کیا مریم نواز ایک متعصب پنجابن ہے؟
تو کچھ حلقوں نے اسے صوبائیت اور لسانیت پر مبنی تنگ نظر اور نفرت بھری سوچ سے تعبیر کرتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صرف پنجاب کے سیاسی رہنماؤں کے لیے ہی ایسی بات کرنے پر ممانعت کیوں ہے؟ سابق آمر مشرف کو ان کی سروس کے دنوں میں ”ایم کیو ایم کا جنرل“ کہا جاتا تھا اور آصف زرداری بیرون ملک سندھی ٹوپی پہن کر بطور صدر دورے تک پر پہنچ جایا کرتے تھے اور موجودہ وزیراعظم عمران خان دھرنے کے دنوں میں کھلے عام ”میرے پختونخوا کے ٹائیگرز“ سے پنجاب پولیس کو ڈرایا کرتے تھے۔
اور تھوڑا پیچھے جائیں تو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو علانیہ ”پنجاب کے وزیراعظم اور سندھ کے وزیراعظم سے الگ الگ سلوک“ کی دہائیاں دیا کرتی تھیں اور اکثر سندھی اجرک پہن کر میڈیا ٹاک تک کیا کرتی تھیں۔ ایم کیو ایم والے چوکوں چوراہوں میں ”مہاجر مہاجر“ کے نعرے لگاتے دکھتے اور الگ سے صوبے کیے مطالبے کرتے ملتے تھے اور آج بھی کراچی کے در و دیوار پر ”مہاجر صوبہ تحریک“ کی چاکنگ دیکھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح سندھ کے قوم پرست بھی سندھیت کے ساتھ ہمیشہ سے منسلک رہتے ہیں اور بلوچستان سے اٹھتی آوازیں جو بلوچیت کا واضح اور دوٹوک رنگ لیے ہوتی ہیں، ان کا ذکر عالمی فورمز تک پر کیا جاتا رہتا ہے اور کبھی اس کو تعصب سے نہ جوڑا گیا ہے بلکہ سب ہی ان کی باتوں پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ملتے ہیں۔
آپ ماضی میں باچا خان سے شروع ہوجائیں اور ولی خان سے ہوتے ہوئے اسفندیار ولی بلکہ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت تک کو دیکھ لیں۔ پشتون ازم سب کی گھٹی میں ملے گا، ہندکو صوبہ کی سوچ کیا موجود نہ ہے؟ اور بلوچستان میں پشتون بیلٹ کی نمائندگی اچکزئی فیملی کس بنیاد پر کرتی ہے؟ اور بلوچستان کی پشتون آبادی کے لیے الگ سے صوبے کا مطالبہ کیا موجود نہ ہے؟ پنجاب میں برسہا برس سے ”سرائیکستان، سرائیکی صوبہ“ کی کہانیاں بیچنے والے کیا دکھائی نہ دیتے ہیں؟ قبائلی علاقے فاٹا کو خیبر پختونخوا ضم کرنے کی سوچ کیا ہے؟
دییکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا مریم نواز شریف نے پنجابی کے جاگنے کی بات کر کے کوئی گناہ کر دیا ہے؟ کیا یہ کوئی عجیب سی بات ہے؟ حیرت ہے کہ سندھ میں اجرک اور ٹوپی ڈے منانے پر اعتراض نہ ہوتا ہے لیکن پنجابی کے جاگنے اور پھر برے کا پیچھا کرنے اور اس برائی کو گھر تک چھوڑنے کی مثبت اور جرات مندانہ بات پکڑ لی جاتی ہے اور یہ صرف پنجاب کے رہنماؤں کے ساتھ ہوتا ہے کہ انہیں پنجاب اور پنجابیت کا نعرہ لگانے پر نہ صرف متعصب کہا جاتا ہے بلکہ گالیاں بھی دی جاتی ہیں۔ یہ عجیب منافقانہ طرزعمل اور جانچنے کا بھونڈا سا پیمانہ ہے۔ اگر اعتراض کرنا ہے تو ہر لیڈر کے صوبائی پنے پر کریں ورنہ چپ رہیں کیونکہ ایسا کر کے آپ خود کو متعصب ثابت کر رہے ہوتے ہیں۔


