کوزہ گر
” ارے بیٹا! جلدی سے برتن ڈھانپ دو۔ وہ دیکھو تیز آندھی آ رہی ہے“ ۔ کوزہ گر کی ماں چھت پہ کھڑی جنوب کی جانب سے آنے والی آندھی کو دیکھ کر چلا رہی تھی اور کوزہ گر کو آنے والے خطرے سے خبردار کر رہی تھی کہ وہ صحن میں رکھے برتن ترپال سے ڈھانپ دے، تاکہ کوئی برتن ٹوٹ نہ جائے۔ کوزہ گر کا یہ خاندانی پیشہ تھا جو اسے باپ کی طرف سے وراثت میں ملا تھا۔ کوزہ گر کی عمر یہی کوئی بارہ تیرہ برس کی ہوگی جب اس نے باپ کے پاس بیٹھ کر، یہ کام سیکھنا شروع کیا تھا۔
باپ نے پہلے اسے مٹی گوندھنے کا سلیقہ بتایا، کہ اس کام میں سب سے بڑا کمال ہی مٹی کا ہے۔ مٹی کیسی ہو، پانی کتنا ڈالنا ہے، گوندھنا کیسے ہے، گوندھنے کے بعد کتنی دیر انتظار کرنا ہے تاکہ وہ قرار پکڑ سکے وغیرہ۔ یہ وہ بنیادی سبق تھا جو اس کے باپ نے اسے سکھایا، تاکہ وہ بھی باپ دادا کی طرح ایک مشاق کوزہ گر بن کر اپنے خاندان کی روشن روایات کو زندہ رکھ سکے۔ اگرچہ اس کی ماں چاہتی تھی کہ وہ سکول جائے اور پڑھ لکھ کر، کوئی ملازمت حاصل کرلے، مگر کوزہ گر اور باپ دونوں کی خواہش یہی تھی کہ وہ اپنے آبائی کام میں ہی جتا رہے۔
کوزہ گر نے ایک سال مٹی میں ہاتھ گندے کیے، باپ سے جھڑکیاں اور ماریں کھائیں، تب جاکر اس کے ہاتھ مٹی کی طبیعت سے آشنا ہوئے اور وہ مٹی گوندھنے میں ماہر ہوا۔ جب اس کا باپ مطمئن ہو گیا کہ اب کوزہ گر وہ مٹی گوندھ سکتا ہے، جس سے برتن تیار ہو سکے، تو اس نے کوزہ گر کو اپنے ساتھ بٹھالیا اور پھر کوزہ گری کی تعلیم دینے لگ پڑا۔ ہاتھوں کو کیسے رکھنا ہے، کب ہاتھ کہاں پڑنا چاہیے، انگلیوں کو کب اور کیسے گھمانا ہے، پہیے کی رفتار کب کتنی ہونی چاہیے، پاؤں کو کیسے مارنا ہے اور پھر مٹی کو کیسے مختلف برتنوں کی شکلوں میں ڈھالنا ہے، یہ سارا فن اس نے باپ سے کچھ ہی عرصے میں سیکھ لیا اور پھر چھوٹے چھوٹے کوزے بنا کر، اپنے فن کی مشق کرنے لگ پڑا تاکہ بعد میں کسی قسم کی کوئی دقت اسے پیش نہ آئے۔
اسے باپ کے ساتھ کوزہ گری کرتے بمشکل ایک سال ہی گزرا ہو گا کہ، اس کا باپ سردی کی وجہ سے شدید بیمار ہو کر انتقال کر گیا اور اب گھر کا معاشی انتظام کوزہ گر نے سنبھال لیا۔ جب تک باپ زندہ تھا وہ اس کسب کو محض ایک مشغلہ سمجھتا تھا، مگر اب اس نے باقاعدہ ذمہ داری سنبھال لی تھی اور ایک کہنہ مشق کوزہ گر کی طرح مختلف اقسام کے برتن بنا کر انہیں فروخت کرتا اور یوں ماں بیٹے کا گزارہ چلتا۔ جب وہ پہلے پہل باپ کی سیٹ پر بیٹھا تو لوگ اس کے بنے برتن لیتے ہوئے ہچکچاتے تھے کہ نامعلوم برتن ناقص نکل آئے، مگر رفتہ رفتہ اس کی شہرت اپنے علاقے میں ایک مشاق کوزہ گر کے حوالے سے یوں پھیل گئی، جیسے گلاب کے پھول کی خوشبو۔
کوزہ گر کے ہاتھ سے نکلے برتن جہاں جہاں پہنچے، لوگوں نے اس کے ہنر کو نہ صرف داد دی بلکہ وہ دور دور سے آ کر اس کے بنے برتن خرید کر اپنے ہاں لے کرجاتے۔ کوزہ گر کو اب اپنے برتنوں سے عشق ہونا شروع ہو چکا تھا اور وہ ان کا ایک باپ کی طرح خیال رکھتا تھا، جو اپنے بچوں پر شفقت کا سایہ تنے خود زمانے کی کڑی دھوپ میں جلتا رہتا ہے، مگر بچوں پر دھوپ کی تمازت اور بارش کو نہیں پڑنے دیتا۔ وہ رات کو اٹھ اٹھ کر آسمان کو دیکھ کر موسم کی کیفیت کا جائزہ لیتا رہتا تھا، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار موسم کی صورت میں برتنوں کو ڈھانپ کر انہیں ٹوٹنے یا خراب ہونے سے بچا سکے۔
ان برتنوں میں گویا اس کی جان قید تھی، جن کے ٹوٹنے سے گویا وہ مرسکتا تھا۔ یہ برتن ہی اس کی کل کائنات تھے، جن کو دیکھ کر وہ دل ہی دل میں خوش ہوتا اور اپنی ہنرمندی کی خود ہی اپنے آپ کو داد دیتا۔ اب اچانک یوں اماں نے اس کو آندھی کا بتایا تو وہ کمرے سے بدحواسی کے عالم میں ایسے باہر نکلا، کہ اس نے پاؤں میں جوتی تک پہننا گوارا نہ کی اور فوراً ڈیوڑھی سے ترپال نکالنے چلا گیا۔ اگرچہ وہ انتہائی سرعت کے ساتھ ترپال کو ادھر ادھر سے پکڑ کر سمیٹنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر اسی دوران طوفان نے اس کے گھر کو آلیا اور پھر اس کے سامنے جب اس کے ہاتھوں سے بنے، عزیز از جان برتن تڑ تڑ تڑ کی آواز سے ایک ایک کر کے ٹوٹنے لگے، تو اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ وہ ترپال کو ہاتھوں میں تھامے، وہیں صحن میں شدید آندھی میں کھڑا بت کی طرح ساکن ہو گیا۔ اس کی ماں اسے دوسرے کمرے سے مسلسل پکار رہی تھی، کہ وہ اندر آ جائے مگر اس کی روح گویا پرواز کر چکی تھی۔
” میرے لعل! چل اندر دیکھ بہت سخت طوفان ہے۔ ایسا نہ ہو تجھے کوئی چوٹ لگ جائے“ ماں اسے بازوؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہی تھی، مگر اس کے دل پر بیک وقت ایک نہیں کئی چوٹیں لگ چکی تھیں، جن کے سبب اس کا دماغ اور دل کام کرنا چھوڑ چکا تھا۔ کوزہ گر کی ماں اسے گھسیٹ کر اندر کمرے میں لانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر وہ یوں ساکت کھڑا تھا جیسے کوئی سوکھا درخت۔ وہ بس پھٹی ہوئی آنکھوں اور لرزتے ہونٹوں کے ساتھ بے بسی کی تصویر بنے، ان برتنوں کو کانچ کی طرح ٹوٹتے اور خشک پتوں کی طرح بکھرتے دیکھ رہا تھا، جنہیں اس نے کچھ دن پہلے بہت زیادہ محنت، انتہائی جانفشانی، لگن اور محبت کے ساتھ بنایا تھا اور پھر کھلے آسمان تلے دھوپ میں رکھ دیا تھاتاکہ وہ خشک ہوجائیں۔
میں نے تیرا کیا بگاڑا تھا، جو تو نے میرے ساتھ ایسے کیا؟ کاش! تجھے علم ہوتا کہ ایک برتن کو بنانے میں کتنی محنت صرف ہوتی ہے۔ کاش! تو اس بات کو جان لیتا کہ یہ برتن مجھے کتنے عزیز تھے؟ تو نے یہ برتن نہیں میرا دل توڑا ہے، میرا دل۔ مگر تو کیا جانے دل کا ٹوٹنا کسے کہتے ہیں؟ کاش! تو نے کبھی اپنے ہاتھ سے برتن بنائے ہوتے، تو تجھے پتہ چلتا کہ یہ کتنی مشکل سے بنتے ہیں۔ کاش! تو کبھی برتن بناتا اور پھر یونہی اچانک آندھی آکرانہیں توڑدیتی اور تو اپنے سامنے اپنی محنت کو مٹی میں ملتے دیکھتا۔
کاش! تیرے ہاتھ مٹی سے کبھی گندے ہوتے، تو تجھے پتہ چلتا مٹی کیا چیز ہے؟ کاش! تیرے بھی بنے ہوئے برتن کہیں پڑے ہوتے اور میں جاکر ان کو تیری آنکھوں کے سامنے ان کو زمین پر ایک ایک کر کے پٹخ کر توڑتا، جس کی ہر آواز سے تیرے دل پر ایک نئی چوٹ لگتی اور تجھے ایسے زخم ملتے جو ساری عمر مندمل نہ ہوتے۔ اے کاش! تو نے کبھی کسی سے محبت کی ہوتی، اس کا روگ لیا ہوتا تو تجھے پتہ چلتا کہ اس روگ میں سلگنا اور پھر اس کی آگ میں اندر ہی اندر جلنا کیسا ہوتا ہے؟
”کوزہ گر ایک ایک برتن کی کرچیاں اکٹھی کرتے، ان کو جھولی میں ڈالتے، اپنی حسرتوں میں آنسو بہاتے، ایک دوسرے کوزہ گر سے شکوہ کناں تھا۔ ایک ایسا کوزہ گر جس کی بابت وہ سمجھتا تھا کہ شاید اس نے کبھی کوزہ گری نہیں کی ہے اور نہ ہی اسے کوزہ گری کا پتہ ہے۔ اس نے جب تمام چھوٹے بڑے ٹکڑے اکٹھے کرلیے تو پھر گھر سے دور ایک گڑھا کھودا، اور ان تمام ٹکڑوں کو اس گڑھے میں ڈال کر، اس کے اوپر مٹی ڈال دی اور پھر ہاتھ جھاڑ تے ہوئے گھر واپس آ گیا۔ جب گھر واپس پہنچا تو اس کی ماں، اس کے برتنوں کے واسطے اور مٹی گوندھ رہی تھی اور ساتھ میں شاہ حسین کا کلام اپنی دھن میں گا رہی تھی۔
جنگل بیلے پھراں ڈھوڈیندی اجے نا پایو لعل نی
مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی


