کہیں کھوتی کا غصہ کمہار پر نہ نکلے


عمر عزیز کی آدھی صدی گزاری، گلگت سے کراچی تک بد ترین فرقہ ورانہ اور لسانی فسادات کو نہ صرف خود اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ کسی حد تک متاثر بھی ہوا۔ تین ادوار فوجی حکومتوں کے آئے، جنرل ایوب کو اقتدار میں دس سال گزارنے کے بعد ایک جانور سے تشبیہ دیتے بھی دیکھا، جنرل یحییٰ کے دور میں بنگلہ دیش الگ ہوتے دیکھا، بنگال میں قید ہوئے فوجیوں کی واپسی دیکھی، ضیاءالحق کا مارشل لائی اسلام دیکھا، لوگوں کو کوڑے مارتے دیکھا، مشرف کا لبرل مارشل لاء دیکھا اور اس دور کے آخر میں فوج کو وردی میں عوام میں نہ جانے کے احکامات اور اس پر عمل ہوتے بھی دیکھا۔

مگر کل جو دیکھا اس کا سوچا بھی نہیں تھا۔ کبھی میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ پشاور میں کور کمانڈر کے گھر کے سامنے مظاہرہ ہو گا اور لوگ کینٹ ایریا میں بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کی چھتوں پر چڑھ جائیں گے۔ میرے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ لاہور میں گورنر ہاؤس کے گیٹ کے اوپر مظاہرین چڑھ جائیں گے اور توڑ پھوڑ کریں گے۔

پشاور کی چھاؤنی سے پورے صوبہ کے علاوہ ڈیورنڈ لائن اور افغانستان کے امور بھی دیکھے جاتے ہیں۔ اس چھاؤنی کے زیر کمان ایک ایسا درخت بھی ہے جو انگریز فوجی آفیسر کے حکم سے آج تک زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اور ایک غدار دروازہ تو رنجیت سنگھ کے کمانڈر بیٹے کے حکم سے اب تلک پا بہ جولاں ہے۔ افغانستان میں بدترین شکست سے دوچار ہونے والے انگریزوں نے یہاں نکولسن جیسے ہندوستان اور افغانوں سے نفرت کرنے والے آفیسر کی مدد سے قبضہ برقرار رکھا۔ افغانوں اور پشتونوں کی سرزمین پر ڈیورنڈ لائن کھینچ کر تقسیم کرنے والے انگریزوں کے خلاف بھی کبھی ایسا مظاہرہ میری نظروں سے نہیں گزرا کہ ٹینکوں پر اچھل کود کی گئی ہو۔

تخت لاہور جہاں سے انگریزوں نے کوہ نور اٹھا کر تاج برطانیہ پر سجایا۔ سکھوں کی پہلی اور آخری حکومت تاراج ہوئی۔ یہیں سے کمک لے کر 1957ء میں دہلی میں تاج مغلیہ کو روند ڈالا۔ شہید بھگت سنگھ بھی لاہور ہی سے گرفتار ہوئے تھے۔ انگریز سرکار کی نشانی گورنر ہاؤس کے دروازے پر احتجاج کی ایسی دستک تب بھی کسی نے نہیں دی تھی جو کل ہم نے دیکھی۔

یہ بات اب پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کی تقریباً سب ہی سیاسی جماعتیں مقتدرہ یا فوجی طاقت کو اپنے حق میں رکھنا چاہتی ہیں۔ 1980ء کی دہائی میں ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران سینکڑوں کارکنوں کی جلاوطنی، کوڑے، پھانسی اور قید و بند کی سزاؤں کے بعد پیپلز پارٹی نے جنرل ضیاءالحق کی موت کے ساتھ ہی فوجی کمان سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ مگر فوج کے اندر اور باہر سول بیوروکریسی میں موجود بعض عناصر کو پیپلز پارٹی ہمیشہ مشکوک ہی نظر آئی۔ مذہبی ٹچ کے ساتھ اسلامی جمہوری اتحاد کی نرسری سے نواز شریف کو بطور ایماندار، محب وطن، فرشتہ صفت نیکو کار سیاسی راہنما کے سامنے لایا گیا۔ نواز شریف کی ایمانداری، شرافت اور دین داری کے لئے پیپلز پارٹی کو کرپٹ، بدمعاش اور لادین ثابت کرنا بھی ضروری تھا جس کے لئے سرکاری وسائل خرچ کیے گئے۔

