سیاست کے شاہ سوار

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک نگاہ ڈالیں تو سب سے زیادہ زیربحث آنے والے اور مقبولیت کی صف میں نمایاں نام آپس میں کچھ نہ کچھ مشترک یا ملتی جلتی خصوصیات اور خامیوں کے حامل رہ چکے ہیں۔ ان قائدین میں محمد علی جناح، ذوالفقار علی بھٹو، میاں نواز شریف اور عمران خان۔
سب سے پہلے وضاحت کرنا ضروری ہے کہ ان میں بے نظیر بھٹو اور چند دیگر نام بھی عوامی قبولیت کی فہرست میں شمار کیے جاتے ہیں لیکن اس موضوع میں صرف ان چار سے متعلق بات ہوگی۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ ملٹری اور سول اسٹیبلشمنٹ کے سہاروں یا مداخلت سے بھری ہے ان کے عمل دخل کا نتیجہ ہے کہ جب بھی کوئی جمہوری عمل شروع ہوا اس کے انجام کی تیاری پہلے سے مکمل کرلی گئی۔
محمد علی جناح اور نواز شریف ملک کی بنیاد رکھنے والی جماعت سے تعلق رکھتے تھے دونوں نے قیادت کے فرائض ایک بنی بنائی جماعت میں شامل ہو کر سنبھالے۔
ذوالفقار علی بھٹو اور عمران خان نے اپنی نئی پارٹی تشکیل دینے کا نسبتاً مشکل کام کیا۔
چاروں سیاستدانوں کو اپنے دور کی اسٹیبلشمنٹ سے واسطے پڑے اور وہ ایک افہام و تفہیم سے سیاست کرتے رہے۔ جناح کی انگریزوں سے اچھی انڈرسٹینڈنگ تھی۔ بھٹو جنرل ایوب، نواز شریف جنرل ضیاء اور عمران اپنے دور کی اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل کیے تھے۔
جناح نے نئے دور، شہری آزادیوں اور کرپشن سے پاک معاشرے کے قیام کا دعویٰ کیا۔ بھٹو نے غریب کو سیاسی شعور اور بنیادی حقوق دینے کے ساتھ سوشلسٹوں کا چہرے نہیں نظام کو بدلو۔ نعرہ لگادیا۔ نواز شریف نے اپنے پیش رو حکمرانوں کی زیادتیوں کا ازالہ کرنے اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کا وعدہ کیا۔ عمران خان نے نوجوانوں کو ساتھ ملا کر تبدیلی اور احتساب کا نعرہ لگایا۔ یہ نعرہ مختلف صورتوں پہلے بھی لگتا رہا۔ صرف فرق یہ تھا کہ ٹائمنگ ایسی تھی کہ اسٹیبلشمنٹ اور پہلے حکمرانوں سے بے زار لوگ ساتھ مل گئے۔ عمومی تاثر بدل گیا حکومت بھی مل گئی۔
محمد علی جناح کی حکومت بنی اس میں جاگیرداری وڈیروں سمیت ہر طرح کے لوگ تھے انہیں اپنی کمزور ٹیم کا برملا اعتراف کرنا پڑا۔ اس حکومت کی عمومی اور مجموعی کارکردگی کے ذمہ دار عوامل آج تک سامنے نہیں آ سکے۔ ہمیں صرف قائد کی اچھی کھری اور اصولی باتیں یاد کرائی جاتی ہیں۔ انہیں ناکام بنانے والے عناصر اور حالات پر کبھی گفتگو یا بحث ہمارا موضوع نہیں بن سکی۔ قائد اعظم آج بھی ہمارے مقبول لیڈر ہیں۔ انہیں کس کس قوت نے کمزور کیا اگر تحقیق ہوئی بھی ہے تو سیاست میں دلچسپی لینے والوں تک نہیں پہنچ پائی۔
ذوالفقار بھٹو نے اسٹیبلشمنٹ سے الگ ہو کر اپنی عوامی مقبولیت کا جائزہ لیا اور اپنی الگ سیاسی شناخت کے لئے پارٹی بنالی۔ انہیں مشرقی پاکستان کے قیام کے پیش نظر بڑی قوتوں کی قبولیت مل گئی۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے قدم جمانے کے لئے انہوں عوام کی طاقت کے زعم میں طاقتوروں سے ٹکر لینا شروع کردی۔ اسلامی دنیا کو ایک جگہ اکٹھا کر کے جہاں امریکہ کو آنکھیں دکھائیں وہیں ملک کے اندر بھی ایسا ہی تاثر دیا۔ یہاں وہ اپنی طاقت کو سمجھنے اور سنبھالنے میں غلطی کر گئے۔
محمد علی جناح کی پروا نہ کرنے والوں نے بھٹو کو کسی خاطر میں لاتے ہوئے ایسا سبق سکھایا کہ عوام کے نمائندہ جمہوری طبقات ایک بار پھر ماضی کی تلخیوں سے دوچار ہوئے۔ جمہوریت کیا ہوتی ہے۔ اس کا قائدہ ایک بار پھر کھولنے کی نوبت آ گئی۔ یہ کام بھٹو کی بیٹی اور بائیں بازو کی چند جماعتوں نے انجام دیا۔ بے نظیر کو منظر سے ہٹانے میں کوئی نتائج کی پرواہ نہ کی گئی۔
نواز شریف بھی بڑی قوتوں کی سرپرستی میں ایک چلتی پارٹی کے قائد بن گئے بے نظیر کی شہادت کے بعد ملک کے مقبول ترین لیڈر بنے انہیں بھی ایک مختلف رویے کا سامنا کرنا پڑا جب وہ معاملات مرضی سے چلانے لگے۔ تیسری بار بھی انہیں اپنی مدت مکمل نہیں کرنے دی گئی۔ انہوں نے بھی بھٹو کی طرز پر بعض حقائق منظر عام لائے۔ جن کی پاداش میں انہیں اور پارٹی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
سیاست کے میدان کا نیا شاہسوار اگرچہ 1996 میں قدم رکھ چکا تھا لیکن بظاہر ایک مشکل سفر پر چل نکلی جماعت 2013 سے 2018 کے درمیان یک دم مقبولیت پانے لگی۔ اس میں بڑی وجہ ایک ہی تھی جس کے بعد میڈیا کا کردار اور پھر تبدیلی کا ایسا طاقتور نعرہ جو شاید ماضی میں کئی بار لگایا گیا مگر اس قدر متاثر کن کبھی نہیں رہا۔ بھٹو نے بھی اپنی جماعت بنائی تھی لیکن وہ بھی ایسی کامیابی نہ حاصل کر سکا۔ ان دونوں میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں بیرون ملک سے تعلیم یافتہ تھے انہیں بین الاقوامی سیاست سے کچھ واقفیت تھی۔ اس کے ساتھ عام لوگوں کے براہ راست مسائل بھی اپنے ایجنڈے میں رکھتے جس سے بیک وقت پڑھیں لکھا طبقہ اور عام آدمی متوجہ ہوتا ہے۔
عمران خان نے پہلے مقبول لیڈروں کی خصوصیات پر غور کیا۔ نوجوان طبقے کی ضروریات پر نگاہ ڈالی۔ سیاست کرنے کا طریقہ دیکھا تمام باتیں سامنے رکھ کر نکل پڑے۔ بڑوں نے گرین سگنل دیا اور انہوں اپنی گاڑی پٹڑی پر ڈال دی۔
عمران خان نے سب سے مشکل طریقہ اپنایا تمام سیاسی حریفوں کو چیلنج کر دیا وہ سیاست میں مذہب۔ ذاتیات۔ اخلاقیات۔ سب کچھ کے آئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کوئی بات رکتی نہیں کسی کو کچھ بھی اور کہیں بھی کہہ ڈالتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک درجن جماعتیں اور اب ایک بڑی قوت ہے مگر وہ سب کو نشانے پر لئے ہیں۔
سیاست کے پہلے دو شاہسوار اب دنیا میں نہیں رہے لیکن نواز شریف اور عمران خان بڑی قوتوں سے مات کھانے باوجود سیاسی میدان میں نہ صرف قدم دوبارہ جمانے میں لگے ہیں بلکہ یہ مارکہ مارنے کی سنجیدہ کوششیں بھی کر رہے ہیں۔ دونوں لانے والوں آنکھیں دکھا بھی چکے ہیں اور پھر انہیں کی تعریفیں بھی کرتے رہے ہیں۔
دنیا سے رخصت پہلے دو قائدین اب قدرے متنازع نہیں رہے لیکن نواز شریف اور عمران خان کی فالونگ بہت ہے لیکن دونوں کی ساکھ مقتدر حلقوں میں ابھی مشکوک ہی ہے۔
جناح سے عمران تک کسی نے صحیح معنوں میں عوام کی حکمرانی کا حق ادا نہیں کیا۔ مستقبل میں کیا ہوتا ہے۔ آنے والے دنوں سامنے آ جائے گا۔ سٹیٹس کو کے حامیوں اور توقعات وابستہ کرنے والوں کو شاید اب مایوسی ہوگی۔ حالات کسی اور جانب جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔

