ضیا بار افراد کے خطوط بنام پروفیسر اصغر عباس (علی گڑھ) : ایک تعارف
انگریزوں کی ہندوستان آمد سے جہاں زندگی کے دیگر معاملات متاثر ہوئے وہیں رسل و رسائل نے بھی اثرات قبول کیے۔ ڈاک کا محکمہ قائم ہوا اور خطوط ارسال کرنے کا رواج عام ہوا۔ تحقیق کے مطابق جو پہلا خط دریافت ہوا ہے وہ 1822 ء کا ہے لیکن اردو ادب میں غالب کے خطوط نے جو شہرت حاصل کی وہ کسی اور کے نصیب میں نہیں آئی۔ ”عود ہندی“ اور ”اردوئے معلیٰ“ کے توسل سے اس عہد کی سیاسی و سماجی تاریخ کو معرض، تفہیم میں لایا جا سکتا ہے۔
خط کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نصف ملاقات ہوتی ہے، اردو کے نامور نقاد ڈاکٹر سید عبداللہ اس سے انحراف کرتے ہوئے خط کو پوری ملاقات پر بھی ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ وہ باتیں جو عموماً آمنے سامنے نہیں کی جا سکتیں وہ خط میں بے دھڑک لکھ دی جاتی ہیں۔ خط اس لحاظ سے بھی اہم ہوتے ہیں کہ یہ شخصی جذبات کا بے تکلفانہ اظہار ہوتے ہیں۔ مکتوب نگاری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اردو ادب میں کئی اہم شخصیات کے پوشیدہ پہلوؤں کا انکشاف خطوط ہی کے ذریعے ہوا ہے۔
جدید دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی پیش رفت نے جہاں زندگی کے کئی پہلوؤں کو تبدیلی کے عمل سے گزارا ہے وہیں سوشل میڈیا نے مکتوب نگاری کو معدوم کر دیا ہے۔ وہ زمانہ جب خطوط لکھے جاتے تھے اب بیت گیا۔ اب تو ای میل، میسنجر، وٹس ایپ اور فیس بک نے خطوط کی جگہ لے لی ہے اور روایتی خطوط نگاری کے خاتمے پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
”ضیا بار افراد کے خطوط“ اصغر عباس کے نام تحریر کیے گئے ہیں جن میں زیادہ تر وہ افراد شامل ہیں جن سے انھوں نے کسب علم کیا۔ ان خطوط کے مطالعے سے یہ بھی آشکار ہوتا ہے کہ اصغر عباس کو علمی و ادبی شخصیات سے روابط میں کتنی سرشاری محسوس ہوتی تھی۔ یوں تو اس مجموعے میں 145 افراد کے خطوط شامل ہیں لیکن ان میں نمایاں نام شمس الرحمان فاروقی، مشفق خواجہ، رشید حسن خان، رشید احمد صدیقی، آل احمد سرور، اسلم فرخی، اسلوب احمد انصاری، جمیل جالبی، جیلانی بانو، سید عبداللہ، شارب رددلوی، سید محمد اشرف اور حامدی کاشمیری کے نام نمایاں ہیں۔
ان میں سب سے زیادہ خطوط شمس الرحمان فاروقی کے ہیں۔ اصغر عباس اس حوالے سے داد و تحسین کے مستحق ہیں کہ انھوں نے انھوں نے اس نجی ذخیرے کو نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ اسے عام قارئین تک رسائی دینے میں معاونت فرمائی۔ ان خطوط کی اشاعت سے ان کی اہمیت اور قدر میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ پروفیسر اصغر عباس خود بھی علم و ادب کی دنیا میں ایک قد آور شخصیت ہیں۔ اردو ادب کی تاریخ و تہذیب، سر سید سے محبت اور علی گڑھ سے وابستگی ان کا حاصل زیست ہے۔
انھوں نے آل احمد سرور کی نگرانی میں ”علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ“ کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا اور پھر علی گڑھ کے ہو کر رہ گئے۔ سر سید اور علی گڑھ سے محبت، سر تا پا ان کے وجود سے جھلکتی رہی۔ بطور پروفیسر انھوں نے ہزاروں طلبا کی علمی و ادبی آبیاری کی اور 2003 ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے سبکدوش ہوئے۔ تصنیف و تالیف کے حوالے سے دیکھا جائے تو انھوں نے وقیع علمی خزانہ علم و ادب کے قارئین کے لیے یاد گار چھوڑا ہے جن میں ”سر سید کی صحافت“ ، ”سر سید، اقبال اور علی گڑھ“ ، ”اردو کا جمالیاتی ادب اور علی گڑھ“ ، ”اسرار انسانیت“ ، ”ارمغان سرور“ ، ”رشید احمد صدیقی :احوال و آثار“ اور ”سر سید کی تعزیتی تحریریں نمایاں ہیں۔
ان کی اردو ادب کے حوالے سے خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اردو اکیڈمی اتر پردیش نے انھیں مولانا آزاد ایوارڈ سے بھی نوازا۔ ڈاکٹر سکندر حیات میکن نے پروفیسر اصغر عباس کے نام ان خطوط کو پاکستان سے از سر نو قلم فاؤنڈیشن، لاہور سے اشاعت کے مرحلے سے گزارا ہے تاکہ پاکستان کے قارئین اس علمی سرمائے سے استفادہ کر سکیں۔ اس کام کی تکمیل میں ڈاکٹر ناصر عباس نیر نہ صرف ان کے معاون رہے بلکہ کتاب پر فلیپ لکھ کر اس کام کو اعتبار اور وقار بخشا۔
ڈاکٹر سکندر حیات میکن اس سے قبل بھی متعدد علمی و ادبی کاموں کو منصۂ شہود پر لاکر علم دوستی کا ثبوت دے چکے ہیں۔ ان میں“ تحریکات و تنقیدات ”،“ غیر افسانوی نثر پر تنقید ”،“ رفیع الدین ہاشمی:شخصیت و خدمات ”اور“ بحر ادب کے دوشناور ”نمایاں ہیں۔ مذکورہ کتاب ان کا تازہ کارنامہ ہے جس پر ان کو ڈھیروں مبارک باد اور روشن مستقبل کی ہزاروں دعائیں۔


