قلعہ گجر سنگھ لاہور سے کلکتہ تک

نومبر کی ایک خنک صبح، ہلکی ہلکی بوندا باندی، لاہور کا ایک گنجان آباد اور پرانا علاقہ ”قلعہ گجر سنگھ“ ، تنگ، کشادہ اور پیچ و خم سے بھرپور مگر صاف ستھری گلیوں میں واقعہ تقریباً ایک صدی پہلے تعمیر کیا گیا خوبصورت روایتی تین منزلہ گھر، جو کبھی کسی امیر ہندو کی ملکیت تھا، انتہائی باذوق طریقے سے ڈیزائن کیا گیا یہ آشیانہ، جس کے دونوں اطراف کشادہ گلیاں اور تمام منازل میں خوبصورت بالکونیاں اور ان بالکونیوں پر موجود شیڈز پر کبوتروں کے آباد گھونسلے، جن میں کبوتروں کی کئی نسلیں پیدا ہو کر دیکھتے ہی دیکھتے بغل میں موجود مسجد کے گنبد اور نیلے آسمانوں کا حصہ بن گئیں۔
گھر کا صحن انتہائی کشادہ، ہر منزل پر کمروں کے آگے چاروں طرف پھیلی ہوئی ایک راہداری، جیسے لکھنؤ کی کوئی حویلی یا جیسے کسی پرانی کلاسک ہندی فلم کا سیٹ۔
یہ علاقہ اور گھر ہمیں بہت راس آیا تھا، یہ محلہ روایتی خاندانی لاہوریوں پر مشتمل تھا، اس گھر کی مالک فیملی بھی انتہائی شریف اور پڑھی لکھی تھی، ہماری خوش قسمتی کہ انہوں نے ہم دو دوستوں کو اپنے گھر کی تیسری منزل کرائے پر دے دی تھی، مجھے یاد ہے جب ہم دونوں یہ گھر دیکھنے وہاں پہنچے، اس یقین محکم کے ساتھ کہ ناکام لوٹیں گے، لیکن ایک مختصر سے انٹرویو کے بعد ہماری شکلیں دیکھ کر انہوں نے ہمیں اپنا کرایہ دار تسلیم کر لیا، مالکان نے صرف ایک سوال پوچھا کہ کہیں آپ لوگ مغل تو نہیں؟ ہم نے پہلے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر مالکان کی طرف اور جب نا میں سر ہلایا تو ان کے چہروں پر خوشی دیدنی تھی، اس سوال اور مغل دشمنی کی وجہ ہمیں آج تک معلوم نہ ہو سکی کیونکہ ہم نے کبھی ان سے پوچھنے کی زحمت بھی نہیں کی، ہو سکتا ہے اس خاندان کی لڑی کہیں دلے بھٹی سے جا ملتی ہو، کیا کہا جا سکتا ہے؟
ویسے تو ہمارے بہت سے ایسے دوست ہوں گے جو مغل تھے لیکن نہ کبھی کسی سے پوچھا اور نہ ہی اس بات کی کبھی پرواہ کی، ہاں البتہ مطالعہ پاکستان میں ”ہندوستان میں مغلوں کی سلطنت کے زوال کے اسباب“ کا سبق یاد تھا کیونکہ میٹرک سے لے کر گریجویشن تک پاکستان میں مطالعہ پاکستان کی کتاب کے سرورق کے علاوہ کچھ تبدیل یا اضافہ نہیں ہوتا۔
اس فیملی سے ایسا خوشگوار تعلق قائم ہوا جو آج تک قائم ہے، اس گھر کی چھت پر ہم نے مالکان کی فیملیز کے ساتھ بار بی کیو پارٹیاں بھی کیں اور لاہور میں منائی گئی چند آخری بسنتیں بھی، یعنی ”جاندی بہار دا بلہا“ چند سال پہلے پاکستان جانا ہوا تو میں نے اس محلے کا وزٹ کیا تو بہت سے محلے دار اسی محبت سے ملے۔
گوالمنڈی فوڈ سٹریٹ اور لکشمی چوک جیسے اہم اور مشہور مقامات ہمارے اس آشیانے سے پیدل مسافت پر تھے، رات بارہ بجے کے بعد لکشمی چوک میں بے شمار گاؤ تکیوں سے آراستہ چارپائیاں بچھ جاتیں، ہم وہاں گھنٹوں گزارتے، کبھی کبھار اگر بہت ضرورت پڑے تو وہاں گھومنے پھرنے والے مالشیوں کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی تھیں، جن کی بوتلوں کی چھنکار اس سارے ماحول کا ایک لازمی جز تھا، ٹکاٹک، رومالی روٹیاں اور انواع و اقسام کے کھانے تناول کرتے۔

گھر کے ساتھ والے بازار میں ناشتوں کی دکانیں اور ٹھیلے ہر صبح اسی خشوع و خضوع کے ساتھ سج جاتے، نان چنے، سری پائے اور کھدوں کے خریدار فرض سمجھ کر یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہوتے، کبھی کبھار تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہ دنیا کا سب سے اہم ترین کام ہے۔
میں کبھی کبھار ”پپو“ پہلوان کی دکان سے نان چنے خریدتا، یہ اپنے آپ میں ایک مکمل لاہوری کیریکٹر تھا، انتہائی تمیزدار لیکن اپنی انا میں رہنے والا، ایک صبح میں اس کی دکان پر گیا تو وہ سب کام چھوڑ کر نیچے اترا اور مجھے انتہائی ادب سے جھک کر ملا، میں بہت حیران ہوا اور خاموشی سے اسے تکتا رہا، پھر وہ بولا:
پا جی: سانوں تے پتہ ای نہیں سی ساڈے محلے وچ ایڈے وڈے فنکار رہندے نے، حکم لاؤ، کی خدمت کراں؟
پپو پہلوان نے گزشتہ رات الحمرا ہال لاہور میں ہونے والا میرا ایک تھیٹر ڈرامہ دیکھ لیا تھا جس میں میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا، بات پپو پہلوان کے چولہے تک پہنچ چکی تھی اب محلے میں اس بات کو جانے سے کون روک سکتا تھا؟ اس دن کے بعد سے علاقے میں ہماری عزت و احترام اور اہمیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، کچھ شوقین حضرات تو مجھے روک کر سلام کرنا اور حال چال پوچھنا اپنا فرض سمجھتے تھے، جتنا عرصہ ہم نے اس گھر میں قیام کیا لاہور کے تقریباً تمام رنگوں سے لطف اندوز ہوئے۔
تیسری منزل پر واقع اپنے بیڈ روم سے ملحقہ کچن میں میں جلدی جلدی ناشتہ تیار کر رہا تھا، کمرے میں میرے کپڑے ایک عدد ٹرالی بیگ کے گرد پھیلے ہوئے، تھے، میں رات بھر ٹھیک طریقے سے سو نہ پایا تھا کیونکہ آج میں اپنی زندگی کے ایک انوکھے سفر پر نکلنے والا تھا، ڈرائیور پک کرنے کے لئے کبھی بھی پہنچ سکتا تھا، ڈرائیور کیا تھا؟ کمپنی کا ملازم اور ہمارا دوست بھی، اگر جھڑکو تو آگے سے جھڑک دیتا تھا، ہاں البتہ گالی کا جواب نہیں دیتا تھا۔
ہلکی ہلکی بارش مجھے پریشان کر رہی تھی کیونکہ اس بارش میں مجھے تقریباً ایک کلو میٹر پیدل سفر بیگ کے ہمراہ کرنا تھا، قصہ کچھ یوں ہے کہ ہماری تھیٹر کمپنی بھارت میں ہونے والے مختلف تھیٹر فیسٹیولز میں شرکت کے لیے بھارت میں موجود تھی، میں اس ٹیم کا حصہ تھا لیکن کچھ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے میں ان کے ہمراہ نہ جا سکا، اب دو دن کے بعد یہ ٹیم کلکتہ پہنچنے والی تھی اور میں نے انہیں کلکتہ میں جوائن کرنا تھا۔
بطور پاکستانی شہری میرا سفر انتہائی عجیب، منفرد مگر بہت دلچسپ ہونے والا تھا، کیوں کہ میں نے واہگہ بارڈر پیدل کراس کرنے کے بعد امرتسر پہنچنا تھا اور اگلی صبح بذریعہ ٹرین دہلی، پھر اسی شام دہلی سے کلکتہ کا جہاز پکڑنا تھا، ناشتہ بناتے اور کھاتے وقت یہ مہم نما پلان میرے سر میں گھوم رہا تھا۔
تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد میرے فلپ فون نے کانپنا شروع کر دیا، جلدی سے فون اٹھایا تو دوسری طرف سے آواز آئی، فرقان جی تھلے آ جاؤ، ہم لیٹ ہو رہے ہیں، میں نے واپس آ کر اور بھی بہت سے کام کرنے ہیں، کچھ ہی دیر کے بعد ہم لاہور کی نہر کے کنارے کنارے براستہ ”جلو“ واہگہ باڈر کی طرف رواں دواں تھے۔
ڈرائیور نے مجھے واہگہ بارڈر پر ڈراپ کیا اور تیزی سے واپس نکل گیا، میں نے امیگریشن کروائی، اس دن میرے علاوہ چند ایک ڈپلومیٹس اور ان کی فیملیز واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت جا رہے تھے، امیگریشن کے بعد میں نے گیٹ کی طرف چلنا شروع کیا، یہ وہی جگہ ہے جہاں ہر شام فلیگ اتارنے کی تقریب منعقد ہوتی ہے، چونکہ میں گزشتہ چند مہینوں میں متعدد بار اپنے گروپ کے ہمراہ بھارت کا سفر کر چکا تھا اس لیے گیٹ پر موجود رینجرز اہلکار ہمیں اچھی طرح پہچانتے تھے، مجھے دیکھتے ہی انہوں نے حیرانی سے پوچھنا شروع کر دیا کہ آپ کا گروپ تو پچھلے ہفتے جا چکا ہے، آپ کہاں رہ گئے تھے؟ میں نے ذاتی مصروفیات کا بتایا۔
ہلکی ہلکی بارش مسلسل جاری تھی، اہلکاروں کی ٹیبل اور کرسیاں بارش سے بچنے کے لیے فلیگ کی تقریب والے چھت نما اسٹیڈیم کے نیچے بچھی تھیں، انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا کہ تھوڑی بارش تھم جائے تو پھر چلے جائیے گا۔
وہاں بیٹھے ہوئے مجھے سامنے دونوں ملکوں کی سرحد اور ان پر لگے آہنی گیٹ نظر آ رہے تھے، جن پر دونوں اطراف اونچے، لمبے، چاق و چوبند فوجی جوان ڈیوٹی دے رہے تھے، ہر طرف ایک خاموشی سی پھیلی تھی، کبھی کبھی جوانوں کی آپس میں بولنے کی آواز اور ان کے بھاری بھرکم جوتوں کی دھمک اس خاموشی کو توڑ رہی تھی، اس سارے ماحول میں بارش کے ساتھ بہت سے مختلف پرندوں کی آوازیں کافی بھلی محسوس ہو رہی تھیں، اسی اثنا میں فاختاؤں کا ایک جوڑا بارش میں کھیلتا، اڑتا ہماری ٹیبل سے کچھ فاصلے پر موجود پھولوں کی کیاری کے پاس آ کر بیٹھ گیا، وہ دونوں بہت خوش محسوس ہو رہے تھے، شاید خوبصورت موسم نے ان میں مستی بھر دی تھی اور وہ اپنی آزادی سے صحیح معنوں میں لطف اندوز ہو رہے تھے۔
ان کی آواز تو ویسے ہی کانوں کو بہت مدھر لگتی ہے لیکن اس خاص ماحول میں تو جیسے کوئی انتہائی سریلا گیت گنگنا رہے ہوں، میں سب کچھ بھول بھال کر مکمل طور پر ان کی طرف متوجہ ہو گیا، وہ مسلسل کچھ نہ کچھ گائے جا رہے تھے، آس پاس اڑتے اور حرکت کرتے ہوئے دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہی تھے حتیٰ کہ بیک گراؤنڈ میں کووں کی آواز کا سر بھی ان کے ساتھ مل کر اسی گیت کا حصہ بن رہا تھا، شادی بیاہ میں آئے بینڈ کی طرح جس میں ایک بڑا بھونپو نما باجا اپنا حصہ ڈالتا ہے۔
کیا یہ فاختائیں بھارتی ہیں؟ نہیں، شاید پاکستانی؟ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے فاختاؤں کا یہ جوڑا پھڑپھڑاہٹ کے ساتھ اڑا اور انڈیا پاکستان کے درمیان دنیا کے سخت ترین بارڈرز میں سے ایک پر لگے گیٹوں کے عین اوپر سے ہوتا ہوا بغیر ویزے اور سکیورٹی کلیئرنس کے پار چلا گیا، تب مجھے احساس ہوا کہ اصل آزادی کیا چیز ہوتی ہے، انسانوں نے اپنے لئے خود ہی کتنی پابندیاں اور مشکلات پیدا کر لی ہیں۔
صرف ایک صدی پہلے تک ایک انسان اگر چاہے اور ہمت ہو تو دنیا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک سفر کر سکتا تھا، آج کی تاریخ میں تو یہ سب کچھ ناممکن ہی سمجھیں، تیسری دنیا اور غریب ممالک کے لوگوں کے لئے تو مالی وسائل کی کمی کے ساتھ ویزے کا حصول ہی جوئے شیر لانے سے کم نہیں، جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں ان میں سے اکثر صرف سیاحتی مقامات تک ہی محدود رہتے ہیں، پہلی دنیا کے لوگ بہت سے ممالک کا سفر کرنے سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ وہاں کی سکیورٹی کلیئرنس حاصل نہیں کر پاتے۔
آج کے دور میں البیرونی یا مارکوپولو وغیرہ کا پیدا ہونا شاید ممکن ہی نہیں رہا، ہاں اگر یہ حضرات آج کے دور میں ہوتے تو شاید چند ایک ملکوں تک ہی محدود رہتے، کسی ملٹی نیشنل میں جاب کرتے، بچے پیدا کرتے، انہیں پالتے اور آرام سے ریٹائرڈ لائف گزار رہے ہوتے۔
کچھ دیر بعد میں نے ان سے اجازت چاہی اور بارڈر پر لگے آہنی گیٹ عبور کر گیا، ”نومینز لینڈ“ سے ہوتا ہوا بھارتی گیٹوں پر رکا جہاں ”بی ایس ایف“ کے اہلکاروں نے میرے ڈاکومنٹس چیک کیے اور مجھے امیگریشن آفس کی طرف جانے کے لیے اشارہ کیا، پاکستان کی طرف والے پہلے گیٹ سے لے کر بھارت میں آخری ایگزٹ گیٹ تک یہ تقریباً ایک کلو میٹر کا سفر بنتا ہے جو آپ نے صرف پیدل ہی طے کرنا ہوتا ہے۔
امیگریشن کروانے کے بعد میں آخری گیٹ سے باہر نکلا، مجھے امرتسر ریلوے اسٹیشن کے پاس واقع ایک ہوٹل میں پہنچنا تھا، یوں تو میرے امرتسر میں بہت سے دوست رہتے تھے جو میری گزشتہ وزٹس میں اکثر اٹاری پک کرنے آ جاتے تھے، لیکن اس بار میں نے کسی کو بھی آنے کا نہیں بتایا تھا کیونکہ مجھے صرف وہاں ایک رات گزارنی تھی اور صبح تقریباً پانچ بجے امرتسر ریلوے اسٹیشن سے ”شتابدی“ ٹرین کے ذریعے دہلی روانہ ہونا تھا، میں نے باہر واقع ایک کھوکھے سے ”تھمز اپ کولا“ خریدی اور ٹیکسی کے لئے ادھر ادھر دیکھنا شروع کیا، مجھے بہت سے ٹیمپو نظر آئے، ٹیمپو ایک خاص قسم کا بڑا آٹو رکشہ ہے جو بھارت میں بہت عام ہے، میں نے دل میں سوچا اسی پر چلتے ہیں اور سالم ٹیمپو کروا لیا۔
ہلکی ہلکی بارش، ٹھنڈی ہوا، کھلا ٹیمپو اور بھارتی پنجاب کے خوبصورت کھیت کھلیان، ٹھنڈک کے باوجود میں ان سب سے بہت لطف اندوز ہو رہا تھا، اسی طرح کے چھوٹے چھوٹے دیہاتی بازار، پھلوں اور سبزیوں کی ریڑھیاں، موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں کی پنکچروں کی دکانیں، چرند، پرند، بھینسیں، بکریاں، سب کچھ ویسا ہی تھا لیکن ملک دوسرا تھا۔
یاد رہے لاہور کا قریب ترین بڑا شہر امرتسر ہی ہے، دونوں شہروں کا فاصلہ تقریباً 60 کلومیٹر بنتا ہے، اور بارڈر عین بیچ میں، واہگہ بارڈر سے امرتسر تقریباً تیس یا 32 کلومیٹر ہے، نکلتے ہی سب سے پہلا گاؤں ”اٹاری“ آتا ہے جو مین سڑک سے کچھ فرلانگ ہٹ کرہے، ٹیمپو پر بیٹھے بیٹھے میں نے اٹاری کا نظارہ کیا، بہت سارے مکان ایک دوسرے کے اوپر چڑھتے ہوئے لگ رہے تھے، چند ایک اونچے اور بڑے چوبارے، پارٹیشن کی کہانیوں میں بہت سارے لکھاریوں نے اس گاؤں کا ذکر متعدد بار کیا ہے اس لیے اسے دیکھ کر ایک عجیب سی اداسی محسوس ہوئی۔
امرتسر میں میں متعدد تھیٹر ٹریننگ ورکشاپس اٹینڈ کر چکا ہوں اس لیے یہ شہر مجھے اپنا اپنا سا ہی لگتا ہے، شاید ساہیوال اور لاہور کے بعد اگر میں کسی شہر کو بہت اچھی طرح پہچانتا اور جانتا تھا وہ امرتسر ہے، مختلف گلیوں اور محلوں میں میرے دوست رہتے ہیں، بھارت کے بہت سے شہروں کو دیکھنے کا موقع ملا لیکن امرتسر میں گھومتے ہوئے کبھی بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ کسی پرائے ملک یا شہر میں گھوم رہا ہوں۔
امرتسر ویسے تو ہمیشہ سے ایک اہم ترین شہر رہا ہے لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں اس نے بہت ترقی کی ہے، پاکستان بارڈر پر ہونے کے ساتھ گولڈن ٹیمپل اور جلیاں والا باغ جیسے مقامات کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے یہ ایک بہترین ٹورسٹ اٹریکشن ہے، تاریخی کلاسک فیل کے ساتھ بہترین انفراسٹرکچر، کارپوریٹ کلچر اور مصروف انٹرنیشنل ائرپورٹ اس شہر کو مزید نمایاں کر دیتے ہیں۔
امرتسر ریلوے اسٹیشن کے پاس میرے لیے ہوٹل بک کیا گیا تھا تاکہ الصبح دہلی کی ٹرین پکڑنے میں آسانی رہے، ہوٹل میں چیک ان کیا تو وہاں پہلے سے ”اجے مہرا“ صاحب موجود تھے جن کے پاس میری ٹرین اور جہاز کی ٹکٹیں بھی تھیں، انہوں نے ہی میرے لیے ہوٹل کا بندوبست کیا تھا، امرتسر میں مہرا صاحب ہماری تھیٹر کمپنی کے انتہائی شفیق دوست ہیں، پر تکلف ڈنر کے بعد وہ مجھے رات گئے دوبارہ ہوٹل میں ڈراپ کر گئے۔
چیک ان پر موجود شخص سے میں نے صبح چار بجے کی ویک اپ کال کا کہا اور سو گیا، ٹھیک چار بجے میرے فون کی گھنٹی بجی، سب کچھ تیار تھا، میں نے جلدی سے شیو اور دانت برش کیے اور لابی میں پہنچ گیا، میں نے سوچا یہ صرف پانچ سے دس منٹ کی واک ہے کیوں نہ اسٹیشن تک پیدل ہی چلا جائے، میں اپنا ٹرالی بیگ پکڑ کر جیسے ہی سڑک پر نکلا تو آوارہ کتوں اور سوروں کی ٹولیاں نظر آئیں، رات کا تیسرا پہر، میرے علاوہ سڑک پر کوئی موجود نہیں تھا اس لئے ان تمام آوارہ جانوروں کی توجہ کا مرکز بن گیا، وہ سب الرٹ ہو کر مجھے تکنے لگے، کچھ ایک نے تو میری طرف بڑھنا بھی شروع کیا کہ یہ کون شخص ہے اور کیا چاہتا ہے؟
میں نے عافیت اسی میں جانی کہ فوراً واپس ہوٹل میں داخل ہوا جائے، بھارت کے بہت سے شہروں میں آوارہ کتوں کے ساتھ آوارہ سور بھی کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں جو سڑکوں اور کوڑے کے ڈھیروں کے اردگرد غول کی شکل میں رہتے ہیں۔
ریسیپشنسٹ نے مسکرا کر میرا دوبارہ استقبال کیا، میں نے اسے ٹیکسی یا رکشہ منگوانے کے لیے کہا، یاد رہے کہ بارش ابھی رکی نہیں تھی، ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی، ہوٹل کے ساتھ موجود بینک کے برآمدے کے سامنے ایک سائیکل رکشہ کھڑا تھا، برآمدے میں اس کا مالک سو رہا تھا، ریسیپشنسٹ نے اسے جگایا اور بولا کہ صاحب کو اسٹیشن تک لے جاؤ، اب میں سائیکل رکشے پر سوار خرامہ خرامہ ہلکی پھوار میں اسٹیشن کی طرف بڑھ رہا تھا، تمام آوارہ جانور مجھے پھر دیکھ رہے تھے مگر قدرے خوف کی حالت میں، شاید دبلا پتلا سائیکل رکشے والا (جو تقریباً کھڑے ہو کر انتہائی مشقت کے ساتھ رکشے کا اور میرا بوجھ کھینچ رہا تھا) ان سب کا جانکار تھا، میں بھی پر اعتماد انہیں تک رہا تھا کہ اب کے آؤ؟ ان سب کی ساکت خاموشی میں کھلی نا تھی کہ جیسے کہہ رہے ہوں کہ تم تو بدمعاش لے آئے ہو۔
۔ ”شتابدی“ ٹرین ٹو دہلی
امرتسر جنکشن ریلوے اسٹیشن بھارت کے اہم ترین ریلوے اسٹیشنز میں سے ایک ہے، سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین (جو بھارت اور پاکستان کے درمیان چلتی ہے ) سے لے کر یہاں سے بے شمار ٹرینیں پورے بھارت کے لئے روانہ ہوتی ہیں، میں ٹرین اسٹیشن پر پہنچا تو میری ٹرین میں ابھی کافی وقت باقی تھا، ریلوے لائن، ٹرین اور ٹرین اسٹیشنز میرا ہمیشہ سے رومانس رہا ہے، اس لیے میں نے مختلف پلیٹ فارمز پر گھومنا شروع کر دیا۔
رنگ برنگی ٹرینیں اور انجن مختلف پلیٹ فارمز پر آ اور جا رہے تھے، بے شمار مسافر، عورتیں اور بچے ٹولیوں کی شکل میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے تھے، بھارت کے جس حصے کی طرف جو ٹرین جا رہی تھی اس پلیٹ فارم پر موجود مسافروں کے لباس ان کی منزل کا پتا دے رہے تھے، مثلاً راجھستان اور بہار وغیرہ۔

بھارت کا ریلوے سسٹم دنیا کے سب سے بڑے سسٹمز میں سے ایک ہے، اور اس کو چلایا بھی انتہائی عمدہ اور مثالی طریقے سے جا رہا ہے، یہاں آپ کو ہر طرح کی ٹرین میسر ہے، سستی، مہنگی، مہنگی ترین اور مختلف علاقوں میں سفاری ٹرینیں بھارت اور دنیا بھر کے مسافروں اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔
میں نے جو ٹرین دہلی کے لئے پکڑنی تھی وہ ایک انتہائی عمدہ اور لگژری ٹرین تھی جو روزانہ کی بنیاد پر امرتسر سے دہلی اور دہلی سے امرتسر کے درمیان چلتی ہے، اس ٹرین میں بیٹھتے ہی مجھے احساس ہوا کہ اچھے طریقے سے چلایا جانے والا ریلوے نظام کیسا ہوتا ہے؟ انتہائی صاف ستھری اور خوبصورت بوگیاں، مسافروں کے لئے بہترین آرام دہ سیٹیں، ٹرین چلنے کے کچھ ہی دیر بعد تمام مسافروں کو کافی اور اسنیکس کے ساتھ انگلش اور ہندی اخبار مہیا کیا گیا، اور اس کے بعد پرتکلف ناشتہ، جس میں مختلف آپشنز موجود تھیں، انتہائی مستعد اور بہترین تربیت یافتہ عملاً سارے کام انتہائی عمدہ طریقے سے سرانجام دے رہا تھا، کسی شکایت کی کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی تھی، دہلی پہنچنے سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے آئسکریم بھی مسافروں کے مینیو کا حصہ تھی۔
امرتسر سے ٹرین صبح پانچ بجے چلی اور براستہ جالندھر، لدھیانہ، سر ہند اور امبالا، دہلی کی طرف رواں دواں تھی، شاید پوری بوگی میں صرف میں ایک پاکستانی تھا، لیکن کسی کو کیا معلوم؟ ویسی ہی شکلیں، رنگ، ناک اور کان۔
میری سامنے والی سیٹ پر ایک ادھیڑ عمر سردار صاحب بیٹھے تھے، میں نے ان سے گپ شپ شروع کی، یہ بتائے بغیر کہ میں پاکستانی ہوں، انتہائی اچھے طریقے سے یہ کمپنی آگے بڑھ رہی تھی کہ ہندی میں لکھا ایک سائن بورڈ نظر آیا، سردار صاحب نے مجھے متوجہ کر کے کہا یہ دیکھیں کیا زمانہ آ گیا ہے، اب ایسے اشتہار ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں، میری جانے بلا کہ کیا لکھا تھا، میں نے انجانے میں انہیں کہہ دیا کہ اس اشتہار پر کیا لکھا ہے؟
انہوں نے حیرانی سے میری طرف دیکھا اور باقاعدہ ناراض ہو کر بولے تم حلیے سے تو اچھے خاصے پڑھے لکھے آدمی نظر آتے ہو، ایسا مذاق آپ کو جچتا نہیں، اور دہلی تک میرے ساتھ کوئی کلام نہیں کیا، میں نے بھی وضاحت دینا مناسب نہیں سمجھا اور خاموشی سے آنے والے شہروں، کھیتوں، مندروں، گوردواروں، بھرے نیلے پانیوں والے دریاؤں اور جنگلوں کے نظاروں میں محو رہا، ایک دو جگہ کھیتوں کھلیانوں کے بیچوں بیچ کسانوں کے ڈیروں پر باربرداری کے لیے استعمال ہونے والے پالتو ہاتھی بھی نظر آئے۔

جالندھر ”لیدر“ انڈسٹری کے لیے مشہور ہے جبکہ لدھیانہ ٹیکسٹائل اور فیبرک کا سینٹر ہونے کی وجہ سے بھارت کا مانچسٹر کہلاتا ہے، انبالہ جنکشن بھارت کے اہم ترین کنٹونمنٹس میں سے ایک ہے جو لاہور کے کینٹ سے بھی پہلے تعمیر کیا گیا تھا، سرہند سکھوں کے اہم گردوارہ فتح گڑھ اور مسلمانوں کے صوفی بزرگ احمد سرہندی کے مزار کی وجہ سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔
امرتسر سے دہلی تک کا یہ سفر تقریباً 450 کلو میٹر طویل ہے، یہ ٹرین یہ فاصلہ تقریباً چھ گھنٹے اور دس منٹ میں تہہ کرتی ہے، جیسے ہی ٹرین دہلی کے مضافات میں داخل ہوئی تو کچی بستیوں اور جھونپڑ پٹیوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ نظر آیا، پاکستان ہی کی طرح ریلوے لائن کے دونوں اطراف گندگی کے ڈھیر، جابجا ٹپری واسیوں کے ڈیرے۔
بے شمار مرد اور عورتیں رفع حاجت کے دوران ایک دوسرے کے بالکل آس پاس محو گفتگو نظر آئے، ایک جگہ ٹرین بالکل رک گئی تو میری کھڑکی کے بالکل سامنے دو عورتیں اور ان کے پیچھے کچھ فاصلے پر تین مرد بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پیٹ ہلکا کرنے کے ساتھ گپیں بھی ہانک رہے تھے، ایسا منظر میں پہلی بار دیکھ رہا تھا، وہاں سے چند گز دور ایک عورت خیمہ نما جھونپڑی کے سامنے کھانا پکانے میں مصروف تھی۔
لیٹرین کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ریلوے ٹریک ان سب کے لئے واحد ریسٹ ایریا تھا، اسی اثناء میں ایک بوڑھا ہاتھ میں پانی کا برتن لیے ٹریک کے پاس آیا اور بیٹھ کر پیشاب کرنے لگا، فارغ ہونے کے بعد اس نے پانی اپنے اعضائے مخصوصہ پر ڈالا اور مسل مسل کر دھونا شروع کر دیا، ٹرین میں لوگ اسے دیکھ پا رہے ہیں، اس کی اسے چنداں پرواہ نہیں تھی۔
۔ ”غالب“ جہاں سو رہا ہے
ٹرین اپنے آخری اسٹاپ، دہلی ریلوے اسٹیشن پر رکی، میرے ہاتھ میں صرف ایک ٹرالی بیگ تھا، اس لیے بڑی آسانی سے میں بھیڑ سے ہوتا ہوا اسٹیشن سے باہر نکل آیا، ابھی دن کے گیارہ بج کر پندرہ منٹ ہوئے تھے، جب کہ میری کلکتہ کے لیے فلائٹ شام 7 بجے تھی، میرے پاس بہت وقت تھا، ویسے تو میں دہلی کافی حد تک پہلے ہی گھوم چکا تھا، اس لئے آج کے دن کے لیے میں نے دو مقامات فائنل کیے، پہلے میں نے نظام الدین اولیاء درگاہ جانے کا فیصلہ کیا، اور اس کے بعد ”کناٹ پلیس“ جو دہلی کا مشہور مرکزی شاپنگ ایریا ہے۔

آٹو رکشا نے مجھے دہلی کے تبلیغی جماعت کے مرکز کے سامنے اتارا، مرکز کے سامنے ایک چھوٹی سی تنگ گلی جسے ”مرکز گلی“ کہا جاتا ہے ایک سیاح کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اسی گلی میں مشہور شاعر ”مرزا غالب“ کا مزار بھی ہے اور اس کے بعد کچھ فاصلے پر حضرت نظام الدین اولیاء کی درگاہ اور اسی درگاہ کے احاطے میں حضرت امیر خسرو کا مزار ہے، اس طرح ایک ہی وقت میں آپ تین مشہور مقامات دیکھ سکتے ہیں۔
سب سے پہلے میں مرزا غالب کی قبر پر پہنچا، قبر کے احاطے میں میرے علاوہ کوئی نہیں تھا یعنی میں اور مرزا غالب، اداسی کے ساتھ ایک عجیب سا سکون محسوس ہو رہا تھا، غالب کے اشعار میرے ذہن میں گھوم رہے تھے،
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، نہ ہوتا کچھ تو خدا ہوتا،
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا۔
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور۔
غالب کی قبر، سنگ مرمر کا تعویذ، اس کے اوپر ویسا ہی چبوترہ نما چھوٹا سا مزار، اس کے ارد گرد ایک کھلا احاطہ جس پر سنگ مرمر کی ٹائلیں بچھی تھیں۔
اس کے بعد میں نظام الدین اولیاء اور امیر خسرو کے مزارات کی طرف بڑھا، تنگ گلی کے دونوں اطراف چادروں اور نیاز کے سامان کی دکانیں، جن پر بالی وڈ کے گانوں کی طرز پر قوالیاں اور نعتیں بلند آواز میں چل رہی تھیں، دونوں بزرگوں کی قبروں پر پہنچا، احاطے میں بیٹھ کر کچھ وقت گزارا، انڈیا اور دنیا بھر سے زائرین اپنی اپنی منتوں اور چڑھاووں کے ساتھ حاضریاں دے رہے تھے۔
اب میں نے تبلیغی مرکز کے سامنے اپنے پسندیدہ ریسٹورنٹ کی راہ لی، جہاں میں پہلے بھی کئی ایک بار کھانا کھا چکا تھا، یہ کوئی بہت فینسی ریسٹورنٹ نہیں تھا بلکہ قدرے بہتر ڈھابہ نما ہوٹل تھا۔
میں نے جب کھانا آرڈر کیا تو ویٹر نے مجھے پوچھا، سر آپ اکیلے کھائیں گے؟ میں نے اس کی طرف دیکھا اور بولا ; ہاں، وہ کاؤنٹر پر موجود اپنے مالک کے پاس گیا اور میری طرف اشارہ کر کے کچھ باتیں کرنے لگا، دونوں کے چہروں پر حیرانی اور مسکراہٹ کے ملے جلے تاثرات تھے، میں نے ایک فل چکن چرغہ، دال اور سلاد کی دو پلیٹیں آرڈر کی تھیں اور روٹیاں وہ تب تک رکھتے جاتے ہیں جب تک آپ کھانا کھا رہے ہیں، شاید ان کے نزدیک یہ سب کچھ ایک آدمی کے لیے ذرا زیادہ تھا، لیکن انھیں نہیں معلوم تھا کہ میں قلعہ گجر سنگھ لاہور سے آ رہا تھا، جب کھانا مکمل طور پر ختم کرنے کے بعد میں پیمنٹ کے لیے کاؤنٹر پر گیا تو ان کے چہروں پر مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی۔
وہاں سے میں ”کناٹ پلیس“ کی طرف روانہ ہوا، دہلی بہت سے ادوار میں ہندوستان کی راجدھانی رہا ہے، اس لیے جگہ جگہ تاریخی عمارتوں کے نشان، برج اور دروازے، انگریز دور کی عمارتوں کے ساتھ جا بجا بکھرے نظر آتے ہیں، دہلی کی مشہور عمارتوں میں لال قلعہ دہلی، جامع مسجد دہلی، پرانا قلعہ، ہمایوں کا مقبرہ (جس کا ڈیزائن تاج محل سے ملتا ہے، کہا جاتا ہے کہ تاج محل کا ڈیزائن ہمایوں کے مقبرے کے ڈیزائن سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا) ، قطب مینار، ٹیولپ ٹیمپل، انڈیا گیٹ اور بے شمار چھوٹی بڑی تاریخی عمارتیں شامل ہیں۔
آٹو رکشا ”سبز برجی“ سے ہوتا ہوا انڈیا گیٹ تک پہنچا، یہاں سے بھارت کی پارلیمنٹ بھی نظر آ رہی تھی، تقریباً سات یا آٹھ کلومیٹر کا یہ سفر 20 منٹ میں مکمل ہوا اور میں ”کناٹ پلیس“ پر موجود تھا، یہ جگہ اپنی خوبصورتی، منفرد ڈیزائن اور گہما گہمی کے حوالے سے ایک الگ مقام رکھتی ہے، چاروں طرف خوبصورت کلونیل بلڈنگز اور بیچوں بیچ گول ڈیزائن میں بہت بڑی مارکیٹ، پالکا بازار بھی اسی کا حصہ ہے جو کہ زیر زمین ہے۔
جدید دور کے مطابق ان خوبصورت عمارتوں میں اب بڑے اسکائی اسکریپرز بھی نظر آتے ہیں، جو بہت سی ملٹی نیشنل اور آئی ٹی کمپنیوں کے زیر استعمال ہیں، مارکیٹ کے اوپر اور اردگرد جگہ جگہ خوبصورت باغیچے اور گراؤنڈز نوجوان لڑکے اور لڑکیوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے، کوئی پینٹنگ کر رہا ہے تو کوئی میوزک بجا رہا ہے، کچھ لوگ صرف ہینگ آؤٹ کر رہے ہیں جبکہ بہت سے نوجوانوں کے مخلوط گروپس، گروپ اسٹڈی میں مشغول نظر آئے، نوجوانوں کی بڑی تعداد کی وجہ اس علاقے میں موجود بے شمار اعلی معیار کے کالجز اور یونیورسٹیوں کے کیمپسز ہیں۔
میں نے کافی خریدی اور ٹرالی بیگ ایک طرف لگایا، اس کے ہینڈل کو باہر نکال کر اس پر اپنا کوٹ ٹانگ دیا، باغیچے میں گھاس پر بیٹھ کر اس خوبصورت ماحول سے لطف اندوز ہونے لگا، وہاں تقریباً ایک گھنٹہ گزارنے کے بعد میں دہلی ائرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔
دہلی ائرپورٹ بھارت کے مصروف ترین ائرپورٹس میں سے ایک ہے، بے شمار رن ویز، ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل فلائٹس کے لئے متعدد ٹرمینلز، دنیا بھر کی ائر لائنز اور ڈومیسٹک بجٹ ائر لائنز کا مرکز ہونے کی وجہ سے یہاں ہر وقت گہماگہمی رہتی ہے، جس ٹرمینل سے میری فلائٹ نے کلکتہ کے لئے پرواز بھرنی تھی میں وہاں چیک ان کر کے ویٹنگ روم میں بیٹھ گیا اور کچھ ہی دیر بعد مغربی بنگال کے دارالحکومت، ایسٹ انڈیا کمپنی اور انگریز راج کی پہلی راجدھانی ”کلکتہ“ کی طرف محو پرواز تھا۔
۔ دریائے ہگلی کے کنارے کلکتہ
جہاز میں بیٹھے میں مسلسل کلکتہ اور اس کی سیاسی تاریخی اہمیت کے بارے میں سوچتا رہا، دل ہی دل میں اپنے آپ کو خوش نصیب محسوس کر رہا تھا، کیونکہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ زندگی میں بنگال کے ثقافتی مرکز اور خوشیوں کے شہر کلکتہ کو حقیقت میں دیکھ پاؤں گا۔
انگریزوں کی آمد کے بعد جب سولہ سو نوے ( 1690 ) میں مغل حکومت کے ماتحت نواب آف بنگال نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو تجارتی لائسنس دیا تو انہوں نے اس علاقے کو اپنا مرکز بنا کر ڈویلپ کرنا شروع کیا، جب نواب سراج الدولہ نے سترہ سو چھپن ( 1756 ) میں بطور نواب آف بنگال تخت سنبھالا تو انگریز کافی حد تک اپنے پاؤں جما چکے تھے، اگلے ہی سال سترہ سو ستاون ( 1757 ) میں نواب سراج الدولہ اور انگریزوں کے مابین جنگ میں ( جسے جنگ پلاسی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ) نواب کے کمانڈر انچیف ”میر جعفر“ کی غداری کی وجہ سے سراج الدولہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، یوں وہ آخری نواب آف بنگال ثابت ہوئے، پورے ہندوستان پر برٹش راج کی داغ بیل پڑ گئی۔
انہوں نے اپنی طاقت میں مزید اضافہ کیا اور 1793 تک وہ اس قابل ہوئے کہ مقامی حکومتوں کو چیلنج کر کے شکست دے سکیں، اس طرح کلکتہ بھارت کا جدید شہر ہونے کے ساتھ انگریز راج کے لیے دروازے کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔
، وقت کے ساتھ انگریز ہندوستان کے تنہا حکمران بن گئے، بعد میں بنگال جب آزادی کی تحریک کا مرکز بنا تو انگریزوں نے اپنا دارالحکومت 1911 میں کلکتہ سے دہلی منتقل کر دیا، جغرافیائی اعتبار سے بھی دہلی پورے ہندوستان کو کنٹرول کرنے کے لئے مناسب محل وقوع رکھتا تھا۔
کلکتہ نوبل پرائز ونرز کا شہر بھی کہلاتا ہے، اس شہر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں چار شخصیات ( رابندر ناتھ ٹیگور، مدر ٹریسا، امریتا سین اور ابھیجیت بینرجی) نوبل پرائز حاصل کر چکی ہیں۔
جیسے ہی میرا جہاز کلکتہ کے سبھاش چندر بوس ائر پورٹ پر لینڈ کیا تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میں نے کہاں جانا ہے اور مجھے کون لینے آئے گا؟ مختلف دلچسپ موڑ لیے اس سفر کا یہ پہلو مجھ سے نظر انداز ہو گیا، تھوڑی پریشانی لاحق ہوئی۔
ائرپورٹ سے نکل کر ارائیول لاؤنج میں پہنچا جہاں انتظار کرنے والوں کا ایک جم غفیر تھا، بہت سے ہوٹلوں کے ڈرائیور ہاتھ میں اپنے اپنے مہمانوں کے ناموں کے بورڈ لئے کھڑے تھے، میں نے نام پڑھنے شروع کیے تو تھوڑی ہی مشقت کے بعد مجھے اپنا نام نظر آ گیا، میں اس طرف بڑھا تو دیکھا کہ یہ بورڈ کسی ڈرائیور کے ہاتھ میں نہیں تھا بلکہ بنگالی کرتے پاجامے میں ملبوس سانولے رنگ کی ایک پرکشش بنگالی لڑکی، جس کے گھنے بالوں کی لمبی چوٹی اس کے دائیں کندھے سے ہو کر آگے پیٹ تک گر رہی تھی، بھرا جسم، کالے پتلے فریم میں نظر کا چشمہ جو اس کی شخصیت کو معتبر بنا رہا تھا۔
یہ ”ہمانتی“ تھی، جس ٹی وی چینل نے ہمیں کلکتہ میں تھیٹر شو کرنے کی دعوت دی تھی یہ وہاں پروڈیوسر تھی اور ہماری کوآرڈینیٹر بھی، میں اس کے پاس پہنچا، ہماری نظریں چار ہوئیں، ابھی میں کچھ بولنے ہی والا تھا کہ وہ فوراً بولی
کیا آپ فرقان ہیں؟
میں : (مسکرا کر) جی ہاں
اس کے چہرے پر ایک بڑی سی مسکراہٹ پھیل گئی، اس نے جلدی سے ہاتھ آگے بڑھایا اور مصافحہ کرتے ہوئے بولی میں ”ہمانتی“ ، اس نے ہاتھ میں پکڑا بورڈ پیچھے لگیج ٹرالی پر رکھا، جس پر ایک بڑا سا پھولوں کا گلدستہ بھی پڑا تھا، اس نے وہ گلدستہ مجھے پیش کرتے ہوئے کہا : ویلکم ٹو کول کتہ۔
میں نے شکریہ ادا کیا، ہم چلتے ہوئے بھیڑ سے باہر نکل آئے، اس دوران اس نے مجھے بتایا کہ ہماری تھیٹر کمپنی کی بقیہ ٹیم جو کسی اور شہر میں پرفارم کرنے کے بعد کلکتہ آ رہی تھی تقریباً دو گھنٹے کے بعد یہاں پہنچے گی، آپ اپنی ٹیم کا انتظار کرنا چاہیں گے یا ہوٹل میں جا کر آرام کرنے کو ترجیح دیں گے؟
میں نے سوچا کہ اکیلے ہوٹل میں جا کر کیا کرنا ہے، سب آئیں گے تو اکٹھے ہی چلیں گے، جب میں نے اسے اپنا ارادہ بتایا تو محسوس ہوا کہ وہ بھی یہی چاہتی تھی، تاکہ ساری ٹیم کو ایک ہی دفعہ ہوٹل میں پہنچایا جائے، اس نے ڈرائیور کو کال کی جو آ کر میرا بیگ اور پھولوں کا گلدستہ لے گیا۔
میں اور ہمانتی ائرپورٹ کے ارائیول سے منسلک باغیچے میں ٹہلنے لگے، اس نے میرے سفر سے متعلق پوچھنا شروع کیا اور تھوڑے ہی وقت کے بعد ہم ایسے گفتگو کر رہے تھے کہ جیسے بہت عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں، اس نے میڈیا اسٹڈیز میں ماسٹرز کر رکھا تھا اور چینل میں بطور نیوز پروڈیوسر کام کر رہی تھی، تھیٹر کے ساتھ ساتھ میرا ٹی وی پروڈکشن سے بھی واسطہ تھا اس لئے ہمارے بہت سے دلچسپی کے پہلو مشترک ہو گئے۔
وہ زیادہ تر گفتگو انگریزی میں کر رہی تھی، اسے ہندی نہیں آتی تھی لیکن جب وہ ہندی بولتی تھی تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کوئی انگریز اردو بول رہا ہو، اسے اپنے شہر پر بہت ناز تھا، وہ بار بار کہہ رہی تھی کہ آپ نے بہت سے ملک اور شہر گھومے ہوں گے لیکن کول کتہ کی بات ہی کچھ اور ہے، اور ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں ایک خاص چمک تیر جاتی۔
ہمارے بیچ لینگویج اور کلچرل بیریئر ہونے کے باوجود وہ میرے ہلکے پھلکے مزاح کو بھی خوب سمجھ رہی تھی، وہ بہت ایکسائٹڈ ہو کر ہنس رہی تھی، شاید اپنی پریکٹیکل لائف کے ان تجربات کو وہ اپنی کامیابی کی سیڑھیاں تصور کرتے ہوئے اندر ہی اندر تسکین محسوس کر رہی ہو۔
وہ بار بار اپنے باپ کا ذکر کر رہی تھی کہ کیسے اس نے تمام بہنوں کو خوب پڑھایا اور زندگی کے ہر موڑ پر اعتماد کرتے ہوئے خوب حوصلہ افزائی کی، اس کے لئے اس کا باپ کسی دیوتا سے کم نہیں تھا، وہ بولی اگر ممکن ہوا تو وہ مجھے اپنے باپ سے ضرور ملوائے گی، میں نے کہا ضرور کیوں نہیں، ایسے مہان باپ سے میں بھی ملنا چاہوں گا۔
مہانتی کی باتوں اور قہقہوں میں پلک جھپکتے دو گھنٹے گزر گئے، اس کا فون بجا، دوسری طرف میری ڈائریکٹر مدیحہ گوہر کی آواز آئی کہ وہ لوگ لینڈ کر چکے ہیں، وہ میرے متعلق پوچھ رہی تھیں کہ میں پہنچ چکا ہوں کہ نہیں؟ میرے صحیح سلامت اور وقت پر پہنچ جانے پر انہیں تسلی ہوئی، ساری ٹیم سے ملاقات ہوئی، میری ڈائریکٹر میرے لاہور سے کلکتہ پہنچنے تک کے اس سفر سے کافی متاثر نظر آ رہی تھیں، مجھے بھی اس وقت کچھ اندازہ ہوا کہ یہ سفر بہت خاص تھا اور اندر ہی اندر میں نے اپنے آپ کو داد بھی دی۔
رات گئے ہم نے ہوٹل میں چیک ان کیا، اگلے دن ناشتے کے بعد ہم تھیٹر ہال پہنچے جہاں ہم نے ایک دن بعد پرفارم کرنا تھا، سیٹ، لائٹنگ اور ریہرسلز، شام تک انتہائی مصروف دن گزارا، اسی طرح دوسرے دن فل ڈریس ریہرسل کے بعد دو گھنٹے کی بریک دی گئی تاکہ شام کو فریش ہو کر مکمل توانائی کے ساتھ پرفارمنس دی جائے۔
یہ تھیٹر ہال کلکتہ کے ایک پرانے، کلاسک اور خوبصورت علاقے میں واقع تھا، جس کے سامنے سے انگریزوں کے زمانے کی ٹرام بھی گزرتی تھی، جو اس وقت تک ویسے ہی چل رہی تھی، گلی اور سڑکوں کے بیچوں بیچ ٹرام کا ٹریک، اوپر بجلی کی تاریں، ارے یہ تو بالکل وہی ٹرام ہے جو کسی زمانے میں کراچی میں چلا کرتی تھی، میں نے کراچی کی پرانی ویڈیوز میں یہ دیکھ رکھی ہے۔
اس کا کرایہ بھی بہت معمولی سا تھا، میں فوراً اس پر چڑھ گیا کہ اس کو ایکسپیرینس کیا جائے، پینٹ اور بوشرٹ میں ملبوس (شاید) انگریزوں کے ہی زمانے کا ٹرام ڈرائیور ایک ڈنڈا نما اسٹیرنگ پکڑے اس دو ڈبوں پر مشتمل سواری کو خرامہ خرامہ کلکتہ کی سڑکوں پر گھما رہا تھا، دوسرے ہاتھ سے وہ کبھی کبھی ٹرام کی ایک مخصوص بیل بجاتا جو کانوں کو بہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔
یہ ٹریفک سگنلز پر بھی رک رہی تھی اور اس کا ٹریک تارکول کی سڑک میں کھدا ہوا تھا، یوں یہ بقیہ ٹریفک یعنی کاروں، بسوں اور اسکوٹروں وغیرہ کے لئے بالکل بھی مسئلہ نہیں تھی۔
یہ ٹرام سسٹم ایشیا کا بجلی سے چلنے والا سب سے پرانا سسٹم ہے جو کلکتہ کی پہچان ہے، جدید تقاضوں کے مطابق بڑے بڑے فلائی اوورز اور میٹرو ٹرین سسٹم کے آ جانے کے بعد اس کا آپریشن محدود علاقوں تک رہ گیا ہے، اس کو دیکھنے اور سفر کرنے کے بعد صحیح معنوں میں محسوس ہوا کہ ہم کلکتہ میں گھوم رہے تھے۔
اس سارے خوبصورت ماحول میں جس چیز نے مجھے تھوڑا ڈسٹرب کیا وہ ہاتھوں سے کھینچنے والا رکشا تھا، یعنی سائیکل رکشا سے بھی مشکل کام، یوں سمجھ لیں گدھا گاڑی میں سے گدھے کو نکال کر انسان کو جوت دیا جائے، اور زیادہ تر یہ ریڑھی بان انسان انتہائی دبلے پتلے، ننگے پاؤں، گدھے اور گھوڑوں کی طرح دو عدد سواریوں کو رکشے پر بٹھائے یا سامان لاد کر سڑک پر بھاگ رہے تھے، مجھے ان پر بہت ترس آ رہا تھا، میں اس سواری کو بھی ایکسپیرینس کرنا چاہتا تھا لیکن میری ہمت نہ پڑی۔
اتنے جدید دور میں، انتہائی پڑھے لکھے اور ماڈرن شہر میں ظلم کی یہ سواری، جو یقیناً برٹش راج کی یادگار ہوگی، ابھی تک کیوں کر جائز اور چل رہی ہے، یہ پورے بھارت کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
میں اپنے تھیٹر ہال سے ایک سٹاپ پیچھے ٹرام سے اتر کر پیدل چلنے لگا، تاکہ شہر کی گلیوں کا نظارہ کیا جائے، راستے میں کھانے کا ایک ڈھابہ نظر آیا، اس پر زیادہ تر ہاتھوں سے کھینچنے والے رکشے کے بنگالی ڈرائیور کھانا کھا رہے تھے، میں ان کے ساتھ بیٹھا، اور چائے منگوا کر انہیں کن انکھیوں سے دیکھنے لگا کہ یہ کیا مخلوق ہے، میں ان کی باتیں بھی سننے کی کوشش کر رہا تھا جو مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھیں، وہ خوش تھے، بڑی بڑی تھالیوں میں سفید چاول اور اس پر نہ جانے کون سی دالیں یا سالن ڈال کر ہاتھوں سے کھانا کھا رہے تھے۔
ابھی میری چائے ختم نہیں ہوئی تھی کہ مجھے ڈھول، بینڈ باجے اور نقاروں کی آواز آنی شروع ہو گئی، مڑ کر دیکھا تو دور گلی میں ایک بہت بڑا جلوس آ رہا تھا، چھوٹے ٹرکوں اور وینوں پر بڑے بڑے ہندو دیوتاؤں کے بت، اور ارد گرد بے شمار لوگ مختلف طرح کے رنگ برنگے کاسٹیومز پہنے ناچ اور گا رہے تھے۔
کافی دیر تک یہ مذہبی جلوس گزرتا رہا، کچھ گاڑیوں پر بڑے بڑے اسپیکر رکھ کر بلند آواز میں بھجن لگائے گئے تھے، ہر گاڑی پر چھوٹے بچے مختلف دیوتاؤں کے روپ دھارے، ہاتھوں میں تیر کمان اور نیزے پکڑ کر داد وصول کر رہے تھے، گھروں کی چھتوں سے لوگ ان پر پھول پھینک رہے تھے، گلی میں کھڑے کچھ بوڑھے مرد و خواتین ہر گزرتے دیوتا کے سامنے ہاتھ جوڑ کر سر جھکا رہے تھے اور منہ میں کچھ پڑھ رہے تھے، کافی دیر تک یہ جلوس چلتا رہا اور اس کے بعد میں نے تھیٹر ہال کی راہ لی۔
اس رات ہم نے کلکتہ کی انٹلیکچوئل ایلیٹ اور میڈیا کی موجودگی میں ایک زبردست تھیٹر شو پیش کیا، جسے موضوع، کونٹینٹ، ڈائریکشن، ایکٹنگ اور اور آل پروڈکشن کے حوالے سے بے انتہا سراہا گیا، اس ڈرامے کے لکھاری اور ہدایت کار اجوکا تھیٹر کے آرٹسٹک ڈائریکٹر شاہد محمود ندیم تھے۔
شو کے بعد ایک پرتکلف عشائیہ تھا جس میں لکھاریوں اور تھیٹر کے لوگوں کے ساتھ اپنے خیالات شیئر کرنے کا موقع بھی ملا، اس خوبصورت شام کے بعد ہم نے ہوٹل کی راہ لی، اپنا کام مکمل کر لینے کے بعد اب ہم نے دو دن صرف کلکتہ کی سیر کرنی تھی، ہمارے لئے دو عدد گاڑیوں کا اہتمام کر دیا گیا تھا۔
دو دن ہم نے کلکتہ کو کھنگال ڈالا، صبح ناشتے کے فوراً بعد ہم نکل پڑتے، وکٹوریا میموریل، فورٹ ولیم، ماربل پیلس، شہید مینار، ٹاؤن ہال، کالی گھٹ، ہگلی برج، (جو دریائے ہگلی پر واقع تاریخی بریج ہے ) یاد رہے کہ کلکتہ شہر دریائے ہگلی پر واقع ہے۔
غرض کہ ہم جو کچھ دیکھ سکتے تھے ہم نے کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر دیکھا، ہم نے ایڈن گارڈن کرکٹ سٹیڈیم دیکھنے کی فرمائش کی تو دو گاڑیوں پر مشتمل قافلہ اس طرف چل نکلا، یہ وہی یادگار اسٹیڈیم ہے جس میں شعیب اختر نے اوپر تلے راہول ڈریوڈ اور سچن ٹنڈولکر کو یار کر مار کر آؤٹ کیا تھا، یہ دنیا کے بڑے کرکٹ اسٹیڈیمز میں سے ایک ہے۔
آخری شام ہگلی بریج کراس کرنے کے بعد میں دریائے ہگلی کے کنارے بیٹھ کر اس پار شہر کی عمارتوں کا خاموشی سے نظارہ کر رہا تھا، یہ دریا دراصل دریائے گنگا کی برانچ ہے جو خلیج بنگال میں گرتی ہے، اسی کے ذریعے انگریز اپنے بحری جہازوں پر یہاں تک پہنچے تھے اور اس جگہ اپنی تجارتی آباد کاریاں قائم کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
ایک طرف تاریخی ہگلی بریج نظر آ رہا تھا اور میرے سامنے پانی سے بھرا دریا جس کے کناروں پر بے شمار مٹی کے گول کجے نما برتن بکھرے ہوئے تھے، جن میں ہندو اپنے مردوں کو جلانے کے بعد ان کی راکھ بھر کر دریا کے حوالے کرتے ہیں۔
ہمانتی ٹھیک کہتی تھی، کلکتہ اپنے آپ میں ایک انتہائی منفرد شہر تھا، جو کلر آپ کو یہاں دیکھنے کو ملتا ہے وہ صرف اسی شہر کا خاصہ ہے۔









