ویرانہ میں گزرے تین برس کی بہاریں


اب کہاں وہ جنرل بس سٹینڈ فیصل آباد کے سامنے آٹو پارٹس دکان کی رونقیں اور کہاں کینیڈا کے برامپٹن شہر سے شمال میں کیلیڈن کی حدود میں ہمارا ٹھکانا ایک ویرانہ۔ ارد گرد سب سو دو سو اور تین سو ایکڑ کے زرعی فارم، اور چاروں طرف پھیلی برف کی چادر۔ دھچکا تو لگنا ہی تھا۔ مگر محض خدا تعالی سے استمداد چاہتے سر جھکا کے اپنی استعداد کے مطابق دن رات نہ دیکھتے محنت پہ جٹ چکے تھے۔

تین چار ماہ گزرتے ابتدائی مشکلات پر قابو پاتے ہم یہاں کے ماحول میں دلچسپی لیتے ڈیڑھ ایکڑ زمین پر واقعہ

اس ساٹھ ستر برس پرانے پٹرول پمپ کے کاروبار کو سمجھنا شروع ہو چکے تھے۔ سابقہ سیلز مین ماشاءاللہ ایوب ریسرچ فیصل آباد کا چھٹی پر آیا ریسرچ افسر تھا۔ اور اب ہمارا استاد بھی۔ مگر جلد ہی اس کی استاد یوں کے داؤ پیچ سمجھ آنے پر جان چھڑا کے باپ بیٹا اٹھارہ گھنٹے ڈیوٹی سنبھال چکے تھے۔ اسی پراپرٹی پر ذرا فاصلے پر کوئی چار مرلہ کی عمارت تھی نیچے کا حصہ ریسٹورینٹ۔ سابقہ مالک نے ہی کرایہ پر لے کر اپنے بیٹے کو بٹھا دیا تھا اور اپنی نئی گرل فرینڈ کے گھر منتقل ہو چکا تھا اسی کے اوپر بنے چھوٹے سے فلیٹ میں ہم رہ رہے تھے۔ علی الصبح دور کے قصبوں سے برامپٹن ٹورنٹو کام پہ جانے والے ناشتہ کے لئے رکتے پھر ارد گرد کے کے فارغ جوان بوڑھے جوڑے اور افراد اکٹھے ہوکے پاکستان میں نائی کی دکان جیسا ماحول بنا، سیاست اور مہنگائی اور سکینڈلز پر گفتگو کرتے۔ پھر بچوں کو سکول چھوڑ کر سکول بسیں آٹھ دس پیچھے آ کھڑی ہوتیں اور ڈرائیور ناشتہ کرتے گپ مارتے۔ سہ پہر سے پہلے ریسٹورنٹ بند ہو جاتا مگر ارد گرد کے رہائشی لڑکے لڑکیوں کے گروپ آ جاتے۔ گویا کچھ شکلیں نظر آہی جاتیں۔

علی الصبح تہجد ادا کر کے میں پٹرول پمپ کھولتا سورج نکلتے بیگم ناشتہ لئے آ جاتیں میرے ناشتہ کرتے وہ اندر باہر صفائی کرتیں۔ ناشتہ کر کے بیٹا اعتزاز احمد ڈیوٹی سنبھالتا اور میرا آرام کا وقت ہوتا سہ پہر میری ڈیوٹی دو تین گھنٹہ۔ اور پھر رات دس بجے پمپ بند کر دیا جاتا۔

جنرل بس سٹینڈ فیصل آباد کے سامنے دس مرلہ کی آٹو پارٹس کی مصروف ترین دکان جہاں سات آٹھ ملازم ہوتے اور پیپلز کالونی کے پوش علاقے میں دو کنال کی کوٹھی چھوڑ کے آنے والے لئیق احمد کے گھرانے نے تین سال یونہی گزارے مگر یہ تین سال سکون اور اطمینان اور تسلی والے تھے۔ امن و امان کی بد حالی، جان و مال، عزت و آبرو، ڈاکوں قبضوں اور مذہبی انتہا پسندی کے خوف سے چھٹکارا ہو گیا تھا۔ اور یہاں بھی آہستہ آہستہ حسب سابق گاہکوں سے دوستیاں بن رہی تھیں۔ یہ دوستیاں بھی بھانت بھانت کی نئے نئے رنگ اور دلچسپیاں لئے تھیں

پینتالیس پچاس سال کی ڈھلکے جسم کی یقیناً بھر پور خوبصورت جوانی گزار چکی یہ خاتون میرے سامنے کھڑی تھی۔ کھلے گریبان سے دکھائی دیتی پوری چھاتی پہ محبوب کے لئے دعوتی فقرے سبز رنگ کے ٹیٹو بنے نظر آرہے تھے۔ وہ اگلے چوک کے نزدیک ٹوٹے پھوٹے مکان میں اکیلی رہتی تھی اور صرف سگریٹ لینے آتی۔ کچھ گپ شپ بھی کرتی۔ مگر آج اس کے پیچھے اسی کی عمر کا وجیہ شخص بھی کھڑا تھا اور وہ مجھے تعارف کرا رہی تھی ”یہ میرے سابقہ بوائے فرینڈ کی سابقہ گرل فرینڈ کا سابقہ بوائے فرینڈ ہے اور اب یہ میرا بوائے فرینڈ ہے“ ۔ وہ جا چکے تھے اور۔ میں اس رشتے کا حساب کتاب بنا رہا تھا

روزانہ شام کام سے واپس گھر جاتے پٹرول ڈلوانے والا مائیکل جان ادائیگی کرتے ایک ڈبیا سگریٹ کی خریدتا اور ہر دو چار روز بعد اس کے منہ سے نکلتا ”بیوی کے لئے آٹھ ڈالر کی یہ ڈبیا خریدنے کے لئے مجھے سولہ ڈالر کمانے ہوتے ہیں کہ نصف آمدن ٹیکس میں نکل جاتی ہے۔ پچپن ڈالر فی گھنٹہ لینے والا بیلجئم نژاد، محکمہ صحت کی ہیلی کاپٹر سروس میں انجینئر تھا اور چند کلو میٹر دور ایک امیرانہ ایکڑ دو ایکڑ پہ بنے شاندار گھروں والی کالونی کا رہائشی تھا۔ گپ شپ کرتے بتایا کہ وہ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کا بھتیجا ہے۔ مجھے حیران دیکھ کہنے لگا کہ اس کی ماں شاہ کے کزن کی دوسری بیوی اور بلجیم سے تھی اور انقلاب ایران اور خاوند کی وفات کے بعد بچے لے واپس بلجیم آ گئی تھی اور بچوں کی پرورش بطور عیسائی کی۔ پورے بلجیم میں سوزوکی کار کی ایجنسیاں اس کے بھائیوں کے پاس ہیں مگر اسے کینیڈا پسند ہے۔

چند روز بعد مجھے تصویریں دکھا رہا تھا جن میں وہ شاہ ایران کی گود میں اپنے باپ ماں اور دیگر افراد کے ساتھ تھا۔ پھر ایک دن وہ فخریہ بتا رہا تھا کہ ان دنوں کام سے واپس آ کر وہ باپ بیٹا کچھ دور ایک ایکڑ زمین پر بیٹے کا مکان خود تعمیر کرتے ہیں۔ صرف بنیادوں کا کنکریٹ کا ڈھانچہ دوسروں سے بنوایا ہے۔ اور میں مبہوت تصور میں اپنے کالج کے مرحوم دوست ایف سی کالج لاہور کے پروفیسر ملک محمد رمضان کی کہانی دوہرا رہا تھا کہ کس طرح وہ کالج اوقات کے بعد لاہور ٹاؤن شپ میں زیر تعمیر مکان کی تعمیر میں سکول کے طالبعلم اپنے دو بیٹوں کے ساتھ خود مزدور کا کام کرتے رہے بلکہ چھٹی والے روز معمار کا کام بھی خود کرتے مگر چہرہ ڈھانپا ہوتا، کہ کسی طالب علم کی نظر پڑ گئی تو پورے کالج میں مذاق بنے گا۔

