بدکردار


میں بذات خود ایک بدکردار انسان ہوں۔ تمام قسم کی برائیاں مجھ میں الحمدللہ بخوبی پائی جاتی ہیں۔ اس لیے میں نے کبھی باکردار حکمرانوں کا سوچا ہی نہیں۔ مجھے وہ سارے کریکٹر بطور حکمران قبول ہیں جن کا کوئی کریکٹر نہ ہو۔ اس سے مجھے کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔ اور میں ایک عیاشی والی زندگی گزار سکوں۔

خزانہ چور یا گھڑی چور ہونا کوئی برائی نہیں ہے۔ کیونکہ میں بھی اکثر وقت چوری کرتا ہوں۔ شوگر کا مریض ہوں اور چھپ کر میٹھی چیزیں کھاتا ہوں۔ اگر نماز پڑھوں تو چھوٹی سورتیں پڑھتا ہوں بڑی مجھے آتی ہی نہیں، دفتر ضرورت سے زیادہ بیٹھتا ہوں۔ اپنے بچوں کے حق چوری کر کے اوروں کی مدد کرتا ہوں۔ میرے کیمروں پر دوسروں کا بھی حق ہے پر ان کو ضرورت کے وقت کیمرے نہیں دیتا۔ اپنے ذاتی کلر فوٹو پرنٹر سے سرکار کو فری پرنٹ بنا کر دیتا ہوں۔

میری کرپشن دن بدن بڑھتی جا رہی ہے، اور مجھے کوئی فکر نہیں ہے۔ میری مالی کرپشن میرے کردار پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے، میری آمدن کم ہے اور اخراجات زیادہ ہیں۔ اکثر ادھار لے کر اخراجات پورے کر رہا ہوتا ہوں۔ اس دفعہ تو گاڑی سے بھی بددیانتی کی پرانے آئل میں کچھ سو زیادہ کلو میٹر چلا دیے گاڑی بھی تو جاندار ہے۔ اس کے بھی کچھ جذبات ہیں۔ گاڑی سے معذرت بھی کی پر زیادتی تو ہو گئی۔ مجھے اونچا میوزک سننا پسند ہے پر جب اکیلا ہوں۔ اگر برابر کوئی دوسری گاڑی برابر آ جائے تو آواز بند کر دیتا ہوں کہ کہیں وہ ڈسٹرب نہ ہو۔ کبھی سوچتا ہوں کہیں اس کی حق تلفی تو نہیں کر رہا جو اس کو میوزک سننے سے محروم رکھ رہا ہوں۔

میرے پاس چند کمزور ڈگریوں والے انسان ہیں ان کے پاس ڈگریاں تو ہیں پر کوئی ادارہ ان کو تصدیق نہیں کرتا پر ان کا کہنا ہے ہمیں کام مت دیں ہم بہت کام کرچکے۔ کام کرنا ہماری توہین ہے، اللہ کا شکر ہے میں اس توہین سے بھی خود کو بچاتا ہوں۔ عدالتیں ان کی ڈگریوں پر سٹے دیتی ہیں دفتری کام نہ کرنے پر وہ خود سٹے لے لیتے ہیں۔ میں کیا کیا خوبیاں بیان کرو کہ میں کیسے کیسے بدکردار ہوں۔

کل سیونتھ ایونیو کی سپیڈ لمٹ 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور میں 65 کلومیٹر پر گاڑی چلا رہا تھا۔ کافی دیر اپنی اس بدکرداری کو کوستا رہا۔ موٹروے پر اپنی مالی بدحالی کی وجہ سے گاڑی آہستہ چلاتا ہوں کیونکہ چالان کے پیسے نہیں ہوتے۔ کل ایک منسٹر صاحب کی گاڑی بمعہ اسکواڈ کے یک دم سامنے سے گزر گئی انہوں نے غلط سڑک کراس کی اور ان کا بندوق بردار عملہ مجھے گھورتا رہا اور میں ساری رات ان کی آنکھوں کی شدت اور غصہ کی وجہ سے سو نہیں سکا۔ میں اتنا کمزور اور بدکردار ہوں کہ ان کی آنکھوں کو نکال نہیں سکا اگر میرے پاس گاڑی ٹھیک کروانے کے پیسے ہوتے اللہ کی قسم ان سے گاڑی ٹکرا دیتا۔

مجھے اپنی یہ بدکرداری اور بزدلی کسی صورت قبول نہیں ہے۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے سارے وزیروں مشیروں کو ایمرجنسی میں ہی دیکھا۔ اشارے توڑ رہے ہوتے ہیں۔ ان کے بندوق بردار لوگوں سے بدتمیزی کر کے راستہ صاف کرواتے ہیں۔ جب کوئی کہتا ہے کہ ملک میں مالی ایمرجنسی کا امکان ہے تو مجھے کچھ عجیب نہیں لگتا کیونکہ ساری ٹیم پہلے ہی ایمرجنسی میں ہے تو مالی ایمرجنسی سے کیا فرق پڑے گا۔ اگر سیاسی بڑے اور دوسرے بڑے سفر کے لئے ایمبولینس استعمال کر لیا کریں تو لوگ راستہ بھی آسانی سے دے دیں گے اور گالیاں بھی کم دیں گے۔ اس سے ان کی دنیا اور آخرت آسان ہو جائے گی۔

میرے سارے فیصلے کوئی اور کرتا ہے میں تو بس دستخط کرتا ہوں۔ لیکن کبھی بھی محمد اظہر حفیظ بقلم خود نہیں لکھتا صرف نام لکھ دیتا ہوں کیونکہ لکھا تو کسی اور نے ہوتا ہے۔ میں کیوں بقلم خود لکھوں۔

میں ایک شاندار سرکاری افسر ہوں میرے پاس کمپیوٹر نہیں ہے پر پرنٹر موجود ہے۔ جس کو اکثر فوٹو کاپی کے لئے استعمال کر لیتا ہوں۔ اس غلط استعمال کو بھی میں بدکرداری سمجھتا ہوں۔ بدکردار جو ہوا۔ مجھے کسی کی آڈیو اور ویڈیو سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ کیونکہ میری تو اپنی بہت سی آڈیو اور ویڈیو موجود ہیں۔ آپ میرے یوٹیوب چینل پر دیکھ سکتے ہیں۔

کچھ دوست وزیراعظم بننے کے بار بار خواہاں ہیں اگر وہ شعبہ حکمت میں آ جائیں تو اور بہتر پیسے کما سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کی ساری زندگی کی پرفارمنس حکیمی زیادہ ہے اور سیاسی کم۔ ہر پاکستانی بزرگ ان کشتوں کی تلاش میں ہے جو میرے محترم لیڈر صاحبان زندگی کے آخری حصے میں استعمال کر کے آڈیو اور ویڈیو میں اپنا کردار بخوبی نبھاتے ہیں۔

بدکردار میرے لیڈر نہیں میں خود ہوں۔

میرے لیڈر انصاف پسند ہیں۔ پہلے تیسری صنف کو نادرا کے شناختی کارڈ میں جگہ دی اور پھر مرد و عورت کے ساتھ ساتھ وزیراعظم ہاؤس، میں بھی جگہ دی۔ اور برابری کے جنسی حقوق بھی دیے۔ حضور کا اقبال بلند ہو ایسے انصاف پسند باکردار لیڈر ہی میرا حق ہیں۔ اور یہی پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا سکتے ہیں۔

Latest posts by محمد اظہر حفیظ (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments