”آئینے میں جنم لیتا آدمی“ : چند تاثرات
مسعود قمر کی تخلیقی کائنات ان کی ذات کی طرح کومل، ملائم، نفیس اور منفرد ہے۔ ان کا خاصا ہے کہ وہ تجربات و احساسات کو پہلے روح کی بھٹی میں کندن بناتے ہیں اور پھر انھیں لفظوں کا روپ دے کر نظمیں تخلیق کرتے ہیں۔ ان کا اسلوب، لفظوں کا انتخاب اور خیال کی پیش کش کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کہ وہ خیال یا احساس کو بیان کرنے سے زیادہ اس کو دکھانے پر یقین رکھتے ہیں۔ انھوں نے جن کیفیات کو تمثالوں کی صورت میں پیش کیا ہے، وہ نہ صرف محسوس کی جا سکتی ہیں بلکہ ان کا تصور (Visualize) بھی کیا جا سکتا ہے یہی وہ خصوصیت ہے جو انھیں نثری نظم نگاروں میں انفرادیت عطا کرتی ہے۔
ان کی تخلیقیت کا منبع تنہائی ہے۔ ایک ایسی تنہائی جس نے صنعتی اور سرمایہ دارانہ تہذیب کی کوکھ سے جنم لیا ہے جہاں فرد اور سماج میں اجنبیت اور مغائرت حائل ہو گئی ہے۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جہاں تخلیق کار اپنے احساسات و جذبات کا اظہار مکالمے کے بجائے خود کلامی کی شکل میں کرتا ہے۔ کچھ ناقدین تو خود کلامی کو نثری نظم کی شعریات کا اہم جزو بھی خیال کرتے ہیں۔ کارپوریٹ کلچر کے عہد میں مسعود قمر نے جہاں خارجی دنیا سے ربط اور ضبط قائم کیا ہے وہیں انھوں نے خود آگاہی اور خود شناسی کا سفر بھی طے کیا ہے۔ خود آگاہی کے سفر نے ہی ان کے ہاں تنہائی کے احساس کو تقویت دی ہے۔
”میرا کچھ حصہ
ہمیشہ مجھ سے باہر رہا
میں
اسے اندر لانے
اور
اپنے بے کار حصوں کو
خود سے باہر نکالنے میں
مصروف رہتا ہوں ” (ایک بے عمرا آدمی)
انھوں نے خود کو دریافت کرنے کے لیے ہمیشہ تنہائی کو وسیلہ بنایا ہے جس سے ان کی تخلیقی کائنات میں تنہائی معنی آفرینی کا ذریعہ بن کر سامنے آئی ہے۔ ان کی نظموں میں تنہائی کی کیفیت کو جس انداز سے پیش کیا گیا ہے اس کی مثال دیگر شعرا کے ہاں خال خال ہی نظر آتی ہے۔ تنہائی کو کئی نامور شعرا نے شاعری کا موضوع بنایا جس میں مجاز کی نظم ”آوارہ“ ، منیر نیازی کی ”باز گشت“ ، عادل منصوری کی ”تنہائی“ ، جون ایلیا کی ”خلوت“ ، فرحت احساس کی ”خود آگہی“ اور فیض احمد فیض کی نظم ”تنہائی“ کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
جب ہر طرف مادیت کا غلبہ ہو، جذبوں کو کچلا جا رہا ہو، تہذیبی اور اخلاقی اقدار کو پامال کیا جا رہا ہو، انسانیت کا شیرازہ بکھر رہا ہو تو ایسی صورت حال میں ایک باہوش اور حساس انسان اپنی ذات کی جانب محو سفر ہوجاتا ہے۔ مسعود قمر کے ہاں بھی ایسی ہی صورت حال موجود ہے۔ دلچسپ امر ہے کہ ان کے ہاں تنہائی، لایعنیت، مایوسی، بے چارگی اور بے بسی کے دائرے میں داخل نہیں ہوتی بلکہ انکشاف ذات کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔
مسعود قمر کے ہاں دیگر شعرا کی نسبت محبت اور عورت کا الگ اور منفرد تصور ابھرا ہے۔ ان کی نظموں میں محبت کے سمندر میں غوطے کھاتی لڑکی کا نوحہ نہیں بلکہ رومان، دلکش خوابوں اور حسین یادوں کی حامل عورت کا تصور موجود ہے۔ ان کے ہاں ابھرنے والا لڑکی کا کردار مریضانہ قسم کی یاسیت، ایذا پسندی اور خود اذیتی کا شکار نہیں بلکہ وہ ضبط کی کشتی میں جذبوں کی پتوار تھامے، تھکا دینے والی ہواؤں کے تھپیڑوں سے نبرد آزما ہے۔ وہ خود شعور و خود آگاہ ہے اور زندگی کی تلخیوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ وہ زندگی میں پیش آنے والے غم کو خود میں جذب کرتی ہے جو اس کی آنکھوں میں روشنی بن کر چمکتا ہے۔ انھوں نے نظموں میں وہی کچھ قلم بند کیا ہے جس کی ان کے باطن نے اجازت دی ہے۔ ان کی نظموں میں جس عورت کا تصور ابھرا ہے وہ ذرہ بھر جذبات کے اظہار میں بخل سے کام نہیں لیتی۔
ان کی نظمیں پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جس کا نام زندگی ہے۔ شاعر محبت کی اس لطیف سر زمین میں زندہ رہنے کا خواہاں ہے جہاں اس حبس زدہ معاشرے کی کثافتیں اور رکاوٹیں نہ ہوں۔ ان کی نظموں میں محبت کا سادہ سا جذبہ ابھرتا ہے جو مادی علاق کو جذب کر لیتا ہے :
”میں
لوگوں کی بنائی محبت
