شاعر اور دانشور عارف عبدالمتین کے دو مداحوں کا مکالمہ


حامد یزدانی کا خالد سہیل کو جواب
: ڈاکٹر خالد سہیل صاحب

آپ کا ادبی مکتوب نظر نواز ہوا۔ بے حد نوازش۔ آپ نے محترم پروفیسر عارف عبدالمتین صاحب کے بارے میں میرے تاثرات جاننے میں دل چسپی ظاہر کی ہے۔ یہ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔

یہ بات کہ آپ عارف صاحب کے بھتیجے ہیں مجھے سن دو ہزار میں معلوم ہوئی جب آپ ریڈیو پاکستان لاہور سے مہربان دوست ارشاد حسین صاحب کے ساتھ میرے ہاں ٹورانٹو تشریف لائے تھے اور ہم نے کچھ گپ شپ بھی کی تھی اور ہیملٹن تک سیر بھی اور آپ نے اپنا شعری مجموعہ ”تلاش“ مجھے تحفتاً عطا کیا تھا جو آپ کے تخلیقی سفر کا نقش اولین تھا۔

آپ نے اپنے خط میں عارف صاحب سے اپنے رشتے اور قلبی ربط کا اظہار بے حد خوب صورت انداز میں کیا۔ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے ان سے تعلقات، اپنا اور عارف صاحب کا ذاتی، علمی اور ادبی سفر مرحلہ مرحلہ جس طرح قلمبند کیا ہے وہ اس عظیم دانش ور اور ادیب و شاعر کی تصویر پڑھنے والے کے سامنے واضح کر دیتا ہے اور پھر برمحل شعری حوالے آپ کے خط کو ایک مستقل ادبی دستاویز کا روپ دیتے دکھائی دیتے ہیں۔

عارف صاحب سے میرا خون کا رشتہ تو نہ تھا تاہم حرف و احساس کا تعلق ضرور تھا جو اب بھی قائم ہے۔ میں اس تعلق پر ہمیشہ نازاں رہا ہوں۔ آپ کے خط کی روشنی میں میرے ذہن کے پردے پر کئی منظر نمودار ہونے لگے۔ کچھ واضح اور کچھ مبہم۔ کچھ الگ الگ اور کچھ ایک دوسرے میں مدغم۔ ان میں سے چند ایک یہاں آپ سے شیئر کر رہا ہوں۔

پروفیسر عارف عبدالمتین صاحب والد صاحب یزدانی جالندھری کے تو دیرینہ دوست تھے مگر میری ان سے اولین ملاقات غالباً ستر کی دہائی میں ہوئی۔ عارف صاحب سے غائبانہ تعارف بڑے بھائی خالد یزدانی صاحب کے توسط سے ہوا۔ وہ چشتیہ ہائی سکول میں ان سے پڑھتے رہے تھے اور سکول سے واپسی پر والد صاحب کو عارف صاحب کا سلام دعا پہنچاتے۔

جب میں نے مشاعروں میں آنا جانا شروع کیا۔ ستر کے اواخر میں تو عارف صاحب ایم اے او کالج میں پڑھانے لگے تھے اور لاہور کی ہر اہم ادبی تقریب میں، مشاعرے میں شریک ہوتے تھے۔

مجھے ان سے اپنی پہلی ملاقات جو یاد آتی ہے وہ لٹن روڈ لاہور پر ہوئی تھی۔ ہمارا گھر وہاں سے قریب ہی تھا اور میں چوک جنازہ گاہ سے جین مندر کی طرف جا رہا تھا جبکہ وہ اس سمت سے آرہے تھے یعنی مزنگ چونگی کی طرف جا رہے تھے۔ ڈھیلی ڈھالی خاکی پتلون اور سفید شرٹ میں ملبوس تھے۔ بھورے رنگ کے جوتے جو دیکھنے ہی میں نرم دکھائی دے رہے تھے پاؤں میں تھے۔ ہاتھ میں چمڑے کا تھیلا تھا جس مین یقیناً تازہ ترین مضامین اور شاعری ہوگی۔

میں انھیں دیکھ کر ٹھٹکا تو وہ بھی رک گئے۔ میں نے سلام عرض کیا اور مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ عارف صاحب نے بڑی محبت سے ہاتھ تھام لیا۔ ایک دل نشیں مسکان ان کے ہونٹوں پر کھلی ہوئی تھی۔ آنکھوں میں اپنائیت بھری کشش اور ہاتھ میں جیسے طبیعت کا سارا گداز عود کر رہا ہو۔ مجھے سمجھنے میں مشکل ہو رہی تھی کہ ان کا لہجہ زیادہ پر گداز اور نرم تھا یا ان کے ہاتھ؟ اسی نرم اور دھیمے لہجے میں انھوں نے پہلے والد صاحب اور پھر خالد بھائی کی خیریت دریافت کی۔ میری مصروفیات کا پوچھا۔ میں نے عرض کیا کہ میں کمیونٹی ہائی سکول میں پڑھتا ہوں اور شعر کہنے کا شوق رکھتا ہوں۔ یہ سن کر خوشی کا اظہار کیا اور کہنے لگے

” اس میں کیا حیرت کی بات ہے۔ یزدانی جالندھری صاحب کے بیٹے شاعر ہی ہوسکتے ہیں۔ “

والد صاحب کی طرح وہ بھی مجھے ”آپ“ کہہ کر مخاطب کر رہے تھے۔ چھوٹوں سے بھی محبت میں احترام کا یہ عنصر مجھے دیگر بزرگوں میں کم کم دکھائی دیا۔ جیسا کہ آپ کے خط میں بھی اس کا ذکر ہے۔

اس ملاقات کے بعد تعلیمی اداروں کے بعض مشاعروں میں انھیں سننے کی سعادت حاصل ہوئی۔

میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوتے ہی ریڈیو پاکستان لاہور کے طلبہ کے ہفتہ وار پروگرام یونیورسٹی میگزین میں شرکت کرنے لگا۔ کبھی کبھی نثر بھی پڑھنے کا موقع ملتا مگر اکثر نظم یا غزل۔ عارف صاحب اس پروگرام کے میزبان یا مدیر ہوتے تھے۔ وہ پروگرام کا آغاز اداریے سے کرتے جس میں ادب کے جدید رجحانات پر اظہار خیال کرتے۔ پروگرام میں پیش کی جانے والی تخلیقات اور تخلیق کار طلبہ کا تعارف کرواتے اور پھر باری باری ہمیں مائک پر آنے کی دعوت دیتے۔

پروگرام کے اختتام پر پھر سے مختصر تبصرہ کرتے اور پروگرام کے بعد بھی طلبہ و طالبات کے سوالات کے لیے ٹھہر جاتے۔ مجھے یہ اعزاز بارہا حاصل ہوا کہ پروگرام کے بعد میں ان کے ساتھ سٹوڈیو سے ویگن سٹاپ تک گیا اور راستے میں اور ویگن کے آنے تک ان کی باتوں سے استفادہ کرتا رہا۔ ایک روز پروگرام کے کے بعد دوسرے شرکا بھی ویگن سٹاپ تک ساتھ ہو لیے۔ شاعر دوست احمد ندیم رفیع نے اپنی تازہ نظم یا غزل پر عارف سے مشورہ چاہا اور انھوں نے کمال شفقت سے انتہائی دیانت دارانہ مشورہ دیا۔ مجھے بھی موقع مل گیا اور میں نے کہا:

عارف صاحب، میری غزل کو بہتر بنانے کے لیے بھی کوئی مشورہ عطا کیجیے، کچھ اصلاح فرما دیجیے اس کی۔ ”یہ سن کر میری طرف“ دیکھ کر مسکراتے ہوئے اور اسی شفیق اور دھیمے لہجے میں بولے

آپ کے تو گھر میں گنگا بہتی ہے۔ یزدانی صاحب مسلمہ استاد سخن ہیں۔ ان سے بہتر مشورہ کون دے سکتا ہے ”۔“
مجھے ان کی بات سے بیک وقت مایوسی بھی ہوئی اور خوشی بھی۔

