کیا آپ ایک دھکا سٹارٹ رائٹر ہیں؟
جب میں پاکستان میں رہتا تھا تو مجھے سڑکوں پر کچھ ایسی کاریں دکھائی دیتی تھیں جنہیں تین چار لوگ دھکا لگاتے دکھائی دیتے تھے۔ وہ کاریں عجیب و غریب قسم کی گھر گھر گھر کی آوازیں نکالتی تھیں لیکن ایک دفعہ چل پڑتیں تو پھر فراٹے بھرتی ہوئی آگے بڑھتی رہتی تھیں۔ ایسی کاروں کو میں "دھکا سٹارٹ گاڑیاں” کہتا تھا۔
ان گاڑیوں کی طرح میں نے ایسے رائٹر اور لکھاری بھی دیکھے ہیں جنہیں تخلیقی سفر کے آغاز میں بہت سی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایک دفعہ جب ان کی پہلی کتاب چھپ جاتی ہے اور لوگ ان کی تخلیقات کی تعریف کرتے ہیں تو پھر ان کا قلم چل پڑتا ہے اور وہ تواتر سے لکھنے لگتے ہیں۔
میں نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کیونکہ نوجوانی میں احمد فراز ’محسن احسان اور عارف عبدالمتین نے میری بھی بہت حوصلہ افزائی کی تھی۔ یہ ان کا ادبی قرض ہے جو میں اگلی نسل کو واپس کر رہا ہوں۔
آج میں آپ کو اپنے تین ادبی دوستوں کے خطوط سنانا چاہتا ہوں اور پھر اپنی رائے پیش کرنا چاہتا ہوں۔
۔ ۔ ۔
گل رحمنٰ کا خالد سہیل کو خط
۔ ۔ ۔ ۔
اسلام علیکم
آج بہت دنوں کے بعد آپ سے انتہائی مختصر گفت و شنید کر کے مجھے بہت خوشی محسوس ہوئی اور میں اسی کیفیت میں آپ کو یہ مختصر سا خط لکھنے بیٹھ گئی۔ یہ ایک مضمون سے زیادہ میرے احساس کی ترجمانی ہے جو میں اپنے پرانے مضمون ”گاڈ فادر“ میں، جو میرے اور آپ کے تعلق کی مودبانہ تعریف کرتا ہے، میری زندگی میں آپ کی اہمیت واضح کرتا ہے، کی ہی ایک کڑی ہے۔
آپ کا انسان دوست کے متعلق نظریہ، مخلص خیالات اور ہمدردانہ طبیعت نے مجھے آپ کی صلاحیتوں کا قائل بنا دیا ہوا ہے۔ آپ کا شعبہ نفسیات اور ایک اچھا لکھاری ہونے کی حیثیت سے لوگوں کی پرکھ رکھنے کا ہنر قابل تعریف ہے۔ جس کی مدد سے آپ بخوبی دوسروں کو ان کی صلاحیت کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ مجھ جیسے کئی اور جو معمول زندگی اور سوچ کی قید میں جکڑے پیچھے رہ جاتے ہیں، آپ کی حوصلہ افزائی اور مشورے سے یقیناً ہمت پکڑنے لگتے ہیں۔ اس کو یوں بھی کہنا غلط نہ ہو گا کہ آپ اس کاہلی کی گاڑی کا ”دھکا سٹارٹ“ بھی ہیں۔
آپ نے جانے کتنوں کو بخوبی کامیابی کی پٹری پہ چڑھا دیا۔ آپ کے یقین پر کئی لکھت کے ماہر بنے ہوں گے ۔ ڈاکٹر صاحب آج کل کے زمانے میں جب ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے اور اپنے اپنوں کی دل شکنی میں مصروف ہیں آپ کے چند امید افزا جملے نئے لکھنے والوں کی توانائی میں جیسے ٹانک کا کام کر جاتے ہیں۔ جہاں کبھی والدین بھی تھک کر اپنے بچوں کو پڑھنے کی ترغیب دینے سے ہچکچانے لگتے ہیں وہاں آپ بہت پر اثر طریقے سے مستقل اپنے خیالات قلمبند کرنے کی یاد دہانی کرواتے رہتے
ہیں تاکہ کوئی ”دھکا سٹارٹ“ گاڑی کبھی نہ رکے۔
ڈاکٹر صاحب بس آج آپ سے ایک نئی ہمت ملی اور میں نے اپنا قلم اور کاغذ نکال لیا۔ اب دیکھئے کہ میں آپ کی امید پر کتنا پورا اترتی ہوں۔
لیکن میں یہ ضرور جانتی ہوں منزل جہاں کہیں بھی ہو، راستہ لطیف اور سہل ہونا چاہیے۔ میری گاڑی تیز گام نا سہی لیکن دھکا سٹارٹ بھی نہیں ہوگی۔ اس امید کے ساتھ کہ یہ لکھت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
انشا اللہ! دعا گو گل رحمن
۔ ۔ ۔ ۔
فلک ناز کا خالد سہیل کو خط
۔ ۔ ۔ ۔
واؤ!
گل رحمان تو بالکل میرے جیسی باتیں کرتی ہیں۔ میں سوچ رہی تھی کہ میں دھکا سٹارٹ ہوں اور آپ مجھ سے کبھی نا امید نہیں ہوئے۔ لیکن ان کی بھی وہی کہانی ہے۔ گل نے تو کاغذ قلم اٹھا لئے ہیں میرا ابھی کچھ پتہ نہیں۔ آپ مجھ سے وجوہات پوچھتے ہیں تو چند وجوہات جو مجھے سمجھ میں آتے ہیں وہ یہ ہیں۔
1۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں پچھلے 28 سال سے ایک ایسی جیل میں قید رہی ہوں۔ جس کی کوئی دیوار نظر آتی تھی، نہ کوئی بیڑیاں لیکن میں اس جیل کے اندر ان دیکھی زنجیروں میں بندھی رہی۔ اس قید نے مجھے مفلوج کر دیا تھا۔ سب سے اہم یہ بات کہ اس قید نے میری تمام صلاحیتوں کو جکڑ کر رکھ دیا تھا۔ میں نے اتنے قیمتی سال صرف ان ٹکڑوں کو سمیٹ کر ایک خوبصورت شکل دینے کی کوشش میں گزار دیے جو کبھی نہیں جڑ سکتے تھے۔ میں اس غلط کو غلط سمجھ کر چھوڑ دیتی اور اپنی صلاحیتوں کا رخ کسی اور طرف موڑ دیتی تو آج کسی بہتر تخلیقی مقام پر ہوتی۔
2. جب بہت دیر کے بعد اپنے آپ کو سمیٹنے کا موقع ملا بھی، تو اب میں کون سا بڑا تیر مار لوں گی۔ والی بات ذہن کو دبائے رکھتی ہے۔ حالانکہ میں بھی ہار ماننے والوں میں اپنے آپ کو نہیں سمجھتی اور اس خیال کے مقابل آ کر کھڑی بھی ہو جاتی ہوں اور امید رکھتی ہوں کہ اسے خود پر حاوی نہیں ہونے دوں گی۔
3۔ ایک بڑی اور ٹھوس دیوار میری نوکری کی ہے۔ آپ جیسے کہتے ہیں نا کہ نو سے پانچ بجے والی نوکری تخلیق کی قاتل ہوتی ہے۔ میرے معاملے میں یہ ایک بڑی حقیقت ہے۔ اور میں بہت سوچتی ہوں کہ اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں کم کر لوں۔ دیکھئے اس سوچ پر میں کتنا عمل کر سکتی ہوں۔ یہ وقت بتائے گا۔ اور وقت بھی کتنا ہے۔ وقت تو دوڑتا ہے۔
4۔ جب میں کچھ لکھنا چاہوں اور اس میں کٹوتی کرنے لگتی ہوں اس وجہ سے کہ دنیا کیا کہے گی۔ تو پھر الفاظ میں سچائی نہیں رہتی۔ اور سچائی چھوڑ کر ادھر ادھر لکھنا وقت کے ضیاع کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے کئی کہانیاں شروع کر کے ادھوری چھوڑ چکی ہوں۔
منٹو تو مرد تھا تو بھی کسی نے اس کو نہیں چھوڑا تھا۔ میں تو عورت بھی ہوں اور سچ بھی کھلے عام بولنا شروع کر دیا تو میرا کچھ اچھا انجام نہ ہو گا۔
اور ان سب وجوہات پر حاوی ایک کاہل پن۔
بہرحال میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ آپ جیسے دوست میرے ساتھ ہیں اور مجھ پر مجھ سے زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے امید کا دامن کبھی ہاتھ سے ہیں چھوڑا۔ میرا ایک ارمان ہے کہ جس طرح کا آپ کا مجھ پر یقین ہے۔ میں اسی طرح سے آپ کے یقین کو سچ ثابت کر سکوں۔ اسی لئے میں کچھ نہ کچھ لکھنے کی کوشش کرتی ہوں چاہے وہ کسی اور کے لئے نہ ہو۔ میرے اپنے ہی لئے ہو۔
بہت جلدی میں آپ کو یہ ای میل لکھ رہی ہوں کیونکہ آپ سے وعدہ کیا تھا۔ غلطی ہوئی ہو تو اس کے لئے معافی،
شب بخیر
آپ کی دوست اور مداح فلک ناز
۔ ۔ ۔
سارہ علی کا خالد سہیل کو خط
۔ ۔ ۔
میرے گرین زون دوست
ڈاکٹر خالد سہیل
سب سے پہلے تو میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ اس مضمون دھکا سٹارٹ رائٹر نے مجھے بہت لطف اندوز کیا دوسرا یہ کہ مجھے اس بات کو ماننے میں کوئی شرمندگی نہیں بلکہ کبھی کبھار تو مجھے بڑا لطف آتا ہے جب آپ میری اس عادت پر مجھے انتہائی دھیمے انداز میں اس کا احساس دلاتے ہیں اور اس پر اپنے مزاح کا تڑکا لگاتے ہیں،
”اڑتالیس دن سارہ علی سوچتی ہیں اور اڑتالیس گھنٹے میں لکھتی ہیں“
کی یوسفی لائن سے ”آپ کو جب تک ایک کام کرنے والوں کی بٹالین مہیا نہ ہو تو آپ نہیں لکھیں گی“ تک اور ان کے مابین ایسے جملے جو ایک قریبی دوست اپنے دوست کی حرکات و سکنات سے زچ آ کر اس کو بولتا ہے، ان سب نے میرے لیے لکھنے کے عمل کو شگفتہ رکھا ہے کہ دوستوں کے ساتھ قہقہے مجھے میرے گھر لے جاتے ہیں جہاں آج بھی ڈرائنگ روم میں میرے والد کے قہقہے گونج رہے ہیں۔
آپ ان وجوہات کو جانتے ہوئے کہ میں لکھنے میں اتنا وقت کیوں لگاتی ہوں اور کم کیوں لکھتی ہوں، چاہتے ہیں کہ میں خود ان کو تحریر کروں اس خواہش میں آپ کا ماہر نفسیات بول رہا ہے کیونکہ آپ مجھ سے زیادہ آگاہ ہیں، مجھے لگتا ہے کہ ماہر نفسیات بھی ڈینٹسٹ کی طرح ہوتے ہیں جیسے ڈینٹسٹ کی توجہ دانتوں کی طرف سب سے پہلے جاتی ہے اس طرح ماہر نفسیات سب سے پہلے ہر بات کی نفسیات جانچتا ہے، اسی لیے مجھے ماہر نفسیات شیشے کی مانند دکھائی دیتے ہیں جس میں ہر انسان اپنا عکس ان مصنوعی تہوں کے بغیر دیکھتا ہے جو اس نے اپنے اوپر چڑھا رکھی ہوتی ہیں۔ آپ کی خواہش ہے کہ میں خود ان وجوہات کو تحریر کروں تو سب سے پہلے تو یہ کہ میں فطرتاً پرفیکشنسٹ ہوں اور اس عادت نے مجھے کافی عرصہ اذیت میں مبتلا رکھا اس کی وجہ سے مجھے جب تک یقین نہ ہو جائے کہ میں اس کام کو بہترین طریقے سے ادا کر لوں گی میں نہیں کرتی کیونکہ اس کے علاوہ مجھے خود پسند نہیں آتا اور یہی لکھنے میں ہوتا ہے جس ٹاپک پر لکھنا ہے میں اس پر جب تک سو مختلف چیزیں پڑھ کر اپنا ہوم ورک نہ کر لوں میں لکھنے کی مینٹل اسٹیٹ میں نہیں آتی اور اس مینٹل اسٹیٹ کے بغیر آپ نہیں لکھ سکتے۔
اس کی وجہ سے کئی موضوعات دماغ میں ہوتے ہیں لیکن لکھا اس کے بارے میں جاتا ہے جس کا ہوم ورک پورا ہوتا ہے۔ میں مشتاق احمد یوسفی کی تحریر کی مداح ہوں جو زبان پر کمال یوسفی کو ہے وہ بہت کم ادیبوں کا نصیب بنتا ہے اور اس کے ساتھ ان کو اپنے آپ پر ہنسنے کا فن آتا تھا آج کل تو وہ بھی پاکستان میں فائرنگ رینج میں ہیں لیکن پاکستان میں کون سا باکمال شخص اس نشانے میں نہیں آیا کہ آپ جتنے ایماندار، اور باکمال ہیں پاکستان میں آپ کی زندگی اتنی ہی اجیرن ہے۔
یوسفی کی تیسری خوبی جو ان کے پڑھنے والوں کے لیے بدقسمتی بنی کہ وہ انتہائی پرفیکشنسٹ تھے اور خود اس بات کا اعتراف کرتے تھے کہ جب تک ان کا لکھا ہوا ان کو پسند نہ آ جائے وہ کسی کو نہیں پڑھنے دیتے تھے اس کی وجہ سے انہوں نے اپنے لکھے ہوئے ہزاروں اوراق تلف کر دیے، آج کے وقت میں یہ بات مشکل سے ہضم ہوتی ہے کہ فی زمانہ جتنا زیادہ اور مصالحے دار لکھتے ہیں اتنے مشہور اور بڑے لکھاری کہلاتے ہیں لیکن پانچوں انگلیاں برابر نہیں۔ میں یوسفی کے مقابلے میں چھوٹی سی بالشتی ہوں لیکن اپنی فطرت سے مجبور ہوں۔
دوسری اہم بات میرے لیے احساس ذمہ داری ہے۔ ڈینٹیسٹری کے دوران میرے دماغ میں یہ بات گھوم رہی ہوتی ہے کہ ایک انسانی جان میری کسی بھی غلطی سے موت کے منہ میں جا سکتی ہے اور یہ احساس ذمہ داری لکھنے میں بھی در آتی ہے کہ آپ کا لکھا اور کچھ نہیں دو چارسو لوگ تو پڑھیں گے ہی تو کچھ ایسا نہ لکھا جائے جو ایسا نہ ہو کہ مس انفارمیشن کے زمرے میں آئے یا اس کا غلط اثر پڑے۔ مجھے یہاں آپ کے چچا عارف عبدالمتین کا شعر یاد آ رہا ہے کہ
صرف ایک ثبوت اپنی وفا کا ہے مرے پاس
میں اپنی نگاہوں میں گناہگار نہیں ہوں
تیسری اہم چیز میرا کام اور ذمہ داریاں ہیں میرا خواب ہے کہ میری اسٹڈی روم ہو جہاں کتابیں اور ریکارڈ ہوں اور میں کتابیں پڑھوں، موسیقی سنوں اور لکھوں اس خواب کی بدولت میں کبھی کبھی رابندر ناتھ ٹیگور سے اور آپ سے جیلس ہو جاتی ہوں کہ یہ کوئی بات ہے کہ میں کبھی گاڑی میں، کبھی ڈائننگ ٹیبل پر ، کبھی کا ؤنٹر پر ٹنگی لکھ رہی ہوتی ہوں اور ان میں سے ایک نے میرا خواب جیا اور دوسرا جی چکا ہے۔ پھر جب تحریریں پڑھتی ہوں تو اپنے پاجامہ میں واپس آتی ہوں لیکن شکر ہے کہ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں اس لیے میں دن رات شد و مد سے یہ خواب دیکھتی ہوں کہ ریکارڈ اور کتابوں میں گھری سارہ کبھی کتاب پڑھتی اور کبھی لکھتی ہے اور بھلا ہو آپ کا کہ اپنے نانا محمد قاسم کا شعر سنا سنا کے آپ مجھے حقیقت کی دنیا میں واپس لاتے ہیں
قسام نے لکھ کر میری قسمت میں فقیری
فرمایا مزاج اس کا امیرانہ بنا دے
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ میں جب لکھنے کے ٹرانس TRANCEمیں ہوتی ہوں تو سڑک کے کنارے گاڑی کھڑی کر کے بھی لکھتی ہوں اور الم غلم، مصالحہ دار لکھنا بغیر sense of responsibility میرے لیے ممکن نہیں۔
امید ہے کہ میرے دوست خالد سہیل جو ان سب وجوہات سے پہلے سے آگاہ ہیں ان کا مجھ پر یقین قائم رہے گا اور وہ مجھ سے اسی طرح سے پوچھتے رہیں گے کہ سوچنے کے اڑتالیس دن پورے ہو چکے لکھنے کے اڑتالیس گھنٹے کب سے شروع ہوں گے۔ آپ کی دوستی، یقین اور محبت مجھے مجھ پر منکشف کرتی رہے گی اور مجھے اس بات پر فخر رہے گا کہ ان سب باتوں کے باوجود ڈاکٹر خالد سہیل کے دوستوں کی فہرست میں جہاں ادب کے giants کا نام ہے وہاں ایک ادبی بالشتی سارہ علی کا نام بھی موجود ہے۔
آپ کی دوست
سارہ علی
۔ ۔ ۔
خالد سہیل کا گل رحمان ’فلک ناز اور سارہ علی کو خط
۔ ۔ ۔
آپ تینوں میری ادبی دوست ہیں اور مجھے آپ کی دوستی پر فخر ہے۔
آپ تینوں بہت اچھی لکھاری ہیں اور میری دلی خواہش ہے کہ ایک دن میں آپ تینوں کی چھپی ہوئی کتاب پڑھوں۔
ایک وہ زمانہ تھا جب میں سال میں ایک نظم یا ایک افسانہ یا ایک مقالہ لکھتا تھا۔ ایک تخلیقی بارش ہوتی تھی اور پھر میں ہفتوں اور مہینوں دوسری تخلیقی بارش کا انتظار کرتا رہتا تھا۔ لیکن اب میرے اندر ایک تخلیقی چشمہ بہتا رہتا ہے جو مجھ سے ہر ہفتے ایک کالم لکھواتا ہے۔
تخلیقی بارش سے تخلیقی چشمے کا سفر دلچسپ بھی ہے اور پراسرار بھی۔ اس سفر میں سب سے زیادہ اہم مرحلہ تخلیقی ریاضت کا تھا۔
میں پچھلے چند سالوں سے ہر ہفتے اتوار پیر اور منگل کی صبح کاغذ اور قلم یا کمپیوٹر لے کر ایک گھنٹے کے لیے بیٹھ جاتا ہوں اور کچھ نہ کچھ لکھتا ہوں بلکہ یوں کہنا بہتر ہو گا کہ رات کو سونے سے پہلے اپنے لاشعور کو بتا دیتا ہوں کہ صبح کیا لکھنا ہے اس طرح میرا لاشعور میری میوس بن کر میری مدد کرتا ہے۔ تخلیقی ریاضت ہم سب لکھاریوں کے لیے اہم ہے۔
جب میں کوئی افسانہ یا کالم نہیں لکھ رہا ہوتا تو میں کسی ادبی شہ پارے کا ترجمہ کر رہا ہوتا ہوں وہ بھی تخلیقی ریاضت کا حصہ ہے۔
جب میں کوئی تخلیق مکمل کرتا ہوں تو اپنے ادبی دوستوں سے مشورہ کرتا ہوں اور وہ مجھے کار آمد اور مخلص مشورے دیتے ہیں۔
میں چند ہفتوں کے بعد اپنے کلینک سے چند دن کی چھٹی بھی لیتا ہوں تا کہ اپنے ادھورے پروجیکٹ مکمل کر سکوں۔
میں دوسرے ادیبوں کے ساتھ مل کر ادبی پروجیکٹ بھی کرتا ہوں۔ اس کی تین مثالیں مندرجہ ذیل پروجیکٹ ہیں :
میں نے پچھلے سال اپنے بچپن کے دوست ڈاکٹر سہیل زبیری کے ساتھ مل کر ایک کتاب RELIGION, SCIENCE AND PSYCHOLOGY لکھی جو ایمیزون پر بھی آ گئی ہے اور اس کا اردو میں ترجمہ نعیم اشرف نے کیا ہے۔
میں نے اپنی بنگلہ دیشی دوست ٹانیا ایکون کے ساتھ مل کر ایک کتاب BECOMING A HUMANISTلکھی جو عنقریب ایمیزون پر آ جائے گی۔
اس سال 2023 میں میں حامد یزدانی اور نوروز عارف کے ساتھ مل کر عارف عبدالمتین پر ایک کتاب لکھ رہا ہوں جو ان کے صد سالہ جشن ولادت کا حصہ ہوگی۔
ڈیر گل رحمان فلک ناز اور سارہ علی
میری خواہش ہے کہ آپ سب ورجینیا وولف کی تقریر WOMEN AND PROFESSIONS ضرور پڑھیں جس کا میں نے ترجمہ کیا تھا اور ’ہم سب‘ پر چھپ چکا ہے اس میں ورجینیا وولف نے ان مسائل ’دشواریوں اور آزمائشوں کا ذکر کیا جو خاص طور پر خواتین لکھاریوں کو پیش آتے ہیں مجھے قوی امید ہے کہ وہ تقریر آپ کو ایک بہتر ادیب بننے میں مدد کرے گی۔
آپ سب کا دوست
خالد سہیل


