سیلاب زدگان کے خواب اور مشکلات

چلو! ”میں دکھاتی ہوں، سب لوگ ادھر تھوڑی ہیں، اوپر بھی بیٹھے ہیں ”
”آپی! کچھ عورتیں بہت بیمار ہیں“
وہ مجھے ایک تعلیمی ادارے کے ریلیف کیمپ میں ملی تھی۔ چھوٹی سی 8 یا نو سالہ بچی تھی بہت خوشی سے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے اور سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ اس کو سب کا پتہ تھا کس روم میں کون کون ہے۔
سیلاب متاثرین، میہڑ کے کسی ڈوبے گاؤں سے آئے تھے ”ماسی کو بخار ہے، پھوپھو کو جگر کی بیماری ہے“ ۔ وہ بچی جیسے سب کی قائد بنی ہوئی تھی اور درد بھی سب کے جانتی تھی۔
نام کیا ہے
بینظیر!
اچھا! جانتی ہو بینظیر کون تھی؟
ہاں! چمکتی آنکھیں اور مسکراتے لب بول اٹھے وہ بھٹو تھی، اپنی تھی
ایسا کیا کیا اس نے کہ اپنی ہو گئی؟
سوال کیا تو کئی خواتین ایک ساتھ بول پڑیں، بینظیر نے بہت کچھ کیا بھٹو بھی ہمارا تھا غریبوں کا دکھ سمجھتے تھے، بینظیر چلی گئی لیکن اس کے پیسے ابھی تک ملتے ہیں۔
وہ اپنی بیماریاں بھول چکی تھیں
اب ان کو اپنے ننگے پاؤں کی فکر نہیں تھی نہ پھٹے کپڑوں کی نہ بھوکے بچوں کی غذا کی پرواہ رہی
یہ محبت یہ والہانہ انداز اس خطے کی اکثریت میں موجود ہے
شاید یہ محبت ہی ہے جو حقوق مانگنے نہیں دیتی۔
مجھے ہر کیمپ میں کچھ لڑکیاں بہت سرگرم اور پر جوش ملیں
تعلیمی صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے لیکن خواب تو ہیں۔
ایک کیمپ کی لڑکیوں سے پوچھا اسکول جاتی ہو؟
تو ان کے مرد آگے بڑھ آئے اور تندی سے کہا کہ ”ضرورت ہی نہیں ہے پڑھنے کی“ ایک خوف کا سا ماحول بن گیا خواتین کے اترتے ہوئے چہروں سے عیاں تھا کہ یہ جبر ان کو تکلیف دے رہا ہے۔
اس ہجوم میں صرف ایک ننھا ہاتھ اٹھتا ہے اور کمزور سی بچی بول اٹھتی ہے ”میں پڑھوں گی میں اسکول جاؤں گی“ یہ آواز امید اور مزاحمت کی آواز تھی وہ جبر کو للکار رہی تھی۔ جہاں مزاحمت سانسیں لینا شروع کرے وہاں آخر کار انقلاب آ ہی جاتا ہے۔
اس کی عمر بھی 8 سال ہو گی۔ وہ بشیراں تھی جو جبر سے لڑنے کا حوصلہ رکھتی تھی۔
حیدرآباد کے ایک رلیف کیمپ میں بچوں کو کچھ دن پڑھانا شروع کیا تو احساس ہوا کہ خواب کہیں بھی آگ آتے ہیں۔ خوابوں کو جنم لینے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
ہم اور کچھ کریں نہ کریں چند آنکھوں میں خواب جگا دیں تو بھی بہت ہے
عارفہ پولیس والی بننا چاہتی تھی
کچھ لڑکے فوجی بننے کے خواہشمند تھے۔
ریحانہ، مہک، سندھو پڑھنے کی خواہش کے ساتھ ساتھ فکرمند بھی تھیں کہ کیمپ سے نکل کہ کہاں جائیں گے میہڑ سے آگے بنڈو اور سوائی کے گاؤں سے پانی نہیں نکالا۔
ضلعی انتظامیہ کے لئے تعلیمی اداروں میں بھی زیادہ دن متاثرین کو رکھنا اب ممکن نہیں رہا
ندیل نے اپنے پانی میں ڈوبے گاؤں اور گرے ہوئے گھر کے ساتھ اپنے دو ماہ کی بچی طیبہ کے فوٹو بھیجے، جس کو وہ بہت تعلیم دینے کا خواب دیکھ رہا ہے اور کہا اب ہم ادھر کیسے رہیں!
ندیل اس کی بیوی راشدہ اور ماں جناں جیکب آباد کے آس پاس میں رہتے تھے سیلاب آیا تو راستہ بھی ڈوب چکا تھا گاڑیاں بھی نہیں چل رہی تھیں جو گاڑیاں چل رہی تھیں ان کے کرائے بہت تھے۔ کئی کلو میٹر پیدل چلے۔ راستے میں ہی اس لی بیوی نے اپنی پہلی بچی کو جنم دیا ایک ماں کے لئے یہ۔ کس قدر تکلیف اور اذیت ناک وقت ہو گا سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ننھی طیبہ نے آنکھیں کھولیں سب سے پہلے ان آنکھوں نے تباہی دیکھی ڈوبتا سندھ دیکھا، کیمپ میں بھوک کا بھیانک چہرہ دیکھا، سسکتے، لپکتے مارتے چھینتے بے بس انسان دیکھے، ماں کے چہرے پہ مامتا کے ساتھ تشویش اور غیر یقینی صورتحال کا خوف اترتے دیکھا۔ اور پھر واپسی کا سفر کھلے ہوئے ٹرک میں زندہ انسان ٹھونسے ہوئے دیکھے، ایسا سفر جس کی منزل بھی تباہ شدہ دھرتی ہی تھی جہاں کوئی سکوں اور آسائش منتظر نہیں تھی۔
لیکن بچوں اور بڑوں کا سوال اپنی جگہ اذیت دینے والا ہے کہ اب کہاں جائیں؟
پانی میں ڈوبے گاؤں، راستے مخدوش ٹوٹے اور گرے ہو کچے پکے گھر ضروریات زندگی بالکل ناپید۔ شاید بجلی بھی منقطع ہو گی! پانی کا نظام بھی تو درہم بھرم ہی ہو گا، گلی محلے کی دکانیں بھی تباہ۔ مہینوں سے کھڑے پانی کی بساند، جس میں سانس لینا محال، وبائی بیماریوں کہ بہتات
زندگی پھر بھی چند سانسیں بچانے لئے کوشاں! ۔ سانسیں ہی بچا سکتے ہیں! ضروریات زندگی بہت دور اور آسائشیں تو خواہش کی پہنچ سے بھی دور ہیں۔
سویرا جاتے ہوئے اس طرح گلے لگی جیسے کوئی قریبی رشتے دار ہو۔ پھر ملاقات ہو نہ!
لاکھوں زندہ انسان جو سیلاب سے اپنی زندگیاں بچا کے نکلے تھے لیکن زندگی اب بھی الجبرا کے کسی مشکل الجھے ہوئے سوال کی مانند ان کے سامنے کھڑی ہے۔
کسی کے پاس اس کو حل کرنے کے لئے کوئی فارمولا ہے ہی نہیں!

