مشرف اللہ کی عدالت میں
اللہ نے اس ہر دم بدلتی دنیا کو تخلیق کیا ہے اور اس کا سفر اپنی منزل کی طرف جاری ہے۔ وقت گزرتا جاتا ہے، جو لمحہ گزر گیا وہ ماضی ہو گیا کبھی لوٹ کر نہ آنے کے لیے اور آنے والا لمحہ مستقبل ہے جو ہمارے بس میں نہیں۔ اور وقت کی اسی گردش میں ہمارا چند سالہ آزمائشی زندگی کا سفر جاری ہے اور ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم اسے عمر میں اضافہ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ کمی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ برف گھلتی جا رہی ہے۔ بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپا اس سفر کی منزلیں ہیں اور ہم میں سے ہر ایک انہی منزلوں سے گزرتا ہوا چارو ناچار اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے۔ سورة الانشقاق میں ہے
اے انسان تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے اور اس سے ملنے والے ہیں۔
وقت کا پہیہ چلتا رہتا ہے، کبھی رکتا نہیں اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کسی چیز کو دائمی نہیں سمجھنا چاہیے۔ وقت جو مہلت دے اس سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنے حصے کا قرض اتارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کل تک یہ وقت تھا کہ اسی مملکت خداداد میں پرویز مشرف کا طوطی بول رہا تھا اب ان کی رحلت ہو چکی ہے۔ ایک عرصے سے وہ دبئی کے امریکن ہسپتال میں صاحب فراش تھے۔ بالآخر بیماری کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے، ان کی وفات سے تاریخ کا ایک عہد اختتام کو پہنچا، انہیں پاکستانی تاریخ کے ایک متنازعہ کردار کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
ان کی حکومت ہمیشہ آئین کی چھتری سے محروم رہی اس لئے وہ مختلف طریقوں سے اپنی حکمرانی کو جائز ثابت کرنے کے جتن کرتے رہے، وہ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی بجائے ملک کے چیف ایگزیکٹو بنے اور آگے چل کر، ملک کی صدارت بھی سنبھال لی۔ 11 اگست 1943 کو دہلی میں پیدا ہونے والے پرویز مشرف کراچی کے سینٹ پیٹرک ہائی اسکول میں پڑھے، بعد میں ایف سی کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ پرویز مشرف نے 1961 میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا اور اسپیشل سروسز گروپ میں شمولیت اختیار کی۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں بھی حصہ لیا۔ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ سے گریجویشن کی اور رائل کالج اور ڈیفنس اسٹڈیز برطانیہ سے بھی کورسز کیے۔
اکتوبر 1998 میں پاکستان کے آرمی چیف بنائے جانے کے بعد جنرل پرویز مشرف کا سب سے پہلا کارنامہ کارگل جنگ تھا۔ اس جنگ کے حوالے سے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کا دعویٰ ہے کہ ان کو مکمل اندھیرے میں رکھا گیا۔ جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ تمام کارروائی نواز شریف کے علم میں تھی لیکن صحافی نسیم زہرہ اپنی کتاب From Kargil to the Coup میں جنرل مشرف کے اس دعوے کی نفی کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکتوبر 1998 میں ہی کارگل میں ’مجاہدین‘ داخل ہونا شروع ہو چکے تھے، اور نواز شریف کو پہلی بریفنگ مئی 1999 میں دی گئی، اور تب بھی انہیں مکمل صورتحال نہیں بتائی گئی۔
اس دوران فروری 1999 میں بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان آئے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ لاہور بھی طے پایا۔ یہی وجہ تھی کہ جب بھارتی حکام کو اس معاملے کی خبر ہوئی تو انہوں نے اسے پاکستان کی جانب سے پیٹھ میں چھرا گھونپے جانے کے مترادف قرار دیا۔ کارگل جنگ نے کشمیر کی جدوجہد آزادی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کو سفارتی سطح پر ایک ناجائز کاز بنا دیا۔
کارگل نے ہی نواز شریف اور جنرل مشرف کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کی۔ اکتوبر 1999 میں نواز شریف کو یہ اطلاعات ملیں کہ جنرل مشرف ان کا تختہ الٹنے جا رہے ہیں۔ 12 اکتوبر 1999 کو نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو ان عہدے سے برطرف کیا تو فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور نواز شریف کو پابند سلاسل کر دیا۔ یہیں سے جنرل مشرف کے نو سالہ دور اقتدار کا آغاز ہوا۔
ہر آمر کی طرح جنرل پرویز مشرف کو بھی جمہوری legitimacy کی ضرورت تھی اور اس مقصد کے لئے انہوں نے نیب کے ذریعے مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی میں نقب لگائی۔ مسلم لیگ نواز کے لیڈران پر نیب کے کیسز بنائے گئے اور ان کیسز کے ذریعے پہلے مسلم لیگ ہم خیال اور بعد میں مسلم لیگ ق تراشی۔ 2002 کے انتخابات میں جھرلو پھیر کر مسلم لیگ ق کو فتحیاب کروایا گیا۔ پیپلز پارٹی میں سے پیپلز پارٹی پیٹریاٹ نام کا فارورڈ بلاک نکالا گیا جس میں سے پیپلز پارٹی کے 80 میں سے 22 ممبران شامل ہو گئے اور یوں بالآخر میر ظفر اللہ خان جمالی کو محض ایک ووٹ کی برتری سے وزیر اعظم پاکستان بنوایا گیا
جنرل مشرف نے پونے نو سالہ دور حکومت میں پانچ وزرائے اعظم بدلے، جبکہ میڈیا کی آزادی کے دعوے کے باوجود آخر میں بے جا پابندیوں نے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا تھا۔
جنرل (ر) پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا ہی تھا کہ امریکہ میں نائن الیون ہو گیا۔ امریکہ نے اس کی ذمہ داری افغانستان پر ڈالی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ پرویز مشرف امریکی وزیر دفاع کولن پاؤل کی ایک کال پر ڈھیر ہو گئے 2001 میں 911 کے واقعے کے بعد جنرل پرویز مشرف سے امریکہ نے افغانستان پر فوج کشی کے لئے پاکستانی ہوائی اڈوں کا مطالبہ کیا۔ جنرل مشرف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ انہیں امریکی آرمی کے سربراہ رچرڈ آرمٹیج کا فون موصول ہوا جس میں انہوں نے دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دینے سے گریز کیا تو اسے امریکہ کا دشمن تصور کیا جائے گا۔
جنرل پرویز مشرف اپنی کتابIn The Line of Fire میں تسلیم کر چکے ہیں کہ 2001 میں شروع ہونے والی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو دہشتگردی کے شبے میں امریکہ کے حوالے کیا۔ جن میں عافیہ صدیقی بھی شامل تھیں اسی طرح مشرف ہی کے دور میں پاکستان میں جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہوا۔ پاکستان افغان جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بنا، جس کا خمیازہ دہشت گردی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ اور ہم آج تک اس بھنور نہیں نکل سکے۔ جنرل مشرف نے پاکستان میں میڈیا کو وسعت اور آزادی دی پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے لائسنس دیے۔ جب یہی چینلز ان کے لئے درد سر بنے تو انہوں نے پابندیاں لگانے کی کوشش بھی کی مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے مشرف نے مختلف ہتھکنڈے اختیار کیے ۔ انہوں نے ایک طرف وردی میں اپنے انتخاب کو یقینی بنایا اور دوسری طرف انتخابات کرا کے اپنے من پسند حکمران بھی لاتے رہے، اس کے لئے انہوں نے عدالتوں سے نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے بھی لئے اور اسمبلیاں بھی قائم کیں جن میں وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے انتخابات بھی کرائے مگر اقتدار کا اصل مرکز پرویز مشرف کی ذات رہی۔ اس دوران ان پر متعدد بار یہ عالمی و اندرونی دباؤ ڈالا گیا کہ وہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو واپس آنے دیں تا کہ وہ پاکستانی سیاست میں اپنا کردار ادا کر سکیں مگر وہ راضی نہ ہوئے۔
تاہم بے نظیر بھٹو کو وہ زیادہ دیر جلا وطن نہ رکھ سکے اور عالمی دباؤ پر وہ پاکستان واپس آ گئیں۔ پرویز مشرف کے دور ہی میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ شہید ہو گئیں۔ ان کی شہادت کے بعد پرویز مشرف پر دباؤ بڑھ گیا کہ وہ انتخابات کرائیں اور اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کریں انتخابات ہوئے تو پیپلز پارٹی کو مرکز میں اکثریت ملی اور اس کی حکومت قائم ہو گئی جس کے بعد پرویز مشرف کا چل چلاؤ شروع ہو گیا پہلے انہیں وردی اتارنی پڑی پھر صدارت سے دستبردار ہونا پڑا۔
پرویز مشرف کا خیال تھا کہ انہوں نے ملک کے لئے جو خدمات سر انجام دی ہیں ان کے صلے میں قوم انہیں یاد کرتی ہو گی اس لئے انہوں نے ایک سیاسی جماعت بنا کے پاکستانی سیاست میں کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا مگر واپسی پر انہیں اندازہ ہو گیا کہ حالات ان کے لئے ساز گار نہیں وہ ملک سے واپس چلے گئے اور پھر لوٹ کر نہ آئے۔
جنرل پرویز مشرف ہی کے دور میں امریکہ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون جیسی قبیح ٹیکنالوجی کے ذریعے ہزاروں بے گناہ قبائلی شہریوں کی جانیں گئیں اور ہزاروں کی تعداد میں بوڑھے، بچے اور خواتین و حضرات اپاہج بھی ہوئے۔
ان آپریشنز کے نتیجے میں تحریک طالبان پاکستان کی صورت میں نئے چیلنج نے انتشار پیدا کیا۔ 2018 کے انتخابات میں شمالی اور جنوبی وزیرستان سے پی ٹی ایم کی کامیابی اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
2005 میں مختاراں مائی کو کئی افراد نے زنا بالجبر کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ واقعہ عالمی سطح پر میڈیا میں اچھلا تو ستمبر 2005 میں جنرل مشرف نے واشنگٹن پوسٹ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں جو پیسہ بنانے اور بیرون ملک جانے کے خواہش مند ہوں تو خود کو rape کروا لیتے ہیں۔ ان الفاظ نے پوری دنیا میں جنرل مشرف کی روشن خیالی اور اعتدال پسندی کی قلعی کھول دی۔
ڈاکٹر شازیہ مری rape کیس بھی مشرف دور کی ایک تلخ یاد ہے۔ جس نے بلوچستان کے عوام کے احساس محرومی میں شدت پیدا کی۔ جنرل مشرف نے بلوچ قبائل پر فوج کشی کی۔ بلوچستان کے سابق گورنر نواب اکبر بگٹی 26 اگست 2006 کو ایک غار پر میزائل حملے میں مارے گئے۔ اس قتل نے بلوچستان میں وہ آگ لگائی جس کے شعلے آج بھی بھڑک رہے ہیں۔ آئے روز پاکستانی فورسز پر ہونے والے حملے اسی قتل کا شاخسانہ ہیں۔
مارچ 2007 میں جنرل مشرف نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری کو عہدہ چھوڑنے کا حکم دیا۔ انہوں نے یہ حکم ماننے سے انکار کیا تو ان کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل بھجوا دیا۔ اور افتخار چودھری کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ کر تذلیل کرائی گئی۔ تحریک نے زور پکڑا تو چیف جسٹس کو بحال کر دیا گیا لیکن جب افتخار چودھری نے این آر او اور مشرف کے باوردی صدارتی انتخاب لڑنے کے اقدامات کے خلاف درخواستوں کی سماعت شروع کی تو ایمرجنسی لگا کر نہ صرف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے 60 سے زائد ججوں کو نوکریوں سے نکال کر گھروں میں محصور کر دیا۔ بالآخر 18 فروری کے انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی حکومت برسر اقتدار آئی تو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ کے فورم سے ججز کی نظربندی ختم کی۔ تب جا کر یہ نظربندی ختم ہوئی۔
2007 میں جنرل پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو سے مذاکرات کے بعد 12 اکتوبر 1999 سے قبل بنائے جانے والے جرائم سے متعلق مقدمات کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بدلے میں انہیں صرف باوردی صدارتی انتخاب لڑنے کا موقع ملا۔ اپنی ذات کے لئے یہ فائدہ حاصل کر کے انہوں نے پیپلز پارٹی، بیوروکریسی اور اپنی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے خلاف تمام مقدمات ختم کر دیے۔
لال مسجد آپریشن نے جنرل پرویز مشرف کی مقبولیت کو سب سے بڑا دھچکا لگایا۔ اس آپریشن کے حوالے سے بھی چودھری شجاعت کے مطابق بات چیت کے ذریعے حل نکالا جا چکا تھا لیکن پھر اچانک نجانے کیا ہوا کہ فوج کو آپریشن کا حکم دے دیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن مشرف نے محض اس لئے کیا کہ امریکہ اور چین کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان میں جنرل مشرف نہ ہوں تو یہاں دہشتگرد قبضہ کر لیں گے۔
محترمہ بینظیر بھٹو اکتوبر 2007 میں پاکستان آئیں تو مائیکل سیگل کے عدالتی بیان کے مطابق انہیں مشرف کی طرف سے بہت سی دھمکیاں دی گئیں۔ جنرل مشرف نے بینظیر بھٹو کو دھمکی دی تھی کہ پاکستان آنے کی صورت میں ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ان کو بطور سابق وزیر اعظم بھی فول پروف سکیورٹی نہ دی گئی۔ بالآخر 27 دسمبر 2007 کو وہ راولپنڈی میں قتل کر دی گئیں۔ موقع واردات سے تمام ثبوت مٹا دیے گئے۔ جنرل مشرف نے بینظیر بھٹو ہی کو ان کی شہادت کا ذمہ دار قرار دے ڈالا۔ نواز شریف کے دور حکومت میں آئین شکنی کا مقدمہ دائر ہونے کے بعد 20 نومبر 2013 کو خصوصی عدالت قائم کی گئی۔
سنگین غداری کیس خصوصی عدالت میں 6 سال تک چلتا رہا، 125 سماعتیں ہوئیں، 31 مارچ 2016 کو فرد جرم عائد ہونے کے موقع پر پرویز مشرف عدالت میں موجود تھے۔ عدالت نے کئی بار پرویز مشرف کو پیش ہونے کا موقع فراہم کیا، وہ نہ آئے تو خصوصی عدالت نے 19 جون 2016 کو پرویز مشرف کو مفرور قرار دے دیا تھا۔ 17 دسمبر 2019 ء کو عدالت عالیہ نے جنرل پرویز مشرف کو آئین کی شق چھ کے تحت باقاعدہ غدار قرار دیتے ہوئے پھانسی کا حکم دیا تھا جس کو کالعدم قرار دلوایا گیا۔
تفصیلی فیصلے میں سابق آمر کی لاش ڈی چوک میں لٹکانے کا حکم چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار سیٹھ مرحوم نے دیا۔ ریاست مدینہ کے دعوے دار عمران خان نے کہا کہ یہ سزا خلاف شریعت ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جنرل مشرف کے خلاف آنے والے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے یاد دہانی کروائی ہے کہ مشرف کو ان کے دیگر جرائم کی سزا بھی ملنی چاہیے جن میں جبری گمشدگیاں، اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ جنرل مشرف کے غیر قانونی اور تمام متنازع اقدامات تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ مکافات عمل سے کوئی انسان کتنا بھی طاقت ور ہو نہیں بچ سکتا بہر حال وہ اللہ کی عدالت میں پہنچ گئے ہیں موت ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی مفر نہیں۔


