یہ کیسی مسیحاٸی ہے
ایک مریض ہسپتال میں داخل ہوا تاکہ وہ ڈاکٹر سے اپنا جسمانی معائنہ کرائے۔ مریض جب ہسپتال کے گیٹ سے اندر داخل ہوا تو اسے سامنے دو دروازے نظر آئے۔ ایک دروازے پر لکھا تھا ”نفسیاتی علاج“ جبکہ دوسرے دروازے پہ لکھا ہوا تھا ”جسمانی علاج“ مریض پہ تھوڑی دیر سکتہ طاری ہوا پھر وہ جسمانی علاج کرنے والے دروازے پہ یہ سوچ کر داخل ہوا کہ اندر جاتے ہی ڈاکٹر صاحب سامنے بیٹھے ہوں گے لیکن مریض کی سوچ بالکل غلط ثابت ہوئی اب اسے مزید دو دروازے نظر آئے۔ جس میں ایک دروازے پر
” سرجیکل“ جبکہ دوسرے دروازے پہ ”میڈیکل“ درج تھا تھوڑی دیر پھر اندر کے انسان نے مریض کو سوچنے پر مجبور کیا اس کے بعد مریض میڈیکل وارڈ کے دروازے کی طرف اس یقین و اعتماد کے ساتھ داخل ہوئے کہ دروازہ کھولتے ہیں ڈاکٹر سے ملاقات ہو گی مگر اب بھی اس کے سامنے دو دروازے تھے ان میں سے ایک پر لکھا ہوا تھا کہ اس دروازے سے وہ مریض اندر تشریف لائے جس کی ماہانہ آمدنی دس ہزار روپے سے زیادہ ہو جبکہ دوسرے دروازے پہ درج تھا کہ وہ مریض اس دروازے سے داخل ہو جائے جن کی ماہانہ آمدنی پانچ ہزار سے کم ہے ”اندر کے انسان نے مریض کو مزید پریشان کیا اور تھوڑی دیر سوچ و بچار کرنے کے بعد اس دروازے کی طرف بڑھے کہ جس پہ لکھا تھا جن کی آمدنی پانچ ہزار سے کم ہے۔ واقعی مریض کی آمدنی کم تھی اس لیے مریض اسی دروازے کو آرام کے ساتھ کھول کر اندر داخل ہوا اور چند قدم آگے چلتے ہی وہ ہسپتال کے باہر سڑک پہ پہنچ گیا۔
یہ کوئی کہانی نہیں ہے بلکہ ہمارے معاشرے کی عکاسی کی گئی ہے۔
جس معاشرے ہم اور آپ رہتے ہیں وہ معاشرہ نہیں بلکہ جنگل ہے لیکن جنگل بھی مناسب نہیں کیونکہ وہاں پر بھی ایک قانون و اصول ہے ہمارا یہ معاشرہ انسانیت سے گرا ہوا معاشرہ ہے۔
بات دراصل یوں ہے کہ اللہ تعالی نے انسانوں کو تمام مخلوقات سے افضل یعنی اشرف المخلوقات بنا کر خلق کیا ہے۔ انسانوں کو دوسرے تمام مخلوق سے افضل مخلوق اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ انسان کے دل میں دوسروں کے لیے درد رہتا ہے۔ یہ ایک زندہ دل انسان کی پہچان ہے کہ وہ دوسروں کی خوشی میں خوش اور غم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں اور دوسروں کے غم کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ہمدرد اور غمگسار بن جاتے ہیں۔ بقول شاعر :
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں
انسان کی اگر اہمیت ہے تو وہ انہی اوصاف حمیدہ کی وجہ سے ہے۔ اگر کسی انسان میں یہ صفات موجود نہیں ہے تو اسے انسان نہیں کہہ سکتے اگر ان اوصاف سے معاشرے کے دوسرے افراد بھی محروم ہے تو اس معاشرے کو معاشرہ نہیں بلکہ جنگل کہنا چاہیے۔
انسانی شخصیت کے دو رخ ہوا کرتے ہیں ایک رخ اندر کا انسان ہے اور دوسرا رخ باہر کا انسان ہے۔ باہر کے انسان میں تو آپ کو سبھی اچھے، زاہد، عابد، تقوی پرہیز گار، نمازی، حاجی، دین دار نظر آتے ہیں۔ اس کا دوسرا رخ اس کے اندر کا انسان ہے اب دیکھنا یہ ہو گا کہ اندر کے انسان میں کتنی انسانیت ہے یہی اس کی اصل پہچان ہے۔ یوں تو دنیا میں بے شمار پیشے ہیں ان تمام پیشوں میں سب سے زیادہ افضل پیشہ ڈاکٹر کا پیشہ ہے۔ جب ہم بیمار ہو جاتے ہیں تو ہماری تکلیف اور بیماری اگر کوئی سمجھ سکتا ہے۔
تو وہ یہی ڈاکٹر یعنی مسیحا ہے۔ ان مسیحاؤں کے بارے میں ہم یہ سوچتے رہتے تھے کہ یہ مسیحا کتنے ہمدرد، انسان دوست اور فرشتہ صفت ہوں گے۔ اس خواب کی تعبیر اس وقت چکنا چور ہو جاتے ہیں کہ جب ان سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے۔ واسطہ پڑنے تک اس کے باہر کا انسان ہمارے سامنے تھا اس وجہ سے سبھی تعریف کرتے تھے لیکن جب ان کے اندر کا انسان ہمارے سامنے نمایاں ہوا تو یہ معلوم ہوا کہ ان میں انسانیت ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ہے۔
اللہ تعالی نے کتنا بڑا مقام ان کو عطا کیا ہے لیکن نہایت ہی افسوس کی بات یہ ہے کہ گننے چنے چند مسیحا کے علاوہ باقی تمام مسیحا لوگوں کو لوٹنے اور پیسے جمع کرنے والے مشین بنے ہوئے ہیں۔ یہ مسیحا جب گورنمنٹ ہسپتال میں ڈیوٹی پہ ہوتے ہیں تو مریضوں کا معائنہ ڈھنگ سے نہیں کرتے ہیں اور جب شام کے وقت ان کے کلینک یعنی
( قصاب کی دکان) پہ جاتے ہیں تو ان کا رویہ مکمل تبدیل ہوتے نظر آتے ہیں اور وہ عاجزی محبت اخلاق دکھاتے ہیں کہ بس نہ پوچھیے اس وقت تو ہمیں ان سے زیادہ کوئی اچھا اور کوئی مخلص نظر نہیں آتا۔ ان ڈاکٹروں سے لیے گئے دوا جتنے فائدے دیتے ہیں تو اتنے ہی نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔ فائدے کے ساتھ نقصان اس لیے پہنچتا ہے کیونکہ ان ڈاکٹروں کا اکثر بیکار میڈیسن کمپنیوں سے رابطہ ہوتا ہے اور وہ پرسنٹیج پہ انہی کمپنیوں کی دوا لکھ لکھ کر مریضوں کو دیتے ہیں جس سے بھلے مریض کو فائدے ہو یا نہ ہو ان کو ضرور فائدہ ہوتا ہے۔
یہ دوا مریض کو ٹھیک کرنے کے بجائے کئی اور بیماریاں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ان کے ذاتی کلینک پہ معائنہ کرنے کی فیس توبہ توبہ نہ پوچھے۔ بس غریب تو یہی فیس سن کر مر جانے کی دعا مانگتے ہیں۔ حال ہی میں آر۔ ایچ۔ کیو ہسپتال سکردو کے عملے نے ایک بے ہوش بچی کو مردہ قرار دے کر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ ماں اور باپ فریاد و فغاں کرتے ہوئے بچی کی مردہ لاش لے کر گھر پہنچے اور دوران غسل بچی کو ہوش آ گئی۔ کیونکہ بچی مردہ نہیں بلکہ زندہ تھی یہ ان قصابوں کی غفلت، لاپرواہی، کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ دوران آپریشن ان کی لاپرواہی اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے ان کے آپریشن کامیاب نہیں ہوتے ہیں کئی مریض جان کی بازی ہار جاتے ہیں اور کئی تاحیات معذور ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ان ڈاکٹروں کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کو مزید ٹریننگ لینے کی اشد ضرورت ہے ورنہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔
یہ افسوس اور شرم کا مقام ہے کہ ہمارے یہ تعلیم یافتہ مسیحا تنخواہوں اور مریضوں سے بد دعا کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں کر رہے ہیں۔
جتنے ایمان دار، خوش اخلاق، نفیس، انسان دوست، نرم رویہ خلوص و محبت اپنے کلینک
(قصاب کی دکان) پہ دکھاتے ہیں اگر یہی سرکاری ہسپتال میں بھی دکھاتے تو آج ہر ایک ان مسیحاؤں کی راہ میں پلکیں بچھاتے اور خوب دعائیں دیتے۔
*پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو*
*مجھ کو دیکھو مرے مرنے کی تمنا دیکھو*


