جنوبی بھارت کا رہن سہن: ایک خاتون کی زبانی


ہمارے ہاں عام طور پر خواتین اپنے ہاتھوں میں انگوٹھیوں کا استعمال کرتی ہیں۔ میں نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ ہمارے ساتھ سفر کرنے والی خاتون نے اپنے پاؤں کی انگلیوں میں بھی انگوٹھیاں پہن رکھی تھیں۔ اب انھیں انگوٹھی کہاں جائے یا کچھ اور معلوم نہیں لیکن میں نے یہ پہلی مرتبہ دیکھا اور اس کے بعد مجھے کبھی بھی ایسا دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔

میں نے خاتون سے بات کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ ہمارے ہاں جب بھی خواتین چاند کو دیکھتی ہیں تو بچوں کو یہ کہتی ہیں کہ یہ چندا ماموں ہے۔ کبھی یہ نہیں کہتی کے چاچو چندا ہیں یا پھوپھا چندا ہیں۔ کیا صرف ماموں ہی چندا ہوتے ہیں؟ چچا یا تایا چندا نہیں ہو سکتے؟ اس پر انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بھی یہی رواج ہے کہ چاند جو بہت ہی خوبصورت لگتا ہے کو دیکھ کر ماں ہمیشہ اپنے بچوں کو یہ کہتی ہے کہ یہ چندا ماموں ہیں۔ شاید یہ مشرقی عورت کی بھائیوں سے محبت کا اظہار ہے۔

میں نے ان سے یہ پوچھا کہ آپ کے ہاں خاندان کتنا مضبوط ہے اور کیا خاندانی روایات برقرار ہیں؟ ان کا جواب بہت ہی مناسب تھا۔ انھوں نے بتایا کہ میرا تعلق تامل ناڈو کے ایک چھوٹے سے قصبے سے ہے لیکن اس وقت میں اپنے میاں کی ملازمت کی وجہ سے ممبئی میں رہائش پذیر ہوں اس طرح مجھے ممبئی اور تامل ناڈو دونوں کو دیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تامل ناڈو میں ابھی تک ہم پرانے رسم و رواج جن میں ساس کی عزت و احترام، بہو کے ساتھ ہونے والی تھوڑی بہت زیادتیاں، بڑوں کا ادب، مشترکہ خاندانی نظام وغیرہ شامل ہیں کے ساتھ کافی حد تک جڑے ہوئے ہیں۔

دوسری اہم بات انھوں نے یہ بتائی کہ ہمارے ہاں بچیوں کی تعلیم پر بہت زور دیا جاتا ہے اور بچیوں نے تعلیم کے میدان میں بہت کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ ایک وقت تھا جب ہمارے ہاں لڑکیاں بہت کم ملازمت کرتی تھیں لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب خواتین آپ کو ہر جگہ کام کرتی نظر آئیں گی۔ شاید ہی کوئی ایسی لڑکی ہو جو پڑھی لکھی ہو اور اس نے پروفیشنل تعلیم بھی حاصل کی ہو اور وہ کوئی نوکری نہ کر رہی ہو۔ ایسا کرنے سے کچھ مسائل نے بھی جنم لیا ہے۔

پہلا مسئلہ یہ ہے کہ کام کرنے والی خواتین کم بچے پیدا کرنا پسند کرتی ہیں۔ جس سے آبادی میں اضافہ اب نہ ہونے کے برابر ہے اور آہستہ آہستہ یہ مزید کم ہوتا جا رہا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بر سر روزگار خواتین اپنے خاوند سے اس طریقے سے بات نہیں کرتیں جس طریقے سے وہ خواتین کرتی ہیں جو بر سر روزگار نہیں ہیں۔ میں اسے معاشی آزادی کہہ سکتی ہوں۔ لڑکیوں کے ملازمت کرنے کی وجہ سے طلاق کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ جسے اچھا نہیں سمجھا جا رہا۔ انھوں نے ایک اور بات بتائی کہ اب پڑھی لکھی برسر روزگار لڑکیاں طلاق کو برا بھی نہیں سمجھتیں۔ وہ سمجھتیں ہیں کہ جب آپس میں گزارا نہیں ہو سکتا تو علیحدہ ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

میں جو آپ کو بات بتا رہا ہوں وہ آج سے بیس سال پرانی ہے۔ اب جب میں نے اسے دوبارہ سے دیکھا تو پتہ چلا کہ معاملہ پہلے سے بھی بے حد تک بگڑ چکا ہے اور اس میں پاکستان اور بھارت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جو کچھ ہمارے ہاں پاکستان میں ہو رہا ہے ویسا ہی بھارت میں بھی ہو رہا ہے۔

یورپ اور امریکہ میں رہنے والے کچھ بڑی عمر کے لوگوں سے بات چیت کر کے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آج سے پچاس قبل وہاں بھی خاندانی روایات کا احترام کیا جاتا تھا اور خاندانی نظام مضبوط بھی تھا۔ اس وجہ سے طلاق کی شرح بہت کم تھی۔ جیسے جیسے معاشی ترقی ہوئی، تعلیم عام ہوئی اور خواتین گھر سے نکل کر دفاتر اور فیکٹری میں آ گئیں تو طلاق کی شرح میں بھی اضافہ ہو گیا یہی صورتحال اب بھارت اور پاکستان میں بھی ہے۔ یہ کہنا کہ یہ سب تعلیم کی وجہ سے ہے درست نہیں ہو گا۔ اس کی بہت سی دیگر وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ حال ہی میں مختلف لوگوں کی کی گئی تحقیق کے مطابق خواتین کا بر سر روزگار ہونا انھیں معاشی آزادی کی طرف لے کر گیا ہے۔ جس نے ان کے اندر ایک اعتماد پیدا کیا ہے۔ دوسرا انھیں اپنے حقوق کا بھی علم ہوا ہے۔ ان دو نکات نے طلاق کی شرح میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

آخر کار ہم ممبئی پہنچ گئے۔ سٹیشن پر ہماری ہم سفر خاتون جن کا ہم نام بھی نہ پوچھ سکے۔
مشرقی شرم و حیا کی وجہ سے۔
سٹیشن پر ان کے خاوند آئے ہوئے تھے۔ ان سے بھی ہماری سلام دعا ہوئی۔ انھوں نے ہمارا شکریہ بھی ادا کیا۔

Facebook Comments HS