ویلنٹائن ڈے : حسرتوں اور محبتوں کا دن


مرد و عورت کی باہمی کشش اور محبت جذباتی پہلو بھی رکھتے ہیں تو جسمانی اظہار اور لمس بھی طلب کرتے ہیں۔ دونوں فطری بھی ہیں کہ یہ ہمارے جسم و دماغ کے تقاضوں اور ضرورتوں میں سے ہیں۔ ہمارے اندر سے ان کا ظہور ہوتا ہے۔ اگر کشش اور محبت کے تقاضوں کو لمبے عرصے تک پورا نہ کیا جائے تو انسان جسمانی، ذہنی اور جذباتی خلل کا شکار ہو سکتا ہے۔

شہوت اور بے حیائی یعنی کشش اور محبت کا غیر مہذب ظہور، اکثر لوگوں ( مذہبی و روایت پسند ) کو اعتراض شاید اسی پر ہوتا ہے کہ محبت و کشش کے اظہار کے طریقے انتہائی غیر مہذب ہیں۔ رد عمل میں خود جنس مخالف سے محبت و کشش کو ہی گناہ اور بے حیائی قرار دیتے ہے۔ مہذب کیا ہے؟ وہ جو خاندان و سماج اور مذہب و قانون کے نزدیک مہذب ہے۔ ہمارا سماج ایسا سمجھتا ہے اور شاید ہر سماج ایسے ہی سمجھتا ہے۔ ہمارا سماج لیکن اپنی تہذیبی و سماجی روایات کے تحت کوئی متبادل راستہ فراہم نہیں کرتا، لوگ ضروری اور جائز اسپیس دینے کو بھی تیار نہیں ہوتے۔ احتجاج کرنے سے یہ سلسلہ تھم نہیں جاتا۔ فطری ضرورتوں کو اپنی تکمیل چاہیے ہوتی ہے۔ ویلنٹائن ڈے اور اس سے فروغ پاتا کلچر یہ ضرورت پوری کرتا ہے تو لوگ اس کو اپناتے ہیں۔

جب آپ کسی عمل کو، کسی روایت کو برا قرار دیتے ہیں تو لازم ہے کہ آپ اس کا کوئی عملی متبادل پیش کریں۔ اپنے عمل سے کسی روایت کی بنیاد ڈالیں تا کہ ان سماجی اور انسانی ضروریات کو اپنی تکمیل کا راستہ ملے کیونکہ وہ معطل نہیں ہو سکتیں۔ دوسری صورت کارواں چلتا رہتا ہے اور موجود پگڈنڈیوں پر ہی اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ آپ اپنے ہی فتوؤں اور نعروں میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس جذباتی و جسمانی ضرورت کو کوئی قابل عمل راستہ دینے کی بجائے صرف ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے ہمارے لوگ چھپ چھپا کر کام چلاتے اور چور دروازے استعمال کرتے ہیں یا اپنے جذبات کو دباتے ہیں (ہاں، ایک اقلیت اس کا بے خوف اظہار کرنے کی جرات بھی کرتی ہے ) ۔ صاف بات ہے کہ یہ دونوں طریقے افراد کی شخصیت کے لیے نقصان دہ ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں دوغلا پن، اخلاقی کج روی، دکھاوے کی پرہیز گاری، مصنوعی مذہبیت اور ذہنی عوارضات وغیرہ جنم لیتے ہیں۔

آپ نوجوانوں کو اپنے ہی نکاح میں اپنی مرضی استعمال کرنے کا حق خوشی خوشی نہیں دیتے۔ نکاح و طلاق کو ایک پیچیدہ معاملہ بنا دیا ہے۔ آپ نے لڑکیوں کے لیے اپنی مرضی سے اپنے شوہر کا انتخاب ایک خواب بنا چھوڑا ہے۔ کسی نے جرات کی تو فحاشی اور بے حیائی کا لیبل لگا دیتے ہیں۔ ناپسندیدہ کو تو چھوڑیے، تشدد اور بے عزت کرنے والے میاں سے طلاق بھی عورت کے لیے ذلت و رسوائی کا سبب بنا دیا ہے۔ ( حالانکہ آپ کی ذمہ داری تو خیرخواہی پر مبنی مشاورت تھی، نوجوانوں اور اولاد کو زندگی کی سیکھ سمجھ دینا تھی تا کہ وہ اپنے فیصلے کرنے اور ان کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل بن سکیں۔ ) آپ کے ہاں بچوں کی ماں تو جیسے شادی کے لیے رٹائرڈ ہے۔ اب وہ شوہر کے گزرنے کے بعد دوسری شادی کا خیال بھی ذہن میں نہیں لا سکتی۔ بوڑھوں کو آپ نے جنسی خواہشات اور ضروریات سے فارغ سمجھ رکھا ہے۔

جبر کے ماحول میں کس چیز کی توقع رکھتے ہیں؟ کیا نکاح ہو جانے سے سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے؟ ایک بستر پر دو لوگوں کا لیٹ جانا سب کچھ سیٹ ہے کا اشارہ ہوتا ہے؟ گھریلو ناچاقیاں، گرم جوشی سے محروم جوڑے، جنسی خوشی کے ترسے ہوئی والدین وغیرہ کیا آپ کو خاموش دہائیاں دیتے نظر نہیں آتے؟ ایسے میں کیا رہ جاتا ہے؟ ویلنٹائن ڈے کلچر۔ آپ کو اس پہ اعتراض ہے تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی جنسی محرومیوں کا مداوا کریں، نکاح و طلاق اور رشتہ طے کرنے کے روایتی انداز کو بہتر بنانے کے لیے قدم اٹھائیں، مشترکہ خاندانی نظام کی خامیوں کا حل تجویز کریں۔ جنس اور جنسی معاملات کے متعلق اپنے تصور کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ صرف ویلنٹائن ڈے کی مخالفت یا حیا ڈے منانے سے کوئی فائدہ متوقع نہیں، چاہے ہم اور آپ بے حیائی اور فحاشی کا کتنا بھی رونا روئیں۔

Facebook Comments HS