مارکس تھامپسن، بڑے لوگ اور بڑی گاڑیاں
پاکستانی قوم کا عجیب مزاج ہے، یہاں پر ہر طبقے اور ہر شعبے کے لوگ گاڑیوں کے شوقین ہیں، خاص کر کے اگر وہ آفس کی یا سرکاری گاڑی ہو! وزراء، افسر شاہی، ’جیم‘ والے لوگ، بڑی گاڑیوں کو بڑا پسند کرتے ہیں۔ ان کو یہ بات اک آنکھ نہیں بھاتی گر ان سے گریڈ میں چھوٹا افسر یا ماتحت کے پاس کوئی اچھی گاڑی ہو۔ بس ان کو پھر سب کچھ یاد آ جاتا ہے اور پاکستان کی ہر اک تباہی کی ذمے داری کسی افسر کی فیلڈ میں اپنے مقصد کے لیے گاڑی چلانے سے جوڑ دیتے ہیں۔
محکمے کے ابتر حالات، نکماپن اور تباہی کے اسباب میں یہ گاڑی (جو کسی اور کے پاس ہے ) آجاتی ہے۔ خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کے کار پورچ، بنگلہ کا کھلا میدان کئی گاڑیوں سے بھر جائے۔ ترقی پذیر دنیا میں، تحقیق بتاتی ہے کہ پراجیکٹس کی ناکامی کے اسباب میں اک سبب غیر متعلقہ بڑے لوگوں کو گاڑیوں کی بندر بانٹ بھی ہے۔ دیہی پاکستان اور سندھ میں فیلڈ میں کام کرنے والوں اور متواتر جانے والوں افسران/پروفیشنلز کا کام اچھی گاڑی کے سوا ممکن ہی نہیں کیونکہ سوائے پنجاب کے، دیہی پاکستان میں رابطہ سڑکیں بہت کم ہیں، گر ہیں تو ٹوٹی پھوٹی ہیں۔
فاضل ججز سے لیکر، دفتری ہیڈ کوارٹر میں بیٹھے لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ فیلڈ میں گاڑیوں کا صحیح استعمال نہیں ہوتا، بڑے شہروں کے بڑے افسران، دارالحکومت میں بیٹھے کرتا دھرتا یہ سمجھتے ہیں کہ فیلڈ میں گاڑی دینی ہی نہیں چاہیے۔ یہ بات کس قدر صحیح بھی ہے، لیکن اس کا حل یہ تو نہیں ہے کہ فیلڈ میں گاڑیاں نہ دی جائیں کیونکہ ان کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ جو بڑی گاڑیوں کی ریل پھیل بڑے لوگوں کے پاس دیکھی گئی ہے، اس پر کچھ نہ کہوں تو بہتر ہے۔
سندھ سے 2022 کا پانی آہستہ آہستہ نکل رہا ہے، کافی علاقے خالی ہو گئے ہیں لیکن کافی ڈوبے بھی ہوئے ہیں۔ اور اس لحاظ سے بدین کی کچھ تحصیلیں پانی میں گھری ہوئی ہیں۔ بدین کے ڈوبنے کی روایت، میری اپنی یاداشت کے مطابق 1995 سے چلی آ رہی ہے۔
2003 کے ڈوبے ہوئے بدین کا ذکر کرتے ہوئے، آپ سے مارکس تھامپسن کا تعارف کر دیتا ہوں۔ مارکس 2003 میں، آکسفیم جی بی (جو برطانیہ کا اک خیراتی اور فلاحی ادارہ ہے ) کے جنوبی ایشیا کے سربراہ تھے اور 2003 کے بدین کے سیلاب کی وجہ سے پاکستان آئے تھے۔ ان کے ہمراہ ہم بدین میں تھے، سیلاب کے نقصانات اور ضروریات کے حوالے سے ’فوری ضروریات کی تشخیص آکسفیم کے ہیڈکوارٹر آکسفورڈ بھیج چکے تھے۔ اور اب اس انتظار میں تھے کہ بجیٹ آئے تو ہم اپنا کام شروع کریں۔
مارکس نے غریب بدین کے غریب لوگوں کی حالت دیکھی تو جذباتی ہو گئے! اور پھر اپنے ہیڈکوارٹر کو فون کھڑکا دیا سخت برطانوی لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا ”دیکھو! بھوک اور بیماری سے تڑپتے ہوئے لوگ تمہاری منظوری والے کاغذات اور انتظامی طور طریقے نہیں کھائیں گے! اگر کل تک پیسے ٹرانسفر نہیں ہوئے تو میں یہاں سے چلا جاؤں گا، میں بغیر بجیٹ کے ان سسکتے ہوئے لوگوں کے لیے کیا کروں! تم سب ہیڈکوارٹر والے بھاڑ میں جاؤ!