ایک نوجوان نے پٹرول کی ادائیگی کرتے ایسکارپمنٹ روڈ کا محل وقوع پوچھتے اپنی دلچسپی کی وجہ بتائی تو نقشہ پہ ڈھونڈ رہنمائی کرتے میرا اشتیاق اسے درخواست کرنے پر مجبور کر چکا تھا کہ واپسی پہ مجھے اپنا تجربہ بتاتا جائے۔ اور واپسی میں شکریہ ادا کرتے وہ زندگی کے اس منفرد عجوبہ اور لطف کا ذکر کچھ اس جوش سے کر گیا کہ اگلے روز میں بیگم کے ہمراہ وہاں پہنچ چکا تھا۔ میرے پٹرول پمپ سے کوئی آٹھ کلو میٹر دور ہی ہائی وے دس (10) سے ایک کچی سڑک نکل کر ساتھ ہی بائیں مڑتے ایک تیز ڈھلوان کے کوئی دو سو میٹر بعد پھر دائیں مڑتی ہے۔ آگے جا اپنی ٹویوٹا کیمری کار واپس موڑ اب ہم دوبارہ اسی موڑ پہ چڑھائی کے رخ کھڑے تھے۔ کار کو گیئر سے نکال نیوٹرل کر بریک اور ایکسیلٹر پیڈل سے پاؤں اٹھا لیا۔ چند سیکنڈ بعد کار خود بخود چڑھائی چڑھنا شروع تھی اور لمحہ بہ لمحہ رفتار تیز ہوتی گئی۔ واقعی حیران کن تجربہ تھا۔ ہم نے تین چار مرتبہ یہ سواد لیا۔ یعنی اس جگہ زیر زمین قدرت نے کچھ ایسا مقناطیسی مواد رکھا ہے کہ گاڑی خود بخود اوپر کھنچی چلی آتی ہے۔ خاصی بھاری ایس یو وی ایکورا ایم ڈی ایکس تک تو میں نے تجربہ کیا ہے۔ اس سے قبل صرف افریقہ میں ایسے عجوبہ کی موجودگی کا ذکر پڑھا تھا۔ ( کینیڈا میں دو تین اور جگہ بھی ایسے زمینی ٹکڑے ہیں۔)

ہفتہ میں ایک آدھ بار کچھ فراغت ملتے ہمارے کیلیڈن کی سڑکیں ناپنے نکل جانے کے دوران اور کچھ گاہکوں کی گفتگو سے اندازہ ہو چکا تھا کہ گھومتے پھرتے فطرت کی ادائیں دیکھنے کی بہت سی دلچسپیاں، نظارے اور جگہیں یہاں ہیں۔ یونہی بیٹھے کیلیڈن کی میئر کو ای میل کردی کہ اکثر سیر کرنے آنے والے نووارد یہاں کی دلچسپیوں کی راہیں پوچھتے ہیں۔ ایک نقشہ سیاحتی سرگرمیوں اور دلچسپیوں کے مراکز کا میری پراپرٹی پہ لگا دیں تو آسانی ہو جائے۔ اگلے روز ہی میئر کی سیکرٹری میرے پاس کھڑی سیاحت، مچھلی پکڑنے کی اجازت والی جھیلوں، تالابوں اور ندی نالوں سہولیات محکمہ سیاحت کے مراکز اور ترغیبی نوعیت کے معلوماتی مختلف پمفلٹ۔ دو ورقے اور نقشے تفصیلات مجھے بھی سمجھاتی تقسیم کے لئے دیتے میئر اور سٹی کونسل کی طرف سے شکریہ ادا کر رہی تھی۔ سیاحوں کی رہنمائی کرتے درخواست کرتا کہ ممکن ہو تو واپسی پہ اپنے تجربہ سے آگاہ کرتے جائیں۔ ہمارا شوق جب موقع ملتا کہیں لے جاتا۔ مگر قدرت نے جو حسین نظارے اس علاقہ کی خزاں کے موسم کی رنگینی کے میرے مقدر کیے اکثر حمد خداوندی اور شکر سے آنسو نکل آتے۔ اکتوبر کے پہلے تین ہفتہ میں انگل وڈ، بیل فاؤنٹین قصبوں اور فور کس آف کریڈٹ کے کوئی دس پندرہ مربع کلو میٹر کا علاقہ یہاں کی خزاں رنگ بدلتے سوکھتے گرتے رنگوں کی قوس قزح بنا دیتی ہے کہیں آسمان سے رنگوں کی خوشنما برسات ہوئی لگتی ہے اور کہیں سڑکیں اور زمین ان درختوں سے گرے پتوں سے رنگین نا قابل یقین حسین ڈیزائنوں کے قالین بنے نظر آتے ہیں اور کہیں صرف ایک رنگ کی چادر بچھی ملتی ہے۔ چند کلو میٹر دور بائیں نکلتی سڑک پر ”بیڈ لینڈز“ کہلاتا چند ایکڑ کا محفوظ کیا گیا ٹکڑا آتا ہے۔ ساڑھے چار کروڑ سال قبل یہ علاقہ سمندر کا دامن تھا۔ پوری زمین سرخ رنگ کی پانی کے کٹاؤ سے لہروں کی شکل اختیار کرتی بس ایسے لگتی ہے جیسے پاکستان کے شمالی علاقوں کے پہاڑی ندی نالوں کا نقشہ سامنے ہو۔ اور چاروں طرف اونچے، نیچے درخت، جھاڑیاں بیلیں اپنے پتوں کو سبز، پیلے، نارنجی، سرخ، گلابی، عنابی غرض ہر رنگ کے سنگھار سے سیاحوں کو خوش کرنے سحر انگیز ماحول بنائے موجود ہیں۔ ذرا آگے سے چھوٹی سی کچی سڑک نکلتی ہے جو بڑے بڑے فارم ہاؤس اور امیرانہ رینچ ان میں چرتے گھوڑے اور قلانچیں بھرتے دوڑتے اور ہرنوں سمیت درختوں سے ہوا کے ساتھ اڑتے گرتے پتوں کے ان رنگوں سے دل بہلاتی گھومتی یک دم تیز مڑتی ڈھلوان سے نکل صرف پرانی یادگار کے طور پر رکھی ریلوے لائن سے گزرتے اس میدان میں لاتی ہے جس کے تین طرف اونچائی پہ رنگین پہاڑ بارش میں بھیگے تھاہ کوٹ کے رستے میں آتے چھتر پلین کی خوبصورتی یاد دلاتے ہیں۔

بیل فاؤنٹین کی طرف جائیں تو دائیں کریڈٹ ریور، اس کے پیچھے اونچائی اور بائیں اونچی پہاڑی اور پھر اس پہ ساٹھ سال قبل کی مری نتھیا گلی کو جاتی سڑک کی طرح کی چڑھائیاں چڑھتی کار رنگوں کی ایسی وادی سے گزرتی ہے جو اپنے جادو میں جکڑ لیتی ہے۔ پھر فورکس آف کریڈٹ محفوظ کردہ پارک انہی رنگینیوں کے ساتھ پیدل ہائیکنگ کی بے شمار تیز چڑھائی اترائی پگڈنڈیوں سے گزارتی کوئی دو تین سو فٹ گہرائی میں دریا کنارے بنے دو اڑھائی سو سال پہلے بنی دریائی پانی سے چلنے والی فلور مل کے کھنڈرات دکھاتی ہے اور سوچنا یہ پڑتا ہے کہ یہاں تعمیر کیسے کی گئی ہو گی اور پسائی کے لئے گندم اور عملہ کیسے آتا اور جاتا ہو گا۔ اکتوبر کے پہلے دوسرے ہفتے چند فری گائیڈڈ ٹور ہوتے ہیں جہاں راہنما پوری تفصیل بتاتا ہے۔ پندرہ سال قبل کیا یہ ٹور زندگی کا ایک یادگار لمحہ بن چکا کہ پھر ٹانگوں کی قوت اور دل ناداں کی دھڑکن دونوں ناراض ہو چکیں۔ اگرچہ کینیڈا بھر میں تقریباً ہر جگہ ایسے جلوے ملتے ہیں مگر ایسی رنگینی اور سحر انگیزی والے بڑے قطعات اور سیاحوں کی کثرت والے مشہور مقامات میں سے ایک یہ ہے۔ جب بھی گھنٹہ دو گھنٹہ کی فرصت ملتی سر سبز گھنے درختوں سے ڈھکی اندرونی تنگ کچی پکی سڑکیں ہمیں اپنے جلوے دکھانے کھینچ لیتیں اور ہم اپنے مہمانوں کی بھی ان نظاروں سے آؤ بھگت ہوتی۔ ”حیرت ہے اتنی دیر سے گھوم رہے ہیں کہیں کسی سڑک کے ساتھ یا پارک میں کوئی گند یا کچرا نظر نہیں پڑا“ پاکستان سے آئی ایک عزیزہ کے منہ سے نکلا۔ تو بیگم کا دماغ نہ جانے کیسے یہ دور کی کوڑی لے آیا ”صفائی نصف ایمان کا فرمان ہے۔ بس سمجھئے نصف ایمان تو پاکستان کا ادھر آ گیا۔ باقی نصف سے کیا سلوک ہے پاکستانی جانیں۔“

مچھلی کے شکار کے شوقین پٹرول ڈلواتے گنڈوئے ( کیچوے ) بھی خریدتے اور ان ندی نالوں اور تالابوں اور جھیلوں کی کہانیاں سناتے جہاں ان کو زیادہ مچھلی ملتی ہے۔ شدید سردی اور برف باری کے موسم میں جھیل کے پانی پر کئی فٹ موٹی برف کی تہہ پر کیمپ لگا راتیں گزارنے والے وہاں سوراخ کر کے نیچے سے مچھلیاں پکڑنے اور پکانے اور سکیٹنگ اور کھیل کھیلنے کی داستانیں سنا خوش کرتے۔ ایک روز صبح پمپ کے سٹور کے باہر ایک کوئی بیس کلو سے زائد کی مچھلی پڑی تھی، جس پر لگی چٹ پہ تھا کہ موٹر بوٹ پہ مچھلی کا شکار کرتے یہ سالمن مچھلی ہاتھ آئی ہے۔ ہدیہ پیش ہے۔ اگلے روز صبح ٹرک ڈرائیور تیل ڈالتے بتا رہا تھا کہ اسے مچھلی شکار کا شوق ہے۔ اکیلا رہتا ہے۔ مچھلی کھاتا بھی نہیں ایسا نادر شکار کبھی کبھی ملتا ہے، سو پیش کر دیا۔ ہاتھوں سے پھسل پھسل جاتی مچھلی کو اوپر لاتے یہ سوال پیدا ہو چکا تھا کہ کریں کیا اس کا، اور کرنا کیسے ہے۔

نیچے ریسٹورنٹ والوں سے بڑی چھریاں مانگ لائے اور تصور میں خود کو جھنگ بازار فیصل آباد کی مچھلی مارکیٹ میں کھڑا کر مچھلی فروش کے کرتب دیکھے اور نقل کی کوشش کرتے بالآخر کوئی چار پانچ گھنٹوں میں اس کے بڑے ٹکرے کر برف کے تھیلوں والے بڑے فریزر میں ڈبہ بند کر رکھے گئے۔ انتہائی لذیذ یہ مچھلی دو تین ماہ خود بھی پکائی جاتی اور اس دوران ملنے آنے والے عزیزوں رشتہ داروں کو بھی تحفہ دیا جاتا۔ ابھی ختم نہ ہوئی تھی کہ ایک روز پھر دو مچھلیاں دس گیارہ کلو اور چھ سات کلو کی پڑی تھیں۔ مگر مسئلہ اس دن بنا جب ایک بڑی سی مرغابی پڑی تھی۔ اب اسے تو شکار کرنے کے بعد گلا مروڑ کر مارا گیا تھا۔ لہذا کوڑے والے ڈرم کے حوالے کیا گیا۔ مصیبت تین چار دن بعد یہ آن پڑی کہ یہ مہربان فرمانے لگے کہ مرغابی کا سالن پاکستانی سٹائل کا اسے ضرور چکھایا جائے۔ اس وقت تو اسے یہ کہہ ٹالا گیا کہ دور سے مہمان آئے تھے جنہیں مرغابی کا گوشت بہت مرغوب ہے چنانچہ وہ لے گئے تھے۔ بعد میں موقع ملتے اسے حلال اور ذبیحہ کے متعلق سمجھا دیا گیا۔

بیلی فارم کا گورا چٹا میری عمر کا مالک سردیاں شروع ہوتے داڑھی بڑھانا شروع کرتا اور پورا دسمبر سانتا کلاز کا روپ دھارے بچوں کو خوش کرتا اور کسی شاپنگ مال میں سٹال لگا بچوں اور فیملیوں کو ساتھ بٹھا سانتا کلاز کی تصویریں کھینچی جاتیں۔ پھل خصوصاً سٹرابیری اور رس بیری کے موسم میں صلائے عام ہوتی دور دور سے خاندان بچوں کے ساتھ اس کے فارم آتے۔ اور ان کو کھلی ٹریکٹر ٹرالی کے تختے پہ بٹھا کھیت پہ پہنچایا جاتا۔ بچے بڑے، ہاتھوں میں تنکوں سے بنی ٹوکریاں پکڑے اپنے ہاتھوں سے پھل توڑ ان میں ڈالتے اور واپسی پہ وزن کے حساب سے ادائیگی کرتے۔ ہر سال مہمانوں کے ساتھ وہاں چکر لگتا۔ ایک گاہک اعلی میٹھی مکئی کی چھلیاں لاتے۔ ایک دن باہر ایک جوڑے کو اخبار خرید کر باہر اس سے گاڑی کا پچھلا حصہ صاف کرتے نظر آتے پتہ کیا تو اسے اپنے بیمار کتے کا پھیلایا بدبودار گند صاف کرتے پایا۔ ان کو کار دوسری طرف لا کر پانی کا پائپ لگا صاف کرنے والے کاغذ دیے۔ وہ اتفاقاً اس راستے سے گزر رہے تھے مگر تیسرے روز صبح صبح خاتون اپنے ہاتھ سے تازہ بنی گرما گرم ایپل پائی کا ٹرے شکریہ ادا کرتے پکڑا رہی تھی۔ گویا ہم یہاں بھی اپنی فیصل آباد کی دکان کی طرح وہ ماحول بنانے میں کامیاب ہو چکے تھے جہاں گاہک آپ کو اور آپ گاہک کو دوست سمجھتے ہیں۔

صبح صبح ڈیزل بھر جوان ٹرک ڈرائیور ادائیگی کرنے آیا تو ویسٹ انڈیز کے لگتے اس گاہک کے کریڈٹ کارڈ پر نام مشتاق محمد دیکھ پوچھنا پڑا کہ تمہارا باپ شاید کرکٹ فین تھا۔ ”جی بالکل۔ بہت اچھا کھلاڑی اور پاکستانی کھلاڑیوں خاص طور مشتاق محمد کا۔ اس لیے میں مشتاق محمد ہوں۔ اکثر اس نے اپنی گرل فرینڈ ساتھ ہی بٹھائی ہوتی۔ بار بیڈوس کے رہنے والے لمبے تڑنگے کسی بزنس مین نے اپنے بطور فاسٹ باؤلر کاؤنٹی میچ پاکستان کے خلاف کھیلنے کی کہانی سناتے اپنے بیٹے کا نام پاکستانی کرکٹر کے نام پر رکھنے کا بتایا۔ کئی سال قبل عینکوں کی دکان کے جمیکا کے متوطن سعید احمد سے بھی یہی مکالمہ ہوا۔ پاکستان میں شاہ فیصل، معمر قذافی اور صدام کے نام پر رکھے نام عام ہیں۔ مگر عرب دنیا میں پچاس ساٹھ کی دہائی میں سر ظفراللہ کے نام کے بعد شاید پاکستانی کرکٹرز ہی کے ناموں نے بیرونی ممالک میں یہ اعزاز پایا۔

منفی بیس سنٹی گریڈ اور تیز برف کے جھکڑ چلتے ایک بوڑھی خاتون ادائیگی کے لئے داخل ہوئی تو رواجا ”منہ سے نکلا۔“ اوہ آج تو بہت ٹھنڈ ہے ”وہ مسکراتے ہوئے بولی“ ہاں ہے تو۔ ”اور پھر“ میری عمر پچاسی سال ہے اور وہ میرا خاوند کار میں بیٹھا نواسی برس کا ہے اور بلیو ماؤنٹین کے پہاڑ پر سکی انگ کر کے لطف اٹھا واپس آرہے ہیں ”میں گنگ تھا۔ بلیو ماؤنٹین کوئی ڈیڑھ سو کلومیٹر شمال میں ہے اور درجہ حرارت لازمی منفی تیس کے لگ بھگ ہو گا۔

ایک بہت خوبصورت جوڑا، میاں بیوی دونوں، شاید یوکرین سے تھے۔ روزانہ آتے اور جب ہم دونوں میاں بیوی ہوتے تو دونوں کچھ دیر گپ شپ کرتے۔ بتایا کہ وہ اکیلے یہاں ہیں اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر باتیں کرتے وہ اپنے ماں باپ کی سی شفقت ملتی محسوس کرتے ہیں۔ ایک دن لڑکی نے بھڑکیلا سرخ لباس پہنا تھا تو کہا کہ بیٹی تم آج بیر بہوٹی لگ رہی ہو اور ساتھ اسے بیر بہوٹی کے تصور کا بتایا تو خوشی سے پھولے نہ سماتی تھی۔ کہنے لگی اب میں اپنے دفتر کے تمام ساتھیوں اور سہیلیوں کو بتاؤں گی۔ کچھ عرصہ بعد ایک دن لڑکا کار کھڑی کرتے ہی بھاگا اندر آیا اور ہاتھ پکڑ فوراً باہر آنے کی درخواست کی۔ کار کا پچھلا دروازہ کھولا بیوی نیم دراز تھی۔ دونوں کے چہرے خوشی سے چمک رہے تھے۔ کہنے لگا ”انکل یہ ہاتھ رکھیں پیٹ پر، دیکھیں دیکھیں، یہ پیٹ میں بچہ ہلتا محسوس ہو رہا ہے“ اور اس کی بیوی میرا ہاتھ اندر کھینچ اپنے پیٹ پر پھیرتے بچے کی حرکت محسوس کرا رہی تھی۔ کہنے لگی انکل ہم صرف آپ کو دکھانے آج ادھر سے گزرے ہیں۔ آنٹی کو بھی بتائیے گا۔ بہت خوش ہوں گی۔ میرے لئے زندگی میں یہ ایسا پہلا موقع تھا۔ مبہوت بھی تھا حیران بھی تھا مگر ان دونوں کی اس چاہت۔ ان کے چہرے یہ دکھا کے چھانے والی مسرت اور طمانیت نے مجھے بھی وہ خوشی بخشی جو آج بھی آنکھیں نم کر دیتی ہے۔

پمپ کے پچھلے خالی میدان کو ہم نے ٹرک پارکنگ کے لئے مخصوص کیا اور ماہانہ کرایہ وصول کرتے۔ مجھے محسوس ہوا کہ بالکل پچھلے کونے کے قریب ایک بہت لمبا ٹریلر کنٹینر چار پانچ روز سے کھڑا ہے اور پارک کرنے والے نے بتایا بھی نہیں۔ برف عبور کرتا دیکھنے گیا تو اس کا پچھلا دروازہ لاک نہ تھا۔ یونہی کھولا تو گتے کے بڑے بڑے سامان سے بھرے ڈبوں سے بھرا۔ بیٹے نے پولیس کو فون کر صورت حال بتائی۔ تھوڑی دیر بعد پولیس کی گاڑیاں موجود تھیں اور ٹریلر پر لکھے مواد اور نمبر وغیرہ نوٹ کر کے چلیں گئیں۔ چند گھنٹوں بعد فون آیا کہ یہ ٹریلر کینیڈین ٹائر کے ویئر ہاؤس سے چوری کیا گیا ہے۔ ( وہاں ہر وقت دو تین سو خالی یا بھرے ٹریلر موجود ہوتے ہیں۔) اور ان کو پتہ بھی نہیں تھا کہ چوری ہو چکا۔ اس میں پلاسٹک دانہ کی وہ قسم لاکھوں ڈالر مالیت کی لدی ہے جو کینیڈا کی صرف ایک فیکٹری استعمال کرتی ہے۔ لہذا چور کے لئے بے کار تھا اور چھوڑ گئے۔ اگلے روز پولیس کے نوٹ اور مالکان کے خط کے ساتھ آیا ٹرک اسے لے جا چکا تھا اور ہم باپ بیٹا شکر ادا کر رہے تھے کہ اگر یہ واقعہ وطن عزیز میں ہوتا تو شاید ہم حوالات میں اور خود بتانے کے باوجود پتہ نہیں کتنا دانہ پانی نذر نیاز کرنا پڑتا۔

ہمارے ہمسایہ تین سو ایکڑ کے زرعی فارم کے مالک کی پوتی شیرل ریسٹورنٹ میں کام کرتی۔ اور کچھ عرصہ بعد اس کا بوائے فرینڈ مائیک بھی ساتھ ہوتا۔ ہماری اوپر رہائش سے اترتی سیڑھیوں والی راہداری میں اکثر کرسی پر اس کی گود میں بیٹھی دونوں سگریٹ پیتے نظر آتے تو میں ”لگے رہو منا بھائی کہتے گزر جاتا“ ۔ شدید سردی کی ایک رات موسیقی کی آواز پہ اٹھا اور پچھواڑے جھانک۔ چاروں طرف دور تک دو فٹ پھیلی برف کی چودھویں کے چاند میں چمکتی چادر اپنے گھر سے خاصے فاصلہ پر چھوٹا سا کیمپ لگائے باہر لکڑیوں سے نکلتے آگ کے الاؤ کے نزدیک تیز میوزک پر وہ دونوں ایک دوسرے میں مگن ناچ رہے تھے۔ کبھی موسیقی مدھم سروں والی ہوتی۔ بھر پور چاندنی میں روشن چمکتی برف اور آگ کے الاؤ کے گرد محبت کے دو متوالوں کو ناچتے دیکھتے اس ایک گھنٹہ کی یاد بھی زندگی کے سرور بخش لمحوں میں شامل ہو گئی۔ شام کو ارد گرد تمام جوان لڑکے لڑکیاں پمپ کے پچھواڑے گپ شپ کرتے۔ پتہ لگا کہ شیرل دو ہفتہ کے لئے بحری جہاز کے تفریحی سفر پہ گئی ہے۔ اعتزاز، میرے بیٹے نے مائیک کو مذاقاً کہا تم کو ضرور ساتھ جانا چاہیے تھا۔ اب دیکھنا وہ اکیلی واپس نہیں آئے گی۔ اس کے ساتھ نیا بوائے فرینڈ ہو گا۔ اور جب وہ واپس آئی تو واقعی مانٹریال کے کسی لینڈ لارڈ کا بیٹا اس کے ساتھ تھا اور مائیک کا پتہ کٹ چکا تھا۔

ایک چھوٹے سے قد کی بہت خوبصورت لڑکی لہراتی آتی۔ میری بیوی اس کے ساتھ یس نو کر کے بہت خوش ہوتیں۔ ہم اسے چھٹکی کہتے۔ جب بھی حال پوچھا جاتا تو انتہائی ادا سے ”ہائے میں بہت تھکی ہوئی ہوں“ اس کے منہ سے نکلتا اور میرے بیگم اس کی بلائیں لیتے دعائیں دیتی۔ آخری دنوں میں وہ بھی بوائے فرینڈ ڈھونڈ چکی تھی۔ اور لڑکا شاید گھر نہ لے جا سکتا ہو۔ دونوں اکثر صبح پچھواڑے کھڑی لڑکے کی کار میں نظر آتے۔ ہاں، اور یہ کوئی چار سو میٹر دور کے گھر سے آتی بالکل کترینہ کیف کی شکل کی اونچی لمبی لڑکی تھے ماں کام پہ جاتی۔ اتنی دور سے بعض اوقات رات نو بجے بھی اکیلی اپنے معذور بھائی کی فرمائش پہ کچھ سنیکس وغیرہ لینے آتی دور سے نظر آجاتی۔ شدید برف باری میں بھی۔ کم آمیز بھی کم بات کرنے والی۔ باہر اتنے لڑکے کھڑے ہوتے سڑک پہ ٹریفک کی بھر مار۔ کبھی کسی کو اس کو چھیڑتے، تنگ کرتے آوازے کستے زبردستی کرتے نہیں دیکھا کوئی بات کرتا تو تحمل سے بات کرتی۔ دو ہزار چار میں پاکستان گیا تو پرانے مہربانوں سے ملتے گارڈ فلٹر کے دفتر میں بزرگوارم مرحوم ملک محمد شفیع صاحب (ممتاز بختاور ہسپتال کے بانی) سے بھی قدم بوسی کا شرف ہوا۔ فرمانے لگے ”تم نے کیا کیا۔ اتنا اچھا کاروبار چھوڑ، اسلام کا قلعہ تیاگ کر کافروں کے ملک جا بسے۔؟“ تب یہ لڑکی میرے سامنے آ کھڑی ہوئی اور میں ادب سے عرض کر رہا تھا کہ ملک صاحب بجا فرماتے ہیں مگر فیصل آباد کے انتہائی پوش علاقے پیپلز کالونی کے بھی پوش علاقے میں واقع میری کوٹھی سڑک کے دوسری طرف واقعہ ٹیکنکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں کمپیوٹر کلاس جانے کے لئے اس ادارے کے پچھواڑے کے میرے گیٹ سے ڈیڑھ دو سو فٹ دور دروازے تک اس کی ماں کو ساتھ جانا پڑتا تھا۔ اور یہ لڑکی ویرانے میں برف باری رات کے اندھیرے میں اپنے معذور بھائی کے ساتھ اتنی دور سے آتی ہے، نہ کوئی چھیڑتا ہے نہ تنگ کرتا ہے نہ اسے ڈر لگتا ہے اور نہ کی ماں بخیریت گھر واپس کی تشویش میں ہوتی ہے۔ اسلام واقعی یہاں ہے، کاش اسلام پہ عمل بھی ہوتا۔

چند روز قبل کئی برس بعد اکتوبر کے خزاں کے رنگ بدلتے پتوں اور ان کی قوس قزح جیسی پیدا کردہ رنگینیوں اور رنگوں کی برسات برساتی سڑکوں پہ گھومتے آوارہ گردی کرتے واپسی پہ پھر اسی پٹرول پمپ کے سامنے سے گزرتے کینوپی اور اونچے کھڑے کھمبے پر میرا رکھا نام ”دوست پٹرولیم“ چمکتا نظر پڑا اور ارد گرد کا علاقہ تقریباً ویسا ہی ویران پڑا نظر آیا۔ تو اس ویران علاقے میں گزارے بے سروسامانی کے زمانے کے تین برس سامنے گھومنے لگے اور تب محسوس ہوا کہ یہ ویرانے کی زندگی کتنی دلچسپ اور رونقوں اور بہاروں سے پر گزری تھی۔ اور وہاں کے مکینوں اور راہروؤں نے ہمیں کتنی مسرتوں سے نواز رکھا تھا۔

Facebook Comments HS