نواز شریف کو جلا وطن کر کے مشرف برسراقتدار آئے تو ایک اور نیکو کار، صالح اور ایماندار راہنما کی ضرورت پڑی جس کے لئے قرعہ فال عمران خان کے نام نکلا۔ اب پیپلز پارٹی کے ساتھ مسلم لیگ بھی کرپٹ، بے ایمان اور غدار قرار دی گئی اور سرکاری وسائل سے مقتدرہ نے اپنے ہاٹ فیورٹ کھلاڑی کی شخصیت سازی کی گئی۔ 2018ء کے انتخابات میں کامیابی بھی دلوائی گئی مگر سیاست اور امور ریاست سے نا بلد عمران خان سفارت، معیشت سے سیاست تک ہر محاذ پر ناکام رہا۔ بدنامی مقتدرہ کی ہوئی تو مہرے بدلنے کی سوجھی۔ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد ہوا مگر عمران خان نے اس کو ایک بین الاقوامی سازش قرار دیا اور عوام کو باور بھی کروا دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور عمران خان تینوں مقتدرہ کے اپنے ہاتھوں سے لگائے پودے تھے مگر تناور ہوتے ہی باغبان کے ساتھ اختلافات کا شکار ہوئے۔ اختلافات کی بنیادی وجہ اختیارات اور ایک دوسرے پر بالادستی کی خواہش جو دونوں طرف یکساں موجود رہی۔ اسی خواہش کی بنا پر بھٹو کمزور سمجھ کر آرائیں ذات سے تعلق رکھنے والے ایک مولوی کے بیٹے جنرل ضیاء کو آگے لے کر آئے، نواز شریف نے پنجاب کے مضبوط راجپوتوں کے مقابلے میں ایک کمزور ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والے سید زادہ مشرف کو ترجیح دی۔ ضیاءالحق نے بھٹو کا اور مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹ دیا۔

عمران خان کے معاملے میں وقت زیادہ لگا اور آبیاری کرنے والوں کو بھرپور موقع ملا۔ مشرف کے بعد پیپلز پارٹی اور اس کی حریف مسلم لیگ کے درمیان میثاق جمہوریت کی وجہ سے ایک دوسرے کو حکومت کی مدت پوری کرنے دینے پر اتفاق ہو گیا تو دونوں کو پانچ پانچ سال حکومت کرنے کا موقع مل گیا۔ عمران کو آگے لانے والوں نے 2018ء کے انتخابات کو اپنا ہدف بنایا ہوا تھا جس میں ان کو کامیابی مل گئی۔ نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کی شدید خواہش کے باوجود اس کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں دی جس کی وجہ سے 2023ء تک جنرل قمر باجوہ کے نہ چاہنے کے باوجود توسیع دینا پڑی تاکہ ان کا نمبر لگے جنھوں نے 2012ء سے عمران خان کو اس دن کے لئے آگے لانے کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔

پہلے منتخب حکمران فوج کے اندر اپنی پسند کی تعیناتی کرنے کے خواہشمند ہوا کرتے تھے مگر عمران کو آگے لانے والے مقتدرہ کے لوگوں کے ذہن میں سیاسی قیادت میں اپنا ہدف بھی تھا جو طاقت کی سیاست میں ایک نیا موڑ بن گیا۔ اس بات کو سمجھنے والے مقتدرہ کے لوگوں نے سیاسی حلقوں کو اپنی غیر جانب داری کا پیغام دیا جس کے بعد عمران کی کمزور بنیادوں پر کھڑی اقتدار کی عمارت گرانے میں مشکل پیش نہ آئی۔

مگر عمران خان کے اقتدار سے باہر ہونے کے باوجود مقتدرہ کے اندر اور باہر موجود اس کے خیرخواہوں کی ہمدردیاں اس کے ساتھ رہیں۔ ان ہی خیر خواہوں کی بدولت وہ وفاقی حکومت سے محروم ہونے کے باوجود پنجاب جیسے سب سے بڑے صوبے میں اپنی حکومت قائم رکھنے میں کامیاب ہوا۔ آج وہ برملا کہتا ہے کہ مقتدرہ کے اندر سے اس کو اطلاعات ملتی ہیں جہاں اس کے ہمدرد موجود ہیں۔

پاکستان کی مضبوط مقتدرہ کے خلاف اشتعال انگیزی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھی گئی ہے۔ اگر ایسی صورت حال کا عشر عشیر بھی کسی اور جماعت خاص طور پر پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی یا کسی اور نے پیدا کیا ہوتا تو اب تک ان کے ساتھ نہ جانے کیا ہوا ہوتا مگر عمران خان کے خلاف کسی کارروائی کا نہ ہونا خود مقتدرہ میں اس معاملے پر عدم یکسوئی کی غمازی ہے۔ ایسے وقت میں جب ایک سپہ سالار جا رہا ہو اور نئے آنے والے کی تعیناتی نہیں ہوئی ہو عموماً کمان کمزور ہوجاتی ہے اس صورت حال سے عمران خان نے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے۔

اپنے دور اقتدار میں جبری گمشدگیوں، اغوا، غیر قانونی نظر بندیوں، مسخ شدہ لاشوں پر چپ رہنے والے آزاد صحافت کا درندہ کہلانے والے عمران خان کو ایک دم انسانی حقوق اور صحافیوں کی آزادی یاد آ گئی ہے جس کا الزام وہ براہ راست پاکستان کی مقتدرہ پر ڈالتے ہیں اور افسروں کا نام لے لے کر انتباہ کرتے نظر آتے ہیں۔

عمران خان یہ سب کسی نامیاتی تبدیلی کے لئے نہیں بلکہ وہ اپنی اقتدار سے محرومی کا غصہ نکالنے اور اپنے لئے آئندہ اقتدار کا راستہ ہموار کرنے کے لئے کر رہے ہیں۔ مگر مقتدرہ کے خلاف جو کچھ کیا جا رہا ہے اس سے اس کی ساکھ اور دھاک کمزور ہوئی ہے۔ مقتدرہ کبھی بھی ایسے کمزور ساکھ کی حامل نہیں رہی ہے کہ لوگ اس کے گھروں کے سامنے اس کو گالیاں دیں۔ خدشہ ہے کہ کمان کی تبدیلی کے عمل سے فراغت کے بعد مقتدرہ کو اپنی ساکھ بحال کرنے کے لئے کچھ غیر معمولی اقدامات کرنا پڑیں جو تکلیف دہ ہوسکتے ہیں۔

مگر خطرہ یہ بھی ہے کہ عمران اور اس جیسے نیم سیاسی اور نیم سماجی راہنما معافی تلافی کے بعد مقتدرہ کا ہمنوا بن کر ان کی صفوں میں گھس جائیں گے اور انگلی کا اشارہ کہیں کریں گے۔ کہیں ایک بار پھر پنجابی محاورے ”ڈگیا کھوتی توں تے غصہ کمہیار تے“ کے مصداق مقتدرہ کے غصے اور عتاب کا نشانہ انسانی حقوق کے کارکن، صحافی، دانشور، آئین اور جمہوریت کی بالادستی کی جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکن نہ بن جائیں۔

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan