فیس بکی سکھیوں کا فیمینزم :جوابِ شکوہ


پہلی سحری ہی میں ڈاکٹر صنوبر الطاف کے ایک پرانے مضمون کا لنک سامنے آ گیا اور اس کے دو چار نکات نے مجبور کر دیا کہ دو چار لفظ اس کے جواب میں لکھے جائیں کیونکہ فیمینزم کوئی طے شدہ آئین نہیں بلکہ سیال مادے کی صورت اور ہر اچھی تحریک، نظریے اور مذہب کی طرح مقامی ضرورت کے مطابق ڈھال میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھنے والی تحریک ہے۔

ڈاکٹر صنوبر یارم آپ نے کیسا اچھا لکھا لیکن حضرت خدیجہ کو پسند کرنا اور انھیں رول ماڈل سمجھنا اینٹی فیمنسٹ کیسے ہو گیا، مضمون پڑھ کر یہ نہیں سمجھ آ سکا۔ معاشی طور پر خود مختار اور ایک اہم بزنس وومن، ایک عورت جو اپنی مرضی سے کسی کو ساتھ کے لئے چنتی ہے اور بہت سارے معاملات میں برتر رہ کر جیتی ہے جس کی زندگی میں مرد اس پر کوئی حکم لاگو نہیں کرتا اور جس کی موت کے بعد بھی اس کا ذکر بطور ایک سرپرست کیا جاتا ہے۔ ایسی عورت جس کی گواہی اور ساتھ نے دنیا کے عقائد اور تاریخ بدلنے کی بنیاد رکھی اسے کوئی محض مسلمان عورت کہہ کر کیسے رد کر سکتا ہے؟

اسلام کے پاس دو تین تو عورتیں ہیں جو قابلِ تقلید ہیں۔ جن پر کوئی ایسا حکم لاگو نہیں ہو سکا جو بعد میں کمزور اور مرد پر منحصر خواتین کے لئے زندگی کا طریقہ قرار پا گیا۔ خدیجہ کو بطور ایک فرد پڑھیں آپ حیران ہو جاتے ہیں کہ کس معاشرے میں کیا طاقتور فرد موجود تھا۔ پوری اسلامی تاریخ میں ایک وہی عورت تو ہے جس کی سماج میں ذاتی طاقت، حیثیت اور پہچان موجود ہے۔ اور شہرت بھی۔

کنواری لڑکی کے لیے بولڈ لکھنا کیوں منع ہے؟ بولڈ سے مراد ایسا شخص ہے جو اپنی زندگی اور نظریات و معاملات کے متعلق ذہنی طور پر پوری طرح آگاہ ہے اور اس کے مطابق جیتا ہے۔ اگر تمہاری فیس بکی سہیلی کے مطابق کنواری لڑکی کا دماغ اپنی زندگی اور معاملات پر واضح نہیں تو یہ مسئلہ تو کسی صنفی عضو کے استعمال یا عدم استعمال سے نہیں جڑا اور بقول شخصے بعضے ٹھیک ٹھاک شادی شدہ مردوں تک کا ہے کہ وہ اپنے آپ میں کسی طرح کلیئر نہیں ہوتے، اس معاملے کو لڑکی سے جوڑنا تو صنفی تعصب سے کم نہیں۔

ہاں اگر بولڈ سے مراد جنس اور جنسی عمل وغیرہ لیا جائے (جیسا کہ تمہارے مضمون کے متن سے ایک اشارہ مل رہا ہے کہ بولڈنیس کی اصطلاح بھی ہمارے ہاں فیمینزم کی طرح کیسے محدود معانی میں استعمال کی جاتی ہے ) تو بھلا جنسی عمل اور جنس پر لکھنا منع کیوں ہو گا ڈیر۔ ہاں اگر ایک شخص کنواری سے مراد باکرہ سمجھے تو جنس ایسی چیز ہے جو دور سے اندازے لگانے یا ویڈیوز دیکھ کر سمجھنے کی چیز نہیں۔ یہ تجربہ ہے اور تجربے کے نتیجے میں سوائے ریپ ہونے والی یا مرضی کے خلاف استعمال کی جانے والی عورت کے تجربے اور احساسات کے، یہ ایک خوبصورت ترین تجربہ ہے۔ اس کی منفی یا مثبت تصویر بنانے کے لئے اس کا تجربہ ضروری ہے۔ ورنہ جنس محض حیوانی جبلتوں میں سے ایک جبلت ہے جس کے ساتھ منفی یا مثبت سوچ کو تجربے کے بعد ہی جوڑ سکتے ہیں۔ کنواری لڑکیاں /لڑکے ہو سکتا ہے صرف دیکھ سن یا تصور کر کے جنسی عمل کو مس انٹر پریٹ کر رہے ہوں، لہذا دیگر جبلتوں کی طرح جنس کا تجربہ کیے بغیر اسے مشاہدے کے زور پر لکھنا خود جنس کے ساتھ زیادتی ہے کیونکہ نہ جنس اتنی بری ہے جتنا فیمینسٹ عورتوں نے اسے بنا دیا ہے اور نہ یہ اتنی پیچیدہ حد تک مستحسن ہے جتنا مذہبی ٹھیکیداروں نے اسے فیبریکیٹ کیا ہے۔

باقی فیمینزم اب ڈنڈے کھانے سے بہت آگے نکل گیا ہے اور اس کی بہت سی اقسام ہیں جو مقامی ضرورت، ماحول اور اقدار کے ساتھ بدلتی ہیں اور فیمینزم کی امبریلا ٹرم انھیں اپنے سائے میں جگہ دیتی ہے۔ کیونکہ قبائلی، زرعی اور صنعتی، سرمایہ دار اور مذہبی معاشرے کا فیمینزم ایک جیسا ہو ہی نہیں سکتا۔

ایک ہی گھر کے اندر بھی ان پڑھ اور تعلیم یافتہ، کم تعلیم یافتہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ، مالی طور پر منحصر اور مالی طور پر خود مختار عورت کے لیے فیمینزم ایک ہی طرح نہیں سوچ سکتا۔ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے بعد فیمینزم ان دو عورتوں کو ایک سطح پر نہیں رکھتا۔ اور یاد رہے کہ ان بنیادوں پر مرد بھی یکساں سلوک اور حقوق سے محروم کیے جاتے ہیں۔

عورت سے طاقتور تبدیلی کا ایجنٹ کوئی اور نہیں ہو سکتا، اسے بہت سارے معاملات پر مرد سے برتری حاصل ہے اور اس برتری کے ساتھ محض سڑکوں پر ڈنڈے کھائے بغیر بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ یہ تبدیلی اپنے ارد گرد عورتوں کو مضبوط بنانے کے لئے کوشش سے زیادہ اور کیا ہو گی؟ سڑک پر آنے سے قانون اور معاشرے کو متوجہ کیا جا سکتا ہے لیکن کسی عورت کا استحصال اگر گھر کی چاردیواری اور چولہے چوکے کی حدود میں ہو، مرد کی بجائے عورت کے ہاتھوں ہو تو اس کی بیخ کنی سڑک پر نہیں ہو گی بلکہ جنگ کے ہتھیار اور حکمت عملی تبدیل ہو جائے گی۔

سو پیاری ڈاکٹر صنوبر آپ کی فیس بکی سکھیوں نے اگر بی بی خدیجہ کو گھر میں رہنے والی بچے پالتی عورت سمجھا ہے تو پھر انھیں نصابی اسلامیات کے علاوہ بھی کچھ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ بولڈ شاعری پر اپنا حق سمجھتی ہیں تو بہت ہی غلط فہمی کا شکار ہیں کیونکہ بولڈ نیس کا مطلب منافقت نہیں۔ اور کسی بھی تحریک کے آغاز میں جو مسائل ہوتے ہیں وہ فیمینزم نے بھی سہے اور ان کے ثمرات آج میرے اور آپ کے جیسی خواتین تک بھی پہنچے۔ فیس بک پروفائل کی ڈی پی پر اپنی تصویر لگانے کی آزادی بھی کسی کا کل فیمینزم ہو سکتی ہے سو میں یا آپ اس کے فیمینزم کا تعین کرنے کے لئے پابند ہیں کہ پہلے اس کے جوتوں میں پیر رکھ کر اس کی صورتحال کا ادراک کریں۔ مجھے یاد ہے نیشنل ہوٹل راولپنڈی میں ایک قریبی دوست نے مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یار ڈاکٹر تمہارا عمومی امیج ایک آزاد اور اپنی بات بولڈ نیس سے کہہ دینے والی عورت کا ہے لیکن تم قمیض شلوار اور دوپٹہ گلے میں ڈالنے والی عورت ہو جو تمہارے امیج کے منافی ہے۔ بولڈ اور آزاد عورتیں دوپٹے نہیں لیتیں، جینز یا ٹراؤزر کے ساتھ شرٹ پہنتی اور چھوٹے بال رکھتی ہیں۔

میں نے اسے کہا کہ پاکستانی معاشرے کے اپنے تئیں آزاد اور فیمینسٹ مردوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ ایک اور طرح کی پابندی عائد کر رہے ہیں۔ بولڈ اور آزاد عورتوں کو یہ نہ بتایا جائے کہ وہ کیا پہنیں۔

سو کہنا یہ ہے کہ ہمارا سماج کوئی اتنا یک سطحی اور سٹیریو ٹائپ نہیں کہ صرف ریڈیکل فیمینزم کا متقاضی ہو۔ ملٹی کلچرل، ملٹی ریلیجیئس، ملٹی لنگوئل، ملٹی ریشیئل، ملٹی جیوگرافیکل، ملٹی تھیوریٹیکل، ملٹی ہسٹوریکل اور ملٹی پرسپیکٹیو سماج کے لئے صرف ایک حل اور زاویہ نگاہ ممکن نہیں۔

فیمینزم کا تو اب یہ عالم ہے کہ
جیسی جس کے گمان میں آئی
والی صورتحال بنی پڑی ہے۔ باقی سیمون ذاتی سطح پر کتنی فیمینسٹ تھی ہمارے لئے وہ بھی ایک دلچسپ کیس ہسٹری ہے۔

فیمینزم کی ماری فیس بکی سکھیوں کے نام

Facebook Comments HS