رنگ بدلے گا موسم کا یہ اک جھونکا ہوا کا


قدرت کی طرف سے ودیعت کی ہوئی زندگی اتنی تیزی سے ہوا ہو جاتی ہے، اس کا احساس ہمیں ہر جاتے ہوئے سال کے بعد ہوتا ہے۔ گزرتا ہوا سماں اپنے پیچھے، اپنے اچھے یا برے اثرات ضرور چھوڑ کر جاتا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف انسانی جانوں کے زیر زمین چلے جانے کی ہوتی ہے۔ یہ وہ نقصان ہے جو فطری ہے۔ آئی ٹی اور سائنس لاکھ ترقی کر لے تو بھی ٹوٹی ہوئی سانس بحال نہیں کر سکتی۔ نئے سال کے آغاز پر بھی لوگ اپنی اپنی پسند کے مطابق محو زیست ہیں۔ کوئی گھنٹیاں بجا کر، کوئی پٹاخے پھوڑ کر، کوئی برتن توڑ کر، کوئی اپنے پیاروں کو یاد کر کے اور کچھ سر پھرے ادب کا کاسہ لیے انگشت بدنداں ہوں گے کہ اس میں سے کتنے ہیرے راہ اجل کو لوٹ چکے ہیں اور جو باقی بچے ہیں وہ ادب کے لیے کیا کچھ کر رہے ہیں۔ دو ہزار بائیس کو صحافت کی صدی کا سال بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بات آن دی ریکارڈ ہے کہ 2202 ؤہ سال ہے جس میں پاکستانیوں نے گوگل پر سب سے زیادہ ریسرچ کی۔ خاص کر لٹریچر سے محبت کرنے والوں کے لیے بھی انٹر نیٹ حسب توفیق مدد گار ثابت ہوا۔ گوگل کا بھلا ہو کہ اس نے بہت سے جعلی اور نقلی بت توڑ کر سچائیاں سامنے رکھ دی ہیں۔ ادب کا عام سا قاری بھی اب حقیقی صورت حال جاننے کے لیے کسی سطحی تدریسی نقاد کا مرہون منت نہیں رہا۔ دو ہزار بائیس کا سال اردو ادب پڑھنے اور لکھنے والوں کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ انگلش کی طرح اردو والوں کو بھی انٹر نیٹ سے بہت مواد مل گیا۔ ہمسایہ ملک بھارت جس نے ریختہ جیسی تاریخی اور شاندار ویب سائٹ بنا کر پوری اردو دنیا کو اپنے پاس بلا لیا ہے، ان کی تحقیق، تنقید اور تخلیق تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے خاص طور پر ہر تخلیق کار شاعر ادیب کو نہ صرف دیگر ادیبوں کی تخلیقات آسانی سے مل جاتی ہیں بلکہ ان کی اپنی تحریر بھی لمحہ بھر میں ان کے چاہنے والوں تک پہنچ جاتی ہے دوسرا ارضی فاصلے بھی سمٹ کر ایک خط پر آ گئے۔ اگر چہ اردو دان یہی کہتے رہے کہ خدا را گوگل ٹرانسلیٹ جیسی کھردری زبان سے ہماری پیاری و شیریں زبان بچا لی جائے۔ ان کے خیال میں اردو میں قاری کے کم ہونے کے اسباب میں سے ایک یہ سبب بھی ہے مگر اس کے باوجود بھی ہمارا موقف یہی ہے کہ گوگل ان لوگوں کی بھی مدد کرتی ہے جو نہ تو سکول کالج یا کسی ادبی محفل میں جا سکتے ہیں بلکہ یہ ادب کو ان لوگوں کی دہلیز پر لے آتی ہے جو ریڑھی پر سبزی بیچتا ہے اور فارغ وقت میں انٹر نیٹ دیکھتا ہے، ایک درزی اپنے کام سے فراغت پا کر یو ٹیوب دیکھتا ہے ایک دکاندار فری اوقات میں اپنی من پسند غزل لکھتا یا سنتا ہے اور ایک مسافر اپنے سفر نامے کا باب کسی ٹرین یا جہاز میں لکھ کر دوستوں کو پہنچانا چاہتا ہے تو وہاں انٹرنیٹ اور گوگل اس کے لیے مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ اردو ادب کے چاہنے والوں کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ پاکستانی فکرو دانش کے سر چشمے جن علوم، مذاہب، تاریخی، سماجی جدلیات، تہذیبوں اور علاقائی ثقافتوں سے پھوٹتے ہیں وہ معتبر اسکالر اور شناور شخصیات پچھلے پانچ سالوں میں ہم سے بچھڑ گئیں تو ادبی افق خالی خالی سا نظر آنے لگا۔ پوری دنیا پر انگریزی کا جال بچھ جانے سے اردو زبان کو کچھ مشکلات کا سامنا ضرور ہے جو ہر گزرتے ہوئے سال میں نمایاں دکھائی دیتا ہے ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینل پر پہلے کی طرح اس سال بھی اردو نے اپنے پیر سمیٹے۔ اینکرز کی زبان میں اردو لفاظی کی جگہ انگریزی تھرکتی رہی اور اردو کے ساتھ سوتن جیسا سلوک جاری رہا۔ شاعری کی کتابوں کی بھر مار رہی فکشن میں چند کتابیں ہی منظر عام پر آ سکیں البتہ ریگولر پرچے ریگولر ہی رہے۔ حسین مجروح کی تنظیم سائبان کا اضافہ ہوا ہے۔

جہاں پاکستان میں ہمارے ادبی رتن ہم سے جدا ہوئے ہیں اسی طرح ہمارے ہمسایہ ملک بھارت سے اور دیگر ممالک سے ادبی، ثقافتی، صحافتی اور مذہبی راہنما بھی فانی دنیا کو داغ مفارقت دے گئے جن میں سے یوسف مستی خان، یوسف القرضاوی، کے پی اے سی للتا، کولن ویزلے، کرسٹی ایلی، ڈیوڈبولفورڈ، پردیپ کوڈیم، نسیم اختر شاہ قیصر، ناظم حسین صدیقی، میر افضل خان، نیرہ نور، میڈلین البرائیٹ، نینو چروتی، نیکی ایکوکس، میخائل گوربا چوف، نفیسہ صادق، میں گل عدنان اورنگ زیب، آفتاب بلوچ، آئیبرک پیکجان، آصف احمد علی، آغا سید حامد علی شاہ موسوی، ایلا رمیش بھٹ، اداکارہ تبسم، مہدی حسن (صحافی) ، منظور حسین (ہاکی کا کھلاڑی) ، ملائم سنگھ یادو، افضال احمد، اسماعیل تارا، ارشد شریف، مسعود خواجہ، مسعود اختر، لتا منگیشکر، فل کارلسن، فوجیکو فوجیو، غلام نور ربانی کھر، محمود اشرف عثمانی، منشا تابش قصوری، محمد رفیع عثمانی، عمران اسلم (صحافی) ، طارق ٹیڈی، شین وارن، صدف نعیم، شہزادہ عالم، برجو مہاراج، بخت بیدار، ایلزبتھ دوئم، ایسٹن میک مورس، امداد حسین، عامر لیاقت حسین، ریون الکسیس، روبینہ قریشی، رفیق تارڑ، آمینہ سندر کاسیہ، رحمن ملک، رابرٹ کرل، حنید لاکھانی، خالد بلتی، جیانگ زیمین۔ حائیم کن یوسکی، تسکین مانیروال، بھوپندر سنگھ، بپی لہری، بلقیس ایدھی، بلخ شیر مزاری، بشری رحمن، الطاف احمد شاہ، پروفیسرگوپی چند نارنگ، ابراہیم اشک، شرف استھانوی، ڈاکٹر کمار پانی پتی، ڈاکٹر نادر علی خان، متین اچل پوری، مولا نسیم شاہ قیصر، احمد علی برقی اعظمی، پروفیسر خورشید سمیع، ابرار کرتپوری، پروفیسر اسلم آزاد، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اور خالد عابدی قابل ذکر ہیں۔ جریدہ ماۂنو کے سابقہ مدیر معروف شاعر قائم نقوی، مترجم افسانہ نگار محقق اور نقاد قیصر نذیر خاور اورمعروف کالم نگار شاعر کہانی کار استاد ڈاکٹر اختر شمار بھی 2202 ءمیں لقمہ اجل بنے۔ 2202 ء میں نوبل انعام برائے ادب، فرانسیسی خاتون آنی ایغنو کے حصے میں آیا۔ وہ پہلی فرانسیسی خاتون ہے جسے ادب کے میدان میں اس انعام کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک انوکھی بات ہے کہ اعزاز اسے اس کی جرات، بہادری اور جراح جیسی فہم و فراست کے لیے دیا گیا۔ اس نے اپنی ذاتی یادداشتوں کی جڑوں، تفاوتوں اور اجتماعی پابندیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ پاکستان میں نظم کے ہر دل عزیز معروف شاعر ڈاکٹر وحید احمد کو حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز سے نوازا۔ دو ہزار بائیس میں ہی امجد اسلام امجد جو کہ پاکستان کے معروف دانشور، کالم نگار، شاعر اور ڈرامہ نگار ہیں، انہیں حکومت پاکستان نے ہلال امتیاز کا اعزاز بخشا۔ امسال لاہور میں کوئی بڑی ادبی کانفرنس نہ ہو سکی۔ ایک زمانہ تھا کہ لاہور میں الحمرا آرٹس کونسل مال میں شاندار اردو کانفرنسیں ہوا کرتی تھیں جس میں دنیا بھر کے ادیب شرکت کیا کرتے تھے۔ یہ کانفرنسیں عموماً تین چار دن پر مشتمل ہوتی تھیں اور ہر صنف سخن پر بات ہوتی بیسیوں سیشن ہوتے اور ان میں ادبی ستارے اپنے علمی سفر پر روشنی ڈالتے، کئی سیشن کھوئے ہوؤں کی یاد تازہ کرتے اور کہیں نامور ادیب اپنی زندگی کی ریاضتوں سے پردہ اٹھاتے۔ یہ ساری کانفرنسیں عطا ءالحق قاسمی کے دور میں ہوئیں جب وہ الحمرا آرٹس کونسل کے چیئرمین تھے۔ نہ ان کی قیادت سے قبل اور نہ ہی ان کے بعد کسی نے اس طرف توجہ کی ہے البتہ کراچی والے اس سلسلے میں بازی لے گئے ہیں۔

اکادمی ادبیات اسلام آباد میں ہفتہ وار ادبی نشستوں کے علاوہ کتب اور پرچوں کا تسلسل بھی نہ ٹوٹا اور اس ادارے نے تمام دنیا کے اردو ادبی اداروں، تنظیموں اور دانشوروں سے رابطے کر کے ان کی زبانوں کا ادب اردو میں اور اردو کا سرمایہ ان کی زبانوں میں ترجمہ کرنے کی طرف راغب کیا اور کچھ تراجم کروا بھی لیے ہیں۔ یہ اس سال اس ادارے کا اردو زبان، اس کے قاری اور لکھاری پر تاریخ ساز احسان ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی فن تعمیر کے پروجیکٹ پر کام کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں اردو زبان سے پیار کرنے والی خاتون فاطمہ قمر نے اردو کے فروغ کے لیے اپنی کاوشیں تیز کر دیں ملتان سے رضی الدین رضی نے اردو ادب کی خدمات کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔ اس سال بھی گزشتہ سالوں کی طرح کراچی سے شایع ہونے والا ماہنامہ قومی زبان، اسلام آباد سے اردو نامہ اور لاہور سے الحمرا، بیاض، تخلیق اور ادب لطیف چھپنے میں تعطل نہیں آیا۔ خالد احمد مرحوم کے ’بیاض‘ اور اظہر جاوید مرحوم کے پرچے ’تخلیق‘ کی انتظامیہ نے تو سالانہ ایوارڈ اور انعام کا اجراء بھی کر رکھا ہے ان کی یہ جہد اس سال بھی جاری رہی۔ مجلس ترقی ادب لاہور میں اس سال جب تک منصور آفاق چیئرمین رہے، ادبی چائے خانہ اور اور ادبی عجائب گھر بنا کر انہوں نے اردو ادب سے محبت کرنے والوں کے لیے اس ادبی ادارے کے دروازے کھول دیے۔ بہاول پور میں جواں سال ڈاکٹر رفیق الاسلام، اردو ادب اور اقبالیات پر منفرد خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ لاہور سے ڈاکٹر الماس خانم نے ’اردو میں ادبی تحقیق‘ کے علاوہ ”آذر بائیجان کا عظیم المرتبت شاعر نظامی گنجوی“ لکھی ہے۔ یاد رہے کہ نظامی گنجوی فارسی خمسہ گوئی کے بانی ہیں۔ محمد نجم الدین احمد نے اکادمی ادبیات پاکستان کے پلیٹ فارم سے ”کتاب ددہ گر گود“ آذر بائیجان کی مشہور رزمیہ داستان کا ترجمہ کر کے دو ملکوں میں پل کا کام سر انجام دیا۔ ”خفیف مخفی کی خواب بیتی“ مرزا اطہر بیگ، ”استغاثہ“ ڈاکٹر غافر شہزاد، ”میں بھناں دلی دے کنگرے“ پنجابی ناول مستنصر حسین تارڑ کی اس سال منصۂ شہود پر آنے والی نئی کتابیں ہیں۔ دو ہزار بائیس میں ہی ڈاکٹر غافر شہزاد کے ناول ”مکلی میں مرگ“ کو یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ نیلو فر اقبال کا افسانوی مجموعہ ”سیاہ سونا“ ، ڈاکٹر اصغر خان کی عالمی و مقامی تناظر میں ”نظریہ قومیت“ ، اسلم انصاری کا نیا افسانوی مجموعہ ”گماں آباد“ اور ”کلیات اسلم انصاری“ بھی اسی سال کے اواخر میں چھپ گیا۔

عکسی مفتی کی کتاب ”محمد“ عکس پبلی کیشن نے لاہور سے شایع کی ہے۔ قیصر نذیر خاور جو کہ انٹر نیشنل زبانوں کے مترجم بھی ہیں ان کا نیا ناولٹ ”ادھ کھلے دریچے“ بھی دسمبر کی شاموں میں چھپ کر پڑھنے والوں کے ہاتھ میں پہنچ چکا ہے۔ منفرد لب و لہجے کی شاعرہ صنوبر الطاف کا مجموعہ ”کائنات کے بیک یارڈ سے“ بھی ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی ”یہ قصہ کیا ہے معنی کا“ اور ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی کی ”ماحولیاتی تناظر“ بھی اسی سال مارکیٹ میں آئی ہیں۔ انسانی فطرت ہے کہ جب بھی کسی ہوش مند فرد کا پچھلا سال گزرتا ہے تو وہ زندگی کے صفحات واپس پلٹ کر ضرور دیکھتا ہے۔ وہ اپنے اسی ایک حساس لمحے سے لطف اندوز ہوتا ہے جہاں اس نے کچھ کھویا ہوتا ہے یا کچھ حاصل کیا ہوتا ہے۔ ادبی منظر نامہ، ادیبوں کی راج دھانی ہوتا ہے سو وہ ادیب جنہوں نے رواں سال میں ادبی پنڈال میں اپنا ڈول ڈال رکھا ہو وہ اس بات پر نازاں ہوتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کا یہ سال ضائع ہونے سے بچا لیا ہے۔ ان کے لیے حیات کا وہی صفحہ حاصل زیست ہوتا ہے۔ باقی سارے سال ان کے لیے آتے جاتے موسموں کی مانند کبھی سرد، کبھی گرم اور کبھی پت جھڑ جیسے ہوتے ہیں۔ دو ہزار بائیس میں ماہ ءنو نے ایک ساتھ جون ایلیا، ساغر صدیقی اور پروین شاکر کے خاص نمبر شایع کیے۔ دنیائے ادب کے ان معروف شعرا کو پرچے کی صورت میں محفوظ بھی کیا اور ساغر صدیقی اور پروین شاکر کے شایان شان لاہور گورنر ہاؤس میں ان دونوں شعرا کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ان پر مقررین نے سیر حاصل گفتگو بھی کی، جن حکومتی ایوانوں میں ساغر صدیقی خود کبھی نہیں گیا مگر اس کے کلام کو وہاں خوب سراہا گیا۔ ساغر صدیقی تو ایک درویش صفت شاعر ہے اسے بہت زیادہ نظر انداز کیا گیا تھا۔ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور تھڑوں پر بیٹھ کر قوم اور سماج کا المیہ لکھنے والے عظیم شاعر کو ایک قومی پرچے میں زندہ کر کے ماۂ نو نے، اس سے محبت کرنے والوں کے دلوں میں جگہ بنا لی ہے۔ ساغر صدیقی نمر نکالنے کی تجویز راقم الحروف کی ہی تھی جسے ماہ نو نے دوام بخشا۔ ماہ نو نے اس سے قبل بانو قدسیہ اور اشفاق احمد جیسے اردو لکھاریوں پر بھی خاص نمبر طبع کیے اور ان کی شاندار تقریب گورنر ہاؤس میں رکھی جہاں پر ان کے فن اور فکر سے لوگوں کو آگاہی دی گئی۔

لاہور آرٹس کونسل کی طرح احمد شاہ نے کراچی میں اس سال بھی زیادہ ادبی پروگرام رکھے ہیں مگر اس نے ان کا نام فیسٹیول رکھا ہے۔ ادبی دیوانوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ ادبی پروگرامز کا نام کانفرنس، میلہ یا ادبی بیٹھک ہو۔ ان کی خوشی اس وقت دیدنی ہوتی ہے جب یہ محفلیں سجتی ہیں۔ آرٹس کونسل کراچی کے چار روزہ اردو میلے کا افتتاح جوئندگان ادب کے لیے ایک خوش آیند بات تھی مگر اس میں ایک پہلو جس پر پوری دنیا کے ادیبوں کے بھر پور تحفظات رہے، وہ یہ تھی کہ اس میلے میں نہ پرانے چہرے بدلے گئے نہ بیانیے۔ حالاں کہ یہ ایک ایسا موقع ہے جس میں احمد شاہ اکیلا ہی ادبی و ثقافتی میدان میں ڈٹا ہوا ہے، اگر یہ معمولی سا جھول ختم ہو جائے اور وہی چہرے جن کو لوگ دیکھ دیکھ کر اکتا چکے ہیں ان کی جگہ کچھ نئے لوگ شامل کیے جائیں جو تازہ فکر اور شاداب خیال کے خالق ہیں تو احمد شاہ کی ریاضت اردو ادب کی خدمات میں ثمر بار ہو۔ تاریخ کا یہ وہ لمحہ زیر بسر ہوتا ہے کہ آپ کے لائیو پروگرام گھر گھر دیکھے جا رہے ہوتے ہیں آپ جانتے ہیں کہ درانتی کو ایک طرف دندانے تو دنیا والوں کو دو طرف ہوتے ہیں۔

مجموعی طور پر سال دو ہزار بائیس میں ادبی سر گرمیاں کرونا کے دور کے بعد نسبتاً زیادہ ہوئی ہیں۔ لوگ جو گھروں میں بیٹھ بیٹھ کر دو تین سال ایک طرح سے کرونیائی کرب میں وقت گزار چکے تھے انہیں جیسے ہی آزادی کا لمحہ میسر آیا، انہوں نے ادبی محافل کا رخ کیا۔ اس سال حلقہ ارباب ذوق، ترقی پسند مصنفین، مجلس ترقی ادب، اکادمی ادبیات اور دیگر ذاتی ادبی بیٹھکوں میں بھی ادبی محافل زور و شور سے جاری رہیں۔ اگر چہ اس سال آن لائن ادبی کانفرنسیں، ادبی محفلیں اور مشاعرے نہ ہونے کے برابر تھے مگر کچھ جگہوں پر جزوی طور پر آن لائن سلسلہ بحال رہا۔ کئی شہروں میں ادبی پروگرام تو عمارتوں اور مختلف ادبی بیٹھکوں میں ہوتے رہے ہیں مگر ان میں بہ یک وقت آن لائن بھی لوگ شریک ہو جاتے۔ تھر کی آواز میں آواز ملانے کے لیے اور لوکل زبانوں کو دوام بخشنے کے لیے سندھ میں امر سندھو بی بی نے ”ایاز میلو“ سجا کر ثابت کیا ہے کہ مقامی زبانوں سے محبت کرنے والے ابھی بھی زندہ ہیں کیوں کہ وہ بی بی اس ”ایاز میلو“ پر اپنی جیب سے خرچہ کرتی ہے اور پنجاب سے ہمارے پنجابی شاعر ادیب اپنے خرچے پر ”ایاز میلو“ میں اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لیے شامل ہوتے ہیں۔ اس سال بھی اس نے دسمبر کے مہینے میں خوب ادبی اور ثقافتی رنگ بھرے ہیں۔ اس سال کے شایع ہونے والی شعری، افسانوی، تنقیدی، ترجمہ شدہ کتب اور ناولوں نے ثابت کیا ہے کہ دو ہزار بائیس بھی کتاب سے محبت کرنے والوں کا سال ہے

Facebook Comments HS