صادق اور امین کس کی تلوار ہے


قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں ”عنان اقتدار سنبھالتے ہی صدر ایوب نے سیاست دانوں کا قلع قمع کرنے کے لئے یکے بعد دیگرے دو قانون نافذ کیے ۔ پہلا قانون عرف عام میں ’پوڈو‘ کہلایا یعنی اپنے پیشرو منسوخ شدہ“ پروڈا ”کی طرح اس کا اطلاق صرف سیاسی عہدیداروں پر ہوتا تھا اور فرد جرم ثابت ہونے پر پندرہ سال تک سیاسی عہدوں پر فائز ہونے سے نا اہلیت کی سزا ملتی تھی“ ۔

شہاب نامہ میں مزید لکھا ہے ”لیکن صدر ایوب کا مقصد صرف سیاسی عہدیداروں کی بیخ کنی ہی نہ تھا بلکہ وہ سیاست کے میدان میں سرگرم عمل تمام عناصر کو کانٹے کی طرح نکال کر باہر پھینک دینا چاہتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے بہت جلد ایک دوسرا قانون بھی نافذ کر دیا جسے“ ایبڈو ”کے مخفف نام سے شہرت عام نصیب ہوئی۔ یعنی الیکٹیو باڈیز ڈس کوالیفیکیشن آرڈر 7 اگست 1959۔ اس آرڈر کا اطلاق ان سب افراد پر ہوتا تھا جو کسی سیاسی عہدے پر رہے ہوں یا کسی منتخب شدہ اسمبلی یا ادارے کے رکن رہے ہوں، یہ قانون بھی 14 اگست 1947ء سے نافذ العمل قرار دیا گیا تاکہ نئے اور پرانے سب سیاستدان اس کے پھندے میں جکڑے رہیں۔

”ایبڈو“ کے تحت فرد جرم ثابت ہونے پر ملزم کو چھ برس تک سیاست سے کنارہ کش رہنے کی سزا ملتی تھی۔ البتہ اتنی رعایت ضرور تھی کہ اگر کوئی صاحب عدالت میں حاضر ہو کر اپنی صفائی پیش کرنا نہ چاہتے ہوں تو وہ چھ سال کے لئے سیاست سے دستبرداری کا اعلان کر کے اپنی گلو خلاصی کرا سکتے تھے۔ ”

جو سیاستدان اس قانون کی زد میں آئے ان کے بارے میں قدرت اللہ شہاب رقمطراز ہیں۔ ”مشرقی پاکستان سمیت قومی اور صوبائی سطح کے 98 ممتاز سیاستدانوں کے خلاف ایبڈو کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔ ان میں سے 70 نے رضاکارانہ طور پر چھ سال کے لئے سیاست سے توبہ کر کے جان چھڑا لی۔ ان میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ، مسٹر محمد ایوب کھوڑو، اور خان عبدالقیوم خان کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔ 28 سیاست دانوں نے اپنی صفائی پیش کر کے مقدمہ لڑا، 22 ہار گئے جن میں ایک سابق وزیر اعظم شہید سہروردی، مغربی پاکستان کے سابق گورنر میاں مشتاق گورمانی اور سید عابد حسین شامل تھے۔ صرف چھ سیاست دان ایسے تھے جو بری ہوئے“ ۔

قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب میں 39 نام درج کر کے لکھا ہے کہ اس دور کے سیاست دانوں میں کوئی بھی نہیں بچا تھا جو ایبڈو کی زد میں نہ آیا ہو۔ مزید کہتے ہیں کہ ان مشہور سیاستدانوں کے علاوہ مشرقی اور مغربی پاکستان میں 2 ہزار سیاسی کارکن جو کبھی میونسپلٹی، ڈسٹرکٹ بورڈ یا دیگر منتخب شدہ ادارے کے رکن رہ چکے تھے زد میں آئے۔

شہاب صاحب نے اس پورے معاملے پر اپنی رائے یوں دی ہے ”ان اعداد و شمار سے صرف ایک بات پاۂ تکمیل کو پہنچتی ہے کہ ایک فوجی افسر چھاؤنیوں کی محدود فضا میں اپنی عمر عزیز کے باون سال گزارنے کے بعد اچانک مسلح افواج کے ناجائز استعمال سے ایک ہنستی سول حکومت کو زبردستی نکال باہر کرتا ہے اور خود مسند اقتدار پر قبضہ جما کر بیٹھ جاتا ہے۔ لیکن اس ایک عمل سے لازمی نہیں کہ اس پر عقل و دانش کی ایسی بارش شروع ہو جائے کہ وہ ملک بھر کے تمام اکابرین اور ہزاروں کارکنوں کو بیک جنبش قلم نا اہل، ناکارہ، اور نالائق ثابت کرنے میں حق بجانب ہو“ ۔

ایوب خان کے ایبڈو کی زد میں آنے والے اس دور کے ممتاز سیاستدانوں میں ایسے نام بھی تھے جو تحریک پاکستان میں قائد اعظم کے ساتھی رہے تھے۔ قاضی محمد عیسی جیسے نام بھی تھے جنھوں نے بلوچستان کو پاکستان میں شامل کرنے کے لئے تاریخی کردار ادا کیا تھا اور ایوب کھوڑو جیسے سیاستدان بھی تھا جو تین مرتبہ وزیر اعلی رہ چکا تھا۔

جن لوگوں کے لئے پاکستان کی سیاسی تاریخ 1990ء میں نواز شریف کے بطور وزیراعظم حلف لینے یا 2011ء کے لاہور میں عمران خان کے جلسے سے شروع ہوتی ہے شاید ان کو نہیں معلوم کہ ایوب خان کی آمریت کے خلاف پاکستان کے طلبہ، سیاست دانوں، اساتذہ، خواتین، وکلاء، صحافیوں اور دانشوروں سمیت ملک کے خواص اور عوام کس طرح میدان عمل میں آئے۔ ملک دو لخت ہونے کے بعد باقی ماندہ پاکستان میں ایک متفقہ دستور کا نفاذ کیونکر ممکن ہوا۔

ایک اور فوجی افسر نے بقول قدرت اللہ شہاب باون سال چھاؤنیوں کی محدود فضا میں گزارنے کے بعد ملک کی پہلی منتخب حکومت کا نکال باہر کر دیا تو اپنے پیشرو پیٹی بندھ بھائی ایوب کے دور کے قوانین پوڈو، پروڈا اور ایبڈو کا نام بدل کر ’صادق اور امین‘ رکھا اور آٹھویں آئینی ترمیم کی دیگر خرافات کے ساتھ شامل کر کے ایک غیر جماعتی بنیاد پر منتخب اسمبلی سے پاس کروا کر آئین کی ممبران اسمبلی کی اہلیت کی شق 62 اور 63 کا حصہ بنا دیا۔

1990ء کی دہائی میں نواز شریف نے آئین میں کی جانے والی ترامیم خاص طور پر وزیر اعظم کے اختیارات جو کم کر کے صدر کو با اختیار بنا دیا گیا تھا ختم کر دیا مگر ممبران اسمبلی کی اہلیت کے لئے صادق اور آمین والی شرط برقرار رکھا۔ نواز شریف کا خیال تھا جنرل ضیاءالحق کی اسلامی مارشل لاء کی کوکھ سے جنم لینے والے اور اسلامی جمہوری اتحاد کی گود میں پرورش پانے والے پیدائشی طور پر صادق اور امین ہوتے ہیں اس لئے ان پر اس شق کا اطلاق نہیں ہو گا۔

یہ بات مسلمہ رہی ہے کہ کسی بھی شخص کو عوامی یا سرکاری عہدے بشمول اسمبلی کے ممبر اچھے کردار کا مالک ہونا لازمی ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایسا شخص جس کو کسی عدالت سے سزا نہ ہوئی ہو، کسی تھانے کے بستہ ’ب‘ کی فہرست میں شامل نہ ہو، مفرور نہ ہو جس کی تصدیق قریبی تھانے کا داروغہ کیریکٹر سرٹیفیکیٹ سے کرے صاحب کردار تصور ہوتا ہے۔

12 اکتوبر کو ایک اور منتخب اسمبلی اور دو تہائی اکثریت کی حامل منتخب حکومت کو ختم کرنے والے جنرل مشرف نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور ممبران اسمبلی کے لئے محب وطن ہونے کی مبہم شرط کے علاوہ کئی اور ایسی شرائط کا اضافہ کیا جس کی رو سے 2013ء میں منتخب 11 ارکان کو دوہری شہریت کی بناء پر نا اہل قرار دیا گیا۔ کسی رکن اسمبلی کو نا اہل قرار دینے کے لئے اسمبلی کا اسپیکر الیکشن کمیشن کو لکھتا ہے اور ممبر فارغ ہوجاتا ہے۔

کسی معاملے میں غلط بیانی، بنکوں سے قرضہ لے کر عدم واپسی اور توہین عدالت سمیت کئی ایسے الزامات ہیں جن پر کسی کو بھی انتخابات لڑنے کے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس دور میں ریٹرننگ افسران نے انتخابات کے لئے کاغذات جمع کرنے والے امید واروں سے کلمے اور دعائیں پوچھا اور کاغذات مسترد کر دیا۔

2008ء کے انتخابات میں ایک بار پھر واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے مابین ہوئے میثاق جمہوریت پر عمل درآمد کرتے ہوئے مشرف دور کی خرافات سے پاک کرنے کے لئے آئین میں اٹھارہویں ترمیم لانے کا تہیہ کیا۔ اب کی بار پھر نواز شریف اور مسلم لیگ نے جنرل ضیاءالحق کی لگائی صادق اور آمین کی شرط کو ختم کرنے سے انکار کیا۔ کچھ عرصے بعد اسمبلی میں دو تہائی اکثریت رکھنے کے باوجود منتخب وزیر اعظم نواز شریف اسی قانون کی زد میں آ کر نا اہلی کا طوق گلے میں ڈال کر گھر بیٹھ گیا۔

2018ء میں عمران خان انتخابات جیت کر ملک کے وزیراعظم بنے تو ان میں کسی بھی حکمران سے زیادہ ایوب خان کے لئے پسندیدگی نظر آئی۔ گو کہ وہ سیاسی جماعت کے سربراہ تھے، خود منتخب وزیر اعظم تھے مگر وہ سیاست، سیاست دانوں اور سیاسیات سے شدید نفرت کا اظہار کرتے رہے۔ عمران خان نے ہمیشہ آئین کی شق 62 اور 63 میں درج اہلیت اور نا اہلی کی شرائط کا دفاع کیا کیونکہ اپنی زعم میں تاریخ کے ایسے وزیر اعظم تھے جن کو ملک کی عدالت عظمی نے ’صادق اور امین‘ ہونے کی سند بھی دیدی تھی لہذا خود کو ان شرائط سے مبرا سمجھتے تھے۔

عمران خان یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کے بعد تیسرا منتخب وزیر اعظم اور کل سیاست دانوں میں 16 واں ہے جو ایوب کے ایبڈو، ضیاء الحق کے صادق و امین اور مشرف کی ایمانداری اور حب الوطنی کے معیار کی زد میں آ کر نا اہل ہوچکے ہیں۔ صادق اور آمین ایک ایسی تلوار کا نام ہے جو ہمیشہ مخالفین کی گردن اتارنے کے لئے استعمال ہوئی ہے مگر یہ صرف سیاست دانوں پر چلتی ہے کیونکہ اس تلوار کے آہن گر وہ رہے ہیں جن پر بقول قدرت اللہ شہاب باون سال چھاؤنیوں کی محدود فضاؤں میں رہنے کے بعد ایک دن اچانک عقل و دانش کی بارش ہوتی ہے اور سب سیاستدان چور نظر آتے ہیں جن کا قلع قمع کرنے کے لئے اس تلوار کی ضرورت پیش آتی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 264 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan