ایرانی آزاد عورت، ٹیٹوز اور روز اول سے ناکام ایرانی انقلاب


سخت گیر اور آمرانہ مذہبی ایرانی جمہوری حکومت میں خواتین پر پردہ اور حجاب کی بظاہر سخت پابندی ہے۔ ایران میں چہرے کا پردہ تو کبھی تھا ہی نہیں۔ سر پر حجاب تھا کہ جس میں سر کے بال نظر نہ آئیں اور چہرے کی گولائی کے گرد لپٹا ہونا لازمی تھا۔ برقع یا چادر لازمی تھی مگر جیسے جیسے انقلاب کو وقت گزرتا گیا ویسے ویسے ہی حجاب بھی سرکتا چلا گیا اور مسلسل سرکتا چلا جا رہا ہے۔ سکن ٹائٹ جینز شرٹ میں ملبوس خواتین سر پر حجاب لے کر قانون کی پاسداری بھی کر رہی ہیں اور اپنی مغربیت اور جدیدیت کے میلان کی تسکین کا بھرپور سامان بھی۔ ان کے جسمانی نشیب و فراز، دیکھنے والے کو علی الاعلان چیخ چیخ کر اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلاتے ہیں۔

ان کا لباس عروسی وہی نیم برہنہ سفید فراک نما ہے جو آپ ہالی ووڈ موویز میں دیکھتے ہیں اور گوگل پر ”لباس عروسی دخترانہ ایران“ سرچ کر کے دیکھ سکتے ہیں۔ ان کی ان ڈور پارٹیز کسی بھی یورپین لیٹ نائٹ پارٹی سے کسی طور ہرگز کم نہیں ہوتی ہیں۔ ان کا بلا جھجک روایتی رقص تو آپ سرعام پارکوں میں ساحل سمندر پر اور دیگر پبلک مقامات پر دیکھ سکتے ہیں مگر کیبرے اور بیلی ڈانس ان کے انڈور پارٹی کلچر کا باقاعدہ حصہ ہے۔ قبل ازیں عرض کر چکا ہوں کہ ایران میں قیام کے دوران میرا زیادہ واسطہ خواتین سے پڑتا رہا ہے۔ ان کا رویہ انتہائی پر اعتماد رہا ہے۔ بہت سی خواتین نے مجھے بذات خود شادی کی پیشکش بھی کی جو دل کی ہزار اتھاہ گہرائیوں سے چاہنے کے باوجود میں قبول نہ کر سکا۔

کام کے دوران ہی بعض عمر رسیدہ خواتین نے اپنی نوجوان اور خوبرو بیٹی کے سامنے مجھے رشتے کی پیشکشیں بھی کیں مگر وہ بھی بوجوہ قبول نہیں کی جا سکتی تھیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ایران میں خواتین کس حد تک خود مختار ہیں۔ ایران میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کو دوست دختر اور دوست پسر کہا جاتا ہے اور یہ کلچر کافی حد تک عام ہے۔ بوائے فرینڈ بننے کی پیشکشیں البتہ تین چار ہوئیں جو میں نے نے بسر و چشم قبول کیں۔ یہ دوستی البتہ فقط گپ شپ ہوٹلنگ، کھانے اور ”پینے“ کی حد تک محدود رہیں۔

دو بار شب باشی کے معاملات کے لئے تاریخ بھی طے ہوئی اور بخدا دو بار ہی عین اسی تاریخ سے چند گھنٹے قبل ہی میں ویزے کی تجدید کے معاملات میں بے گناہ گرفتار ہو کر ڈی پورٹ ہوا۔ سو گناہ گار ہونے کی یہ کوششیں بفضل خدا تعالی ناکام ہوئیں جس کا خدا سے شکوہ یوم حشر مجھ پر واجب ہے کہ

ایک دل میں بھی لے کے آیا ہوں
مجھے بھی ایک گناہ کا حق ہے

ایران میں خواتین کی طرف سے شادی کی پیشکش ایک نارمل اور عام سی بات ہے۔ لڑکی والے لڑکے والوں کو رشتہ کی پیشکش کر دیتے ہیں جسے ہرگز معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ درج بالا سطور میں اپنے ساتھ درپیش آنے والے اس طرح کے واقعات لکھنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ میں اس میں اپنی کچھ اہمیت بنانے کی خاطر ڈینگیں ہانک رہا ہوں یا اپنی خوبصورتی یا وجاہت کی بابت بڑ ہانک رہا ہوں بلکہ مبنی بر حقیقت بات کی وضاحت کے لئے ذاتی تجربات و مشاہدات بیان کر رہا ہوں۔

گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کلچر وہاں عام ہے لڑکے لڑکیاں فخریہ بتاتے ہیں کہ ان کے بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ ہیں بلکہ آپ سے بھی اس بابت سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ کی کوئی گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ ہے؟

ایرانی خواتین میں لبرل ازم شاہ کے دور سے اب تک کبھی ختم ہوا ہی نہیں تھا یا شاید کسی مختصر دورانئے میں جزوی سی مذہبیت ان پر غالب رہی ہو۔ جس طرح پاکستان میں رہ کر مسلمان ہونے کے باوجود ہم قدیم و جدید ہندوستانی اور ہندوانہ رسوم و رواج اور روایات سے نہیں نکل سکے بعینہٖ اسی طرح ایرانی مسلمان بھی قدیم مجوسی و آتش پرست رسوم و رواج اور روایات سے نہیں نکل سکے۔ ایران کثیر المذاہب اور کثیر التہذیب ملک ہے۔ یہاں یہودی، زرتشت، مسیحی بھی کافی تعداد میں موجود ہیں۔ آٹھ ممالک سے اس کی سرحدیں ملتی ہیں جہاں اس کے شہریوں کی آمد و رفت ہے۔ ان میں سے آرمینیا، آذربائیجان اور ترکی ایسے ممالک ہیں جہاں تقریباً مغربی کلچر ہی ہے۔ نائٹ کلبز، اسٹرپ ٹیز کلبز، شراب خانے عام ہیں۔ ہمسایوں کے اثرات ایرانی عوام پر اچھے خاصے پڑتے رہتے ہیں۔ بحیثیت قوم ایرانی درون پردہ اتنے ہی آزاد ہیں جتنے کبھی شاہ کے دور میں تھے۔ بلکہ اس سے بھی بدرجہا زیادہ سمجھیں کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور ہے اور اس بات سے ایرانی ریاست عشروں سے بخوبی آگاہ ہے۔ اسی لئے فقط جبر و استبداد سے ہی مسلط ہے۔

یقین کیجئے ایرانی خواتین کثرت سے اپنے جسم پر ٹیٹوز بنواتی ہیں اور بلا جھجک ان کی بھرپور مائش بھی کرتی ہیں۔ پیرسنگ (piercing) اپنے ابروؤں، کان، ناک، ہونٹ، چھاتی اور زیر ناف چھدوا کر ان میں نتھلی، چھلا یا زنجیر پہنتی ہیں۔ بلاشبہ لڑکے بھی کثیر تعداد میں ایسا کرتے ہیں مگر لڑکیوں کی ایک معقول سے زیادہ تعداد بھی پیرسنگ کلچر اپنا چکی ہے۔ ایران کے سیاحتی مقامات پر پھٹی جینز بھی کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔

تہران میں سنگ و جواہر کی ایک دکان نوجوان میاں بیوی چلاتے ہیں۔ وہ میرے باقاعدہ کسٹمر تھے۔ ایک دن دوران گپ شپ خاتون نے مجھے اپنی انگلی پر بنا ہوا ٹیٹو دکھایا میں نے اس کے ٹیٹو کی تعریف کی تب اس نے اپنی ٹی شرٹ کی آستین اوپر کر کے ایک اور ٹیٹو دکھایا میں نے اس کی بھی تعریف کی بلکہ ضرورت سے زیادہ تعریف کی۔ بخدا اس نے اپنے شوہر کے سامنے اپنی ٹی شرٹ تھوڑی سی پیٹ سے اوپر اٹھا کر دائیں پسلیوں سے نیچے کی طرف ایک اور ٹیٹو دکھایا۔ تب اس کے شوہر نے ہلکی پھلکی سی تنبیہی نگاہوں سے اسے دیکھا۔ میں سخت جھینپ گیا۔

مگر لڑکی نے پھر بھی پوچھ لیا کہ یہ ٹیٹو کیسا لگا؟

اب کی بار میں نے کافی محتاط اور جھینپے لہجے میں اوکے کہہ کر جان چھڑائی۔ درپردہ اس قدر آزادی اور لبرل خیالات یقیناً زائد از ضرورت ہیں مگر وہاں موجود ہیں۔

یہ بات بھی یقینی ہے کہ وہاں قدامت پرست مذہبی طبقے کی بھی ایک معقول تعداد موجود ہے مگر اس کی تعداد میں بتدریج اور مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ قم اور مشہد ایران انتہائی مذہبی تقدس کے حامل شہر ہیں لہذا وہاں آپ کو قدامت پرست، مذہبی اور سخت گیر عناصر کثرت سے نظر آئیں گے۔ ان شہروں کا اجتماعی ماحول ایک بیرونی زائر یا سیاح کو تو مکمل طور پر مذہبی ہی نظر آتا ہے۔ برقع کافی زیادہ نظر آتا ہے مگر اکثر برقعے کے نیچے آپ کو جدید مغربی لباس اور میک اپ سے ملمع زدہ چہرے بھی نظر آئیں گے مگر ”برقعے کے نیچے کیا ہے“ کی دریافت کے معاملے میں آپ خود ذمہ دار ہونگے۔

یہاں مذہب پرست بہ کثرت موجود ہیں۔ انٹرنیشنل مذہبی مدارس بھی یہیں ہیں لہذا یہاں عمومی طور پر مذہبیت کا رنگ نمایاں ہے۔ یہاں کی خواتین بھی بظاہر ٹھیٹھ مذہبی ہیں۔ نماز، روزہ، زیارات، مجالس، صدقات اور تلاوت ان کا روزمرہ کا شدت سے معمول ہے مگر یہ عناصر بہ کثرت انہی مقدس شہروں میں ہی ملیں گے یا پھر دیگر شہروں میں مخصوص مذہبی ایام میں مذہبیت کا رنگ غالب آ جاتا ہے۔

ایران میں طلاق کی شرح پاکستان کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ وہاں بھی طلاق یافتہ ہونا کسی قدر معیوب ہے مگر اس قدر ہرگز نہیں کہ جس قدر پاکستان و ہند میں ہے۔ بیشتر وکلاء نے اپنے دفاتر کے باہر اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے اپنے اشتہارات میں طلاق کے کامیاب کیسز کی تعداد لکھی ہوتی ہے۔ کامیاب طلاقوں کی یہ تعداد ان کی کامیاب وکالت کی دلالت کرتی ہے۔

شرعی اور دیگر عائلی قوانین میں عورت کے حقوق کو بہت ہی اہمیت دی گئی ہے۔ عورت پر تشدد کی صورت میں سخت سزائیں ہیں۔ دنیا بھر میں پدر سری سماج ہونے کے باوجود ایران میں بظاہر عورت کو بہت زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ میں نے کثیر تعداد میں شوہروں کو اپنی بیویوں سے ڈرتے دیکھا ہے۔ اکثر گھروں میں باقاعدہ خواتین کی حکمرانی دیکھی ہے اور مردوں کو باقاعدہ گھگھیاتے دیکھا ہے۔ نکاح نامے میں مندرج جیب خرچ یا نان نفقے میں معمولی کمی بیش شوہر کو قانونی طور پر سخت مشکل میں مبتلا کر سکتی ہے۔

بہت سے معاملات میں میں نے ایرانی عورت کو میسر اس آزادی کا غلط استعمال دیکھا ہے جسے میں یہاں بوجوہ عیاشی کی حد تک جانا لکھوں گا۔ آزادی کے نام پر وہ اپنا کافی سے زیادہ استحصال کروا بیٹھتی ہے اور بعض واقعات میں غلط راہوں کی مسافر بھی بن جاتی ہے اس پر مستزاد یہ کہ بیشتر ہر عمر کی خواتین مزید آزادی کی بھی متمنی ہیں۔ ڈھکے چھپے الفاظ میں لکھوں تو وہ ضرورت سے انتہا درجے زائد آزادی چاہتی ہیں اور مرد حضرات بھی اس معاملے میں ان کے ان سے زیادہ ہمنوا ہیں۔

ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ نکاح وہاں حد درجے مہنگا ہے۔ مرد و خواتین کے لئے نکاح کے اسباب و لوازمات کو ان کے معاشرے میں از حد مشکل بنایا گیا ہے۔ بری، جہیز اور شادی کے دیگر اخراجات کے لئے بہت زیادہ رقم اکٹھی کرنی پڑتی ہے۔ یقین مانیے ایران میں شادی پاکستان کی نسبت سے مالی طور پر زیادہ مشکل اور مہنگی ہے۔

وہاں ہر گلی، محلوں میں بیوٹی پارلرز کی بہتات ہے۔ ویسے تو یہ بیوٹی پارلرز ہفتے کے تمام روز ہی آباد رہتے ہیں مگر جمعرات اور جمعہ کے دن اور رات میں یہاں ایک ایک لمحے کی بکنگ ہو جاتی ہے اور یہ صورتحال سارا سال رہتی ہے۔ ہر بیوٹی پارلر ہاؤس فل ہوتا ہے۔ اپوائنٹمنٹ نمبر کے لحاظ سے خواتین بنتی سنورتی ہیں۔ یقین مانیے میک اپ کی کچھ ایسی قسم استعمال ہوتی ہے جو چہرے پر ہفتہ بھر قائم رہتی ہے۔ ایک خاص بات یہ کہ بعض خوبصورت دوشیزائیں اپنے ابرو 45 / 50 کے زاویے پر کچھ اس طرح سیٹ کرتی ہیں کہ جیسے چڑیل ہوں۔

بعض عارضی مصنوعی اور بعض ٹیٹوز سے بھی عجیب و غریب قسم کے ابرو بنواتی ہیں اور اچھی خاصی شکل و صورت کو چڑیل جیسا بنا لیتی ہیں جبکہ ان کے مرد ان کی اس عجیب صورت پر قربان ہو رہے ہوتے ہیں۔ خوبصورتی کا ان کا یہ معیار ہماری سمجھ سے تو باہر ہی ہے لہذا کم از کم مجھے تو اس سے کراہئیت ہی محسوس ہوئی خدا جانے انہیں اس میں کون سا حسن نظر آتا ہے؟

جمعرات کے دن بیوٹی پارلر سے تیار ہونے کے بعد ان کے شوہروں پر انہیں شاپنگ کروانا، گھمانا اور ان کی فرمائشیں پوری کرنا وجوب کا درجہ رکھتا ہے بصورت دیگر مصدقہ شنید ہے کہ اس بھری مراد والی شب، نامراد رہتے ہیں اور یہ بات مبنی بر حقیقت ہے الا یہ کہ بیویوں کو کسی طور شوہروں پر ترس آ جائے یا پھر خود جود و کرم کے موڈ میں ہوں۔

خلاصہ یہ کہ وہاں عورت کو خاصے حقوق حاصل ہیں، وہ پر اعتماد، مضبوط اور آزاد ہے۔ ہمہ قسم شعبہ ہائے زندگی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ آپ وہاں اسے بہ آسانی ہراساں نہیں کر سکتے۔ وہ اپنے حقوق سے آگاہ ہے اور مزاحمت کرنا جانتی ہے۔ آپ اس کی مرضی کے خلاف اسے کسی بات پر مجبور نہیں کر سکتے۔ ملکی تعمیر و ترقی میں وہ برابر کا کردار ادا کر رہی ہے اور وہ اپنے اس کردار کو مزید وسعت دینے کی خواہاں ہے۔

سخت ترین اسلامی آمریت کی علمبردار ریاست کی خواتین کے حجاب، برقعہ وغیرہ کی بابت انتہائی سخت ترین قوانین اور پالیسیز کے باوجود ایرانی خواتین، ایران کی معیشت اور اپنے معاش کے لئے ہمہ تن مصروف کار ہیں۔ میرے ناقص اندازے کے مطابق ہر تیسری یا چوتھی دکان کوئی خاتون ہی چلا رہی ہے۔ پھر چاہیے وہ گوشت کی دکان پر قصاب کا کام کر رہی ہو، سبزی فروش ہو، موچی ہو، بینک مینیجر ہو یا سیلز گرل اور بیمہ ایجنٹ۔ تہران میں ہمارے محلے کی گروسری کی دو دکانیں دو میاں بیوی چلاتے اور سات سات گھنٹے ڈیوٹی دیتے تھے۔ بیشتر میڈیکل سٹورز خواتین چلا رہی ہیں۔ حتیٰ کہ ٹرکوں کے سپیئر پارٹس اور کاروں کے شو روم تک اور حصول معاش کے تقریباً ہر شعبے میں خواتین کی بھرپور نمائندگی ہے۔

انتہائی پر اعتماد اور خود اعتماد خواتین آپ کو پورے ایران میں نظر آئیں گی۔ یہ بات بھی درست ہے کہ مردوں کے اس سماج میں ان کے مختلف نوعیت کے استحصال کے مواقع بھی ختم نہیں ہوئے مگر بہت کم ضرور ہیں۔ عورت کو حکومتی سطح پر بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس کے تحفظ کے لئے بہت سے قوانین موجود ہیں۔ عائلی قوانین بھی بہت سخت ہیں مگر مرد پھر بھی ان کے استحصال کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

ایرانی عورت کو آپ پاکستان کی نسبت کافی حد تک آزاد قرار دے سکتے ہیں۔ وہ بہترین منتظم کے طور پر کام کر رہی ہے اور ٹیکسی بھی چلا رہی ہے۔ کسی بداخلاقی یا بد تہذیبی پر وہ آپ کو ملائمت سے ٹوک دیتی ہے اور کبھی انتہائی سخت جارحانہ انداز سے آپ کو اپنی حدود میں رکھنے کا بندوبست بھی کر جاتی ہے۔

راہ چلتے آپ کسی بھی ایرانی نوجوان دوشیزہ تک کو روک کر اس سے کسی قسم کی رہنمائی کی درخواست کریں تو وہ بھرپور توجہ سے آپ کی مدد کر دے گی۔ کوئی آپ کو مشکوک یا معنی خیز نظروں سے نہیں دیکھے گا۔ اجنبیت کے باوجود دوران سفر آپ اس سے اخلاق کے دائرے میں گفتگو، مکالمہ اور معقول گپ شپ بھی کر سکتے ہیں۔ اسے یہ خوف ہرگز لاحق نہیں ہوتا کہ اس کے شوہر، بھائی یا والد نے اسے کسی اجنبی سے باتیں کرتے دیکھ لیا تو برا منائے گا بلکہ اسے یہ اعتماد حاصل ہے کہ اس کے اقارب اس پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں اور وہ بہرصورت ان کے اعتماد کو برقرار بھی رکھتی ہیں۔

ایران میں خواتین کے سینکڑوں دکانوں پر محیط شاپنگ مال بنے ہوئے ہیں جہاں تمام ہی دکانیں عورتوں کی ہیں مگر خریدار مرد و زن دونوں ہوتے ہیں۔ یاد رہے یہاں میں اکثریت کی بات کر رہا ہوں۔ ایران میں جن مکانات، ہوٹلز، ویلاز میں قیام پذیر رہا ہوں، یومیہ کرایہ وصولنے مجھ سے 90 فیصد خواتین ہی آتی تھیں۔

اپنی حسن پرستی اور اس وقت کسی حد تک ٹھرکی الفطرت ہونے کے باوجود میری جرات نہیں تھی کہ ان سے ایک بھی لفظ اضافی بول دوں سوائے کچھ دوست خواتین کے کہ جن سے کسی حد تک کھل کر گپ شپ ہو جاتی تھی۔

خواتین نے ایران کے چپے چپے میں چھوٹے بڑے سٹال لگائے ہوئے ہیں اور شہر داری کے ادارہ کو باقاعدہ یومیہ ٹیکس دیتی ہیں۔ ہفتہ وار بازار میں تو ساٹھ فیصد سٹالز خواتین کے ہوتے ہیں۔ ایرانی خواتین میٹرو ٹرین میں بھی اشیاء بیچ رہی ہوتی ہیں۔ مصوری، خطاطی، میوزک، نقاشی، کاشی گری سکھانے کے ادارے چلاتی خواتین اپنے متوقع سٹوڈنٹ ڈھونڈنے اور تشہیر کے لئے ڈور ٹو ڈور جاتی ہیں۔

اس میں اہم بات یہ ہے کہ وہ بے خوف و خطر جاتی ہیں۔ زیادہ تر خواتین ایفائے عہد پر کاربند رہتی ہیں۔ وقت اور لین دین کی پابندی کی کمال پاسداری کرتی ہیں۔ ایرانی مرد اس معاملے میں کافی زیادہ ڈنڈی مار جاتے ہیں۔ اپنے چھ سالہ قیام کے دوران میں نے مرد حضرات کو خواتین کی نسبت زیادہ دھوکہ باز پایا اور وعدہ خلاف بھی۔ بلاشبہ ایسی چند خواتین بھی تھیں جنہوں نے لین دین کے معاملے میں بد عہدی کی مگر مرد حضرات نسبتاً زیادہ بد عہد پائے گئے۔ یقیناً ہر قوم اور معاشرے میں کچھ کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں لہذا ایران کو بھی اس سے یکسر پاک قرار نہیں دیا جاسکتا۔

بعض اوقات ایرانی خواتین ہمارے سامنے ہی بچوں کو اپنی فیڈنگ کا مظاہرہ کر دیتی تھیں۔ ایران میں میرے قیام کے ابتدائی ایام 2015 میں تو بندہ یہ کچھ دیکھ کر اکثر و بیشتر انڈر سٹینڈ بھی ہو گیا مگر بعد ازاں جب کچھ دوست خواتین سے اس سلسلے میں بات چیت ہوئی تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے ہمیں حد درجہ شرمندہ کیا کہ ”یہ ایک ماں کا اپنے بچے کو رزق فراہم کرنے کا عضو یا آلہ ہے اور ماں کی اپنے بچے کو غذا رسانی کے اس عمل میں اگر کسی کو جنسی کشش یا شہوت محسوس ہوتی ہے تو یقیناً اس کی تربیت کسی نامناسب اور غیر صحت مندانہ ماحول میں ہوئی ہے۔

قطع نظر اس کے کہ ایرانی خواتین کا یہ نقطۂ نظر معاشرتی حوالے سے درست ہے یا غلط؟ مگر یہ بھی ان کی آزاد ذہنیت کا ایک پہلو ہے۔ نیز اب یہ ہم پر بھی منحصر ہے کہ ہم ان کے اس ”پہلو“ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

پس تحریر : یہ مضمون میرے زیر تحریر سفرنامہ ”مشاہدات ایران“ سے اخذ کیا گیا ہے مگر یہ ایران میں مہسا امینی کے حجاب کے نام پر پر تشدد ریاستی قتل اور اس کے خلاف مظاہرے، ایران میں مذہبی آمریت، جبر اور آزادی نسواں وغیرہ کے موضوع پر آنے والے نقطۂ نظر پر مبنی مختلف احباب کے سلسلہ مضامین سے یکسر مختلف نقطہ نظر کا بیان ہے۔ ایران میں مذہبی ریاستی جبر یقیناً موجود ہے۔ مگر کیا کیجئے کہ میرے مشاہدات ایرانی عورت کو ترقی، کامیابی، حقوق اور آزادی کے معاملے میں پاکستانی عورت سے بدرجہا بہتر پاتے ہیں۔ آپ کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہے۔ منتظر رہوں گا۔

Facebook Comments HS