کھوٹے سکے


آئیے ان سے ملیے۔ دستاویزات میں نام محمد بلال ہے۔ جو کہ اب ماں باپ کو بھی یاد نہیں۔ کیوں کہ کوئی اسے بھالو کہتا ہے۔ کسی کی زبان بالو بلاتی ہے۔ کسی کے لئے بلا ہے اور کسی کے لئے بالی۔ دکھنے میں جسم چوڑا، موٹاپے کی طرف تیزی سے مائل، بال کھردرے لیکن گھنے، قد پانچ فٹ سات انچ، عام خدوخال، چوڑا ناک، عمر تیس سال۔ پڑھائی میں واجبی۔ پھر بھی کھینچ کھانچ کے ایم۔ اے کر لیا ہے۔ لیکن نہ آگے بڑھنے کی لگن ہے نہ بہت زیادہ کا تردد۔

گھر میں تیسرے نمبر کے فرزند ہیں۔ اور مالی لحاظ سے سبھی امور میں حصہ داری بھی ہمیشہ کم ہی رہی ہے۔ البتہ اپنے زیادہ تر خرچے وہ اپنی کمائی سے کرتا ہے۔ جو بھی ہے، پورے مہینے کا راشن لانا ہو تو ان کو ہی سونپا جاتا ہے۔ واش روم کا نلکا نہیں چلتا، سیوریج کے پائپ مسئلہ کر رہے ہیں، والدہ صاحبہ کو کہیں جانا ہے، والد صاحب کی ڈاکٹر سے ملاقات، انٹرنیٹ کی سروس صحیح کام نہیں کر رہی، بہن کو کالج چھوڑنے، لے آنے کا ایمرجنسی فریضہ اور غرض بہت کچھ کے لئے جو شخص ہمہ وقت دستیاب و بلایا جاتا ہے، وہ وہی ہے۔

ایک اور خوبی جس کی بدولت وہ ہر کسی کی ضرورت ہے، وہ اس کی بے غرض اور مفت خدمت خلق ہے۔ جس کا شہرہ محلے، آس پڑوس، رشتے داروں، خاندان، دوست احباب سبھی میں ہے۔ طبیعتاً شغلی، ہنس مکھ اور بے ضرر ہے۔ مزاج بھی نخریلا نہیں کہ آج تک اس کا عادی اسے کسی نے نہیں بنایا۔ باوجود اس کے گھر میں ان کو نکما اور بیکار ہی گردانا جاتا ہے۔ اہم فیصلوں میں ان کی شمولیت غیر ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اور اس کی رائے کی وقعت بھی تقریباً صفر ہی ہے۔

اور یہ وہ ہیں جن کہ بنا گھر کا ہر فیصلہ ادھورا ہے۔ بچوں کی پڑھائی، شادی، روزگار سب میں ان کی رائے کافی حد تک حتمی سمجھی جاتی ہے۔ محمد عباس ان کا نام ہے اور آج تک کسی نے ان کو علاوہ اس کے کسی اور طرز سے مخاطب نہیں کیا۔ ماں باپ ان پر صدقے واری رہتے ہیں اور بہن بھائی محبت و احترام میں حاضر جناب۔ دوست احباب میں ان کی علمی قابلیت انھیں محبوب بنائے رکھتی ہے۔ اور اقربا ان کے مالی و ذہنی قد کی بدولت مرعوب۔

قابل تحسین بات یہ ہے کہ ان کے رویوں میں عاجزی و انکساری ہے۔ دھیما پن اور اخلاقی بلندی ہے۔ پورے خاندان کی مالی معاونت ان کا شوق ہے۔ جس کی اجازت بہرحال ان کی آمدنی بھی بآسانی دیتی ہے۔ فلاں کو قرض چاہیے، وہ حاضر۔ کسی کو سمجھ نہیں کہ کیا آگے کون سا پروفیشن چنے، ان کی مفت کیریئر کونسلنگ۔ کسی کی اسائنمنٹ مشکل ہے تو اس کے استاد بننا۔ کسی کا پراجیکٹ تکنیکی لحاظ سے پھنس گیا تو وہ مدد گار بننے کو تیار۔ لیکن یہ ساری خدمات زیادہ تر فون یا آن لائن لی اور دی جاتی ہیں۔

اپنے آبائی گھر سے میلوں دور رہنا ان کی نوکری اور تعلیم کی ضرورت و مجبوری ہے۔ کہ دور دراز دیہاتی علاقے میں معاش کی حجتیں اتنی محدود تھیں کہ ہجرت ناگزیر ہو گئی۔ پھر ان کا مالی استحکام اور علمی ترقی پیچھے بہت سوں کے لئے حیات آسان کرنے کا سبب بھی ہے۔ خیر گھر میں کوئی اچانک بیمار ہو جائے، والدین اچانک اداس ہو کر ملنے کی خواہش کریں، چھوٹی بہن کا رشتہ طے کرنے مہمان آئیں، روز کے جنازے، خوشیاں ان میں سے کسی کا حصہ بننا ان کے لئے تقریباً ناممکن ہی رہا۔

زندگی، خاندان اور رشتے سب اسی ڈھب ان دونوں کے عادی تھے اور اپنے اپنے کرداروں پر قانع بھی۔ سال پر سال گزر رہے تھے۔ لیکن قناعت کی یہ دولت ہر ایک کے پاس اتنی وافر تھی کہ کرداروں کی خوبیاں و خامیاں مستقل ہو گئی تھیں۔ اصل مسئلہ تو تب ہوا جب اس سال والد صاحب کو یک دم فالج کا مرض لاحق ہو گیا۔ اور حملہ بھی ایسا کہ زبان دانتوں تلے آ گئی۔ تین بیٹوں میں وہ بالی ہی ایسا تھا جو دس منٹ کے اندر اندر انھیں طبی مدد کے لئے اسپتال لے گیا۔

وہاں آئی سی یو سے وارڈ تک، آپریشن تھیٹر سے ڈسپنسری تک، اس معالج سے اس معالج تک سب دوڑیں، جس کے پیروں نے ناپی وہ بھالو تھا۔ محمد عباس روزانہ دس منٹ کی آڈیو یا ویڈیو کال کرتا۔ معمول سے زیادہ پیسے بھیجتا۔ پریشان دکھائی دیتا۔ میل نرس رکھنے کی تاکید کرتا۔ لیکن اگلے بارہ مہینوں تک خود نہیں آ سکتا تھا۔ ادھر اس کے روز کے اصرار پر کیئر ٹیکر بھی رکھا لیکن بڑے میاں نہ اس کی مانتے، نہ اسے خود کو ہاتھ لگانے دیتے۔

غصہ آسمان کو چھوتا۔ چڑچڑا پن عروج پر ہوتا۔ نتیجتاً ہر دوسرے دن وہ خیال رکھنے والا بھاگ جاتا۔ بی بی جان، ان کی نصف بہتر اپنی ہمت سے زیادہ ان کی پٹی سے لگی رہتیں لیکن تھیں تو وہ بھی کمزور اور عمر رسیدہ۔ اٹھانا، بٹھانا، نہلانا، دھلانا، واش روم لے جانا ان کے بس میں نہ تھا۔ جوان خون جو ہر وقت ان کے ساتھ لگا رہے۔ اس کی ضرورت تھی۔ جو کہ بہرحال کوئی آپ کا اپنا ہی ہو سکتا تھا۔ حالانکہ بالی کلستا رہا کہ کسی کو رکھنے کی ضرورت نہیں۔ وہ یہ فرض نبھائے گا۔ لیکن بس سبھی کو لگا کہ خیال ویسے ہی رکھا جا سکتا تھا، جیسے انھوں نے رکھا۔ اگر بالی اس طرف لگ جاتا تو اپنے کاروبار سے گیا۔ اسے تو ویسے بھی بس ایسے بہانے چاہیے۔ اور پھر پروفیشنل کیئر بھی نہ ہو پاتی۔

ایک مہینے کی خواری کے بعد ، آخر کار سب چیزوں کا ذمہ گھوم پھر کر بالی کے سر ہی آیا۔ تو سمجھو مریض سمیت گھر کے ہر فرد کو سکھ کا سانس ملا۔ صبح فجر کی اذان کے ساتھ وہ اٹھتا۔ والد صاحب کو ٹوائلٹ لے جانا، دانت برش کروانا، وضو میں مدد کرنا، نماز کے لوازمات مہیا کرنا سب باحسن کرتا۔ ساتھ کے ساتھ خود بھی یہی کچھ کرتا جاتا۔ پھر جسمانی مشقیں، اکٹھے ناشتہ، باتیں اور اس کے بعد دن کا پہلا وقت اپنی نوکری۔ سہ پہر واپسی پر ہاتھوں، پیروں کی مالش، کسی کتاب، اخبار یا رسالے کو بلند آواز سنانا، دوا ہر چیز کی ترتیب لگانا۔ پھر شام ڈھلے رات کا ہلکا پھلکا کھانا، پیروں کو دبانا، کمرے میں بستر تک چھوڑنا اور رات گئے تک جب بھی انھیں ضرورت ہو، بوتل کے جن کی طرح فرمانبرداری سے حکم بجا لانا۔

دوسروں کی خدمت اس کی فطرت تھی اور ماں باپ کا جی جان سے خیال وہ محبت سے سرشار ہو کر کرتا تھا۔ اس پر سبھی نے واضح محسوس کیا کہ میاں جی اپنا ہر وقت، بے وقت کام اور فرمائش اس سے حق سمجھ کر کرتے۔ خوش ہوتے۔ مطمئن رہتے اور رو بصحت ہونے لگے۔ چار، پانچ ہفتوں پہلے والے غصیلے اور بیزار میاں جی تو یوں غائب ہوئے، جیسے بندر کے سر سے سینگ۔ اور بی بی جان ہر لمحے اس کے لئے دعائیں کرتے نہ تھکتیں کہ جس نے ان کے بڑھاپے کی تکلیف کو خود پر لے لیا تھا۔

وہ جب جب اس کی جانب دیکھتیں، مسکرا کر مولا کا شکر ادا کرتیں کہ جس نے اس مشکل گھڑی میں فرمانبردار اولاد کا ایسا ساتھ دیا۔ اور سات سمندر پار محمد عباس کو لگتا کہ وہ اپنے تعلیمی اونچائیوں اور پیسوں کی فراوانی کے باوجود بالی کے آگے بونا ہے۔ ساری حیاتی بھی اس کے پیر دھو دھو کے پیے، اس کے آنے پر تکریم سے کھڑا ہو جائے، اس کو گلے سے لگا کر ماں جائے کی حرارت لے تو پھر بھی اس خدمت کا حق ادا نہیں کر سکتا جو محمد بلال نے اس کی غیر موجودگی میں کی۔ اس کے بھیجے خرچے، راشن، تحفے، مشورے کل ملا کے بھی اس ساتھ کا نعم البدل نہیں بن سکتے جو بالی کی بدولت اس کے والدین کو ہر جگہ میسر ہے۔

ادھر میاں جی، بی بی جان اور ادھر محمد عباس دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ بالی جیسے لوگ تو ہیروں سے بھی بے مول ہیں۔ سونے کے سکوں میں بھی تولیں تو ان کی تحقیر ہے۔ وہ سب اب دل سے طلبگار ہیں کہ مولا کریم سبھی والدین، سبھی بھائیوں اور بہنوں کو بھالو جیسا کھوٹا سکے دے، جس کے بھروسے، صحبت اور دوسراہٹ میں ان کی سختیاں اور تنگیاں بلا چوں چرا گزر جائیں۔

Facebook Comments HS