سوشل میڈیا سے ذہنی تباہ کاریاں

سوشل میڈیا کے جہاں بہت سے فائدے ہیں وہاں یہ بندر کے ہاتھ میں استرا بھی ہے اور بندر نے سوچ لیا ہے یہ جو سب کچھ یہاں ہو رہا ہے۔ کوئی بہت بڑا شعور اور سچ ہے کیونکہ بندر نے کبھی کوئی فلم بنتے نہیں دیکھی ہوئی جس میں سکرین پہ نظر آنے والے ایک سین کو دس بار فلمانے کی کوشش کی جا رہی ہوتی ہے تب کوئی ایک ڈھنگ کا سین پردہ سکرین پر آنے کے قابل ہوتا ہے۔
یہی سوشل میڈیا کا حال ہے درجن بھر ویڈیو بنائی جاتی ہے یا تصاویر بنائی جاتی ہیں جس میں ایک دو اس قابل ہوتی ہیں کہ ان کو نیٹ کے سپرد کیا جائے۔
سوشل میڈیا پہ یہ دیکھنے والا ایک خاص طبقہ ڈپریشن کا شکار ہو رہا ہے اور مسلسل ہو رہا۔ روز اس کے ڈپریشن کا لیول بڑھ رہا ہے کہ وہ اس دنیا کی بھیڑ میں اکیلا رہ گیا ہے جس نے فلاں جگہ نہیں دیکھی، جس نے فلاں کھانا نہیں کھایا، جس نے فلاں لباس نہیں پہنا، جس نے اپنا چینل نہیں بنایا، جو ہٹ نہیں ہوا اگر اس کا بھی چینل ہوتا تو اس کے بھی آج دن پھر گئے ہوتے۔
چینل کیوں نہیں بنایا اجی ابا نے اجازت نہیں دی، دوست نے وقت نہیں دیا، خود کو سوائے ٹرولنگ کے کچھ آتا نہیں، پڑھ نہیں سکتا وغیرہ وغیرہ
تو جن کے ابا نے منع نہیں کیا وہ بھی کوئی سٹار نہیں ہیں اور ابا کو کیا پتا آپ سلطان ہیں یا سلطانہ یہاں تو بہت بڑے بڑے سلطان سلطانہ کے پردے میں چھائے ہوئے ہیں۔
یہ سب سوچے بنا سوشل میڈیا پر موجود بندر نے ہر وہ اکاؤنٹ لائیک کر رکھا ہے جس پہ لاکھوں لائک اور فینز ہیں۔ وہ کبھی دس بارہ فینز والا اکاؤنٹ نہیں دیکھتا جس پہ اچھا مواد بھی ہو سکتا ہے۔ اس نے اپنے لئے ڈپریشن کا رستہ خود انجان لوگوں کے مقابل آ کر تلاشا ہوا ہے اور اپنی تقدیر سے گلہ بھی خود ہی ہے
تو ڈئیر بندر، میری جان دیکھو ناتجربہ کاری اور نظر و عقل کی کمزوری کا علاج کروانا پڑتا ہے ورنہ چیزیں دھندلی ہوتی ہوتی دکھائی دینا بند ہو جاتی ہیں
اور آپ کو سارا سماج اپنے آپ سے برتر اور اچھا لگنے لگتا ہے آپ پورے سماج کے مقابلے پہ خود ہی آ کھڑے ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ کوئی آسان کام نہیں۔
وہ جو آپ کے ہمارے پرکھوں کا خیال ہے نظر بد ہوتی ہے تو آپ کی بد نظر بھی کسی کو لگ سکتی ہے ضروری نہیں ساری بد نظریں آپ کے حسن پری زاد کو ہی لگی ہوئی ہیں۔
ایک بندہ جو روز ایک سفر کی ویڈیو لگا رہا ہے اور بے شمار لوگوں کے دل کی دھڑکن بن رہا ہے وہ ایک ایسی بس کا ڈرائیور بھی ہو سکتا ہے جو روز سیاحوں کو لے کر نگر نگر پھرتی ہے۔
اس نے خود کو جگائے رکھنے کے لئے ایک شغل پال رکھا ہے۔ یہ اس کے سفر نہیں اس کی روزی روٹی ہے۔ تم اس کے مقابل آ کھڑے ہو جس کو رب جانے کب طوفان کا سامنا کرنا پڑ جائے۔ جو جان جوکھوں میں ڈال کر اس برف میں اپنی اولاد اور گھر والوں کے لئے کمانے نکلا ہوا ہے۔ جب تم اپنے آتشیں کمرے میں ایک گرم لحاف لئے بیٹھے اس کی ویڈیوز اور تصاویر دیکھ کر جل سڑ رہے ہو کہ وہ تم سے آگے نکل گیا ہے۔ اس لمحے وہ گاڑی چلا رہا ہے اور مسافر سو رہے ہیں
برف باری اور سفر، آبشاریں اور پہاڑ اس کے نصیب میں ہیں تمہارے مقدر اچھے نہیں۔ اس سوچ نے تمہیں ہلکان کیا ہوا ہے۔ یہ سوچتے ہوئے یہ بھی سوچا کرو کہ دینے والے نے تمہارے نصیب میں تھکا دینے والے سفر کی بجائے آسان رزق لکھا ہے۔ ایک گرم لحاف اور کمرا دیا ہے۔ وہ اپنی کالی گرم شال لپیٹ کر گاڑی میں ہی سو جاتا ہے۔
تم کسی کے کھانے دیکھ کر ڈپریشن کا شکار ہو کہ وہ کتنا امیر ہے جس نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے۔ مگر وہ ایک شیف یا عرف عام میں نائی (دیگ پکانے والا) بھی تو ہو سکتا ہے، کسی ہوٹل کا ملازم بھی ہو سکتا ہے، جو تپتی گرمی میں چولہے کے آگے سارا دن کھڑے ہو کر بیس قسم کے کھانے بناتا ہے۔ ان کو نت نئے انداز سے سجاتا ہے اور اس کو پیش کر دیتا ہے یا سارا دن لوگوں کے سامنے کھانے رکھنے اور برتن اٹھانے میں دل لگی کو کئی تصاویر بنا لیتا ہے۔ وہ تو اپنی روزی روٹی کی ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کر دیتا ہے۔
تم کو یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ کھا رہا ہے۔ وہ تو کھانے کی پیش کش کو پیش کرتا ہے داد ملتی ہے تو دل خوش ہو جاتا ہے ورنہ ہوٹل میں آنے والا ہوٹل کی رسوئی میں جا کر اس کو داد و تحسین سے نہیں نوازے گا۔
اس کا روز کا کام ہے اور ذریعہ معاش ہے۔ یا یہ نیا وقت گزاری کا طریقہ کار ہے۔ تم محنت کیے بنا، حقیقت جانے بنا اس کے مقابل آ کھڑے ہوئے ہو۔
وہ ایک لڑکی جو کسی بوتیک پہ ملازمت کر رہی ہے۔ وہ اس بوتیک سے اپنے لئے تو لباس نہیں خرید سکتی لیکن ہاں دل تو اس کا بھی ہے وہ ٹرائی روم میں جا کر ہر لباس چند لمحوں کے لئے پہن کر تصاویر بنا لیتی ہے۔ تم جو جا کر خرید سکتے ہو تم تقابل میں اس کے مقابل آ کھڑے ہوئے ہو۔
وہ جو ڈگری لیتے ہوئے یونیورسٹی کی تصویر لگا دیتا ہے تم بستر میں بیٹھے چلغوزے کھاتے، اس کی سال ہا سال کی محنت کے مقابل آ کھڑے ہوتے ہو۔
وہ جو گیتوں کی مالا سے دل بہلاتی ہے۔ کیتھارسس کرتی ہے۔ وہ روز شام کو اس اوپن ہوٹل میں گاتی ہے۔ گرمی ہے یا سردی اس کو سر اور ساز کا ساتھ نبھانا ہے کہ اس کا گھر اس چند گھنٹوں کی کمائی سے ہی چل رہا ہے۔
اے سوشل میڈیا پر موجود نقال بندر تم اس کے مقابل آ کھڑے ہوئے ہو۔
یہ چند مثالیں ہیں جن کو بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا اندھا دھند استعمال زیادہ تر فارغ لوگ کرتے ہیں اور وہی ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ محنت کرنے والے یا کام کرنے والے کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ بیٹھا ریلز، ٹک ٹاک، یوٹیوب دیکھتا رہے۔
انہی فارغ لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ شاید ساری دنیا ان سے آگے نکل گئی ہے۔ وہ نہ تو سفر کر سکے نہ کچھ کھا پی سکے، نہ اس کو اچھا لباس ملا، نہ اچھا ماحول ملا، نہ اچھی حکومت ملی، نہ اچھا گھر ملا، نہ اچھے گھر والے ملے، نہ کلب ڈانس کرنے والا ساتھی ملا، نہ دوست ملے، نہ یار ملا، نہ پیار ملا۔ یہ سوچیں ان کو ہر وقت پریشان کیے رکھتی ہیں۔
جان من دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے یہ دیکھا کریں کہ کیا آپ کو اتنے دکھ ملے؟ اتنی مشکلات ملیں؟ جو وہ شخص گزار کر آ رہا ہے۔ کیا آپ نے زندگی میں اتنے طوفانوں کا مقابلہ کیا جو منزل پہ کھڑے انسانوں کے چہروں اور آنکھوں پہ ہوتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اس شے کا شکر ادا کیا جو دینے والے نے آپ کو دی ہے؟
ان سب ملازمین لوگوں میں سے کتنے لوگوں کے گھر کا بجلی گیس اور پانی کا بل نہیں گیا ہو گا گھر کا کرایہ دینا ہو گا۔ وہ کتنی مشکل سے وہ پیسے جوڑ رہا ہوتا ہے۔
اس کا ایک ایک دن اور لمحہ قیمتی ہو گا۔ اس نے کوئی سائٹ یا چینل اس لئے بنا رکھا ہو گا کہ شاید وہاں سے اس کے نصیب جاگ جائیں۔ شاید وہاں سے کوئی روزی روٹی کا رستہ بن جائے۔
اور کتنی ہی ایسی کہانیاں ہمارے سامنے آئیں کہ جو یوٹیوبر، ٹک ٹاکرز اور دگر سائٹس سے جب بھی لوگ سامنے آئے، ان میں سے کوئی بھی امیر اور خوش حال نہیں تھا۔
سب فکر معاش کے دھندے میں پھنسے شوقین لوگ تھے۔ جن کے پاس کرنے کو یا تو کچھ تھا نہیں، ہنر کوئی نہیں تھا، تعلیم نہیں تھی، نوکری نہیں تھی، کاروبار نہیں تھا۔
تقابل والی سوچ سے اور خصوصی بالکل نہ آشنا لوگوں سے تقابل سے انسان مسلسل ڈپریشن کا شکار ہو رہا ہے بلکہ خود کو ڈپریشن کا شکار کر رہا ہے اور گلہ بھی اسے رب اور زمانے سے ہے۔ قیمت بھی وہ کوئی دینے کو تیار نہیں۔
حسد جلن اور تقابل کی یہ آگ تب تک شانت نہیں ہو گی جب تک بندر خود کو مصروف نہیں کرے گا اور محنت کرنے والے انسان تو تھک کر ویسے ہی خاک ہو جاتے ہیں۔
اس کو زندگی کی قیمت کا پتا ہوتا ہے۔ اس کے پاس سوشل میڈیا کا دیا شعور نہیں ہوتا اپنے زور بازو اور محنت کی طاقت ہوتی ہے۔ اپنے ہنر کی بنیاد ہوتی ہے یا اگر تعلیم ہے تو برسوں کی محنت ہوتی ہے۔
لہذا ڈئیر بندر ہم اپنے فنگر پرنٹ کی طرح منفرد ہیں۔ کسی جیسا بننے کی کوشش تم کو خاک کر دے گی۔ اگر سکون چاہتے ہو تو اپنے فنگر پرنٹ پڑھو اور اپنے جیسا بنو۔ ورنہ تقابل ایک آگ ہے اور آگ کی منزل راکھ ہی ہوتی ہے۔ تقابل کرنا ہے تو اپنے آپ سے کریں، اپنے ماضی سے کریں، اپنے جینز سے کریں، ماضی کے بوئے بیجوں سے کریں۔ شاید یقین آ جائے کہ انگور کھٹے نہیں ہیں۔

