ہیری اور میگھن۔ نیٹ فلیکس کی دستاویزی فلم۔ ایک تبصرہ


31 اگست 1997 کو پیرس کی ایک سرنگ میں لیڈی ڈیانا کے المناک حادثے اور موت کو دنیا کیسے بھول سکتی ہے۔ نیٹ فلیکس کے حالیہ سیزن کراؤن نے لیڈی ڈیانا کی زندگی اور موت کے زخم ہرے کر دیے ہیں۔

برطانیہ کے شاہی خاندان کا خیال تھا کہ ڈیانا جیسی کم عمر، ناتجربہ کار اور معصوم لڑکی شہزادہ چارلس کی خرمستیوں کو برداشت کر لے گی اور اس کے کمیلا سے نہ ختم ہونے والے افیئر کو بھی نظرانداز کر دے گی۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ ڈیانا نئے زمانے کی لڑکی تھی جس نے اپنے دل میں بہت سے ارمان سجا کر چارلس سے شادی کی تھی۔ بہت سے مدوجزر کے بعد یہ شادی 1996 میں طلاق پر منتج ہوئی۔ ڈیانا اور چارلس کی زندگیوں کے شب و روز کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے کیونکہ اس کا ہر پہلو میڈیا کی خبروں کی زینت تھا۔

ان میں ڈیانا کا اپنا انٹرویو بھی تھا جو اس نے بی بی سی کے پاکستانی نژاد برطانوی بشیر مارٹن کو دیا تھا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ڈیانا نے بشیر مارٹن جیسے شاطر انسان کو یہ انٹرویو دے کر غلطی کی تھی۔ لیکن کون جانتا تھا کہ ڈیانا زندگی کی بازی ہارنے والی تھی اور قدرت اس سے یہ کام کروا رہی تھی کیونکہ یہ واحد انٹرویو تھا جس میں ڈیانا نے اپنی زبانی اپنی سرگزشت بیان کی اور اس کے وہ الفاظ تاریخ کا حصہ بن گئے جس میں اس نے صاف صاف کہہ دیا کہ ایک دوسری عورت کی موجودگی میں اس کی شادی کا کامیاب ہونا ناممکن تھا۔

ڈیانا طلاق کے بعد ایک کٹی پتنگ کی طرح حالات کا تن تنہا مقابلہ کر رہی تھی اس دوران اس کی دوستی امیر و کبیر محمد الفیاد اور اس کے توسط سے اس کی بیٹے ڈوڈی الفیاد سے ہو گئی۔ کیا ڈیانا کی شادی اس امیر اور با اثر خاندان میں ہونے والی تھی؟ اور کیا ایسا ہونے کے بعد اسے وہ تحفظ اور عزت مل جانی تھی جس کی وہ حق دار تھی؟ یا زندگی میں خوشی اور تحفظ ڈیانا نے کسی بڑے خاندان کی بجائے اپنی ذات میں تلاش کرنا تھی؟

کیونکہ اپنی شناخت کا بہترین سراغ اپنے من کے اندر ڈبکی لگا کر ہی ملتا ہے۔ ڈیانا کا خود شناسی کا سفر جاری تھا اور یہ سفر اسے کہاں لے کر جا رہا تھا اس کا فیصلہ آنے والے وقت نے کرنا تھا جس کی مہلت اسے نہیں ملی۔ کہتے ہیں کہ جو لوگ اپنے مشن کو نامکمل چھوڑ کر اچانک موت کا شکار ہو جاتے ہیں کبھی کبھار ان کی روح اسے کسی نہ کسی طریقے سے پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

جب ڈیانا پیرس کے ہسپتال میں زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھی تو اس کے چھوٹے بیٹے ہیری کی عمر صرف بارہ سال تھی۔ ہزاروں میل دور امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں ایک اور بچی بھی رہ رہی تھی جس کی عمر پندرہ سال کی تھی اور اس کا شمار بھی ڈوڈی الفیاد کی طرح رنگدار نسل کے لوگوں میں ہوتا تھا۔ اس کا نام میگن تھا۔ کون جانتا تھا کہ پیرس میں ہونے والی اس المناک کہانی کا اختتام نہیں ہوا اور اگلی نسل کے یہ بہادر اور سچے نوجوان اس کہانی کو وہیں سے شروع کریں گے جو بظاہر ختم ہو گئی تھی۔ اور جو کام ڈیانا نہ کر سکی وہ ہیری اور میگن کر گزریں گے۔

اگر ڈیانا اور ڈوڈی کی شادی ہو جاتی تو مغربی دنیا کا اس پر کیا رد عمل ہوتا؟ اگرچہ ڈیانا سے دنیا نے بہت محبت کی لیکن کیا یہ محبت اور احترام ایک مسلمان اور غیر سفید فام شخص سے شادی کے بعد برقرار رہتا؟ گمان ہے کہ ڈیانا کو اس شادی کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی اور شاید اسے سکون اور امن سے رہنے کے لئے اپنے وطن کو خیر باد کہنا پڑتا۔ لیکن اپنے بچوں کی وجہ سے شاید برطانیہ کو چھوڑنا اس کے لئے ممکن نہ ہوتا۔

ہیری اس المناک دن کو کبھی نہیں بھول سکتا جب اسے اپنی ماں کے تابوت والی گاڑی کے پیچھے چلنا پڑا اور دنیا کے کروڑوں لوگ یہ منظر ٹیلی ویژن پر براہ راست دیکھ رہے تھے۔ آنے والے سالوں نے دونوں بھائیوں کو وقت سے پہلے سمجھدار کر دیا اور ان کے کوئی غیر معمولی سکینڈل منظر عام پر نہیں آئے۔ ولیم نے ایک امیر و کبیر گھرانے کی برطانوی لڑکی سے شادی کی اور کئی بچوں کا باپ بن گیا۔ عوام اور برطانوی میڈیا نے اس کا بھر پور خیرمقدم کیا۔ چند سال بعد جب ہیری نے اپنی منگنی کا اعلان کیا تو ہر طرف کہرام مچ گیا۔ اس کی کیلی فورنیا کی رہنے والی منگیتر میگن نہ صرف عمر میں اس سے بڑی تھی، بلکہ طلاق شدہ تھی لیکن جلتی پر تیل اس خبر نے کیا کہ وہ۔ نجیب الطرفین سفید فام نہیں تھی بلکہ اس کی ماں سیاہ فام امریکی ہے۔

یہاں پر ایک وقفہ لے کر ذرا تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالتے ہیں۔ برطانیہ کے سولہویں صدی کے بادشاہ ہنری ہشتم اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینا چاہتا تھا لیکن پوپ کی اجازت کے بغیر وہ ایسا نہیں کر سکتے تھا۔ ہنری اس زمانے کے اکثر بادشاہوں کی طرح ایک ظالم اور جابر انسان تھا اور شک پڑنے پر اپنے قریبی ساتھیوں کے سر بھی قلم کروا دیتا تھا۔ چونکہ اسے مذہبی اعتبار سے نہ تو ایک وقت میں دو سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت تھی اور نہ ہی طلاق اس کے مذہب میں جائز تھی۔

لہذا آنے والے سالوں میں جب اس کا دل اپنی موجودہ بیوی سے بھر گیا تو اس پر بد چلنی کا الزام لگا کر اس کا سر قلم کروا دیا۔ اس نے ایک اور بیوی کا بھی یہی حشر کیا۔ اگر اس کا بس چلتا تو بہانا بنا کر اپنی پہلی بیوی کیتھرین کا بھی سر قلم کروا دیتا لیکن اس بیوی کا اثر رسوخ بہت زیادہ تھا۔ ایک طرف تو وہ سپین کی ملکہ ازابیلا کی بیٹی تھی تو دوسری طرف وہ پوپ کے سامنے بھی سرخرو تھی لہذا اسے اس بیوی کے مرنے کا انتظار کرنا پڑا۔

بادشاہ ہنری پاپائیت سے اتنا زچ ہوا کہ اس نے ایک نئے فرقے کی بنیاد رکھی جس کا نام چرچ آف انگلینڈ رکھا۔ اس کے باوجود طلاق کے معاملے میں شاہی خاندان کا طرز عمل بیسویں صدی تک پسماندہ رہا ہے اور یہاں پر بھی پادریوں کی منظوری کے بغیر شاہی خاندان کی شادیاں پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتیں تھیں۔ اس کی مثال انیس سو تیس کی دہائی کے بادشاہ ایڈورڈ ہشتم کی ہے جسے ایک امریکی عورت سے اس لئے شادی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی کی اسے پہلی شادی سے طلاق ہو چکی تھی۔ دنیا میں جب بھی سچی محبت کی تاریخ رقم ہو گی تو ہیر رانجھا اور رومیو جیولٹ کے ساتھ ساتھ ایڈورڈ ہشتم کا نام بھی لکھا جائے گا جس نے اپنی محبت کی خاطر برطانیہ کا تخت ٹھکرا دیا اور گمنامی کی زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔

طلاق بے شک اپنے اندر بہت سے دکھ سمیٹے ہوتی ہے لیکن انسانیت کے سفر میں انسان ملتے اور بچھڑتے رہیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شادی ایک۔ مقدس بندھن ہے جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے یا ایک سول معاہدہ ہے جس میں ساتھ رہنے اور بندھن کے ٹوٹنے کے معاملات بھی پہلے سے طے کیا جا نا عقلمندی ہے؟ صدیوں سے مغربی مذہبی ملاؤں کی اجارہ داری جنہوں نے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا تھا کو بالا آخر اہل مغرب نے اتار پھینکا۔

لیکن شاہی خاندان ابھی تک کسی حد تک ان کے پنجوں میں تھا۔ ابھی تقدیر نے ایک اور دن دکھانا تھا اور وہ یہ تھا کہ ملکہ الزبتھ کی چھوٹی بہن شہزادی مارگریٹ کو محبت ہوئی بھی تو کس سے اپنے محل کے دفتر میں کام کرنے والے ایک شخص سے جو طلاق شدہ تھا اور مارگریٹ کے بھرپور احتجاج کے باوجود اسے اپنی محبت سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ چارلس بھی اپنی پہلی محبت کمیلا سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن وہ اس کے خاندان کے اعلی معیار پر پوری نہیں اترتی تھی۔ ایک سازش کے تحت کمیلا کو شہزادہ چارلس کے راستے سے ہٹا دیا گیا۔ اس سازش کے سرغنہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن تھے۔ جی ہاں وہی لارڈ ماؤنٹ بیٹن جو ہندوستان میں برطانیہ کے آخری وائسرائے تھے۔

ولی عہد شہزادہ چارلس کی زندگی میں جب لیڈی ڈیانا کا ہلکا سا گزر ہوا تھا ہر طرف کھلبلی مچ گئی۔ بالا آخر جس آئیڈیل لڑکی کی تلاش تھی وہ آ گئی تھی۔ محل کے سازشی ٹولے اور میڈیا نے چارلس پر اتنا دباؤ ڈالا کہ چٹ منگنی پٹ بیاہ ہو گیا۔ جوڑی ملانے والوں کی عقل گھاس چرنے گئی ہوئی تھی کیونکہ یہ ایک بے جوڑ شادی تھی اور زمانہ نیا تھا اور اس کا جو انجام ہوا وہ دنیا نے دیکھا۔

بارہ سالہ شہزادہ ہیری جب اپنی ماں کے تابوت کی گاڑی کے پیچھے چل رہا تھا تو اس پر کیا قیامت بیت رہی تھی یہ صرف وہی جانتا ہے۔

نیٹ فلیکس کی دستاویزی فلم۔ ہیری اینڈ میگن کو میں نے بہت توجہ سے دیکھا۔ اس کو دیکھنے سے پہلے میں نے اپنے ساتھ ایک مکالمہ کیا کہ اس کو ایک کھلے ذہن کے ساتھ کوئی پیشگی رائے قائم کیے بغیر دیکھوں گی اور اپنی رائے پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے دل کی آواز کے ساتھ قائم کروں گی۔ چونکہ میں پیشے کے لحاظ سے ایک سائیکاٹرسٹ ہوں اکثر لوگ جب پہلی دفعہ مجھ سے ملتے ہیں تو گھبرا جاتے ہیں کہ شاید میں چپکے چپکے ان کا نفسیاتی تجزیہ کر رہی ہوں۔

میں انہیں تسلی دیتی ہوں کہ اول تو میں کام کے بعد اپنا کام والا سوئچ آف رکھتی ہوں۔ دوئم دوسروں کو پڑھنے کے لئے زندگی کا تجربہ کافی ہے۔ سوئم ہم میں سے کوئی بھی انسان کامل نہیں ہے۔ سائیکاٹرسٹ کو سب سے پہلے اپنا تجزیہ کرنا چاہیے۔ چہارم ایک سائیکاٹرسٹ کے پیشے کی تقدیس یہ ہے کہ وہ اپنے کلائنٹ کی اجازت کے بغیر نہ تو اس کا معائنہ یا تجزیہ کرے نہ اس تجزیے کی رپورٹ کو اس کی اجازت کے بغیر کسی اور کو بتائے۔ اس تمہید کے بعد یہ عرض ہے کہ اگرچہ شہزادہ ہیری اور اس کی بیوی میگن کی شخصیات پر یہ تبصرہ میری ماہرانہ رائے نہیں ہے اس کے پیچھے زندگی کا تجربہ ہے لیکن اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ میری زندگی کے تجربے میں انسانی نفسیات کا گہرا مطالعہ اور مشاہدہ شامل ہے۔

اس ماحول کو پیدا کرنے کے بعد میں نے دلجمعی کے ساتھ کئی قسطوں میں یہ دستاویزی فلم دیکھی جس میں ہیری اور میگن کی کہانی ان کی اپنی زبانی بیان کی گئی ہے۔ ہیری کو اپنے ماں باپ کی چپقلش؛ دنیا بھر کے سامنے اس کے تماشے۔ اپنی ماں کو کٹی پتنگ کی طرح بے یارومددگار اور میڈیا کے جھوٹ اور سچ۔ محلاتی سازشوں اور اپنے بڑوں کے نامعقول رویوں نے وقت سے پہلے بڑا کر دیا۔ اس پر قدرت کی سب سے بڑی ستم ظریفی اس کی ماں کی اچانک اور الم ناک موت تھی جس نے اس کی زندگی ہمیشہ کے لئے بدل دی۔ وہ اپنے سے پہلی نسل کے اکثر شہزادوں کی طرح ایک بگڑا ہوا رئیس زادہ نہیں نکلا۔ ڈیانا اپنی مختصر زندگی میں اسے انسانوں سے محبت کرنا سکھا گئی اور اپنی موت میں ہیری کو یہ پیغام دے گئی کہ سچی محبت رنگ اور نسل سے بے نیاز ہوتی ہے۔

جب ہیری کی ملاقات میگن سے ہوئی تو چند ملاقاتوں میں ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ اسے جیون ساتھی کے لئے جس لڑکی کی تلاش تھی وہ یہی لڑکی تھی۔ یاد رہے کہ اس ملاقات کے وقت ہیری تیس کے پیٹے میں تھا اور کوئی نادان کم عمر چھوکرا نہیں تھا۔ اس نے زمانے کے نشیب و فراز دیکھ لئے تھے اور میگن اس کی زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی نہیں تھی۔ دوسری طرف میگن بھی تعلیم یافتہ اور زمانہ شناس تھی اور اپنے اداکاری کے کیرئیر میں قدم جما رہی تھی۔

اس نے کسی شاہی خاندان کی زنجیروں کی بجائے ایک عام انسان کی آزاد زندگی گزاری تھی۔ وہ نہ تو ڈیانا کی طرح کم عمر اور ناتجربہ کار تھی اور نہ ہی تن تنہا حالات کے ہاتھوں میں بے بس تھی۔ سب سے بڑھ کر یہ کے اس کے ساتھ اس کا شوہر ہیری کھڑا تھا۔ ہیری نے میگھن کے ساتھ وہ نہیں ہونے دیا جو اس کی ماں کے ساتھ ہوا تھا۔

تمام تر ترقی اور انسانی حقوق کے بارے میں اگہی کے باوجود مغرب میں ابھی تک نسل پرستی کا خاتمہ نہیں ہوا۔ جب برطانوی پریس اور نسل پرستی کے خفیہ ہاتھ اس رشتے کو ختم کرنے کے درپے ہو گئے تو شہزادہ ہیری نے ایک بہادر مرد کی طرح اپنی پسند کو اپنی دلہن بنانے کی ٹھان لی۔ اور ہونی ہو کر رہی۔ برطانیہ کے شاہی خاندان نے جس طرح ڈیانا کے ساتھ سرد مہری کا سلوک کیا تھا وہی رویہ میگن کے ساتھ تھا لیکن مکافات عمل کی چکی اب اکیسویں صدی میں داخل ہو چکی ہے۔

جب شاہی خاندان کے ساتھ باعزت طریقے سے زندگی بسر کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو ہیری اور میگھن نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس پر دنیا حیران رہ گئی۔ انھوں نے شاہی خاندان کو چھوڑ کر پہلے کینیڈا اور پھر امریکہ میں بسنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس مشکل گھڑی میں اس جوڑے کا ساتھ دینے میں امریکہ کے جہاندیدہ لوگوں نے ان کا بھر پور ساتھ دیا جن میں با اثر اور مشہور و معروف سیاہ فام بھی شامل ہیں جنہیں نسل پرستی کا مقابلہ کرنے کا کئی صدیوں کا تجربہ ہے۔ بزرگوں کی جد و جہد اور ان کے تجربات صرف تاریخ نہیں بلکہ حال کا بھی حصہ ہوتے ہیں۔ اوپرا ونفری نے اپنے شو کا پلیٹ فارم مہیا کیا تو فلم ایکٹر ٹائیلر پیری نے کیلیفورنیا میں اپنے محل نما گھر کے دروازے ان پر کھول دیے۔

شہزادہ ہیری نے اپنی سرگزشت ایک کتاب کی صورت میں بھی لکھ دی ہے۔ ہیری اور میگن پر کیچڑ اچھالنے والوں میں ابھی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان کے ہر قدم کا خوردبین سے جائزہ لیا جاتا ہے لیکن انھوں نے اس کے باوجود زندگی کو اپنے طور طریقوں سے گزارنے کا جو فیصلہ کر لیا ہے اس پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ حسد کرنے والوں کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ ایک اطلاع کے مطابق نیٹ فلیکس نے انھیں ان کی کہانی ان کی زبانی اس دستاویزی فلم کی صورت میں بیان کرنے کے ننانوے ملین ڈالر دیے ہیں، اوپر اونفری نے انٹرویو کے سات ملین ڈالر اور ہیری کی کتاب کے بیس ملین ڈالر ادا کیے گئے ہیں۔

یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ان خبروں میں کتنی صداقت ہے لیکن اگر ایسا ہے بھی تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ اپنی شہرت اور کہانی کی قیمت نیٹ فلیکس جیسے امیر و کبیر اداروں سے وصول کرنا عام ہے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا جاتا۔ یہ برطانیہ کے عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر عیش و عشرت کی زندگی گزارنے سے کہیں بہتر ہے۔ میگن کا تعلق ویسے بھی شو بزنس سے ہے اور وہ اس کے داؤ پیچ خوب جانتی ہے۔ لیڈی ڈیانا کی کم عمری اور معصومیت کا جو فائدہ بشیر مارٹن نے اس کے انٹرویو کی صورت میں اٹھایا تھا اس کا خراج ہیری اور میگن نے ادا کر دیا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments