پرویز الٰہی کی سیاست
ہمارے ملک کی سیاست میں کوئی اس بات سے واقف نہ تھا کہ 1957 ء میں ڈسٹرکٹ بورڈ گجرات میں بلا مقابلہ منتخب ہونے والا ایک رکن پاکستان کی قومی سیاست پر گہرے نقوش چھوڑے گا اور اس کا خاندان ملک پر حکمرانی بھی کرے گا۔ امر تسر میں تین کھڈیوں کے مالک دو بھائی اس قدر باوسائل ہوں گے کہ ایک سیاست میں بھرپور کر دار ادا کرے گا اور دوسرا کاروبار پر تمام توجہ مرکوز کیے رکھے گا۔
نت گاؤں گجرات کا یہ خاندان چوہدری ظہور الٰہی کی سیاست کے باعث مشہور ہوا۔ چوہدری ظہور الٰہی تعلق نبھانے اور لڑائی لڑنے کی دونوں صلاحیتوں سے خوب واقف تھے۔ انہوں نے کالا باغ کے امیر محمد خان، گورنر مغربی پاکستان کے ساتھ بھی دونوں طرح کے تعلق نبھائے اور یہی حال ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ رہا۔ پیر پگاڑا کے ساتھ بھی معاملات کچھ ایسے ہی رہے تاہم چوہدری ظہور الٰہی نے قومی اسمبلی کے الیکشن ہار کر اور جیت کر اپنا کر دار نبھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔
ان کے قتل سے قبل ہی 1977 ء میں چوہدری شجاعت حسین کو صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دیا گیا مگر انتخاب ہونے نا ہونے ایک برابر رہے اور خالی پولنگ اسٹیشن اپنی کہانی خود بیان کر رہے تھے۔ 1983 ء میں چوہدری پرویز الٰہی ڈسٹرکٹ کونسل گجرات کے چیئرمین تھے اور 1985 ء کے صوبائی اسمبلی کا انتخاب بھی جیت گئے تھے۔ اس وقت بلدیاتی اور قومی و صوبائی اسمبلی پر بیک وقت الیکشن لڑنے کی پابندی نہ تھی۔
1985 ء میں دل تو چاہتا تھا کہ وزیرِاعلیٰ بن جائیں تاہم میاں نواز شریف، ملک اللہ یار، چوہدری عبد الغفور اور بعض دیگر بھی امیدوار تھے۔ گورنر کے پاس وزیرِاعلیٰ نامزد کر نے کا اختیار تھا اور جنرل جیلانی نے میاں نواز شریف کو وزیرِاعلیٰ نامزد کروایا۔ میاں منظور وٹو اسپیکر بنے مگر ضلع کونسل کے چیئرمین بھی رہے۔
میاں نواز شریف کا اپنا طرز حکمرانی اور پسند و ناپسند تھی۔ وہ پیر پگاڑا اور محمد خان جونیجو کی مسلم لیگ کا رکن بننے سے انکاری تھے مگر سیاست کے تقاضے کچھ اور بھی ہوتے ہیں۔ 1986 ء میں پرویز الٰہی نے وزیرِاعلیٰ کے خلاف زبان کھولی (اس کی تفصیل پھر کبھی تحریر کروں گا) اور پنجاب میں حکمران جماعت کے اندر واضح گروپ بندی ہو گئی۔ مخدوم الطاف احمد، ملک اللہ یار اور بعض دیگر اہم ارکان اس سفر میں شریک ہوئے۔ پیر پگاڑا اور جنرل ضیا الحق کی آشیرباد میاں نواز شریف کی بجائے پرویز الٰہی کی طرف تھی تاہم وزیرِاعظم محمد خان جونیجو کا اپنے قریبی ارکان کو کہنا تھا کہ جمہوریت کی کچی دیوار سے اینٹ نکالنا اس کو گرانے کے برابر ہے اس لیے وہ کسی صورت نواز شریف کو ہٹانے نہ دیں گے۔