کب تک قبول کرتا رہوں
میں
ایک محبت اپنی بنانا چاہتا ہوں ” (برف میں دبے زرد پتوں کی چرمراہٹ)
”میں
کسی سے طبعی محبت نہیں کرتا
طبعی محبت کرنا ایسے ہے
جیسے
بلا تامل جیتے جانا ” ( جلوس سے بھاگے ہوئے لوگ )
مسعود قمر کی نظمیں محبت سے عبارت ہیں، ان میں رومان ہے مظاہر فطرت کی عکاسی ہے، دکھ ہیں، زندگی ہے، موت ہے، تنہائی ہے، جدائی ہے، معاشرتی و سماجی حبس کے خلاف احتجاج ہے اور انکشاف ذات ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے اپنے اندر بند دروازے کا کھوج لگا لیا ہو اور خود کو تلاش کرنے میں اب اسے زیادہ مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ اسے جہاں انسانوں سے محبت ہے وہیں وہ مظاہر فطرت سے بھی محبت کا دم بھرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی شاعری میں کچنار کا درخت، سمندر کی لہریں، دریا کے دھارے، تیز ہوائیں اور گملے میں اگے پھول مختلف استعاروں اور علامتوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ جہاں وہ فن میں سپاٹ اور واشگاف اظہار کے بجائے علامتوں اور استعاروں کا قائل ہے وہیں وہ محبت کے اظہار میں بھی علامتوں اور استعاروں کے استعمال کو محبت کا حسن سمجھتا ہے :
”سپاٹ محبت
اخبار میں چھپی خبر کی طرح ہوتی ہے
شام کو دکان دار جس میں
سموسے ڈال کر گاہکوں کو دے رہا ہوتا ہے
میں جب بھی
اس سے محبت کا اظہار کرتا ہوں
وہ فل سپیڈ پیڈسٹل چلا کر
برفیلے پانی سے بھرے
ٹب میں لیٹ کر گھنٹوں
نہاتی رہتی ہے ” (برفیلے پانی میں تیرتا استعارہ)
موت ایک فطری عمل ہے اس سے کسی کو بھی مفر نہیں ہے۔ ہر وہ چیز جو وجود رکھتی ہے ایک نہ ایک دن فنا ہو جائے گی۔ اس کرہ ارض پر لاکھوں کروڑوں انسان آئے اور وقت مقرر پر خاک میں پنہاں ہو گئے۔ کوئی بھی ذی شعور موت سے انکار نہیں کر سکتا۔ وہ تخلیق کار جن کے ہاں زندگی کا شعور گہرا اور عمیق ہوتا ہے ان کے ہاں موت بھی اسی شدت سے زیر بحث آتی ہے۔ وہ موت کو زندگی کے لیے خطرہ تصور نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ مسرت افزا امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں، مسعود قمر نے بھی سارتر، کامیو اور کافکا کی طرح زندگی اور موت کو یکساں طور پر قبول کیا ہے۔ موت، خود کشی اور قبر کے استعارے ان کی نظموں میں بار بار آتے ہیں۔ زندگی اور موت کا سنگم ان کے ہاں تعمیر اور تخریب کا اتصال بن کر سامنے آتا ہے۔ وہ تخریب کے ملبے سے تعمیر کے پیکر کی بنیاد استوار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
”میں نے
اپنی موت ہمیشہ
سنبھال کر رکھی ہے
میں احتیاطاً، ہر روز
ہفتہ میں تین چار بار
یا
مہینہ میں چھ سات بار
اپنی موت دیکھتا رہتا ہوں ” (موت چرانے والی عورت)
” موت
زندگی کے خلاف سازش کرتی رہتی ہے
موت زندگی کا چہرہ
ڈراؤنا بنا کر دکھاتی رہتی ہے
جنھوں نے زندگی کو نہیں دیکھا ہوتا
وہ
موت پر یقین کر لیتے ہیں ” ( جھیل میں پڑی پازیب)
موت ایک ایسا موضوع ہے جس پر دنیا کے ہر بڑے تخلیق کار نے خامہ فرسائی کی ہے۔ میر و غالب سے لے کر اقبال اور راشد تک اردو شاعری میں تصور موت پر اشعار اور نظمیں موجود ہیں۔ مسعود قمر نے اس سلسلے کو جاری رکھا ہے۔ وہ موت کو زندگی کی تکمیل خیال کرتے ہیں اور خود کشی کو فرد کی آزادی اور اختیار سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے ہاں موت کے علاوہ معاشرتی نا انصافی پر بھی نظمیں موجود ہیں جس میں وہ ریاستی اداروں، مذہبی شدت پسندی اور سرمایہ دارانہ اخلاقیات پر طنز کے تیز برساتے نظر آتے ہیں۔
طبقاتی معاشرے میں پیداوار کے ذرائع کے استحصال کے ساتھ ساتھ انسانی جذبوں اور فکر کا استحصال بھی روا رکھا جاتا ہے جس پر ان کا قلم بڑی روانی سے نظمیں تخلیق کرنے کے ہنر سے آشنا ہے۔ ”آئینے میں جنم لیتا آدمی“ ان کا ایسا مجموعہ ہے جس میں متنوع موضوعات پر نظمیں موجود ہیں جس میں موت، قبر، زندگی، سگریٹ، چائے، میز، خواب، آنکھیں، نیند اور کچنار کے درخت کے استعاروں کو خوب صورتی سے متنوع معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔


