آپ کو انکل اقبال کے ساتھ کوئی اختلاف تو نہیں؟

کون اقبال؟ سوال کے جواب میں بھی سوال ہی پوچھا گیا اور میں نے بھی تو جان بوجھ کر ایک شاعر سے مبہم سوال کیا تھا۔
کچھ توقف کے بعد میں نے دوبارہ شرارتی انداز میں لکھا، ”اوہو بھئی انکل علامہ اقبال“ تو اس پہ کہنے لگے نہیں تو مجھے ان سے کوئی اختلاف کیوں ہو گا۔
اچھا تو پھر ہم اقبال ڈے پر ڈاکٹر صاحب کی شاعری پڑھیں گے انصر بھائی۔
”ہاں چلو ٹھیک ہے“ کہہ کر انہوں نے حامی بھر لی اور آف لائن ہو گئے۔ یہ اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر انصر منیر ہیں جن کو میں انصر بھائی کہتی ہوں اور چھوٹی بہن کی حیثیت سے ان کی شاعری کی ہر پوسٹ پر ان کو ضرور تنگ کیا کرتی ہوں، ایک دن مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ ان کو فیس بک لائیو پہ انوائیٹ کیا جائے تو اگلے دن وہ میرے ساتھ لائیو تھے۔
مائیکرو بیالوجی میں ایم ایس سی پڑھتے پڑھتے ایم اے انگلش، ایم اردو اور پھر قانون کی تعلیم کی ڈگریوں سے مزین یہ شخصیت ایک شاعر کی ہے جو وقتاً فوقتاً اپنی پوسٹس پر اپنے جمالیاتی ذوق کا اظہار کرتے ہیں۔ ہر شعر وزن میں پورا اور بامعنی تو ہوتا ہی ہے اوپر سے ان کے وڈیو کلپس کلام شاعر بزبان شاعر کی ایک نئی طرز کو متعارف کراتے نظر آتے ہیں۔
کسی نے پروگرام کے دوران سوال کیا کہ شاعری کیوں ضروری ہے؟ جس کا جواب انہوں نے کچھ اس طرح سے دیا کہ فنون لطیفہ، شاعری شدت پسندی کا توڑ ہیں۔ ہمارا معاشرہ تقسیم در تقسیم کی ڈگر پر ہے۔ تخلیقی فضا کا فقدان جنونیت اور جمود کا پیش خیمہ ہے۔ باتیں تو بہت ہیں کرنے کو مگر پھر سہی۔ میرے تمام سوالات کے انتہائی اعلیٰ اور معیاری جوابات سے انہوں نے ایک عام سے پروگرام کو خاص اور خاصا ادبی بنا ڈالا۔
محاورات اور ضرب الامثال کا سیگمنٹ میرے پروگرام کا ایک ہلکا پھلکا سا طنز و مزاح پر مبنی حصہ ہے مگر اس کی وضاحت بھی انصر بھائی نے انتہائی موثر اور محتاط انداز میں کی۔ ان کے مشہور شعر ”اپنے والد سے ہمکلام رہو“ پہ بات ہوئی تو مجھے اس حقیقت کا علم ہوا کہ یہ محض ایک شعر نہیں بلکہ بہت بڑا المیہ ہے جو ہمارے ہاں بھی رواج پکڑ رہا ہے۔
ہم اکثر سنتے ہیں کہ وقت کسی کے لئے نہیں رکتا، وقت بڑا ظالم ہے یا پھر وقت بدل گیا ہے مگر یہ وقت ہے کیا؟
علم طبیعیات میں اس کی تعریف زمان و مکاں کے لحاظ سے یوں کی جاتی ہے : ”وقت دراصل غیر فضائی (nonspatial) اور با الفاظ دیگر زمانی (temporal) واقعات کا ایک تسلسل ہے جو ناقابل للعکس (irreversible) ہوتے ہیں اور ماضی سے حال اور پھر مستقبل کی جانب رواں رہتے ہیں گویا اس کا معنی و مفہوم بہت وسیع ہے مگر جب وقت کی تعریف والدین اور بچوں کے درمیان تعلق اور تسلسل کے حوالے سے کی جائے تو بات ضرورت، جذبات، خواہشات سے ہوتی ہوئی بے بسی کی اس منزل تک جا پہنچتی ہے جس کی وجہ اولاد کی وہ مجرمانہ غفلت ہے جو وہ اپنے عمر رسیدہ والدین کے معاملے میں کر جاتی ہے۔
اس اہم نقطے کو شاعر انصر منیر صاحب نے انتہائی دلکش انداز میں شاعری میں سمو دیا ہے جو ہماری سوچ کے کئی در وا کرتا ہے :
ے اپنے والد سے ہمکلام رہو
یوں وہ بوڑھا جوان رہتا ہے
یہ شعر ہماری موجودہ نسل کا المیہ بھی ہے جو زندگی کی بھاگ دوڑ اور اسلوب کی پیچیدگی کے باعث دن بدن اپنے والدین سے دور ہو رہی ہے۔ اسی المیے کو ایک اور شاعر نے بیان کیا ہے۔ میں نہیں جانتی کہ شاعر نے والدین کے لئے لکھا یا نہیں مگر میں اس کو جب بھی پڑھتی ہوں تو مجھے اس کی وجہ تسمیہ بھی والدین سے غفلت ہی لگتی ہے
وہ زہر دیتا تو سب کی نگہ میں آ جاتا
سو یہ کیا کہ مجھے وقت پر دوا نہ دی
زمین دن سے رات تک کا وقت گزرتا دکھانے کے لئے سورج کے گرد اور اپنے مدار میں چکر لگاتی ہے تب وقت دن سے گزر کر رات اور رات سے گزر کر دن کہلاتا ہے۔ والدین کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے جب تک بچے اپنے والدین کے ساتھ ربط میں رہتے ہیں، اپنا تعلق جوڑے رکھتے ہیں اور اپنے مدار کے فطری سفر کو تہس نہس نہیں کرتے تب تک زندگی بھی اپنی خوبصورتی کو برقرار رکھتی ہے کیونکہ والدین کی طاقت بحال رہتی ہے اور جب انسان اپنے مدار سے ہٹنے لگتا ہے تو نہ صرف وقت کا پیمانہ گڑبڑ ہو جاتا ہے بلکہ دو نسلوں میں ایک نا دکھائی دینے والا فاصلہ جنم لیتا ہے جس کو آنے والی نسل بھی عبور نہیں کر پاتی اور یوں ایک نسل کی لاپرواہیاں دوسری نسل کا پچھتاوا اور آنے والی نسلوں کی بدقسمتی بن کر سامنے آتی ہیں۔
اپنے والدین سے پیار کیجیے ویسا ہی جیسا انہوں نے ہم سے ہمارے بچپن میں کیا اور ان کا خیال رکھیے ویسا ہی جیسا انہوں نے ہمارا اس وقت رکھا جب ہم ان کے سہارے کے بغیر نہ کھا پی سکتے تھے، نہ اپنی صفائی ستھرائی کا خیال رکھ سکتے تھے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ زندگی کا تسلسل ان کی مدد و محبت کے بنا ممکن ہی نہ تھا۔