چوہدری شجاعت حسین بیرون ملک سے واپس آئے تو انہوں نے اس آگ کو ٹھنڈا کیا، یوں معاملات میں پھر سدھار آنا شرع ہوا تو ضیا الحق نے کہا کہ میری عمر بھی نواز شریف کو مل جائے بعد ازاں معاملات طے پائے اور محمد نواز شریف کو دورہ گجرات کی دعوت دی گئی ان کی گاڑی کو چلنے نہ دیا گیا بلکہ انہیں کندھوں پر اٹھا کر سفر طے کروایا گیا۔ جب شہباز شریف پہلی بار وزیرِاعلیٰ بنے تو بقول پرویز الٰہی ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا مگر ایسا نہ ہوسکا اور وہ اسپیکر بنائے گئے۔
1999 ء کے مارشل لا کے نفاذ کے بعد یہ بات بہت واضح تھی کہ مسلم لیگ کے اندر ذہنی تفریق ہے اور چوہدری صاحبان کی رائے ہے کہ مارشل لا سے لڑنے کی بجائے مصالحت کا راستہ نکالا جائے۔ 1977 ء کے مارشل لا کے بعد بھی اس خاندان نے مارشل لا کا ساتھ دینے کی کوشش کی تھی۔ ایک طرف مقدمات کا سامنا تھا دوسری طرف تعلقات استوار کرنے کے لیے بھی یار دوست کہہ رہے تھے۔
میاں نواز شریف کی جلاوطنی سے قبل ہی یہ محسوس ہو گیا تھا کہ مسلم لیگ اب ایک ہو کر نہیں رہ سکتی۔ جنرل مشرف کی پہلی خواہش راجا ظفر الحق تھے جو پہلے بھی مارشل لا ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین رہ چکے تھے، دوسری ترجیح میاں محمد اظہر اور تیسری سید فخر امام تھے۔ میاں اظہر کے لیے یہ سب کام کرنا آسان نہ تھا اور نہ ہی وہ اس میں پورے اتر سکے اس لیے چوہدری صاحبان کو ان کے ساتھ منسلک کر کے کافی با اختیار بنا دیا گیا۔
پرویز الٰہی کا میاں اظہر سے بھی اختلاف ہوا (تفصیل پھر کبھی سہی) میر ظفر اللہ جمالی سے بھی ہوا، سلیم سیف اللہ سمیت کئی لوگوں سے ہوا اور شوکت عزیز کے ساتھ تو معمول تھا۔
2013 ء میں شریف خاندان اور چوہدری صاحبان کے درمیان معاملات طے ہوتے ہوتے رہ گئے تھے اور چوہدری شجاعت ہر صورت قابل قبول تھے بالآخر جب معاملات طے نہ ہوئے تو پرویز الٰہی جن کو محترمہ اپنے قتل سے قبل اپنے مبینہ قاتلوں میں شامل کر کے دنیا سے رخصت ہوئی تھیں انہوں نے مرکز سے مسلم لیگ (ن) کے الگ ہونے کے بعد آصف علی زرداری سے معافی مانگی اور ق لیگ مرکزی حکومت میں شامل ہوئی۔ یوں پرویز الٰہی غیر آئینی اور غیر قانونی نائب وزیرِاعظم بن گئے۔
2008 ء میں مسلم لیگ (ق) کو کافی نشستیں مل جاتیں اگر محترمہ بے نظیر بھٹو قتل نہ ہوتیں۔ پرویز الٰہی تب وزیرِاعظم بننا چاہتے تھے اور اپنے صاحبزادے کو وزیرِاعلیٰ بنانا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے متوقع امیدواروں کے خلاف آزاد امیدواروں کی لائن لگادی تھی۔ اگر محترمہ شہید نہ ہوتیں تو پرویز مشرف کے ساتھ اقتدار کی تقسیم کا فارمولا بن چکا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) صدر پرویز مشرف کو آل پاکستان مسلم لیگ کے نام پر لوٹائی جانی تھی، مگر اس سے بھی انحراف کر دیا گیا۔ پرویز مشرف کے پر نسل سیکریٹری طارق عزیز سے بھی بہت گہرے تعلقات گہرے اختلافات میں تبدیل ہوچکے تھے۔ آخر انہوں نے صدر زرداری کے ساتھ اپنے معاملات طے کرنے تھے۔
بہرحال اب چوہدری پرویز الٰہی نے سب سے الگ تھلگ ہو کر اپنے محسن سیاسی رہبر، چچازاد بھائی اور بہنوئی چوہدری شجاعت حسین کے ساتھ بھی اختلافات پیدا کر لیے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کا دستور پوری طرح چوہدری شجاعت کا ساتھ دیتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے ایکٹ کے تحت کوئی شخص دو سیاسی جماعتوں کا بیک وقت رکن نہیں رہ سکتا۔ پرویز الٰہی نے تحریک انصاف کا صدر بننا چاہا، مصیبت میں گھری پی ٹی آئی نے ایسا کر نے کا فیصلہ کر لیا لیکن صدر تو مخدوم جاوید ہاشمی بھی تھے۔
فرض کریں عمران خان نا اہل ہو جاتے ہیں تو کیا شاہ محمود قریشی یا اسد عمر پارٹی کی سربراہی سنبھالیں گے۔ مزاروں پر اکٹھا ہونے والا نذرانہ سیاسی تحریک پر نہیں خاندان پر خرچ ہوتا نظر آتا ہے اور اسد عمر کے بارے میں کیا بات کی جائے۔ اب پرانی والی اے ٹی ایم بھی نہ چل سکے گی۔
مونس الٰہی کے پاس این آئی سی ایل اور کئی دوسری اے ٹی ایم موجود ہیں وہی ضروریات پوری کریں گے۔ لوگ بھی اسٹیج پر جانے کے لیے اب 3، 3 لاکھ روپے فی کس دیں گے۔ اگلے انتخابات میں اخراجات کو پورا کرنے والا اپنی مرضی کر نا چاہے گا۔ لیکن کیا ایسا کرسکے گا؟
جو کچھ فواد حسین کے بارے کہا گیا جانے اس کا رنگ روپ کیا ہو گا۔ ایک بات طے ہے کہ پارٹی پر قبضہ منتہائے مقصود ہو سکتا ہے لیکن یہ منزل کس کو ملے گی؟ نا اہلی، جیل، انتشار اور ملک میں بے یقینی کم ہونے کے بعد ہی صورت حال واضح ہوگی۔
اب جبکہ سپریم کورٹ نے سوموٹو نوٹس بھی لے لیا ہے اور وکلا بھی آئین کی دفعہ 209 کا ذکر کر رہے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ بھی مخصوص بینچ کے پاس مقدمات نہ لگانے کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کیا پھر ایک وکلا تحریک چل سکتی ہے؟ اس کے مقاصد کون حاصل کرے گا؟
وفاق اکائیوں کی بنیاد پر قائم ہے اور صوبائی خود مختاری بھی ایک بڑا مسئلہ رہ چکی ہے۔ وسائل کا نہ ہونا خطرات کی گھنٹی بجا رہا ہے۔ اللہ خیر کرے، معاملات گمبھیر اور ہمارا رویہ غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ ہے، ہم صرف اقتدار چاہتے ہیں۔ مجھے تو پرویز الٰہی وزیرِاعظم بنتے نظر نہیں آتے اور مونس الٰہی وزیرِاعلیٰ بھی بن نہ سکیں گے۔
جیل بھرو تحریک کی کامیابی کا امکان نظر نہیں آ رہا تاہم قیدیوں کو چونکہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا جا رہا ہے تو 90 دن قید تو اس دفعہ کے تحت عام ہوتی ہے۔
بشکریہ ڈان اردو


