عربی ادب میں جاہلی عہد کا شعور
ادب کے علاوہ ایسی کوئی شے نہیں جو کسی قوم کی شعوری سطح کا تعین کرتی ہے۔ ”زمانہ جاہلیت“ اصطلاح کے حوالے سے زبان زد عام لا علمی رویہ ایک طرف، اور عربوں میں زبان و ادب کی محبت ایک طرف۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس ماحول کو قابل مذمت سمجھا اور بتایا جاتا ہے اس عہد کے شاعر اپنے کلام کی قدرت اور فصاحت کی وجہ سے آج بھی دنیائے ادب کا حصہ ہیں۔ ایسی قوم پہ جہالت کی مہر ثبت کرنا کتنی بڑی انصافی ہے جو کسی کے اندر کا شاعر دریافت کر کے اس کے قبیلے کی قسمت پہ رشک کرتی تھی۔ جزیرۂ نما عرب میں اسلام سے پہلے کے زمانے کو ”زمانہ جاہلیت“ کہتے ہیں لیکن اکثر افراد جاہلیت کو جہالت کے ساتھ خلط ملط کر دیتے ہیں مگر خیر، عرب کا جاہلی عہد اپنے آپ میں بڑی حیرتیں سمیٹے ہوئے ہے۔ آئیے گزشتہ ادوار میں پلٹتے ہیں اور جاہلی عہد پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں :
مورخین متفق ہیں دنیا کی قدیم زبان ”سامی“ نے اپنی کوکھ سے تین بڑی زبانوں کو جنم دیا جس کی گونج جزیرۂ نما عرب کے ہر عرض البلدل اور طول البلدل میں سنائی دیتی ہے۔ سامی زبان سے آرامی، کنعانی اور عربی زبان نکل کے ان زمینوں پہ دھوپ کی طرح پھیل گئیں۔ عربی، ظہور اسلام سے پہلے نہ صرف موجود تھی بلکہ اپنے ارتقا و کمال کی منازل طے کر چکی تھی۔ (کسی خطے میں ناقابل فراموش واقعات ہی تاریخ کا تعین کرتے ہیں مثلاً حضرت عیسیٰؑ کا ظہور کوئی اہم واقعہ تھا جس کی بعد تاریخ یکسر بدل گئی اور وقت، ”قبل از مسیح یا بعد از مسیح“ کے فارمیٹ میں درج ہونے لگا۔
اسی طرح عرب تاریخ میں اسلام ایک اہم واقعہ تھا جس کے بعد عرب تاریخ بھی قبل از ظہور اسلام یا بعد از ظہور اسلام کے حوالوں سے درج ہونا شروع ہوئی۔ لہٰذا جہاں کہیں ظہور اسلام لکھا ملے تو اس کو مذہبی تعصب سے بالاتر ہو کے محض تاریخ کا فارمیٹ سمجھئیے گا۔ ) سامی زبان سے نکلنے والی دوسری زبانیں (کنعانی اور آرامی) کم و بیش معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ مثلاً آرامی زبان (کلدانی، اشوری اور سریانی) ، کنعانی زبان (عبرانی اور فینیقی) ، اور آرائی زبان (لاطینی، یونانی اور سنسکرت) ۔ ان زبانوں کے بولنے والے اب زیادہ نہیں ہیں۔ البتہ ان میں عربی، وہ زبان ہے جو زندہ زبانوں میں بزرگ و قدیم ہے۔ اس میں خطابت کے جو نمونے ظہور اسلام سے قبل ملتے ہیں وہ فن کا اعلیٰ معیار پیش کرتے ہیں۔
جاہلی عہد کا آغاز پانچویں صدی کے وسط سے ہوتا ہے۔ عربی شاعری کے ارتقائی سفر کے حوالے سے کوئی سراغ فی الحال تلاش نہیں کیا جا سکا اس لئے مورخین اور محققین نے معلوم دستاویز پر اکتفا کیا۔ جاہلی دور میں ”اسواق“ (میلے ) کسی طرح بھی نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ یہ میلے سال کے کچھ مہینوں میں تجارت اور کاروباری مقاصد کے لئے سرداران عرب کے زیر اہتمام منعقد ہوتے تھے۔ عرب Think Tanks نے ان میں تفریح کو شامل کر دیا مثلاً ان میلوں میں شہ سواری، تیر اندازی، جنگی آلات کی نمائش کے ساتھ ساتھ قبائل کے درمیان شعر و شاعری کا مقابلہ ہوتا۔
ہر برس ذی القعد کے مہینے میں ”عکاظ“ کا میلہ پورے عرب کی توجہ سمیٹ لیتا تھا اس میں سال کے بہترین کلام کا انتخاب کیا جاتا تھا اور اس کلام کے خالق کو بڑا شاعر تسلیم کیا جاتا تھا۔ مکہ دراصل ایک تجارتی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا جنوب کے قافلے ہند اور یمن کا سامان لے کر آتے اور مکہ والے یہ سامان شام اور مصر میں فروخت کرتے۔ لہٰذا مکہ تجارتی رستہ ہونے کی وجہ سے عرب کے تمام قبائل کے لئے مرکز بن گیا تھا۔ تجارتی مقاصد کے لئے قبائل کے درمیان ہونے والی گفتگو نے اس زبان کی نوک پلک خوب سنواری اور عربی دن بہ دن پھیلتی اور نکھرتی چلی گئی۔
جاہلی عہد میں نثر نگاری : کسی بھی زبان میں ابتدائی سخن نثری ہوتا ہے کیونکہ نثری اظہار آسان اور قدرتی ہوتا ہے۔ جب زبان احساسات کا مکمل ابلاغ کرنے لگے تو اس زبان میں شاعری کا ظہور ہوتا ہے۔ عربی نثر ابتدا سے دو طرح کی رہی۔ اول ”مسجع“ یعنی ایسی نثر جس میں جملوں کا اختتام قوافی پر ہوتا ہے۔ دوئم ”مرسل“ جس میں قوافی کا التزام نہیں ہوتا۔ یوں تو عربوں میں نثری کمالات (خطبے، تقریریں اور گفتگو) کا کوئی حساب نہیں مگر مورخین ادب اور ناقدین نے تاریخ ادب کی تدوین کے لئے نثر کے انتخاب کاجو فارمولا اپنایا اس معیار پہ فن کے ایسے نمونے پورا اترتے ہیں جن میں بلاغت کی خوبصورتی، صوتی ہم آہنگی، اور اختصار جیسی صفتیں موجود تھیں۔ اس لئے جاہلی نثر نگاری ضرب المثل، حکمت، پند و نصائح اور بھڑکانے والی تقاریر پر مشتمل ہے۔
ضرب المثل: ضرب المثل، زندگی کے تجربات سے اخذ کردہ نتائج کا وہ مختصر اظہاریہ ہوتا ہے جو ازل سے ابد تک کی حقیقت بن جاتا ہے ( کسی دور میں outdated محسوس نہیں ہوتا) ، اختصار کی وجہ سے اس میں دانائی سمٹ آتی ہے۔ اسی سے کسی زبان کے شعور کا احساس ہوتا ہے۔ مثلاً ”کل الصید فی جوف الفرا“ (چھوٹے چھوٹے تمام شکار ایک بڑے شکار کے پیٹ میں سما جاتے ہیں ) ، السلامۃ غنیمتہ (سلامتی بڑی غنیمت ہے ) اور ”الخطازاد العجول“ (غلطی عجلت پسند کا زاد راہ ہوتی ہے ) ۔ میدانیؔ کی پچاس جلدوں پہ مشتمل ”مجمع الامثال“ اس حوالے سے جامع اور مستند ہے۔ ضرب المثل کو بطور genre اپنانا کسی صورت زندگی عذاب کرنے سے کم نہیں۔ زہیر بن جناب الکلبی اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے :
”یابنی، فانہ ما سخر قوم قط الا ابتلوا“
”اے بیٹو، کسی قوم نے جب بھی تمسخر کیا ہے، آزمائش میں ڈالی گئی ہے۔“
جاہلی عہد کی تہوں میں ضرب المثل کا بڑا خزانہ پنہاں ہے۔
تقریر اور خطبے : عربوں میں اس وقت شعور کا یہ عالم تھا کہ وہ کسی ایسی تقریر پہ کان نہیں دھرتے تھے جس میں فصاحت اور بلاغت کے مسائل ہوں۔ عرب اپنا تاثر قائم کرنے کے لئے سجع (جملوں کے آخر میں قافیہ لگانے کا التزام) کی پابندی کرتے تھے۔ مثلاً نجران کے پادری کی تقریر کے چند جملے دیکھیں :
”ایھا الناس، اسمعوا وعوا، انہ من عاش مات، ومن مات فات، وکل ما ہو آتٍ آت، لیلٌ داج، ونھارٌ ساج، وسماءٌ ذات ابراجٍ، ونجومٌ تزھر، وبحارٌ تزخر۔ ، ان فی السماء لخبرا، وان فی الارض لعبرا۔ ما بال الناس یذھبون ولا یرجعون؟ ارضوا بالمقام فاقاموا، ام ترکوا ہناکفناموا؟ یا معشر ایاد : این الآباء والاجداد؟ واین الفراعنة الشداد؟ الم یکونوا اکثر منکم مالاً و اطول آجالاً۔ ؟ طحنھم الدھر بکلکلھ، ومزقھم بتطاولھ۔“
یہ پادری (قس بن شاعدہ) اکثر زمین پر تلوار ٹیک کر اس کے سہارے کھڑا ہو کر تقریر کیا کرتا تھا۔ آپ ﷺ نے ظہور اسلام سے قبل عکاظکے میلے پر جب پہلی بار اس پادری کی تقریر سنی تو اس خوب تعریف کی۔ عرب تقریر کے دوران body language (ہاتھ کے اشارے حتیٰ کہ ابرو کی جنبش) کو ملحوظ خاطر رکھتے تھے۔ تقریر کے حوالے اس زمانے میں عمر بن معد یکرب زبیدی کی شہرت بھی آسمان کو چھوتی تھی کیونکہ یہ عمرو شاعر بھی تھا اور اس کی وجہ سے ان کے لہجے میں تلفظ کا سلیقہ لوگوں کو اپنا گرویدہ کر لیتا تھا۔
جاہلی شاعری : عربوں نے جس طرح شاعری کا خیر مقدم کیا، اس کے ساتھ اپنی زندگیاں جوڑیں، دوسری کسی تہذیب کے باشندوں میں ایسی لگن دیکھنے میں نہیں آتی۔ جاہلی عہد کی مشہور رسم تھی کہ کسی قبیلے میں اگر کوئی شاعر ہوتا تو اس قبیلے کے بزرگوں کو داد و تحسین سے نوازا جاتا تھا۔ شاعری پر عربوں کی دسترس حیرت انگریز تھی وہ معبودؤں کے حضور بھجن گاتے، دعائیہ شاعری کرتے پس اس طرح ان میں گانے کی رغبت پیدا ہوئی۔ شاعری صنم کدوں سے نکل کر صحرا نورد ہو گئی۔ عربوں کے ہاں اصناف شاعری کے متعلق جان کر میں حیران رہ گیا کہ وہ جنگ کا آغاز بھی شاعری ”رجز“ سے کرتے تھے۔ یعنی اگر کوئی جنگجو ”رجز“ پڑھنا نہیں جانتا تو وہ میدان جنگ میں طاقتور ہونے کے باوجود پیادے کی حیثیت رکھتا تھا۔ رجز ایک تعارفی صنف تھی۔
عربوں میں ایک اور صنف ”حدی“ معجز گر ثابت ہوئی ہے۔ صوتی اعتبار سے اس میں ایسا معجزہ چھپا ہوتا تھا کہ صحرا میں اونٹوں پہ سفر کرنے والے باشندے، جب اپنے اونٹ کو ”حدی“ صنف میں لکھی ہوئی نظم سناتے تو اونٹ بھاگنے پر آمادہ ہو جاتے تھے۔ مختصر یہ کہ عربوں میں غم کی شدت ہو یا خوشی کی سرمستی ان کی زبان سے بے ساختہ اشعار نکلنے لگتے تھے۔
ایسی مثال کسی اور تہذیب میں موجود نہیں، افلاطون نے شاعری کو بگاڑ کی وجہ سمجھا۔ ایران میں انوری نے ایک قطعہ میں کہا ”انسانی جماعت میں شاعر کی اتنی ضرورت نہیں جتنی ایک خاکروب کی ہوتی ہے۔“ اس کے برعکس عرب کے باشندے شاعر کے منہ سے نکلی بات کو الہامی تصور کرتے تھے یعنی اگر شاعر خاک کو سونا کہہ دے تو یہ خاک سونا تصور کی جاتی تھی۔ اس کی مثال ایک واقعہ سے دیتا چلوں :
قبیلہ کلاب کا ایک شخص محلق تھا جس کی آٹھ بیٹیاں تھیں اور غربت کی وجہ سے وہ ان کی شادیاں کرنے کو تیار نہ تھا۔ اتفاقسے جاہلی عہد کا ایک مشہور شاعر ”اعشی“ (جو معلقات میں سے ایک معلقے کا خالق تھا) کا قیام ان کی بستی کے کسی گھر میں ہوا، محلق کی بیوی نے شوہر سے التجا کی کہ اعشی کو گھر پر مدعو کریں۔ انھوں نے اپنے استعمال کی اونٹنی ذبح کر کے تازہگوشت، اور بہترین شراب سے اس کی تواضع کرنے میں وقت صرف کیا۔ رات نرم بستر مہیا کیا۔ جب اعشی ان کے اہل خانہ کو کلامسنا کے فارغ ہوا تو محلق نے اپنا دکھ اعشی کی سماعتوں کی نذر کر دیا۔ ان کی خدمت اور محبت سے متاثر ہو کر اعشی نے دو اشعار کہے :
تشب لمقرو رین یصطلیا نھا
وبات علی النار الندی و المحلق
راضیعی لبان ثدی ام تقاسما
باسحم داج عوض لا نتفرق
(میری جان کی قسم، میں نے ایسا منظر بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ایک میدان میں آگ جل رہی ہے اور اسے سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے دو شخص تاپ رہے ہیں ان میں ایک تو جود و کرم تھا اور دوسرا محلق تھا۔ وہ ساری رات یہ آگ تاپتے رہے کہ ان دونوں نے ایک ہی ماں کا دودھ پیا ہے۔ اور قسم کھائی ہے کہ زندگی میں ایک دوسرے سے کبھی جدا نہ ہوں گے۔ )
محلق کی تعریف میں یہ قصیدہ ابھی عربوں کے کانوں میں پڑا تھا کہ چاروں اطراف سے محلق کو بیٹیوں کے لئے رشتے آنے لگے اور سب لڑکیوں کی شادی اچھے گھرانوں میں ہو گئی۔
اسی طرح ایک واقعہ یوں ہے کہ حسان بن ثابت نے قبیلہ بنی عبد المدان کی ہجو میں اشعار کہے :
لاباس بالقوم من طول و من غلظ
جسم البغال و احلام العصافیر
(یہ لوگ بڑے قد آور اور طاقت والے ہیں لیکن کیا فائدہ، جسم خچروں سے اور دماغ چڑیوں جیسا۔ )
اس پر حسان بن ثابت سے اس قبیلے نے شکایت کی کہ ”آپ نے تو ہمیں ذلیل کر دیا ہے اب ہمیں اپنے جسموں کا ذکر کرتے ہوئے شرماتی ہے۔“ اس پر حسان بن ثابت نے ان کے حق میں اشعار کہہ کر ان کا image بحال کیا۔
مضامین : عرب کے باشندوں ہر وقت دشت دیکھتے ہیں اس لئے دشت ان پر کھلتا ہے۔ اسفار و اسرار، جنگ و جدل اور اپنے پالتو جانوروں کی محبت کے علاوہ صرف عورت تھی جس کے حسن سے وہ شاعری کے مضامین کشید کرتے تھے۔ پس ان موضوعات کی تکرار کے باوجود کرافٹ اور صوتی سطح پہ اشعار الگ الگ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ تکرار ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ ایک زبان میں صدیوں سے اشعار کہے جاتے رہے ہوں۔ جاہلی عہد سے پہلے ان صحراؤں نے نجانے کتنے عربوں کے اشعار سنے مگر وہ انسانی حافظوں کے ساتھ خاک کی نذر ہو گئے۔ زوہیر کہتا ہے :
ما ارانا نقول الا معاراً
او معادا من لفظنا مکرورا
(میں تو یہ دیکھتا ہوں کہ ہم جو بھی کہتے ہیں وہ یا کسی سے مستعار لیا ہوا ہوتا ہے یا پھر اس میں ہماری کسی سے تکرار ہوتی ہے۔ )
ریتلی زمین کے وسیع خطوں میں زندگی انتہائی سادہ رہی اس لئے یہاں اساطیر کی کونپلیں مرجھا گئیں اور شاعری شجاعت، فخر، مردانگی، ہجو، مرثیہ، ہجر و وصال، معاملات حسن و عشق، منظر کشی اور حکمت تک محدود رہ گئی۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ بیان میں جھوٹ اور مبالغے کی آمیزش نہ ہونے کے برابر ہوئی۔ ایسی شاعری کی تاریخی حیثیت بہ ہر حال دوسری زبانوں کی شاعری کے مقابلے زیادہ ہے کیونکہ ایسا بیان جغرافیائی، معاشرتی، اخلاقی، اور مذہبی حالات کا ایسا ریکارڈ فراہم کرتا ہے جس پر بڑی حد تک اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
میں بطور شاعر محققین کی اس بات سے اختلاف کرتا ہوں کہ جاہلی شاعری میں موضوعات کا تنوع نہیں ہے اور ایک قصیدہ یا نظم پڑھ لیں تو پوری جاہلی فضا کا علم ہو جاتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اردو شاعری کے دامن میں کم و بیش تمام موضوعات برتے جا چکے ہیں۔ غالباً ایمرسن نے کہیں کہہ رکھا ہے کہ ”انسان آج جس نئے موضوع پہ کتاب لکھنا چاہتا ہے وہ افلاطون اپنی کسی تصنیف میں کہہ چکا ہو گا۔“ تو اب انسان لکھنا چھوڑ دیں؟ یا تصانیف کو ترک کر دیں۔ لہٰذا جاہلی عہد کی شاعری میں اگر آپ کے لئے اس میں خیالات کا تنوع نہیں تو کرافٹ کی لذت تو محسوس کریں۔
جاہلی عہد کی جو تصانیف آج دستیاب ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں :
1۔ معلقات: معلقات سے مراد سات طویل قصیدے ہیں جن کو عکاظ کے سالانہ میلوں میں بہترین قرار دینے کے بعد سونے کے پانی سے اون کے کپڑے پہ لکھوا کر در کعبہ پر لٹکائے گئے تھے۔ یہ قصائد جاہلی ادب کے نمائندہ نمونے تصور کیے جاتے ہیں۔ ایسے قصائد جو سونے کے پانی سے لٹکا کر در کعبہ پر لٹکائے جاتے تھے اس لئے انھیں ”مذہبات“ بھی کہا جاتا ہے۔ (کعبہ پر سونے کی چادریں چڑھانے کی رسم زمانۂ قدیم سے عربوں میں چلی آ رہی ہے۔ ) معلقات کے شعراء میں امراؤ القیس، طرفہ بن العبد، زہیر بن ابی سلمیٰ، لبید بن ر بیعہ، عمرو بن کلثوم، عنترہ بن شداد، اور حارث بن حلزہ شامل ہیں۔
2۔ مفضلیات: یہ جاہلی شاعری کا وہ انتخاب ہے جو ایک مشہور عالم و ادیب مفضل الضبی نے خلیفہ ابو جعفر منصور کے بیٹے اور اپنے شاگرد عہد مہدی کے لئے کیا تھا۔
3۔ اصمعیات: یہ بھی ایک انتخاب تھا جو روای اصمعی نے ہارون الرشید کے فرزند کے لئے کیا تھا۔
جاہلی عہد کے مشہور شعرا :
امراؤ القیس : امراؤ القیس کو عربی شاعری کا سرخیل سمجھا جاتا ہے۔ یہ ”الملک الضلیل“ (دربدر پھرنے والا بادشاہ) کے لقب سے مشہور ہوا۔ اس نے اپنی شاعری میں ایسے ایسے اسالیب اور مضامین کی طرح ڈالی کہ آج تک عربی شاعری میں وہ باقی رہ گئی۔ مصری ادیب احمد حسن الزیات قیس کے حوالے سے کہتے ہیں کہ :
”وہ پہلا شخص تھا جس نے کھنڈروں پر کھڑے ہو کر دیار محبوب کی ویرانی پہ اشک بہائے، معاملات عشق کا اپنی نظموں میں برملا اظہار کیا، حسیناؤں کو ہرنیوں اور غزالوں سے تشبیہ دی۔ تنہائی میں عورت سے باتیں کرنے کا انداز اتنا سراہا گیا کہ دوسری زبانوں نے اس کو ایک صنف کے طور پر اپنا لیا۔“
قیس کا ایک منفرد انداز تھا وہ ہر قصیدے کا آغاز ذکر محبوب سے کرتا تھا۔ بعض مورخین کہتے ہیں کہ ہر شاعر و ادیب نے اس طرح کی نگہداشت کی اور اسے جاوداں بنا دیا۔ یہ ذکر مختلف طرز سے متعدد شعرا و نثر نگار اپنانے لگے حتیٰ کہ کچھ عربی شناس ملحدوں نے قرآن حکیم کی سورتوں کے آغاز پہ ”بسم اللہ“ کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا۔
طرفہ بن العبد : روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ طرفہ چھبیس برس کی عمر میں گورنر کے حکم پر قتل کر دیا گیا۔ اس کو ”الغلام القتیل“ (مقتول نوجوان) کے لقب سے جانا جاتا ہے۔ طرفہ کم سنی سے شاعری پہ ایسی قدرت رکھتا تھا کہ بیس برس کی عمر میں اساتذہ میں شمار ہونے لگا تھا۔ اس پر وہ سخت بے لگام ہجو گو تھا اور اسی سبب اس پر زندگی تنگ ہوتی گئی۔ طرفہ سے آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ مجھے خوب شراب پلائی جائے اور اکحل نامی شریان کا منہ نشتر سے کھول دیا جائے۔ طرفہ کے ہاں ایسی ایسی تشبیہات ہیں کہ اہل زبان، اس کی عظمت کا اعتراف کرنے لگے۔
مضمون کی طوالت کو مد نظر رکھتے ہوئے باقی شعرا کا تعارف منتخب اشعار کرواتا ہوں :
زوہیر بن ابی سلمی :
رایت المنایا خبط عشواء من تصب
تمتہ، کون تخطی یعمر فیھرم
(میں نے موت کو ایک شب کور اونٹنی کی بے ڈھنگی چال کی طرح پایا، اس کی زد میں آنے والا ہلاک اور بچنے والا طویل عمر پاتا ہے۔ )
و من یجعل المعروف فی غیر اہلہ
یکن حمدہ ذما علیہ ویندم
(اور جو شخص کسی ایسے آدمی پہ احسان کرتا ہے جو اس کا اہل نہیں ہوتا تو اس کا یہ قابل تعریف عمل مذمت بن جاتا ہے۔ وہ اسپہ نادم ہوتا ہے۔ ) اس مضمون پر قرآن کی آیت بھی ہے : قال اللہ تعالٰی : واحسن کما احسن اللہ الیک ولا تبغ الفساد فی الارض ان اللہ لایحب المفسدین۔ (سورہ قصص، آیت : 77) اور امیر المومنین علیؑ بھی نہج البلاغہ میں اسی مضمون کو اس طرح بیان کرتے ہیں ”عاتباخاک بالاحسان الیھ، واردد شرہ بالانعام علیھ“
لبید بن ر بیعہ :
اس شاعر کے حوالے سے روایت ہے کہ رسول ﷺ خدا نے فرمایا کہ سب سے سچا کلمہ جو کسی شاعر نے بولا ہے وہ لبید بن ربیعہ ہے۔
الا کل شیی ما خلا اللہ باطل
وکل نعیم لا محالۃ زائل
(جان لو اللہ کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ باطل ہے۔ اور نعمت جیسی بھی ہو ایک دن زائل ہو جائے گی۔ )
عمرو بن کلثوم : اس شاعر کے بارے ایک شعر ملتا ہے :
الھی بنی تغلب عن کل مکرمۃٍ
قصیدہ قالھا عمرو بن کلثوم
(بنو تغلب کو عمرو بن کلثوم کے ایک قصیدے نے اتنا مگن کر دیا ہے کہ اب وہ سارے کام چھوڑ چکے ہیں۔ )
عمرو کی شاعری کا خاصا یہ ہے کہ اس کی شاعری سے عربوں کی زندگی کے نقوش ابھرتے ہیں۔ مثلاً ان کا کیا مذہب تھا، ان کا معاشرہ کیسا تھا، روزمرہ کے مشاغل کیا تھے، عرب کیسا کھیل کھیلتے تھے۔ اس کی شاعری سے عورتیں کی ترجمانی یوں ہوتی ہے کہ عورتیں مردوں کا ساتھ دیتی تھیں، گھوڑے کو چارہ کھلاتی تھیں، مردوں کو لڑنے پر آمادہ کرتی تھیں۔ اس کا ایک شعر بظاہر تو فخریہ ہے مگر اس سے عربوں ذات پات کا تعصب جھلکتا ہے :
و نشرب ان وردنا الماء صفواً
ویشرب غیرنا کدراً وطینا
(جب ہم گھاٹ پر اترتے ہیں تو صاف پانی پیتے ہیں اور دوسرے لوگوں کے حصے میں گدلا پانی آتا ہے۔ )
اسی طرح عمرو کی شاعری سے Resistance مزاحمتی اوصاف بھی جھلکتے ہیں مثلاً:
اذا ما الملک سام الناس خسفا
ابینا ان نقر الذل فینا
(جب کوئی بادشاہ لوگوں کو ذلیل کرنے پر آتا ہے تو ہم اس کے سامنے ذلیل ہونے سے انکار کر دیتے ہیں۔ )
حارث بن حلزہ فی البدیہہ اشعار کہنے پر ایسی قدرت رکھتا تھا کہ اس کے قصائد کو در کعبہ پر لٹکایا جاتا تاکہ اس کی عظمت کا اعتراف کیا جا سکے۔
عنترہ بن شداد۔ اپنے باپ کی لونڈی کا بیٹا تھا اس لئے غلاموں جیسا سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ کبھی بیٹا تسلیم نہیں کیا گیا البتہ ایک بار دشمنوں کے سامنے اس نے ایسا رجز پڑھا کہ باپ نے اسے اپنا خون تسلیم کر لینا پڑا۔
عرب کا جاہلی عہد جتنا مختصر پیش کیا جا سکتا تھا اس کی کوشش کی، جاہلی شعرا کا انتخاب کئی قرطاس کا تقاضا کرتا ہے اس لیے کسی اور وقت پہ ٹال دیتے ہیں۔ اس تحریر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مذہب کی عار میں عربی ادب کو نظر انداز نہ کریں۔ کسی قوم کے اوصاف نہ بھلائے جائیں۔ گزشتہ شب میں نے ایک شاعر سے جب یہ سنا کہ عرب کے لوگ ہمیشہ سے جاہل رہے ہیں تو مجھے اس کا جواب ایک تحریر سے دینا زیادہ موزوں لگا۔ آئندہ تحریر میں عربی ادب کے دوسرے دور یعنی صدر اسلام کو موضوع بنائیں گے۔ جب تک دعا میں یاد رکھیے گا۔


