میرے کپتان اور میں نا مانوں
راولپنڈی کا لیاقت باغ ہمیشہ سے سیاسی راہنماؤں کے لیے اہم رہا ہے۔ اسی حوالے سے جب پچھلے عام انتخابات میں تبدیلی سرکار کا یہاں جلسہ ہوا تو راقم الحروف نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ عوام یقینی طور پر میرے کپتان کو تیسری طاقت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ دو جماعتی نظام کے برعکس اب عوام سنجیدگی سے تیسری سیاسی پارٹی کو جگہ دینے کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔ شنید یہی تھی کہ عوام کا یہ جگہ دینا یہ پارٹی سنبھال پائے گی۔
بائیس سالہ جہدوجہد (جس میں اگر خاص مدد شامل نا ہوتی تو یہ صرف جہد و جہد ہی رہتی) کے بعد بالآخر اقتدار کا ہما میرے کپتان کے سر بیٹھ گیا اور سونے پہ سہاگہ کہ وفاق کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت بھی دوبارہ سے مل گئی۔ اس سے پہلے وفاق میں اپوزیشن اور کے پی میں حکومت پہ یہ رائے مضبوط ہو چلی تھی کہ یہ کپتان کے لیے ٹیسٹ کیس ہے اور کے پی کا تجربہ یقینی طور پر کپتان وفاق میں استعمال کرے گا۔ لیکن یہ خواب ہی رہا۔ اور اب حالات یہ ہیں کہ ساتھ دینے والے بھی حیران و پریشان ہیں اور فریق مخالف بھی انگشت بدندان ہیں کہ یہ ڈرامہ اصل میں کیا ہے اور اس کی آخری قسط کب آئے گی۔
حکومت کی باگ ڈور سنبھال لی۔ پہلی تقریر کی۔ سوچا شاید یہ پچھلوں سے کچھ مختلف ہوں گے۔ لیکن نا صاحب! یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا تھا۔ اور اس تبدیلی کے آوے میں تو گھڑے وہی پرانے اور ٹوٹے پھوٹے تھے۔ لہذا بدلنا کیا تھا۔ آدھے سے زیادہ وقت گزر گیا اقتدار کا، لیکن تبدیلی کے دعوے دعوے ہی رہے۔ تین سال (بعد کا وقت تو ہنگامہ خیزی کی نذر رہا) میں اگر پچاس لاکھ گھر بھی بنتے تو ہر دن کے حساب سے ڈھائی ہزار سے زائد گھر بننے تھے۔
یہ گھر کہاں بنے؟ ان کی زمین کہاں ہے؟ یہ بنائے کس نے؟ اور ان میں رہائش پذیر کون ہے؟ یہ کوئی بتانے کو آج تیار نہیں اور زور سب یہی ہے کہ جھکوں گا نہیں، بکنا نہیں، چھوڑنا نہیں۔ ارے بھئی، کسی کو بیشک نا چھوڑتے لیکن ایک وعدہ تو معلوم ہو کہ جو عمل درآمد کی سطح تک آیا۔ ایک کروڑ نوکریاں دینی تھیں جو تین سال کی پرسکون مدت میں بھی فی دن پانچ ہزار سے زائد ہیں۔ کیا نوکریاں پیدا کی گئیں؟ کن اداروں میں ملازمتیں دی گئیں؟
کن کمپنیز میں لوگ بھرتی ہوئے؟ یہ بھرتی ہونے والے افراد کہاں ہیں؟ اس حوالے سے بھی ہنوز دلی دور است۔ کوئی جواب دینے کو تیار نہیں ہے نا کوئی اس حوالے سے سوچنے کو تیار ہے۔ کیوں کہ ہم اس حوالے سے نا ہی سوال کرنے کی جرات رکھتے ہیں۔ نا ہی ہم کسی سے جواب طلب کرنے کی جرات رکھتے ہیں کہ سرکار آپ نے جو وعدے کیے تھے ان کی تکمیل کہاں تک پہنچی اور جو ابھی آپ دوبارہ سے عام انتخابات کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں۔ اور پاکستانی ووٹر بھی نہایت سادہ ہیں۔
وہ ایک میرے کپتان تو کیا کسی بھی سیاسی پارٹی کے ووٹ مانگنے پہ اس کے سامنے پچھلا منشور نہیں رکھیں گے کہ جناب آپ نے کتنا عمل درآمد اس پہ کیا جو وعدے ہم سے کیے گئے تھے۔ اور میرے کپتان سے تو سوال ہی نا کریں وہ میں نا مانوں کی عملی تصویر ہیں۔ آج آپ پوچھیں گھر کہاں بنے؟ نوکریاں کہاں ملیں؟ بھینسوں سے کی گئی بچت کہاں گئی؟ کٹے کتنے فائدہ مند ثابت ہوئے؟ مرغی پالیسی کتنی کامیاب ہوئی؟ ڈیم کتنے بنے؟ بلین ٹری سونامی کی لہریں کتنی ہریالی لا چکی ہیں؟ وغیرہ وغیرہ، لیکن میرے کپتان جواب کے بجائے ایک ہی راگ الاپیں گے میں انہیں چھوڑوں گا نہیں۔
کرپشن اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے اس بات میں کوئی دو رائے نہیں۔ لیکن میرے کپتان نے انتہائی بے تکے انداز اور بناء کسی حکمت عملی کے تحت کرپشن کا صرف ایک نعرہ لگایا اور مخصوص مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ لیکن مسئلہ پھر وہی ہے کہ میں نا مانوں۔ نظام مضبوط کرنے کے بجائے چند سیاستدانوں کے خلاف محاذ قائم کر لو اور عوام کو بیوقوف بناؤ اور بس۔ اپنی صفوں میں تلاش نا کیجیے گا کہ جن کی آستینوں میں بت چھپے ہیں۔
سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی، لیکن حکومتی سہولیات استعمال کرنا نا چھوڑیں، پروٹوکول کے سخت خلاف ہوں، لیکن حکومت وقت مجھ سے سیکیورٹی واپس بھی لے تو اپنی حفاظت کا واویلا کرنا ہے، کھیلنا ہے تو اپنی شرائط پہ ورنہ میں نا مانوں۔ لانگ مارچ کرنا ہے، اور پھر بناء کسی تعمیری سرگرمی کے ختم بھی کر دینا ہے، لیکن میں نا مانوں۔ میں عدلیہ کی آزادی کا قائل ہوں، لیکن خود اسی عدلیہ کے بلانے پہ بھی نہیں آؤں گا۔ میں فوج کو مضبوط ادارہ دیکھنا چاہتا ہوں، لیکن مطلب پورا نا ہو تو اسی ادارے کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائی جاتی ہے، لیکن میں نا مانوں۔
فوج خود کو سیاست سے باہر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے، تو میرے کپتان ملاقات کی کوئی نا کوئی سبیل نکالنے کی فکر میں پڑ جاتے، لیکن میں نا مانوں۔ دوسری سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو بیوقوف ہونے کے طعنے، عقل نا استعمال کرنے کا طنز اور اپنے کارکنان کو اکساؤں گا، ان کے دل میں ریاست اور اداروں کے خلاف جذبات ابھاروں گا، اور کوئی کارکن جان سے جائے تو اسے سیاسی شہید بناؤں گا، لیکن پھر بھی میں نا مانوں۔ میری حکومت امریکہ کی وجہ سے ختم ہوئی (اور آج کل ملاقاتیں بھی عروج پہ ہیں ) ، میری حکومت اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے ختم ہوئی (اور آج کل ترلوں کا موسم بھی جوبن پر ہے ) ، میری حکومت محسن نقوی کی وجہ سے ختم ہوئی (جن کی زیر نگرانی انتخابات میں حصہ بھی لیں گے ) ، میری حکومت ختم کرنے میں نجم سیٹھی کا کردار ہے (پینتیس پنکچر کا بیانیہ بھی لفاظی کے سوا کچھ نا نکلا) ، میری حکومت نواز شریف کی وجہ سے ختم ہوئی، میری حکومت ختم کرنے میں پی ڈی ایم کا کردار ہے، تضادات سے بھرپور میرا بیانیہ ہے، لیکن پھر بھی میں نا مانوں۔
بیماروں پہ جملے کسوں گا، ان کی بیماریوں کا مذاق اڑاؤں گا، لیکن اپنی ٹانگ کا پلستر کئی ماہ سے اتر نہیں رہا، لیکن میں نا مانوں۔ وراثتی سیاست کا طعنہ دیتا ہوں، خاندانی سیاست کا طعنہ دیتا ہوں، سب کو مفادات کی سیاست کا طعنہ دیتا ہوں، لیکن خود کل کے ڈاکو کو آج پارٹی صدر بنا دیا لیکن پھر بھی میں نا مانوں۔ سیاسی پارٹیوں سے مفادات کی پوٹلی اٹھائے مداری ساتھ ملا لیے، لیکن میں نا مانوں۔
میرے پیارے کپتان کا سیاسی بیانیہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ مجھے بس اقتدار بخش دو۔ واویلا سوائے اس کے کچھ بھی نہیں کہ مجھے اقتدار سے نا نکالو۔ میرے کپتان کے پاس آج بھی کوئی واضح منزل نہیں، اور نا ہی کوئی منشور، کہ جس کی بنیاد پہ وہ اگلے انتخابات میں جانا چاہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی عوام ان کے آگے بچھ جائے۔ ایک ٹانگ کے پلستر، زمان پارک میں لگے کچھ خیمے، اور اب ایک سیاسی شہید کے علاوہ میرے کپتان کے پاس اگلے انتخابات کے لیے کچھ ہے تو ہو سکتا ہو میرا علم ہی ناقص ہو، میرے علم میں اضافہ کیجیے گا۔ شائستگی کی عرض اس لیے نہیں کہ کہنا عبث ہے۔ یہ زباں اہل زمیں ہے۔


