بہن پاکستان میں، بھائی انڈیا میں


اب کے برس تو ساون رت کے بادل ٹوٹ کے برس رہے تھے۔ اگست کا حبس بھرا مہینہ شروع ہو چکا تھا۔ آسماں پر سیاہ بادلوں نے ڈیرے جما رکھے تھے۔ ہم پاک پتن (پنجاب۔ پاکستان) کے قریبی گاؤں چک نمبر 36 ایس پی میں ایک بزرگ کی سن سنتالیس کی یادیں ریکارڈ کرنے جا رہے تھے۔

36 ایس پی گاؤں انیس سو سنتالیس میں ضلع منٹگمری (ساہیوال) کا حصہ تھا اور یہاں سکھ، مسلمان اور ہندو مل کر رین بسیرا کرتے تھے۔ اب اس گاؤں میں صرف مسلمان بستے ہیں۔ کچھ مقامی، کچھ سرحد پار سے ہجرت کر کے آنے والے۔ مہاجرین میں ایک پٹھان خاندان بھی ہے جو گاؤں تلواڑہ (سرسہ۔ انڈیا) سے نکلا اور دکھوں کے کئی پہاڑ کاٹ کر 36 ایس پی میں آ کر رہنے لگا۔

نیم کے نیچے چارپائی پہ بابا عبدالغفور لیٹے تھے۔ اردو پنجابی ملی جلی زبان میں انہوں نے اپنے آبائی گاؤں تلواڑہ میں گزرے بچپن کی یادیں سانجھی کیں۔ قافلے میں پاکستان کی طرف سفر اور راہ میں جا بجا بکھری درد اور خون کی داستانوں کا ذکر کیا۔ بیتے دنوں کی سیاہ رات سے یادوں کے جگنو نکال لائے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی مشتاق خان پاکستان آ کر پھر بیوی بچوں کے ساتھ تلواڑہ پلٹ گئے تھے۔ ساتھ ہی چارپائی کی ادوائن پہ بیٹھے شخص کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ عمر دراز ان کے نواسے ہیں۔ ایک بار اپنی ماں کو لے کر انڈیا بھی گئے تھے۔

آسمان پہ بادل اور گہرے ہو گئے تھے۔ لگتا تھا ابھی آسماں پہ پھیلی کالی چادر پھٹے گی اور سارا پانی بہہ جائے گا۔

ادھیڑ عمر شخص عمر دراز نے کہانی چھیڑی تو گویا غم اور آہیں ساون کے بادل کی طرح برسنے لگیں۔

عمر دراز کے نانا مشتاق خان کے تین بھائی تھے۔ باقر خان، مناخ خان اور عبدالغفور۔ ان کی تین بہنیں بھی تھیں۔ بٹوارہ ہوا۔ تلواڑہ چھوڑنا پڑا۔ خوب صورت جیون کے دھاگے ٹوٹ کر بکھر گئے اور تانا بانا سب الجھ گیا۔

تلواڑہ کا گھر، زمین، مال دولت سب پل بھر میں ہاتھ سے نکل گئے۔ لٹے پٹے جب پاکستان پہنچے تو کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ کیا کریں اور کدھر جائیں۔ بے سہارگی اور بے چارگی ہر سو پھیلی تھی۔

ایسے حالات میں مشتاق خان کو اپنے آبائی گاؤں تلواڑہ کے ایک دوست کا بلاوا آ گیا اور وہ تین بہنوں، بیوی بیبو، دو بیٹوں عمر دین اور اشفاق، دو بیٹیوں بشیراں اور سیدن کو ساتھ لیے اپنی جنم بھومی تلواڑہ میں واپس چلا گیا۔ باقی سب عزیز رشتہ دار پاکستان میں تھے۔ مشتاق خان کی بڑی بیٹی حاجرہ بی بی شادی شدہ تھی۔ وہ 36 ایس پی (پاک پتن، پاکستان) میں اپنے خاوند کے ساتھ رہ رہی تھی۔ حاجرہ بی بی اپنے ماں باپ اور چھوٹے بہن بھائیوں سے جدا ہو گئی۔ بیچ میں سرحد کھنچ گئی اور چند گھنٹوں کی مسافت جیون بھر کی دوری بن گئی۔

حاجرہ بی بی کے بہن بھائی سب چھوٹے بچے تھے جب بچھڑے تھے۔ اور تب کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ دوبارہ ملنے کے لیے پچاس سال کی طویل مسافت طے کرنی پڑے گی۔ یادوں کی چکی میں پل پل پسنا پڑے گا۔ والدین، بہن بھائیوں سب کو فراق میں آنکھوں سے آنسوؤں کے کئی سمندر گزارنے پڑیں گے۔

