احمدی عبادت گاہوں پر منظم حملے اور ہماری بے حس خاموشی


ایک دفعہ پھر وہی رونا، پھر وہی تصویریں ، پھر وہی واقعات۔ لیکن اس دفعہ کچھ منظم انداز میں۔ احمدیوں کی قبروں کے بعد ان کی عبادت گاہوں پر حملے۔ پنڈدادن خان، گوجرانوالہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اوکاڑہ، وزیر آباد، کراچی، شیخوپورہ، عمرکوٹ۔ یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔

عام پاکستانی سوچے گا کہ ہر قسم کی بدامنی، بداخلاقی، بدحالی اس ملک میں عام ہے۔ پشاور مسجد بھی تو بم دھماکوں کا نشانہ بنی ہے، قبروں کی بے حرمتی کی خبریں بھی عام ہیں، لاقانونیت گلی گلی پھیلی ہے ایسے میں احمدیوں کی عبادت گاہوں ہر حملہ ہو گیا تو کیا؟

بات اتنی غلط بھی نہیں کہ وطن عزیز میں کون محفوظ ہے۔ بم دھماکوں سے لے کر قتل و غارت گری تک، انسان کی جان سے لے کر مال تک، معصوم بچیوں کی عصمتوں سے لے کر مردہ خواتین تک، پولیس والوں سے لے کر سیاستدانوں تک کون محفوظ ہے۔ تشبیہ کے لئے بھی کوئی مناسب الفاظ نہیں ملتے۔ مہذب دنیا کی مثالیں تو ایک طرف تیسری دنیا میں بھی ہم اپنی مثال آپ ہیں۔

انسانی معاشرے کی بجائے جانوروں کے ریوڑ سے تشبیہ دی جائے تو زہرہ نگار کا مصرعہ ذہن میں آتا ہے کہ ”سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے“ ۔ آخر کون ہیں ہم کیسے وحشی ہیں، کیسے خونخوار ہیں اور ساتھ کیسے ڈرپوک ہیں۔

مان لیا کہ ایسے بہت کم ہیں جو شدت پسند ہیں، مان لیا کہ نوے فیصد لوگ امن پسند ہیں اور ان کا ایسی باتوں سے تعلق نہیں۔ لیکن ان کے سہولت کار وہ نوے فیصد بھی تو ہیں جو خاموش ہیں، جو آگے بڑھ کر ہاتھ سے انہیں روکتے نہیں، زبان سے انہیں ٹوکتے نہیں اور تو اور دل سے بھی انہیں برا سمجھتے نہیں۔ پھر ماں کے جیسی ریاست جسے کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ اس ملک کے بنانے کے ”گناہ“ میں یہ احمدی بھی صف اول کے ہراول دستے میں شامل تھے سو ان پر حملے بھی دہشت گردی ہی ہے۔

اس دہشت گردی سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ریاست ہی کی ذمہ داری ہے۔ کسی صدر یا وزیراعظم کو خیال نہیں آیا کہ اس کا کوئی سیکرٹری دو سطری بیان ہی میڈیا کے حوالے کردے کہ وزیراعظم نے شدید نہیں تو ہلکے سے الفاظ میں کسی واقعے کی مذمت کی ہے۔ کسی اپوزیشن لیڈر کو توفیق نہیں ہوئی کہ ٹویٹر پر ہی دو انگلیاں چلا دے کہ حکومت اس ملک کے شہریوں کی املاک کی حفاظت میں ناکام ہو چکی ہے۔ کسی منصف کو سوموٹو کا خیال نہیں آیا کہ کسی سی سی پی اور، کسی ڈی آئی جی کو طلب کر کے پوچھے کہ کس طرح دن دیہاڑے عبادت گاہیں مسمار کرنے اور جلانے والے کھلے پھررہے ہیں۔ کسی زیریں یا بالا ایوان میں کوئی قرارداد پیش ہوئی ہو، ریاست کے نام نہاد چوتھے ستون میڈیا کو (سوائے ایک دو کے ) کلمہ حق تو ایک طرف صرف خبر دینے کا حوصلہ ہوا ہو، کسی منہ سے جھاگ اڑاتے اینکر کو اپنے سوشل میڈیائی چینل پر ہی سہی، بہادری کا مظاہرہ کرنے کی توفیق ملی ہو تو ضرور آگاہ کیجئے گا۔

ہم نیوزی لینڈ نہیں کہ اقلیتوں کی عبادت گاہ پر حملہ ہو تو نیوزی لینڈ کے لوگ اور ان کی وزیراعظم جسینڈا آرڈن پہنچ جاتی ہیں اور نہ ہی ہم کینیڈا کہ اسی واقعے سے اگلے جمعے کینیڈا کے شہروں میں مقامی آبادی مساجد کے باہر پہرا دیتی ہے کہ آپ سکون سے نماز ادا کریں ہم باہر پہرا دیں گے۔ جسٹن ٹروڈو اسلاموفوبیا پر مسلمان خاتون کو خصوصی نمائندہ مقرر کرتا ہے۔ دبئی کے ہمارے داتا ان داتا اقلیتوں کی عبادت گاہیں تعمیر کرتے اور افتتاح میں شریک ہوتے ہیں۔

ہم تو ہم ہیں، ہم کسی اور سیارے کی مخلوق جو اس دنیا کے قانون، قاعدے، اخلاقیات، سماجیات سے نابلد ہیں۔ وہ مخلوق جو اس دنیا کی امامت کا خواب بھی دیکھتی ہے۔ نہ جانے دنیا کی امامت کے بعد ہم کون سے قوانین نافذ کریں گے، دنیا کے پردے پر کیا نقوش چھوڑیں گے؟ معیشت کے، علم کے، سائنس کے، قانون کے، امن کے، بھائی چارے کے، سیاست کے، معاشرت کے، انسانیت کے؟ کون سا اعلی خلق، کون سی اچھی عادت کون سا کار آمد ہنر، کون سی مفید ایجاد دنیا کو ہم دیں گے؟

فی الحال تو اپنے ہی عوام، اپنے ہی شہریوں، اپنی ہی اقلیتوں کے بہت ہی بنیادی حقوق دینے کے لئے بھی ہم کسی آئی ایم ایف کی ڈائریکشن یا کسی ایف اے ٹی ایف کے حکم کے منتظر ہیں۔ اس کے بعد ہی صاحبان اقتدار اور صاحبان اختیار ہوش میں آتے اور بادل نخواستہ ہی سہی ایک پیج پر نظر آتے ہیں۔ ورنہ تو بقول فراز

محل سراؤں میں خوش مقدر شیوخ چپ
بادشاہ چپ ہیں
حرم کے سب پاسبان
عالم پناہ چپ ہیں
منافقوں کے گروہ کے سربراہ چپ ہیں
تمام اہل ریا کہ جن کے لبوں پہ ہے
لا الہٰ چپ ہیں

Facebook Comments HS