میں بھی چاہتا ہوں وہ کہے میرا جسم میری مرضی

میں عورت کی تحقیر کا ہرگز قائل نہیں ہوں لیکن عورت کی بطور اشتہار تشہیر بھی مجھے ہرگز ہرگز قبول نہیں ڈھکی ہوئی عورت قدرت کا قیمتی خزانہ ہے۔
عورت نہ صرف ایک خوبصورت گہرا راز ہے بلکہ نرم و نازک تتلیوں کے پروں جیسی اور چھوئی موئی کے پتوں جیسی حساس سی موہنی نعمت بھی ہے۔ اگر مرد اسلام کے اہم رکن حج میں عورت کے نقش قدم پہ نہ چلے تو اس کے حج کے ارکان پورے نہیں ہوتے یہ مقام ہے عورت کا ۔
اگر عورت چاہتی ہے کہ کالج یونیورسٹیوں میں اسے ڈرگز آئس کے نشے میں دھت ہو کر غل غپاڑہ کرنے کی آزادی چاہیے اگر عورت کو شادی کے باوجود بوائے فرینڈ چاہیے اگر عورت کو نکاح کی جگہ کمپرومائز کرنا ہے اگر عورت کو ننگ دھڑنگ لباس پہن کر کیفیٹیریاز میں جانا ہے اگر عورت کو مساج سنٹر اور جم کلبوں میں مردوں سے خدمت کروانی ہے اگر عورت کو ہر دن نئے مرد کی سہولت چاہیے تو اس قسم کی آزادی صرف غیر مسلم ویشیاؤں کوہی میسر آ سکتی ہے۔ مسلمان بہنوں بیویوں بیٹیوں یا ماؤں کو ایسی آزادی دینا کسی طور نہ ہی ممکن ہے اور نہ ہی مناسب۔
میرا اسلام تو عورت کو صفا مروہ میں بھی بھاگ کر سعی کرنے کی اجازت نہیں دیتا تو پھر تم کون سی آزادی مانگتی ہو تمھیں کس طرح نکر شرٹ پہن کر عریاں یا نیم عریاں گھومنے کی آزادی دی جا سکتی ہے۔ میرے ملک کی بیٹیاں وزیر مشیر اساتذہ پولیس افسر وکلاء ڈاکٹر غرض ہر شعبۂ زندگی میں نہ صرف مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں بلکہ مردوں سے ایک قدم آگے ہی نظر آتی ہیں۔
عورت جس روپ میں بھی ہو ماں بہن بیٹی بیوی اس کا تحفظ ہر زی شعور مرد کا نہ صرف اخلاقی فرض ہے بلکہ انتہائی اہم ذمہ داری ہے لیکن
جب عورت کو پتہ ہے کہ تمام حلال رشتوں سے تمام انسانوں سے چھپ کر ایک شخص اسے ایسی اولاد پیدا کرنے پر مجبور کر رہا ہے جو اس بے رحم معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہوگی اور کچرے کے ڈھیر پر پھینک دی جائے گی کہ ایسے مظلوموں کو تحفظ کی ضمانت نہ ریاست دیتی ہے اور نہ سماج
وہ ایسے مردود مرد سے برملا ڈنکے کی چوٹ پہ کہے میرا جسم میری مرضی۔
جب اسے معلوم ہے کہ غیر محرم رشتوں سے بے تکلفی بے پردگی
مجنون کزن کی دل لگی اور عاشقانہ رشتہ ٹھکرانے پر جو لڑکی تیزاب سے جھلسا دی جائے گی۔
کلیوں جیسا کھلکھلاتا چہرہ ضد کی نذر کر دیا جائے گا جھلسے ہوئے مسخ چہرے میں تبدیل کر دیا جائے گا
تو ایسے مکار دوستوں کزنوں دکھاوے کے خیرخواہوں سے کہے میرا جسم میری مرضی۔
جو ناسور شوہر
ہر دن طلاق دے کر ہر رات حرام ہو جانے کے باوجود بستر میں اپنی مطلقہ کو ریپ کرے
وہ لڑکی زمانے کے خوف سے چپ رہنے کی بجائے طلاقیں لیتی رہنے اور زنا کا شکار ہوتی رہنے کی بجائے علانیہ کہے کہ میرا جسم میری مرضی۔
جب
شوہر جانور بن کر اس کا جسم غیر فطری طریقے سے استعمال کر نے کی کوشش کرے اذیت دیتا رہے غیر فطری طریقے سے درندگی کرے لڑکی کے حلق میں نطفہ انڈیلے بدنصیب لڑکی وہ قے بھی نگل جائے اور آہ بھی نہ بھرے ایسی بیٹی سے میں کہتا ہوں کہ وہ کہے میرا جسم میری مرضی۔
کئی اذیت ناک زنانہ بیماریوں سے گزرتی لڑکی شوہر اور سسرال کی فرمائش پر جان ہتھیلی پر دھرے بنا توقف بچے پیدا کرنے کی بجائے اور خونم خون لاش کی صورت شوہر کی شہوت کا شکار ہوتی رہنے کی بجائے بچہ دانی میں کینسر جیسا موذی مرض پالتی رہنے کی بجائے شوہر کا نطفہ اس میں انڈیلتی رہنے کی بجائے۔
لازماً کہے کہ میرا جسم میری مرضی
اس سے پہلے کہ
بے غیرت شوہر سسر دیور بھائی چچا زاد ماموں زاد باپ چچا ماموں شکاری بن کر لڑکی کا شکار کھیلتے رہیں قتل کر دیں جلا دیں گردن سے دبوچ کر اپنی مرضی کے آدمی کے بستر میں جھونک دیں جھوٹے جعلی نکاح کے جال میں پھنسا دیں برادری اور قبیلے کے لین دین میں استعمال کریں قتل کے تاوان میں دے دیں وہ بدنصیب اور لاوارثوں کی طرح گھٹ گھٹ نہ مرے بلکہ کہے کہ میرا جسم میری مرضی۔
راہ چلتا مردود بھوکا مرد اس کی ٹانگوں کے بیچ ہاتھ مار جائے چھاتیاں نوچ لے مگر لڑکی چپ رہے نہیں بلکہ ایسے لعنتی کرداروں کا ڈٹ کر مردانہ وار مقابلہ کرے اور کہے کہ میرا جسم میری مرضی۔
بات بے بات شوہر کی ٹھوکروں میں لڑھکنے کی بجائے پٹتی رہنے کی بجائے فریاد کناں ہونے کی بجائے لٹھ اٹھائے قلم اٹھائے آواز اٹھائے اور کہے میرا جسم میری مرضی۔
مگر یاد رکھنا معاشرے کے مرد اس عورت کو کھلونا بناتے ہیں جس کے لیے گھر کا مرد ظالم اور باہر کا مرد مسیحا ہو جائے۔
گھر میں کولھو کے بیل کی طرح گھومتی رہنے کی بجائے ہانپتی رہنے چولہے کی دھونکنی میں سانسیں بھرتی رہنے یہاں تک کہ بوڑھی ہو گرے اور کونے میں ڈھیری بنی پڑی رہے کہے میرا جسم میری مرضی
تعلیمی درس گاہوں میں کامیابی کے چند نمبر حاصل کرنے کے لیے جنسی مریض اساتذہ کے گندے ہاتھوں میں بے بس ہو رہنا دفتروں میں افسروں اور ہم پیشہ مردوں کے میلے ہاتھوں کو سہتی رہنا تمھارا مقدر نہیں یاد رکھنا ہر انسان اپنا مقدر خود بناتا ہے اپنے کام کو احسن طریقے سے کرو نمبرز بڑھانے کے چکروں میں جسم پیش کرنا کسی طور تمھیں زیب نہیں دیتا محنت کرو شارٹ کٹ سے بچ کر حقیقی کامیابی کو مقصد بنا کر جیو اور جب تم اپنی تمام صلاحیتوں کو بروے کار لا کر اپنی قابلیت کا لوہا منوا چکنے میں کامیاب ہو جاؤ تو پھر تمھارے جسم کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے مکروہ لوگوں سے کہو میرا جسم میری مرضی۔
والدین کو اپنی مصروفیات کو ایک طرف رکھ کر اپنے بچوں کے تدریسی نظام میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہو گا کہ مدرسوں مسجدوں اور گھروں میں بچیوں اور بچوں کے ایک ہاتھ میں کلام اللہ اور دوسرے میں اپنا شہوانی عضو دے کر معصوموں کو شکار نہ کیا جا سکے، خدا کے گھر میں ان کا ریپ نہ کیا جائے اور پھر خود کو کوئی یہ کہہ کر بری الذمہ نہ ٹھہرا سکے کہ شیطان کے بہکاوے میں آ گیا تھا، جب اس طرح کا باپردہ اور باحیا ماحول کوئی خانہ خراب اپنی بے حیائی سے میلا کرنا چاہے تو تم ضرور کہو میرا جسم میری مرضی۔
لڑکی کیوں صبر کرے۔ صبر کرنا صرف اسی کا کام ہے؟ صبر کے پھل کا انتظار کیوں کرے۔ گونگی بہری کیوں بنی رہے۔ خود پر ہوا ہر مکروہ ظلم کیوں چھپا دے۔ اس ظلم کا کرب اپنے ساتھ قبر میں کیوں لے جائے۔ وہ کیوں سمجھے کہ وہ قبر میں پڑی لاش ہے۔
اسے حق حاصل ہے کہ وہ کہے میرا جسم میری مرضی۔
لیکن دن رات میرا جسم میری مرضی کا راگ الاپنے والے حقیقت میں عورت کی آزادی نہیں بلکہ عورت تک آسانی سے رسائی کی آزادی چاہتے ہیں۔
ذرا سوچیے گا۔