“ بس یہ جملے کہہ کر اس نے فون بند کر دیا تھا۔ بدین کے لوگوں کی مدد کرنے کا جذبہ جو اس کی آنکھوں میں اور ان کے اعمال میں دیکھا وہ میرے لیے رہتی زندگی تک کے لیے تربیت بھی تھی، کردار سازی اور احسان بھی۔ کئی واعظ سن کر میرے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی، لیکن اس جذباتی انگریز درویش کے الفاظ نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور مجھے دنیا اور غریب کو دیکھنے کا نیا زاویہ ملا! بس اگلے دن، آکسفیم پاکستان کے اکاؤنٹ میں بدین کے لیے پیسے آچکے تھے اور ہم رلیف کے کام میں مصروف ہو گئے۔ کسی فلم کے کلائمیکس یا کسی سچی کہانی پر مبنی ڈرامہ کی آخری قسط کی طرح مارکس تھامپسن کی باقی باتیں آخر میں کرتے ہیں۔
2008 میں خدا خدا کرتے پاکستان میں اک جمہوری دور کا آغاز ہوا، اس دفعہ بھی اک بڑی قربانی محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی صورت میں دینا پڑی۔ سندھ میں بھی حکومت برپا ہو چکی تھی۔ پانی کے متعلق اک محکمے کے سربراہ، جو حیدرآباد میں بیٹھتے تھے، کسی میٹنگ کے سلسلے میں اپنی نئی سرکاری گاڑی میں سوار ہو کر سندھ سیکریٹریٹ پہنچے۔ کسی تاڑو (تاڑنے، مخبری کرنے والا) نے، نئے نویلے وزیر انہار کو کان میں کہہ چکے تھے ”سر جی، یہ جو نئی گاڑی ایم ڈی کے پاس ہے، وہ تو آپ کی شایان شان ہے، دیکھیں سر جی دیر نہ ہونی چاہیے مائی باپ!“ منسٹر صاحب تو اس تاڑو سے زیادہ اتاولے ثابت ہوئے۔ ان کے محکمے کے سیکریٹری کو حکم ہو چکا اور سیکریٹری صاحب میٹنگ میں آئے اس شریف النفس ایم ڈی کو اپنا حکم صادر کر دیا۔ ”دیکھیں۔ آپ گاڑی منسٹر صاحب کو یک دم بھیج دیں، ابھی کے ابھی!“
”منسٹر صاحبان کے پاس تو سرکار کی مختص کی ہوئی گاڑیاں ہوتی ہیں، میں ان کو کیوں دوں! ؟ سیکریٹری صاحب آپ تو جانتے ہیں گھوٹکی سے لے کر عمرکوٹ۔ بدین تک مجھے فیلڈ میں جانا پڑتا ہے،“ سیدھے سادھے ایم ڈی (اللہ پاک ان کی مغفرت کرے ) نے کہا۔ لیکن سیکریٹری صاحب (اللہ پاک ان کی بھی مغفرت کرے ) کو تو بچپن سے کسی بھی منسٹر کی کوئی بھی بات ماننے کا شوق تھا۔ انہوں نے ڈرا دھمکا کر اور پھر پیار سے بات منوا لی۔ ”دیکھیں سیکریٹری صاحب، بس مجھے اتنی تو مہلت دیں، کہ میں واپس حیدرآباد پہنچ جاؤں، پھر گاڑی بھیج دوں گا“ ۔ پھر دوسرے دن ہی منسٹر صاحب کے پاس پہنچ چکی تھی۔ لیکن تاڑو کو ملال اور منسٹر کو جلال یہ تھا کہ اک دن کی دیری کیوں ہوئی!
2003 میں واپس آتے ہیں ؛ بدین میں آکسفیم جی بی کے رلیف کا کام وقت پر اچھی طرح چل گیا۔ پانچ ہزار مچھیروں، ہاریوں اور مزدوروں کے خاندانوں کو مہینے پھر کا راشن، صحت اور صفائی کی کٹ، برتن اور شیلٹر دے چکے۔ اب بحالی کے کاموں میں ایک سو سے اوپر چھوٹی کشتیاں بنوانی تھیں، تین ہزار ہاریوں کو گندم کا بیج اور کھاد دینا تھا، گھر کی بڑی غریب عورتوں کو بکریاں دینی تھیں۔ جیسے کام بڑھتا گیا ہمیں احساس ہوا کہ ہمارے پاس آفس کی طرف سے کوئی اچھی گاڑی نہیں تھی اور کرایہ بہت مہنگا پڑتا تھا فور وہیل ڈرائیو گاڑی کرایہ پر ملنا ذرا مشکل تھا۔
اسلام آباد آکسفیم کی میٹنگ میں جانا ہوا۔ اس وقت تک آکسفیم پاکستان کی پاکستانی ملکی ڈائریکٹر آ چکی تھی اور مارکس تھامپسن کا کام کم ہوا تھا اور اپنے جنوبی ایشا والے منصب کو سنبھالے ہوئے تھے۔ آکسفیم کی کئی اچھی باتوں میں سے اک اچھی بات یہ ہوتی تھی کہ انتظامی میٹنگ میں ہر ایک کو سنا جاتا تھا اور ہر ایک کی رائے کا احترام کیا جاتا تھا۔
میٹنگ میں، میں نے اپنی بات رکھی ”ہمیں بدین کے کاموں میں فور وہیل ڈرائیو گاڑی نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، اگر ہو سکے تو ہمیں 4 بائی 4 گاڑی دی جائے“ ۔
”کیا ہمارے پاس اسلام آباد میں کوئی ایسی گاڑی موجود ہے؟“ مارکس نے سوال کیا۔
”جی ہے ؛ سیورٹیج گاڑی ہے۔ لیکن“ ملکی ڈائریکٹر نے جواب دیا۔ ”لیکن ہم وہ گاڑی بدین نہیں بھیج سکتے“
”کیوں نہیں؟ یہاں پر گاڑی کا کیا استعمال ہے“ مارکس کا دوسرا سوال تھا
” ہم اس پر پک۔ ڈراپ کی سہولت دیتے ہیں۔ خاص کر عورت اسٹاف کو“
”اس کام کے لیے 4 بائی 4 گاڑی کیوں، کوئی اور بندوبست کریں“
”بہتر ہے کہ اس گاڑی کو بدین کے لیے بھیج دیں“ مارکس نے اصرار کیا۔
”لیکن مارکس! وہاں پر تو گاڑی خراب ہو جائے گی!“
اس جواب پر نفیس طبیعت، صوفی منش مارکس اک دفعہ پھر جذباتی ہو گئے۔
”سنیں! میری خواہش ہے کہ یہ گاڑی بدین جائے، اور وہ سیلاب کے متاثرین لوگوں کے لیے اتنی چلے، اتنی چلے جو بالکل ناکارہ ہو جائے!“
” اور اس کام کے لیے ہی ہمارے ہاں 4 x 4 گاڑیاں ہوتی ہیں، مصیبت میں پھنسے ہوئے لوگوں تک پہنچنا اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا!“
” یہ گاڑی وہاں پر جاکر اسکریپ ہو جائے، یہ اس سے لاکھ درجہ بہتر ہے کہ گاڑی اسلام آباد کے روڈوں پر لوگوں اٹھانے اور پہنچانے کے لیے دوڑتی پھرے!“
بس پھر واقعی وہی ہوا، وہ گاڑی حیدرآباد سے بدین کی سمندر کے نزدیک یونین کونسل بھگڑا میمن، عبداللہ شاہ اور زیرو پوائنٹ کی طرف دو سال تک دوڑتی پھری! اور کمال یہ ہے کہ اس کے بعد کئی سال آکسفیم کے استعمال میں رہی۔ بس مارکس تھامپسن کی یہی باتیں آپ کو بتانی تھی۔ اور ہاں! ان کو پاکستانی بھنڈی اور لاہور شہر کی خوبصورتی بھی بہت اچھی لگتی تھی۔
بس کبھی کبھار گاڑیوں کے پیچھے بڑے بڑے لوگوں کو بالکل کوتاہ ہوا دیکھتے ہوئے اک خواہش ابھرتی ہے کہ کاش ہمارے بڑے لوگ، وزراء اور ادارتی سربراہان مارکس تھامپسن کی سوچ اور عمل کا 10 فیصد ہی اپنا لیں تو غریبوں کے پچاس فیصد مسائل حل ہوجائیں!
(اس مضمون میں کوئی کردار فرضی نہیں ہے! دراصل کوئی بھی کردار فرضی نہیں ہوتا! )