حاجرہ کی ساعتیں، شب و روز، ماہ و سال کس درد میں گزرے ہوں گے یہ الفاظ میں کیونکر بیاں ہو سکتے ہیں۔ عمر دراز بھی اپنی ماں کے کرب کو زباں دینے سے قاصر ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ والدہ کو ہم جب بھی حج عمرے پہ جانے کو کہتے تو انڈیا جا کر اپنے پیاروں سے ملنے کی ہی تمنا کرتیں۔ کہتیں کہ حج پہ جتنا خرچ اٹھتا ہے وہی انڈیا جانے پہ لگا دو۔ بچھڑے ہووں سے ملنا ہی حاجرہ کا حج تھا، یہی اس کا عمرہ تھا۔

یوں اس آرزو کو دل میں بسائے، اسے ہر گھڑی پیار کرتے، پالتے پوستے پورے پچاس برس بیت گئے۔ نصف صدی کا یہ قصہ کتنا دردناک ہو گا۔ وقت کے اس تپتے بیابان میں حاجرہ بی بی کا جسم اور روح پل پل پگھلتے رہے ہوں گے۔ بے بسی سی بے بسی ہے کہ پڑوسی ممالک میں رہتے ہوئے بھی، چند کلومیٹر کی دوری پر ہوتے ہوئے بھی صدیوں کے فاصلے حائل ہیں۔ عمریں ریزہ ریزہ ہو گئیں، لوگ خاک ہو گئے، سنتالیس کو دیکھنے والے جو چند بچ گئے ہیں وہ بھی بڑھاپے کی آگ میں راکھ ہوئے جاتے ہیں، یہ ذرا سا فاصلہ طے نہیں ہوتا۔

کہانی سناتے ہوئے عمر دراز نے سن سنتالیس سے پچاس برس بعد تک کا سفر تو دو ہی جملوں میں پار کر لیا۔ لیکن اس کی ماں حاجرہ کو یہ عرصے بیتانے میں اپنا پورا جیون گزارنا پڑا۔ تنہائی، اداسی، ملنے کی آرزو میں تڑپنے اور آنسو ٹپکانے کی یہ الم ناک داستاں سنانے کے لیے عمر دراز کے پاس نا تو الفاظ ہیں اور نا ہمت۔ یہ خود ہی تصور کر لیجئیے۔

بہر حال پچاس سال گزرنے کے بعد حاجرہ بی بی کی امیدوں کے سوکھے پیڑ پہ چند ہری کونپلیں پھوٹیں۔ بھائی بہنوں سے ملنے جانے کا مقدس سفر شروع ہوا۔ تب تک ماں باپ تو دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ بہت دیر ہو گئی تھی ملنے میں۔ سنتالیس میں بچھڑنے والوں کی آہیں اور صدائیں بھی آسماں تک دیر سے پہنچتی ہیں۔ شاید۔

پاسپورٹ بنوائے، انڈیا میں بسے بھائیوں کا مکمل اتا پتا لکھوایا اور عمر دراز اور حاجرہ بی بی نے واہگہ بارڈر پار کر لیا۔

گنگا نگر کی بس پکڑی اور حاجرہ لمحہ با لمحہ اپنے پیاروں کے قریب سے قریب تر ہونے لگی۔ اس کا دل ٹوٹی پھوٹی سڑک پر چلتی پرانی بس سے بھی زیادہ ہچکولے کھا رہا تھا۔ عمر دراز نے بس میں سگریٹ سلگا لی تھی جس پہ کسی سکھ مسافر نے اسے جھاڑ پلا دی تھی۔ عمر دراز نے سگریٹ گرا کر پاؤں تلے مسل دی اور زیر لب بڑبڑایا کہ بھئی ہم اپنے علاقے میں ہوتے تو پوری سگریٹ پیئے بنا نا پھینکتے۔ ساتھ بیٹھے نوجوان نے پوچھا ’کہاں سے ہو؟‘ ’پاکستان سے‘ عمر دراز نے سلگتے لہجے میں جواب دیا۔ ’صورت گڑھ جا رہا ہوں۔ ماں کو اس کے بھائیوں اور بہنوں سے ملوانے‘ ۔

راہ میں کوئی قصبہ پڑتا تھا۔ شاید فیروزپور کے قریب کوئی جگہ تھی۔ سڑک کنارے چند دکانیں اور کچھ آبادی۔ وہاں آ کر بس رک گئی۔ رات کا وقت اور سنسان اڈا۔ وہی ہم سفر نوجوان ماں بیٹے کو اپنے گھر لے گیا۔ بہت خوبصورت کوٹھی تھی ان کی۔ گھر میں داخل ہوئے تو اس کے والد پاکستان کا کوئی نیوز چینل ٹی وی پہ دیکھ رہے تھے۔ جس دیس میں وہ پلٹ کر جا نہیں سکے شاید ٹی وی سکرین پہ دیکھ کر، نام سن کر تسکین لے رہے تھے۔

جب انہیں پتا چلا کہ پاک پتن سے آئے ہیں تو وہ عمر دراز سے بغل گیر ہو کر رونے لگے۔ تقسیم سے قبل وہ پاک پتن کے قریبی گاؤں ملکہ ہانس میں رہتے تھے۔ کتنی ہی دیر اپنے ملکہ ہانس کے بارے پوچھتے رہے، اور آنکھوں کے کٹوروں سے آنسو چھلکتے رہے۔

بس روانہ ہونے لگی تو عمر دراز کو چادر اور حاجرہ کو دوپٹے، کپڑے، تحفے اور پیسے دے کر دعاؤں کے ساتھ روانہ کیا۔ اتنی محبت ملنے پر عمر دراز حیران تھا۔ آج بھی کہانی سناتے ہوئے اس کا چہرہ ایک دم کھل گیا تھا۔ اپنی دھرتی سے آئے پل دو پل کے مہمانوں کو وداع کرنے کے بعد بھی وہ رب جانے کتنی دیر روتے رہے ہوں گے۔ ملکہ ہانس کا وہ باسی رات کی خاموشی میں بس کے جانے کی آواز سنتا رہا ہو گا۔ ہجرت کا سارا دکھ اس کے من میں دوبارہ جاگ اٹھا ہو گا۔ رات آنکھوں ہی میں کاٹ لی ہو گی۔

بس میں ڈرائیور نے ٹیپ پہ ہیر وارث شاہ کی کیسٹ لگا دی تھی۔ ملکہ ہانس میں بیٹھ کر وارث شاہ نے جو الفاظ لکھے وہ کسی لوک گلوکار کی اونچی آواز میں، دھندلکے میں چلتی بس میں گونج رہے تھے۔

ہیر آکھیا جوگیا جھوٹھ بولیں، کون رٹھڑے یار مناوندا ای۔

صبح فجر کی اذان کا وقت تھا جب وہ صورت گڑھ پہنچ گئے تھے۔ رکشے والے کو کہا کہ پٹھانوں والے محلے میں ماموں عمر دین یا خالو یقین الدین خان (دونوں پولیس میں ملازمت کرتے تھے ) کے گھر جانا ہے۔ رکشے والا ان کو عمر دین خان کے گھر لے گیا تھا۔ پچاس برس قبل بچھڑے بھائی عمر دین کو حاجرہ بی بی نے دور سے آتے دیکھ کر ہی پہچان لیا تھا۔ ’وہ عمر دین‘ بس یہی منہ سے نکل پایا تھا اور پھر آواز حلق ہی میں پھنس گئی تھی۔

عمر دین پاس آئے۔ حاجرہ نے برقعہ اتارا۔ بہن بھائی گلے لگ کر زار و قطار رونے لگے۔ پچاس برس سے بندھے بند ٹوٹ گئے تھے۔ پٹھانوں والے محلے کی گلی نیر بہاتے بہن بھائی کے بین اور سسکیوں سے گونج رہی تھی۔ جب جدا ہوئے تھے تب چھوٹے بچے تھے۔ حاجرہ نو عمر بیاہی تھی۔ اب جب ملے ہیں تو سب کتنے ہی جھمیلوں کو سہ چکے تھے۔ جیون پگڈنڈی کی اونچ نیچ طے کر کے تھک چکے تھے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ کتنا ہی پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا تھا۔ آنکھوں سے برستی گھٹا اگرچہ برس برس کے تھکی نہیں تھی۔

پورے خاندان کی زندگی بھر منت سماجت کی تھی حاجرہ نے کہ ایک بار، بس ایک بار بہن بھائیوں سے ملوا دیں۔ آج وہ گھڑی آ گئی تھی۔ بس اسی پل کو جینے کے لیے حاجرہ زندہ تھی۔ اسی لمحے کے لیے پانچ دہائیوں کی طویل مسافت طے کی تھی۔ گلی میں رونا پیٹنا شروع ہو گیا تھا۔

کہانی سناتے سناتے عمر دراز کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے تھے۔ کمال ضبط کے باوجود چھلک کر گالوں پہ بہہ گئے تھے۔ صافے کے پلو سے عمر دراز نے آنسو پونچھے۔ لیکن جیسے دریا کا بند ٹوٹ چکا تھا۔ عمر دراز کو کچھ لمحے رکنا پڑا۔ صافے کا پلو پورا بھیگ چکا تھا۔ لرزتی آواز میں گویا ہوا۔

محلے کے سبھی ہندو سکھ، مسلمان حیران تھے کہ سویرے سویرے کیا آفت آ پڑی تھی۔ انہیں معلوم تھا عمر دین کی ایک بہن پاکستان میں رہتی ہے۔ وہی آئی ہو گی۔ بھائی بہن بھی تو حاجرہ کی یاد میں آہیں بھرتے ہوں گے۔ عمر دین کے دل میں بھی ملنے کی آرزو تو جاگتی ہی ہو گی۔ دھیرے دھیرے آنسوؤں کا سیلاب کچھ تھما تو وہ گھر کے اندر گئے۔

سب گلے لگ لگ سسکیاں لے رہے تھے۔ حاجرہ کی بہنیں بھی آ گئیں۔ سیدن بہن سے ملنے کے لیے ’چورو‘ شہر سے صورت گڑھ پہنچ گئی۔ سب اکٹھے ہو گئے۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 81 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti