کیا آپ بھی ‘نکوسیا’ میں مبتلا ہیں؟
ہمارے ایک معتبر اور شریر صحافی دوست بتایا کرتے تھے کہ ایک زمانے میں لاہور کے ایک روزنامے میں ایک نستعلیق قسم کے بزرگ نیوز ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ صحافت کے شعبے میں ان کا کتنا تجربہ تھا یہ تو معلوم نہ ہوسکا۔ تاہم زندگی کے میدان میں ان سا تجربہ کار آس پاس نہ تھا کہ وہ اس وقت تک تین شادیاں اور ایک عالمی جنگ بھگتا چکے تھے۔
خلیجی جنگ کا آغاز ہوا تو نیوز روم کے ایک کونے میں رکھے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے ٹیلی پرنٹر پر جو بھی تازہ خبر موصول ہوتی وہ قبرص کے دارالحکومت ’نکوسیا‘ سے ہوتی۔ نکوسیا پر نظر پڑتے ہی وہ بزرگ اپنی عینک اتارتے اور اخبار کے نوجوان صحافیوں کو مخاطب کر کے پوچھتے
کیا کبھی ’نکوسیا‘ گئے ہو؟
جواب نفی میں ملتا۔ انٹرنیٹ کے پھیلاؤ سے پہلے کا دور تھا اور بہت سے لوگ نکوسیا کے جغرافیائی وجود سے بھی ناآشنا تھے جبکہ نیوز ایڈیٹر اخلاقی حدود کی طرح اس شہر کو بھی پار کرچکے تھے۔
پوچھتے : کیوں بھئی، کبھی کسی جنگ میں حصہ لیا ہے؟
جواب ایک بار پھر نفی میں ہوتا۔ اس پر وہ بتانے لگتے کہ کس طرح دوسری عالمی جنگ کے دوران میں ہند برطانوی فوج کے انفنٹری یا پیادہ دستے کے ساتھ نکوسیا کے سفر پر گئے تھے اور پھر جانے کیوں ٹینک کی ساخت پرداخت، اس کی اندرونی بیرونی بناوٹ پر اس زور دار انداز میں روشنی ڈالتے کہ یہ بات بھول ہی جاتے کہ وہ پیادہ فوج کا حصہ تھے۔ اپنی بات یوں آغاز کرتے
نوجوانان ملت، یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نکوسیا میں تھا ”۔ اور پھر نہ“ جنگ ختم ہوتی اور نہ ہی ان کے قیام نکوسیا کا سفر نامہ۔ نوجوانان ملت بے چارے ادب سے مسکرا مسکرا کر سینئر صحافی کے بارہا سنے ہوئے واقعات کو بھگتا کرتے۔
ایک صحافی دوست ان بزرگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہنے لگے : ’کہیں آپ ان صاحب کی بات تو نہیں کر رہے جو‘ نکوسیا ’میں مبتلا ہیں؟
آئیے، اب آپ بھی وقت کو فاسٹ فارورڈ کرتے ہوئے میرے ساتھ سن 2023 میں آ جائیے جہاں میں منیر پرویز سامی صاحب سے ملتا ہوں تو بات کا آغاز ہوتا ہے۔ ”سامی صاحب جب میں لاہور میں تھا“ ۔ ڈاکٹر خالد سہیل صاحب سے ٹاکرا ہوتا ہے تو بات یوں شروع ہوتی ہے : ”ڈاکٹر صاحب جب میں کولون، جرمنی میں تھا وہاں ہم نے۔“ ۔
چنانچہ اب آپ پورے اعتماد و اطمینان سے کہہ سکتے ہیں کہ میں سنگل نہیں ’ڈبل نکوسیا‘ میں مبتلا ہوں۔ ایک پاکستان کا شہر لاہور اور دوسرا جرمنی کا شہر کولون۔
ٹورانٹو میں رہتا ہوں جو اردو ادب کا ایک نیا گھر بھی بن چکا ہے۔ ایک ایسا روشن اور ہوادار گھر جس میں صحت مند تخلیقی رویے بھی نشوونما پا رہے ہیں اور مثبت تنقیدی اور اشاعتی سلسلے بھی پنپ رہے ہیں۔ مگر میں لاہور کو یاد کیا کرتا ہوں۔
پھر سوچتا ہوں کون ہے جو اس نام نہاد ’نکوسیا‘ کا شکار نہیں۔
میری نانی جان تقسیم ہند کے بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ پاکستان منتقل ہوئیں تو پہلے منٹگمری رہیں۔ وہاں سے لائل پور اور عمر کے آخری برس انھوں نے ہمارے پاس لاہور میں بسر کیے۔ مگر قلبی اور ذہنی طور پر وہ لدھیانہ کے محلہ سیداں سے باہر نہ آ سکیں۔ اپنے آبائی علاقے اور اس کے گردوپیش ہی میں گھومتی رہیں۔
اور ہاں، ادبی تاریخ میں یہ واقعہ بھی تو درج ہے کہ جب دلی کے حالات سازگار نہ رہے تو ہمارے میر صاحب کو بھی تو ترک سکونت کر کے لکھنو میں ڈیرہ لگانا پڑا تھا۔ تب ان کا پرانا شہر ان کا نکوسیا ہی تو بن گیا تھا جس کو یاد کرتے ہوئے وہ کہہ اٹھے :
کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
گزشتہ ویک اینڈ پر ٹورانٹو میں فیملی آف دی ہارٹ کی تقریب میں صلاح الدین پرویز صاحب نے یہ الم ناک اطلاع دی کہ ہمارے مشترکہ اور دیرینہ شاعر دوست طفیل خلش جرمنی میں انتقال کر گئے تو ذہن فوراً جرمنی کے ان دنوں کی جانب روانہ ہو گیا۔ طفیل خلش بہت ہنس مکھ انسان تھے۔ فرینکفرٹ میں بیٹھے لاہور کیا پورے پنجاب کو یاد کیا کرتے۔ وہ پنجاب کو اپنا اصل دیس قرار دیتے ہوئے اکثر یہ پنجابی شعر ادبی محافل میں سنایا کرتے :
میرے دیس تے مالکا نہ اترے کوئی عذاب
ترا وسے کعبہ سوہنیا، مرا وسدا رئے پنجاب
طفیل خلش مجھ سے ہر محفل میں اس غزل کی فرمائش کرتے
لاہور کی حسین فضاؤں سے دور ہوں
لگتا ہے جیسے ماں کی دعاؤں سے دور ہوں
گرمی کی شام موتیا، سردی کی شب گلاب
موسم کی دل فریب اداؤں سے دور ہوں
گم ہوں دیار غیر کے اس برف زار میں
اپنوں کی پرتپاک جفاؤں سے دور ہوں
اک دشت بے اماں کی خموشی ہے چار سو
شہر وفا کی میٹھی صداؤں سے دور ہوں
اک یاد بن کے رہ گئی سرسبز چاندنی
جب سے خیال یار کی چھاؤں سے دور ہوں
میں دور ہوں کسی گل خوش رو کی آنچ سے
آنچل کی مہکی مہکی ہواؤں سے دور ہوں
(حامد یزدانی)
مجھے یاد ہے، جب میں نے ایک مشاعرہ میں یہ غزل پہلی بار سنائی تو وطن سے دور آباد بہت سے سامعین جذباتی ہو گئے مگر جب میں آخری شعر پر پہنچا تو خلش صاحب کی رگ ظرافت پھڑکی۔ انہوں نے شعر کو باآواز بلند دہرایا اور پھر سامعین میں بیٹھی میری بیگم طاہرہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے :
بھابھی جی، یہ آپ کے ہوتے ہوئے کس گل خوش رو کے آنچل کو یاد کر رہے ہیں؟ ذرا گھر جاکر ان کی خبر تو لیں۔
اس پر اجتماعی قہقہہ بلند ہوا اور مشاعرہ کی فضا خوب خوشگوار ہو گئی۔
میں ماضی اور حال کے دریچوں کو ذرا سا بھی وا کروں تو دیکھتا ہوں کہ برلن میں مقیم شاعر، ادیب اور براڈکاسٹر عارف نقوی لکھنو یونی ورسٹی کی یادیں تازہ کر رہے ہیں۔ لندن میں بی بی سی والے شاہد ملک سیالکوٹ، گورڈن کالج راول پنڈی اور واہ کی باتیں کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر خالد سہیل پشاور، ایران اور نیو فاونڈ لینڈ میں اپنے ابتدائی دنوں کے احباب کو محبت سے یاد کر رہے ہیں۔ عرفان ستار کراچی کی ادبی دنیا کی رنگا رنگی کی یادیں تازہ کر رہے ہیں۔ جرمنی میں لئیق صاحب جھنگ میں اپنے بچپن کی باتیں سنا رہے ہیں۔ امجد اپنے گاؤں کی، لاہور میں انیس یعقوب اور مظفر محمد علی کو اور برلن کو یاد کر رہا ہے۔ طاہرہ بھی لاہور اور کولون کی باتیں کر رہی ہیں۔
میں اور طاہر اسلم گورا مل بیٹھیں تو ’لاہور نامہ ”جاری ہوجاتا ہے۔ اب ہم میں امیر حسین جعفری بھی آ شامل ہوئے ہیں۔ گویا یک نہ شد سہ شد۔
آج میرے ایک ہمکار نے دفتر کے لنچ روم میں اعلان کیا کہ ریٹائر ہوتے ہی وہ اپنے وطن کروایشا روانہ ہو جائے گا اور اپنی باقی زندگی وہیں بسر کرنا چاہے گا تو اس کے ساتھ کھڑی خاتون ہمکار نے میری طرف دیکھتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا ریٹائرمنٹ کے بعد میں بھی مستقل طور پر پاکستان یعنی لاہور منتقل ہونا چاہوں گا تو میں سوچنے لگا ٹورانٹو کو ایک اور نکوسیا بنانا کیا اچھا لگے گا؟
میرے پاس پہلے ہی سے دو دو نکوسیے موجود ہیں۔ ایک اور بنا کر بھلا کیا کروں گا


