ماں بولی زبان کی اہمیت و ضرورت


ماں بولی صرف ہماری ماؤں کی زبان نہیں بلکہ ماں بولی کی اصل دھرتی یعنی زمین سے ہے۔ آپ کبھی غور کیجیے گا کہ جن پاکستانی ماؤں کے بچے انگلینڈ یا یورپ و امریکہ پیدا ہوتے ہیں ان کی قدرتی زبان انگریزی جبکہ عرب خطے میں پیدا ہونے بچے والے فر فر عربی بولتے ہیں۔ ایسے ہی چین و افغان سرزمین پر جنم لیے والے اس مٹی کی زبان میں مہارت رکھتے ہیں۔ اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ زبان کا تعلق کسی بھی خاص علاقے سے ہوا کرتا ہے۔

آپ تھوڑا غور تو کیجیے کہ حضرت آدم علیہ سلام کی اولاد جس زمین پر آباد ہوئی وہاں ایک نئی زبان وجود میں آ گئی۔ آج دنیا میں کے ہر خطے میں الگ زبان ہے تو اس کے پیچھے بھی خالق کی کوئی حکمت ضرور ہوگی۔ دنیا میں زبان کو لے اتنی شدت شاید ہی کسی ملک میں ہو جتنی پاکستان میں لوگوں کو درپیش ہے۔ ہندوستاں میں سینکڑوں زبانیں بولی جاتی تھیں۔ اس کے باوجود لوگ سارے ہندوستاں تجارتی سفر کرتے اور آپس میں رابطہ بنائے رکھتے۔

مغل دور میں فارسی درباری زبان قرار دی گئی لیکن ہر علاقے کے لوگ پھر بھی اپنی سہولت کے مطابق اپنی علاقائی زبانوں سے جڑے رہے۔ انگریز عہد میں انگریز سامراج نے ہندوستانیوں کو جب جسمانی غلام بنالیا تو تادیر ان پر حکومت کرنے کے لیے انہیں ذہنی غلام بنانے کا منصوبہ تیار کیا۔ ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کے لیے خطے کی ثقافت، زبان اور ماضی کے حوالے سے نت نئی کہانیاں گھڑیں، اپنے کارندوں کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا بیج بونے کے لیے بہت محنت سے کام کیا اور بہت حد تک کامیابی حاصل کی۔

یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہندوستاں تک ہندی ہندووں اور اردو مسلمانوں کی زبان سمجھی جانے لگی۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے اردگرد حیدر آباد کے نواب اور انگریز سے جاگیریں حاصل کرنے والے بہت سے لوگ تھے۔ انہی کی مشاورت سے قائد نے اردو کو ملک پاکستان کی قومی زبان قرار دیا ہو گا۔ ہندوستان کراچی میں پیدا ہونے والے، دلی، ممبئی میں وکالت کے میدان میں نام بنانے والے اور پھر لاہور میں غازی علم دین کا مقدمہ لڑنے والے محمد علی جناحؒ یقیناً اردو، سندھی اور پنجابی اچھے سے سمجھتے ہوں گے۔ لیکن آپ کی بہت سی سیاسی تقاریر انگریزی زبان میں ہم تک پہنچی ہیں۔

میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ آج پچھتر سال یعنی پون صدی گزرنے کے بعد بھی پاکستان کی قومی زبان بھلے اردو ہے لیکن دفتری زبان انگریزی ہے۔ عدالتوں نے کئی بار حکمران طبقے کو یہ حکم جاری کیا ہے کہ قومی زبان کو دفاتر میں لاگو کیا جائے لیکن بیورو کریسی اور حکمرانوں نے کبھی اس حکم پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ عدالتوں میں اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی، سندھی، بلوچی اور پشتو کو بھی قومی زبان تسلیم کیا گیا ہے اور باقی صوبوں میں طلبا و طالبات کو پرائمری سے ان کی مادری زبان میں لازمی تعلیم دی جا رہی ہے۔

لیکن جب پنجاب کی بات آتی ہے تو حکمران پنجابی زبان کو سکولوں میں پڑھانے کے لیے کبھی بھی تیار نظر نہیں آئے ہیں۔ کبھی پنجابی کے لہجوں پر اعتراض بنا کے لسانیت کو ہوا دی جاتی ہے تو کبھی کوئی پنجابی بولی کو ان پڑھوں کی زبان کہہ کے سکولوں، کالجوں اور میڈیا پہ تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ امریکہ و برطانیہ کے انگریزی بولنے کے لہجے میں بہت نمایاں فرق ہے لیکن ان ملکوں میں انگریزی زبان کو لے کوئی دو رائے سامنے نہیں آتی ہیں۔ سارے عرب ملکوں کی قومی زبان عربی ہے۔

صاحبو! حقیت یہ ہے کہ زبان زمین سے نکلتی ہے۔ اس لیے بہتر ہوتا کہ مردم شماری کرتے وقت زبان کے خانے میں پنجاب کے لوگوں کی زبان پنجابی، سندھ والوں کی سندھی بلوچستان کی بلوچی اور کے پی کی کی پشتو لکھی جاتی۔ پنجاب میں تو ایسا نہیں ہوا ہے۔ پنجاب میں

پہلے پنجابی زبان کو تعلیمی نصاب سے دور کیا کیا گیا۔ اسے ان پڑھوں کی زبان کہا گیا پھر پنجابی کے لہجوں کو لے عصبیت پھیلائی گئی۔

چند ہفتے پہلے کراچی کے ایک سکول میں اردو بولنے پہ استاد کی جانب سے طالب علم کے چہرے پہ سیاہی ڈالنے کی خبر نے بہت دکھ دیا۔ میں کتنی ہی دیر سوچتا رہا کہ وہ کیسا استاد ہو گا۔ اس کی تربیت کس ماں نے کی ہوگی کہ وہ اپنی قومی زبان کے بولنے پر ایک بچے پر تشدد کرنے کو تیار ہو گیا۔ اب ایک نقطہ یہ بھی سمجھنے والا ہے کہ میرے ملک کی دفتری زبان آج بھی اسی نوے فیصد تک انگریزی ہے۔ حکمرانوں اور اعلی عہدوں پر نوکری کرنے والے لوگوں کے بچے گھروں اور تعلیمی اداروں میں انگریزی بولتے ہیں۔

سوشل میڈیا پہ بھی انگریزی زبان کا ہی غلبہ دیکھنے کو آتا ہے لیکن حیران کن طور پر ملک کے 90 فیصد ٹی وی چینل اردو میں نشریات پیش کر رہے ہیں۔ کچھ وقت پہلے ایک دو انگریزی چینل شروع ہوئے تھے لیکن بہت جلد یا تو بند کر دیے گئے یا انہوں نے بھی اردو میں پروگرام پیش کرنے شروع کر دیے۔ اب کوئی پوچھے کہ انگریزوں کی غلامانہ سوچ کو پروان چڑھانے والوں کے من چاہے ٹی وی چینل انگریزی زبان میں پروگرام کیوں نہیں کرتے؟ اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ بہت سی کتابیں پڑھنے اور بہت سال منہ بگاڑ بگاڑ کے بدیسی زبان بولنے کے باوجود پاکستانی لوگ انگریزی پر ویسی دسترس نہیں رکھتے جیسی اہل زبان کو ہوتی ہے۔

اگر چند اینکر انگریزی زبان پر عبور رکھتے بھی ہوں گے تو جن سے ٹی وی پہ بٹھا کے گفتگو کرنی ہوتی ہے وہ سیاست دان اور تجزیہ نگار کہاں سے تلاش کریں گے کہ جن کو دوسرے ملکوں کی زبان ’انگریزی‘ پر مکمل عبور حاصل ہو۔ سائنسی میدان میں بھی تب ہی ترقی کا سفر شروع ہو گا جب طلبا و طالبات دھرتی کی زبان پڑھیں گے۔ میرا یہ مشورہ ہے، رائے ہے اور درخواست ہے کہ اگر ملک میں امن و محبت کی آبیاری کرنی ہے تو ہر صوبے کی قومی زبان کو عزت دیتے ہوئے تعلیمی اداروں میں رائج کرنا ہو گا۔

اگر پنجاب کے سکولوں اور مدارس میں پنجابی پرائمری سے رائج ہوگی تو بچے لازمی طور پر بابا فریدؒ، سلطان باہو، بلھے شاہ، شاہ حسین، میاں محمد بخشؒ، وارث شاہ اور دیگر پنجابی صوفیا کے پیام محبت کو پڑھیں گے۔ پنجاب دھرتی کی زبان پنجابی ذریعہ تعلیم ہوگی تو بچوں کو رائے احمد خاں کھرل، دلہا بھٹی جیسے بہادروں، عالم لوہار، شوکت علی اور عنائیت حسین بھٹی جیسے لوک گلوکاروں سے آگاہی ہوگی۔ پنجابی بچوں کے اپنے ہیرو ہوں گے۔ دھرتی کی زبان پنجابی پڑھائی جائے گی تو روایتی کھیلوں کو بھی اہمیت ملے گی، پنجاب کے میلے آباد ہوں گے تو رنگوں سے بھرا پنجاب دیکھنے دنیا بھر سے سیاح پاکستان آئیں گے۔

Facebook Comments HS