے پھر بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا کیونکہ X کی بجائے Yیا P کی شناختی علامت بھی دے دی جائے تو کوئی مسئلہ نہیں۔
مسئلہ وہی ہے کہ اس قانون کے تحتFسے Mیا اس کے برعکس جانے کا ہے اور آپ نے خود بھی تسلیم کر اس قانون کے تحت ایسا ممکن ہو گا اور مدارس یا مولویوں کی طرف سے اعتراض اسی بات پر ہے، اس بات پر نہیں کہ اسے Xکی شناخت دی جائے یا نہیں۔ باقی آپ کا اس بل پر اعتراضات کو مولویوں یا مدارس کا اعتراض کہنا بھی آپ کی لاعلمی کی دلیل ہے۔ آپ جیسوں کا تو ماننا ہے کہ ”ان پڑھ“ مولوی سوشل میڈیا یا جدید ٹیکنالوجی وغیرہ سے کوسوں دور ہے تو کیا آپ بتانا چاہیں گے کہ سوشل میڈیا پر اس بل کے خلاف جو طوفان برپا ہے وہ کس نے بپا کیا ہے؟ جناب! یہ صرف مولویوں یا مدارس کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی عوام کا اکثریتی فیصلہ ہے کہ اس بل میں خواجہ سرا کے نام کی بجائے ٹرانسجینڈر کا نام آنا ہی ہے بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے جس پر خود خواجہ سراؤں کے الماس بوبی جیسے رہنماؤں کو بھی اعتراض ہے۔
موصوف مزید لکھتے ہیں، ”یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ ایسے میں ہم جنس پرستی کی راہ کیسے ہموار ہوگی اور کیسے ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ اس قانون کے بعد لوگ دھڑا دھڑ اپنی جنس تبدیل کروانے اسپتالوں میں پہنچ جائیں گے اور اس کے بعد آپس میں شادیاں رچائیں گے؟ اگر وہ چاہیں بھی تو یہ ممکن نہیں کیونکہ پاکستان میں نکاح نامہ صرف M اور F کو ہی رجسٹرڈ کرتا ہے X کو نہیں“ ۔ تو حضور جب اگر M اپنے باطنی احساس کے تابع F بن جائے یا اس کے برعکس بن کر کسی ہم جنس کے ساتھ رہنا شروع کر دے تو اس کی روک تھام کا کیا ذریعہ اپنایا گیا ہے یا اپنایا جائے گا؟
نکاح کی بات ہی بعد کی ہے۔ یہ اس قانون میں کہاں لکھا ہے کہ Xکسی F یا M کے ساتھ نہیں رہ سکتا /سکتی؟ پھر آپ نے لفظ ”باطنی احساس“ لا لفظ استعمال کیا تو حضور اس باطنی احساس کی ناپ تول کا کون سا ترازو، آلہ یا ایپ سائنس یا قانون نے ایجاد کرا لی ہے؟ اگر باطنی احساس ہی معاشرے میں کسی چیز کے جواز یا عدم جواز کی کسوٹی قرار دیا جائے تو جرائم کی باطنی احساس کے تابع ہی کیے جاتے ہیں۔ پھر کیوں نہ ایسے تمام افراد کو مجرم کی بجائے کوئی نئی شناختی علامت دے کر جواز دے دیا جائے؟
باقی یہ کہنا کہ ہم نے کیسے فرض کر لیا جائے تو حضور آج جتنے بھی سائنسی حقائق ہیں انھیں ابتدا میں فرض ہی کیا جاتا ہے۔ کیا آپ مفروضہ یا Hypothesis سے واقف نہیں اور یہاں تو معاملہ اور بھی سیریس ہے کہ بدقماش لوگ اس کا سہارا لے کر یقینی جرائم کریں گے؟ پھر جب ایسی بات ہوتی ہے تو آپ خواجہ سراؤں کے حقوق کی آڑ لیتے ہیں جبکہ خواجہ سرا خود اس بل کے مخالف ہیں۔
موصوف مزید لکھتے ہیں، ”اور رہی یہ بات کہ باطنی احساس کے تابع جنس کی تبدیلی کی خواہش کرنے والوں کو پہلے کسی میڈیکل بورڈ کے حوالے کیا جائے جو اس کا معائنہ کر کے جنس کا تعین کرے بالکل ایسے ہے جیسے بظاہر مرد نظر آنے والے شخص کو کہا جائے کہ تم بھی کسی میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہو کیونکہ شادی کے بیس سال بعد بھی تم نے بچہ پیدا نہیں کیا لہٰذا ضروری ہے کہ تمہاری جنس چیک کی جائے“ ۔ یہاں موصوف نے دلیل کی بجائے استدلال سے کام لیا لیکن وہ بھی بوگس کیونکہ ایسی صورت میں مرد شادی ہی نہیں کرتا اور اگر کر بھی لے تو بیس سال تو دور کی بات، دلہن اور اس کے والدین کی طرف یہ مسئلہ پہلے ہفتوں میں اٹھایا جاتا ہے اور خلع یا طلاق لے لی جاتی ہے اور مزید یہ کہ بچے پیدا نہ ہونے کو آپ نے نامردی سے کیسے تعبیر کر لیا؟
بہت سے لوگ جنسی اعتبار سے مکمل فٹ ہوتے ہیں لیکن ان کی اولاد نہیں ہوتی کیونکہ اولاد نہ ہونے کا تعلق نامردی سے نہیں بلکہ سپرم کے ساتھ ہے۔ آپ اچھے محقق ہیں کہ آپ نے سپرم نہ ہونے کو نامردی کے ساتھ لازم کر لیا ہے؟ پھر آپ کہتے ہیں کہ اسے میڈیکل بورڈ پر نہیں چھوڑنا چاہیے تو حضور جنس وغیرہ میڈیکل کا مسئلہ ہے تو اسے میڈیکل بورڈ پر ہی چھوڑا جائے گا نہ کہ کسی کی کالم نگاری پر۔ کوئی بھی قانون بناتے وقت معاشرے اور روایات کو مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے تو جب معاشرے میں مرد، عورت اور خواجہ سرا کی اصطلاحات موجود ہیں تو ایک نئی اصطلاح ”ٹرانسجینڈر“ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
کیا اس اصطلاح کی کوئی غیر مبہم تعریف وضع کی گئی جبکہ جہاں سے یہ لفظ لیا گیا ہے وہاں اس سے مراد فرد ہے جو مکمل مرد ہے لیکن وہ خود کو عورت تصور کر لے یا اس کے برعکس اور پھر کیا گارنٹی ہے کہ اس اصطلاح کو برائی یا اس کے تحفظ کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا؟ یہاں تو سزا دینی مقصود ہو تو سمندر پار ”بلیک ڈکشنری“ سے اثاثے کی تعریف کا سہارا لے لیا جاتا ہے جو قانون میں موجود ہی نہیں تھا تو یہاں سمندر پار کی اس اصطلاح کو قانون میں شامل کیا جا رہا ہے اور وہ بھی کسی واضح تعریف اور اس کے اثرات کا تدارک کیے بغیر محض کسی فرد کے احساس کے تابع۔ حضور قانون کسی فرد کے تابع ہوتے اور نہ ہی ان کی زبان مبہم ہوتی ہے؟
موصوف مزید لکھتے ہیں کہ ”ہم جنس پرستی کے سب سے زیادہ واقعات کہاں اور کس طبقے میں رپورٹ ہوتے تھے (ہیں ) ، اب ٹرانس جینڈر طبقے کو حقوق دینے کے لیے ملک میں قانون بنایا گیا ہے تو سب سے زیادہ شور وہی مچا رہے ہیں جو مدرسوں میں بچوں سے ہونے والی زیادتیوں پر منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں، اصل سوال یہ پوچھنا چاہیے کہ مدرسوں میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا وہ عین اسلام ہے؟“ ۔ ایسے کو تیسا کے تحت تو جواب یہی ہے کہ آپ کے کالموں میں جو لکھا جا رہا ہے کیا وہ عین اسلام ہے؟
اب آتے ہیں تحقیقی جواب کی طرف کہ ہم جنس پرستی کے زیادہ واقعات کہاں رپورٹ ہو رہے ہیں تو کاش آپ اس حوالے سے کسی غیر جاندار تحقیق کی روشنی میں اعداد و شمار ہی لے آتے۔ میرے سامنے یونیسف کی ایک رپورٹ ہے جس کے مطابق بچوں کے ساتھ مانوس جگہوں پر ہونے والے واقعات کی تعداد 2391، سکولوں میں 78، ہوٹلوں میں 56، میڈیکل کیمپوں میں 23، دکانوں میں 73 جبکہ مساجد مدارس میں 117 ہے۔ 2007 سے 2011 تک بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والوں میں جان پہچان والے افراد 16219، ہمسائے 955، رشتہ دار 781 جبکہ مولوی 152 تھے۔ اب یہ نہیں کہنا کہ ہم جنس پرستی میں آپ بچوں کی تعداد کہاں سے لے آئے؟ کیونکہ حضور آپ نے مدارس کا ذکر کر کے خود ہی بات کو بچوں سے مختص کیا کیونکہ مدارس میں بچے ہی پڑھتے ہیں بڑے بڑے کالم نگار نہیں۔