آپ نے بالکل درست کہا کہ دھیما پن عارف صاحب کے مزاج اور ان کی شخصیت کا حصہ تھا۔ حتٰی کہ اونچی آواز میں ہنستے بھی نہ تھے۔ مجھے صرف دو ایسے مواقع یاد ہیں جب وہ بے اختیار کھلکھلا کر ہنس دیے تھے۔ پہلی بار تب جب ہمارے ایک کالج فیلو نثر نگار افضل خان پروگرام میں اپنی مزاحیہ تحریر پیش کر رہے تھے۔ مضمون کہانی نما تھا اور صورت حال کچھ ایسی مضحکہ خیز کہ کوشش کے باوجود عارف صاحب اپنے قہقہے پر قابو نہ رکھ سکے۔ میں نے فوراً شیشے کے پار دیکھا تو ادھر کھڑے پروڈیوسر جعفر رضا اور ریکارڈنگ انجنیئر بھی لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔

ریکارڈنگ روک دی گئی۔ جعفر رضا بھی سٹوڈیو میں آ گئے اور پھر سب مل کر ہنسنے لگے۔ چند منٹ بعد حالات کچھ قابو میں آئے تو جعفر رضا باہر نکل گئے اور ریکارڈنگ پھر سے آغاز ہوئی۔ افضل اس جملے پر پہنچے تو پھر سے سب ہنس پڑے۔ عارف صاحب کے قہقہوں میں شامل ہونے کے لیے پروڈیوسر اور ریکارڈنگ انجنیئر بھی سٹوڈیو میں آ گئے۔ یہ عجیب پرلطف منظر تھا ہم سب کے لیے۔

دوسری بار، حلقہ ارباب ذوق لاہور کے انتخابات کی مہم کے سلسلے میں عارف صاحب کے گھر جانا ہوا۔ میرے ساتھ اصغر عابد تھے جو عارف صاحب سے باقاعدہ مشورہ سخن کرتے تھے۔ ہم شام ڈھلے چشتیہ ہائی سکول کے عقب میں واقع ان کے گھر پہنچے تھے۔ عارف صاحب نے ہمیں اندر آنے کی دعوت دی۔ کھانے اور چائے سے تواضع کی اور پھر ادبی باتیں شروع ہو گئیں۔ شعرا کے ناموں کے ساتھ ان کے آبائی شہروں کے نام لگانے کی روایت پر بات چل نکلی۔ حفیظ جالندھری، یزدانی جالندھری، حفیظ ہوشیار پوری، طفیل ہوشیار پوری، صفی لکھنوی، سائل دہلوی وغیرہ وغیرہ۔ باتیں کرتے کرتے عارف صاحب کہنے لگے

ہر کوئی اپنے علاقے کا نام استعمال نہیں کر سکتا کیونکہ بعض شہروں یا قصبوں کے نام مضحکہ خیز سے ہوتے ہیں۔ جیسے ہمارے ”پیارے شاعر دوست اسلم کولسری نے جانے کیوں کو لسر کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا۔ ذرا توقف سے بولیں تو کول اور سر سے عجیب سا تاثر پیدا ہوتا ہے جیسے کوئی ’کولے‘ یعنی پیالے جیسے سر کی بات کر رہا ہو۔ کیسا مضحکہ خیز تاثر بنتا ہے“ ۔ انھوں نے ہاتھ سے کو لے یعنی کٹورے کی شکل بناتے ہوئے کچھ اس معصومیت سے کہا ہم دونوں بھی ہنس پڑے اور عارف صاحب کی ہنسی بھی بے قابو ہو گئی۔ تاہم بعد ازاں وہ اسلم کو لسری صاحب کی شاعری اور شخصیت کی کافی دیر تعریف کرتے رہے۔ ملاقات کے اختتام پر عارف صاحب سے حلقہ کے انتخابات میں جائنٹ سیکرٹری کے لیے مجھے ووٹ دینے کی درخواست کی گئی جسے انھوں نے قبول کیا اور کام یابی کی دعا بھی دی۔

عارف صاحب کی شخصیت ادبی دنیا میں غیر متنازع تھی۔ وہ وزیر آغا صاحب سے بھی ملتے اور احمد ندیم قاسمی صاحب سے بھی اور کبھی ان میں سے کسی کی برائی نہیں کرتے تھے۔ اگر کوئی بات کرنا ہوتی تو مثبت انداز میں حوالہ دیتے۔

ڈاکٹر خالد سہیل صاحب

آپ نے اپنے خط میں لکھاری کے فکری رویوں کو جاننے کے لیے جو کلیدی استعاروں کی شناخت کی بات کی ہے وہ بہت اہم ہے۔ میں نے دیکھا کہ عارف صاحب اپنی نثر میں منشور، آدرش، طیف، ذات، تلاش، سچائی، آشوب اور ایسے ہی کچھ اور الفاظ ضرور استعمال کرتے۔ طلبہ کے ریڈیو پروگرام کے اداریوں میں بھی اور کتابوں کے تجزیات اور فلیپس وغیرہ میں بھی۔ سوچتا ہوں شاید یہ عارف صاحب کے ایوان فکر کی کنجیاں ہوں۔

کتابوں کے فلیپس کی بات ہوئی ہے تو چلیے یہ بات بھی شیئر کر لیتا ہوں کہ عارف صاحب ہر کسی کی حتی المقدور حوصلہ افزائی کرتے۔ اس لیے پرانے اور نئے لاتعداد ایسے لکھاری ہیں جن کی کتابوں کے پیش لفظ یا فیلپ عارف صاحب کے الفاظ سے منور ہیں۔ میرے والد صاحب کی دو کتابوں پر ان کی رائے موجود ہے اور گورنمنٹ کالج لاہور کے زمانے سے ادبی دوست سلمان باسط صاحب نے اپنی سوانح ناسٹیلجیا میں اپنی اور اپنے بھائی صاحب کی شاعری پر مشتمل پہلے مجموعہ پر عارف صاحب سے رائے لکھوانے کا واقعہ درج کیا ہے۔

میں اپنے تخلیق کار دوستوں کے ساتھ چائے نوشی کی غرض سے لاہور کے اکثر بڑے چھوٹے چائے خانوں کا چکر لگایا کرتا۔ کبھی خالد علیم صاحب کے ساتھ اور کبھی طارق کامران کے ساتھ۔ کبھی شیزان اور کبھی سیلوز ریستوران۔ اور عارف صاحب سہ پہر کے وقت مرکزی دروازے سے داخل ہوتے دکھائی دے جاتے۔ ان کی چال بھی ان کی طبعی نرم روی کی آئینہ دار تھی۔ اسی نرم روی سے چلتے ہوئے وہ کسی کونے والی خالی نشست پر بیٹھ جاتے۔ ہاتھ میں تھاما بیگ سامنے میز پر رکھتے۔

چائے کا کہتے اور بیگ میں سے کتاب اور کاغذ نکالتے اور جیب سے قلم اور لکھنا شروع کر دیتے۔ ہم لوگوں سے نظر مل جاتی تو مسکرا کر وہیں سے سلام کا جواب دے دیتے۔ ہم ازراہ ادب چپکے سے ان کے پاس چلے جاتے اور ان کے پرخلوص دھیمے دھیمے جملوں سے اور ان ان کی آنکھوں سے چھلکتے شفاف اخلاص سے فیض یاب ہوتے۔ وہ ہماری خیریت دریافت کرتے۔ نئی تخلیقات کے بارے میں استفسار کرتے۔ ہماری کسی حالیہ تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے حوصلہ افزائی کرتے اور دعا دیتے۔ اور ہم خوشی خوشی اپنی نشست پر لوٹ آتے اور عارف صاحب کی ادبی کمٹمنٹ اور ان کی شفقت و محبت پر بات کرنے لگتے۔

ڈاکٹر خالد سہیل صاحب

ہم چند دوستوں نے مل کر ایک ادبی تنظیم فکر ادب کے نام سے بنائی تھی جو بعد میں دبستان اہل قلم کی صورت میں قائم رہی اور اس کے تحت ہم نے کچھ اچھے مشاعرے کروانے کی سعادت بھی حاصل کی۔ یہ بھی گورنمنٹ کالج لاہور کے دنوں کی بات ہے۔ ایک یادگار مشاعرہ ہم نے پاکستان نیشنل سنٹر میں بھی منعقد کروایا تھا جس کی صدارت عارف عبدالمتین صاحب نے فرمائی تھی جبکہ مہمان خصوصی میرے سکول کے استاد اور ممتاز شاعر راز کاشمیری صاحب تھے۔ اس کے انعقاد میں نیشنل سنٹر کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر اعزاز احمد آذر اور پروگرام مینجر خالد خلیل صاحب کا تعاون ہمیں حاصل رہا۔ شہر کے سبھی اہم شعرا اس میں شریک ہوئے۔ اس مشاعرے کی ایک دو تصاویر میں نے آپ سے بھی شیئر کی تھیں۔

عارف صاحب کی شاعری دیکھوں تو بلا امتیاز اصناف اس میں انسان کی ہمت اور صلاحیت کی اہمیت کا ذکر بہر طور نمایاں ہوتا ہے۔ یہ پہلو ان کی نعت میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ آپ کے ہاں بھی یہ پہلو مجھے اجاگر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

ایک روز پتہ چلا کہ عارف صاحب اپنے بیٹے کے پاس امریکا تشریف لے گئے ہیں اور مستقلاً وہیں قیام کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ کی تحریروں سے مجھے یہ پتہ چلا کہ وہ کینیڈا بھی آئے تھے اور آپ کے ہاں قیام کیا تھا۔

ڈاکٹر صاحب

بس یہ چند بکھری بکھری سی یادیں ہیں جو آپ کے خط کا مطالعہ کر کے عارف صاحب کے حوالے سے میرے ذہن کے افق پر ابھریں اور میں نے ”جواب آں غزل“ کے طور پر رقم بھی کر دیں۔ ہیرے جیسے دمکتے کرداروں والے اہل علم و ادب سے جڑی یہ یادیں میرے لیے کسی ان مول خزانے سے کم نہیں اور انہیں آپ کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے مجھے انتہائی خوشی ہو رہی ہے۔

ہاں، ایک بات جس کی وضاحت اگر آپ کرسکیں تو ممنون ہوں گا وہ یہ کہ عارف صاحب اپنے مہربانوں یعنی اپنے ہمسائے سعادت حسن منٹو اور اساتذہ فیض احمد فیض اور اختر حسین رائے پوری کا جو ذکر کرتے تھے تو کیا کچھ بتاتے تھے۔ یہ جاننے میں مجھے دل چسپی ہے کہ یہ سب ادبی تاریخ کا حصہ ہے۔

اور دوسری بات یہ کہ عارف صاحب کی جو تصویر آپ کی تحریروں میں ملتی ہے وہ اس تصویر سے قطعی مختلف ہے جو میں نے سال ہا سال دیکھی۔ ہاں، عارف صاحب کے دہریہ ہونے کا ذکر ایک بار رسالہ ”شام و سحر“ کے مدیر شاعر خالد شفیق صاحب نے کیا تھا اور میں نے اعتبار نہ کیا تھا کیونکہ میں نے لڑکپن سے عارف صاحب کو دین کی طرف راغب دیکھا تھا۔ آپ کی تحریروں سے البتہ خالد شفیق صاحب کی باتوں کی تصدیق ہوتی ہے۔ ورنہ مجھے اچھی طرح یاد ہے چینیز لنچ ہوم کی بیسمنٹ میں حلقہ ادب اور پنجابی ادبی پروار کے ہفتہ وار اجلاس ہوا کرتے تھے اور انتظامیہ کو انتظار کرنا پڑتا تھا کہ عارف صاحب لنچ ہوم کے باہر واقع گرین بیلٹ پر نماز مغرب ادا کر لیں تو اجلاس شروع کیا جائے۔

اور پھر ان کی دل نشیں اور ایمان افروز نعتیں جو ان کے مجموعہ نعت ”بے مثال“ میں بھی شامل ہوئیں ان میں سے اکثر ہم نے ان کی زبانی ریڈیو، ٹی وی کے مشاعروں اور شہر کی نعتیہ نشستوں میں سنیں۔ سب ایمان افروز ہیں۔ آپ کے والد گرامی پروفیسر عبدالباسط صاحب اور عارف عبدالمتین صاحب دونوں نے جو فکری دائرہ بائیں سے دائیں جانب سفر کر کے طے کیا یعنی لادینیت سے روحانیت اور دین کی طرف وہ دائرہ آپ کے ہاں الٹ طرف مکمل ہوتا دکھائی دیا۔ ایسا نہیں ہے کیا؟

ایک سوال یہ بھی کہ کیا آپ عارف صاحب کے بارے میں ایک مبسوط کتاب مرتب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ اگر ایسا ہو تو ایک اہم ادبی دستاویز ہمارے سامنے آ جائے گی اور آپ ہی یہ کام بہترین انداز میں انجام دے سکتے ہیں۔

اب اجازت دیجیے۔
آپ کا ادبی دوست اور مداح
حامدیز دانی
ر 18 دسمبر 2022

 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2