ہم سب کا اردو بلاگنگ اور شارٹ سٹوری کورس


اردو بلاگنگ کورس

ہم سب کے اردو بلاگنگ کورس میں دس لیکچر ہوں گے۔ ایک لیکچر وجاہت مسعود دیں گے، پانچ لیکچر عدنان کاکڑ کے ہوں گے، ایک آمنہ مفتی کا، ایک ظفر عمران کا، ایک تنویر جہاں کا اور ایک ڈاکٹر نائلہ خان کا۔ کورس کی فیس پانچ ہزار روپے ہو گی، اور نیا سیشن ہفتہ 4 فروری سے شروع ہو رہا ہے۔ کورس میں شمولیت کا سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا۔ بلاگنگ کورس کی کتاب ہر ہفتے اور اتوار کو شام 7 بجے ہو گی۔

گزشتہ سیشن میں شریک ہونے والوں کے تاثرات

بہت اچھا اور معلوماتی رہا یہ کورس، تنقیدی انداز فکر، مثبت سوچ اور اس کے ساتھ ساتھ معلومات میں بھی اضافہ ہوا، کچھ پرانی معلومات بھی نئے سرے سے تازہ ہو گئیں، بہت ہی اچھا تجربہ رہا: عظمیٰ بتول

بہت ہی عمدہ کورس رہا۔ اپ کی ساری کلاسز سے بہت کچھ سیکھا۔ وجاہت مسعود صاحب کا لیکچر سن کر ایک پر شفیق استاد سے ملنے کا اشتیاق بھی ہوا، دل میں ان کا احترام اور بھی بڑھ گیا۔ سب سے بڑھ کر اپ کا سکھانے اور سمجھانے کا انداز بھی دوستانہ اور سادہ تھا۔ باقی سب بھی محبت اور لگن سے اس پورے کورس میں ساتھ رہے : فرحانہ تبسم

کورس اچھا تھا، بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اردو تحریر کے متعلق بنیادی باتوں سے لے کر عدنان صاحب کی خالص تکنیکی باتوں تک سب بہت انٹرسٹنگ تھا۔ وجاحت مسعود صاحب، تنویر جہان صاحبہ، آمنہ مفتی صاحبہ، ظفر عمران صاحب اور ڈاکٹر نائلہ علی خان کے لیکچرز کورس میں ایک مختلف فلیور لے کر آئے۔ امجد محمود

اس کورس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے سے سیکھ رہے ہیں اور گروپ کے منتظمین تمام ممبران کی کامیابی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وجاہت مسعود، عدنان کاکڑ، آمنہ مفتی، تنویر جہاں اور ڈاکٹر نائلہ خان سب کے لیکچر نہایت عمدہ تھے۔ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا

میں نے کورس اپنی توقعات سے بڑھ کر پایا۔ بہت سے نئی چیزیں لکھنے کے حوالے سے سیکھنے کو ملیں۔ ایک بہترین پلیٹ فارم رہا۔ دوستوں نے بہت عمدہ حصہ لیا ان سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ مومن سعید

کورس بہت معلوماتی رہا۔ بہترین سیکھنے سمجھنے کا موقع ملا۔ تمام لوگوں کی باتوں اور معلومات سے استفادہ کیا سب بڑی بات گروپ موڈریٹرز اتنے تحمل اور حوصلے سے سب کو جواب دیتے رہے۔ لیکچرز میں نے زیادہ یو ٹیوب پر سنے اور دیکھے لیکن ایسا لگا نہیں ریکارڈنگ دیکھ رہی ہوں۔ وجاہت مسعود صاحب کا لیکچر، تنویر جہاں کا لیکچر، ظفر عمران کا لیکچر، عدنان بھائی کا سکھانے کا انداز، بتانے کا طریقہ سب بہت بہترین ہے : فہمیدہ یوسفی

یہ کورس میرے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوا۔ میرے اندر لکھنے کی تحریک پیدا ہوئی۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور بہت سارے ہم خیال لوگ ملے۔ گیسٹ لیکچرز ایک بڑا پلس پوائنٹ تھا اس کورس کا۔ ان لیکچرز کے ذریعے بڑے لکھاریوں سے کافی کچھ سیکھا۔ رضوان چودھری

کورس نے اعتماد دیا اور اپنے اندر سے مواد نکالنے کے گر سکھائے سب سے بڑی بات جو انسٹرکٹرز کے حوالے سے کی جا سکتی ہے کہ ہمارے جیسے طالب علموں کے بچگانہ سوالات کو بھی سنجیدہ لیتے ہوئے واضح اور تفصیلی طور پر جواب دیے۔ کلیم باسط

I had attended a couple of online courses on blogging and writing in the past and did learn a few basic things to develop my writing skills, but still, there was a visible void In theory and the practical aspects.
It goes without saying that practice makes a man perfect, but the most important point of practising in the right direction is sometimes missed.
This course began with a kind of low note, but as it progressed, the flavour of learning kept adding.
It was a profound privilege and a great honour to interact with stalwarts like Wajahat Masood, Amna Mufti, Zeffer Imran, Ma’am Tanveer Jahan and finally, Dr Naila Khan, who not only shared their experience, the idea of critical thinking and analytical approach but also left me spellbound with their amazing mannerism as well as highly impressive demeanour.
Hosts Adnan Khan Kakar and Dr Lubna really deserve appreciation for this highly rewarding effort. Swera Khan

اردو بلاگنگ کورس کی تفصیل

ہم سب کے اردو بلاگنگ کورس میں کل دس لیکچر ہوں گے۔ ایک لیکچر وجاہت مسعود کا ہو گا جس میں وہ بتائیں گے کہ بلاگ، کالم اور انشائیہ کیا ہوتے ہیں۔ ان کی خصوصیات کیا ہیں۔ بلاگ یا کالم کیسے لکھا جائے۔ بلاگ اور کالم میں کیا فرق ہے۔ ادبی تحریر اور صحافتی تحریر میں کیا فرق ہے۔ کن الفاظ اور تراکیب کو استعمال کرنے سے احتراز برتنا چاہیے۔ بہت خوبصورت کالم یا بلاگ کا نمونہ کون سی کتاب ہے؟ تحریر میں انفرادیت کیا ہوتی ہے اور کیوں اہم ہے؟ زبان کا درست ہونا کیوں اہم ہے؟ کیا ہم اپنی تحریر میں دوسری زبانوں کے الفاظ استعمال کر سکتے ہیں؟ جوش ملیح آبادی کی ”یادوں کی بارات“ میں کیا گڑبڑ ہے؟ لکھنے والا کہاں کنفیوز ہوتا ہے۔ لکھی ہوئی بات کا ریفرنس کیوں اہم ہے؟ کیا ریفرنس کو کالم کا حصہ بنانا چاہیے؟ کیا عقائد پر بحث کی جا سکتی ہے؟ وجاہت مسعود کن کتابوں کو پڑھنے کا اور کن سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔ تحریر کے اچھے عنوان کے بارے میں چند نکات بتائے جائیں گے۔

عدنان خان کاکڑ اپنے لیکچرز میں مندرجہ ذیل امور زیر بحث لائیں گے۔

تحریر کے قواعد

تحریر کے قواعد کیا ہوتے ہیں۔ ہر تخلیقی کام کی طرح تحریر میں بھی لگے بندھے قواعد توڑ کر ایک فن پارہ تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ لیکن قواعد توڑنے سے پہلے ان کے بارے میں علم ہونا چاہیے اور مصنف کے ذہن میں واضح ہونا چاہیے کہ وہ ایک مروج قاعدہ کس وجہ سے توڑ رہا ہے اور ایسا کرنے سے اس کی تحریر میں کیا بہتری آئے گی۔

ذمہ داری

لکھنا شروع کرنے سے پہلے یہ بات یاد رکھیں کہ پبلک پروفائل بنانا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ لوگوں کا منفی ردعمل آتا ہے۔ حوصلہ شکن کمنٹس سے نمٹنا پڑتا ہے۔ مضمون مسترد ہونے کا صدمہ سہنا پڑتا ہے۔ محض آپ کو نیچا دکھانے کے لیے لوگ آپ کی نجی زندگی میں دخل اندازی کر سکتے ہیں

فیکٹ چیک

فیکٹ چیک آپ کی ساکھ کے لیے کیوں اہم ہے؟ مضمون میں اگر آپ کسی واقعے، فرد یا جگہ وغیرہ کا ذکر کر رہے ہیں تو پہلے کسی ماخذ سے اپنے بیان کی درستی کا یقین کر لیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں دھوکے بہت ہیں۔ بہت اصلی دکھائی دینے والی تصویر فوٹو شاپ نکلتی ہے یا کسی دوسرے واقعے اور جگہ کی۔ ویڈیو بھی ایڈیٹڈ ہو سکتی ہے۔ اس لیے ماخذ کے بارے میں محتاط رہیں کہ وہ قابل اعتبار شخص یا ادارہ ہے۔

رائے اور فیکٹ میں فرق ہوتا ہے۔ ان دونوں میں فرق کرنا چاہیے۔

تحریر کا سرقہ

سرقہ مت کریں۔ کسی دوسرے شخص کی تحریر کبھی بھی اپنے نام سے چلانے کی کوشش مت کریں۔ ممکن ہے کہ ابتدا میں آپ کامیاب ہو جائیں، لیکن اب نیٹ کی دنیا میں سرقہ کر کے بچنا بہت مشکل ہے۔ بندہ پکڑا جاتا ہے۔

مضمون مسترد ہونا

مضمون مسترد ہونے پر مایوس مت ہوں۔ ہیری پوٹر کا پہلا ناول مسترد ہوتا رہا تھا۔ جارج آرویل کا اینیمل فارم بھی مسترد ہوا تھا، مسترد کرنے والے کا نام ٹی ایس ایلیٹ تھا۔ اس لیے مضمون مسترد ہونے سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ لکھنا اور پڑھنا جاری رکھیں حتیٰ کہ آپ کی محنت اور تخلیقی صلاحیت کو تسلیم کر لیا جائے۔

کمپوزنگ اور املا

کمپوزنگ اور املا اہم ہوتے ہیں۔ اپنا مضمون بھیجنے سے پہلے دو تین مرتبہ ضرور پڑھیں۔ کمپوزنگ کی بہت سی غلطیاں آپ خود نکال سکتے ہیں۔ جانیے کیسے۔

اپنا سٹائل بنانا کیوں اہم ہے؟

رفتہ رفتہ اپنا سٹائل بنانا اہم ہے۔ ہر وہ بات جو کہی جانی چاہیے، پہلے ہی کہی جا چکی ہے۔ فرق صرف انداز بیان سے آتا ہے کہ ہم اسی پرانی بات کو کس ڈھنگ سے نئے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ لکھنے کا ڈھنگ اہم ہے۔

مضمون کی طوالت، جملے اور پیراگرافنگ

ڈھیلا ڈھالا جملہ کیوں برا ہوتا ہے۔ چست جملہ لکھنے کا کیا فائدہ ہوتا ہے۔
پیراگراف کیسے بنائے جائیں۔

مضمون کی طوالت کا خیال رکھنا چاہیے۔ عمومی مشاہدہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس کہنے کو کچھ ٹھوس نہیں ہوتا ان کے پاس الفاظ کا سیل رواں ہوتا ہے۔ شطرنج کا ایک اصول ہے، کہ کوئی چال چلنے سے پہلے یہ تعین کیا جائے کہ اس کے چلنے سے آپ کا طے شدہ ہدف حاصل کرنے میں کسی طرح مدد ملتی ہے یا نہیں۔ اگر نہیں ملتی تو وہ چال مت چلیں، بہتر چال تلاش کریں۔ رائٹنگ کا بھی یہی اصول ہے۔ ہر جملہ لکھنے سے پہلے یہ بات ضرور سوچیں۔

ڈیجیٹل دنیا کا قاری ہرجائی ہوتا ہے۔ ایک آدمی کسی اخبار یا کتاب پر پیسے خرچتا ہے تو محض پیسے پورے کرنے کے لیے ہی اسے پڑھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ پڑھنے والے کے پاس وقت کم ہوتا ہے اور سینکڑوں مضامین کی چوائس ہوتی ہے۔ مضمون کو نہایت ناقص کمپوزنگ سے بھی وبال جان بنایا جا سکتا ہے، زبانوں کے ملغوبے سے بھی، غیر ضروری طوالت سے بھی اور پراگندہ خیالی سے بھی۔ موضوع پر فوکس کریں۔ کوئی جملہ یا قصہ غیر متعلقہ ہے تو اسے کسی متعلقہ مضمون کے لئے محفوظ رکھیں۔ زبان آسان رکھیں۔ چھوٹے جملے بنائیں اور چھوٹے پیراگراف۔

مضمون لکھنے کا ایک طریقہ۔ – آؤٹ لائن

آؤٹ لائن کو استعمال کرتے ہوئے مضمون کیسے لکھا جا سکتا ہے۔

تحریر کو کیسے دلچسپ بنایا جائے

تحریر میں دل چسپی پیدا کرنے کے طریقے۔
پہلے تاثر کی اہمیت کیا ہے۔
لوگ کن موضوعات میں دلچسپی لیتے ہیں۔
عنوان کی اہمیت کیا ہے۔ اس سے ریڈر شپ پر کیا فرق پڑتا ہے۔

موضوع کہاں سے لائیں؟

موضوع کی تلاش کے بارے میں چند باتیں۔
ٹارگٹ آڈینس کون ہے؟ مضمون کس کے لیے لکھا جا رہا ہے؟
موضوع کے مطابق انداز کیا ہونا چاہیے۔
موضوع پر ریسرچ کرتے ہوئے کن امور کا خیال رکھنا چاہیے۔

متفرق موضوعات

مطالعہ کیوں اہم ہے؟
اردو لکھنے کے چند سافٹویئر کا تعارف
رموز اوقاف کی اہمیت اور ان کا استعمال
اردو تحریر میں دیگر زبانوں کے رسم الخط کا استعمال کہاں کیا جانا چاہیے اور کہاں نہیں۔ اس کے کیا مسائل ہیں۔

مضمون کسی ادارے کو کیسے بھیجا جائے؟
اشاعتی ادارے کی گائیڈ لائن کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔
—————

سکرپٹ رائٹنگ۔ آمنہ مفتی اور ظفر عمران کے لیکچر

آمنہ مفتی پاکستان کی جانی پہچانی ڈرامہ رائٹر اور ناولسٹ ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ سکرین رائٹنگ اور سکرپٹ رائٹنگ میں کیا فرق ہے۔ دونوں کی چند مثالیں۔ یہ ناول سے کیسے مختلف ہیں۔ ریڈیو، سکرین اور سٹیج کے سکرپٹ میں کیا فرق ہوتا ہے۔ مضمون اور سکرپٹ میں کیا فرق ہے؟ ڈرامے میں اب کتنی اقساط ہونی چاہئیں۔ ہر قسط کے آخر میں کس بات کا خیال رکھنا لازم ہے۔ ہر قسط کتنے صفحات پر مشتمل ہونی چاہیے۔ سائناپسس اور لاگ لائن کیا ہوتے ہیں۔ سکرپٹ پروڈکشن کے لیے کیسے پیش کیا جائے کہ وہ قبول کر لیا جائے۔ کس جگہ سکرپٹ بھیجا جا سکتا ہے۔ کن نکات کا خیال رکھنا چاہیے اور کن باتوں سے گریز کرنا چاہیے۔ سکرپٹ کو چوری ہونے سے کیسے بچایا جائے۔ کردار کو کیسے تشکیل دیا جائے۔ کردار کے ارد گرد کا ماحول کیوں اہم ہوتا ہے۔ کردار کی خواہشات کیوں اہم ہوتی ہیں۔ کہانی کیسے آگے بڑھتی ہے۔ مرکزی کردار تشکیل دینے کے لیے اہم پوائنٹ کیا ہیں۔ سوپ اور ڈرامے میں کیا فرق ہے۔ دونوں کا سکرپٹ لکھتے ہوئے کن امور کا خیال رکھا جاتا ہے۔

ظفر عمران سکرپٹ اور کہانی لکھنے کے بارے میں بتاتے ہیں۔ سکرپٹ کی تکنیکی زبان کیسی ہونی چاہیے۔ ڈائرکٹر کی کس حد تک راہنمائی کرنی چاہیے اور کن باتوں سے گریز کرنا چاہیے۔ سکرپٹ کے منٹ کیسے گنے جاتے ہیں۔ ایک صفحے میں عموماً کتنے منٹ ہوتے ہیں۔ ناول کا سکرپٹ بنانے کا کیا طریقہ ہے اور اس میں کیا دشواریاں پیش آتی ہیں۔ ایک سکرپٹ کی مثال۔ کہانیوں میں خیر اور شر کا تصادم کیا ہے اور اس کے ذریعے کہانی کو کیسے آگے بڑھاتے ہیں۔

کردار کیسے تشکیل دیا جاتا ہے۔ کیا ایک شخص کو مجسم خیر یا مجسم شر بنانا درست ہے؟ کیا خیر اور خیر کے تصادم سے کہانی بن سکتی ہے؟ کیا کہانی میں دلچسپی لانے کے لیے ولن سے ہمدردی پیدا کی جا سکتی ہے؟ کنفلیکٹ کیا ہوتا ہے اور کیوں اہم ہے؟ مفادات کے ٹکراؤ کے بارے میں چند باتیں۔ فور ایکٹ سٹوری سرکل کیا ہوتا ہے۔ سٹوری سرکل کے چاروں ایکٹ کی وضاحت۔ مذہبی داستانوں کے ہزاروں برس زندہ رہنے کی کیا وجہ ہے؟

کریٹیکل تھنکنگ – تنویر جہاں کا لیکچر

تنویر جہاں بتاتی ہیں کہ اکیسویں صدی کے چار لائف سکل کون سے ہیں۔ ان کی سیکھنے اور مسائل حل کرنے میں کیا اہمیت ہے۔ کریٹیکل تھنکنگ کیا ہوتی ہے۔ بلوم ٹیکسینامی کیا ہے۔ ہم کیا چیزیں یاد رکھتے ہیں، جب ہم فیکٹس کو دہراتے ہیں تو کتنا یاد رکھتے ہیں اور کتنا سمجھ سکتے ہیں۔ کریٹیکل تھنکنگ کے اجزا کیا ہیں۔ کریٹیکل تھنکنگ کے فریم ورک کی وضاحت۔ تنقیدی سوچ کے راستے کی رکاوٹیں کون سی ہیں۔ حقائق اور ذاتی رائے میں کیا فرق ہے؟ تنقیدی شعور سے مطالعہ کرنے کے کیا اصول ہیں۔ استدلال کا جائزہ لینے کا کیا طریقہ کار ہے۔ تنقیدی سوچ کے استعمال سے مسائل کے بہتر حل کے لیے سات نکات کیا ہیں۔

مضمون نگاری کے بارے میں چند باتیں – ڈاکٹر نائلہ خان

ڈاکٹر نائلہ خان یونیورسٹی آف نبراسکا اور یونیورسٹی آف اوکلاہوما کی استاد رہی ہیں۔ سات کتابوں کی مصنف ہیں۔ کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ کی نواسی ہیں اور انسانی المیوں کی شاہد۔

ڈاکٹر نائلہ خان بتاتی ہیں کہ ہماری تحریر کا محرک اور مقصد کیا ہوتا ہے۔ حقائق کیوں اہم ہوتے ہیں۔ کیا حقائق کی جگہ رائے لے سکتی ہے؟ حقائق کے مطابق تحریر کیسے لکھی جا سکتی ہے۔ بڑے آڈینس کے لیے لکھتے ہوئے کیا امور پیش نظر رکھنا ضروری ہیں۔ دوسرے افراد کے نظریات اور سوچ کی عزت کیوں کی جانی چاہیے؟ احترام سے اختلاف کرنا کیوں ضروری ہے۔

ریسرچ کی کیا اہمیت ہے؟ مصنف کے لیے سیلف کریکشن کی اہمیت کیا ہے۔ ہمارے نظریات سے ریسرچ کا ٹکراؤ ہو تو ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ لوگوں کے تجربات اور کہانیوں کو اپنی تحریر میں شامل کرنا کیوں اہم ہے۔ کسی معاملے پر لکھتے ہوئے اس کے تناظر کو اہمیت دینا اور بیان کرنا کیوں لازم ہے۔ ٹارگٹ آڈینس کو دیکھتے ہوئے بیان کرنے کا انداز کیا ہونا چاہیے۔ کیسے کسی موضوع پر لکھتے ہوئے ٹارگٹ آڈینس کو اس سے کیسے جوڑا جائے۔ امریکی افراد کو کشمیر کے بارے میں سمجھانا ہو تو کیسے کشمیری معاملات کا امریکی تاریخ سے تقابل کر کے انہیں سمجھایا جا سکتا ہے۔ امریکی افراد کو ذات پات کا نظام کیسے سمجھایا جا سکتا ہے۔ سمجھانے کے لیے تمثیل کی کیا اہمیت ہے۔ عام افراد کے لیے لکھتے ہوئے کس قسم کی زبان استعمال کی جاتی ہے۔ کون سے ذرائع پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

شارٹ سٹوری رائٹنگ کورس

شارٹ سٹوری رائٹنگ کورس اتوار 5 فروری سے شروع ہو رہا ہے۔ ہر اتوار کو رات 8 سے 10 بجے کلاس ہو گی۔ اس کورس کی مدت دو ماہ ہے اور فیس پانچ ہزار ماہانہ۔

1۔ تعارف

شارٹ سٹوری کیا ہوتی ہے
اس کے بنیادی اجزا کیا ہیں

2۔ کردار تخلیق کرنا

مرکزی کردار کا انتخاب
پوائنٹ آف ویو
کرداروں کو حقیقت کے قریب لانا
کردار کی زندگی اور پس منظر
کردار کی زبان

3۔ کشمکش کے ذریعے کہانی میں جان ڈالنا

شارٹ سٹوری میں کشمکش کا کیا کردار ہے
مرکزی کردار کا امتحان
منفی کردار
کشمکش کا مطلب ہے سسپنس

4۔ پلاٹ اور ڈھانچہ۔ کہانی کیسے چلائیں

پلاٹ کیا ہوتا ہے۔
پلاٹ کی چار خصوصیات
کہانی کا ڈھانچہ
ابتدا، وسط اور اختتام
پلاٹ کے بلاک بنانا
کہانیاں جن میں پلاٹ نہیں ہوتا

5۔ کہانی کی فضا اور ماحول

کہانی کے ماحول کا انتخاب
اسے جاندار کیسے بنایا جائے

6۔ کہانی کا انداز بیان

انداز بیان کیا ہے؟
اچھے انداز بیان کی خصوصیات
مصنف کا انداز بیان
کہانی کا انداز بیان
الفاظ کے ذریعے منظر کشی

مزید تفصیلات جاننے کے لیے ایمیل پر رابطہ کریں۔

articles@humsub.com.pk

یا عدنان کاکڑ سے وٹس ایپ، ٹویٹر یا فیس بک پر رابطہ کریں۔

WhatsApp 0340-3388553
https://twitter.com/adnanwk

https://www.facebook.com/adnanwkk/


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1521 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments