بت پرستوں کی نئی نسلیں (5)
نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو اسے پاش پاش کر دیتے۔ مگر پرانے بت کے ٹکڑوں کو پاؤں تلے روندنے اور نیا بت تراشنے کے درمیان بس ایک مختصر سا وقفہ ہوتا تھا۔
—————————————————-
فضل داد کی مکمل خود مختاری
ملک جہانداد کے چالیسویں کے بعد ملک فضل داد اپنی دونوں بہنوں کو بڑی عدالت میں لے گیا۔ جہاں دونوں نے ان کاغذات کی تصدیق کردی جو انہوں نے اپنی شادیوں کے وقت باپ کو لکھ کر دیے تھے۔ یوں ملک جہانداد کی تمام زمین اور ساری جائیداد ملک فضل داد کے نام ہو گئی۔
اب ملک فضل داد اپنے تمام فیصلوں کے لیے آزاد اور خود مختار تھا۔
اس کے بڑے بڑے منصوبے اب تکمیل کی شکل اختیار کر سکتے تھے۔ اب اسے روکنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ بڑی بڑی کامیابیاں اس کے انتظار میں تھیں، مگر ایک محاذ ایسا بھی تھا جہاں اسے منہ کی کھانی پڑی۔ لیکن اس کا ذکر آگے چل کر، پہلے اس کی لگاتار کامیابیوں کی بات زیادہ ضروری ہے۔
اس نے سب سے پہلے ماہرین زراعت سے اپنے رابطوں کو تازہ کیا۔ جن کے کہنے پر وہ اپنے پھلوں کے باغ میں، جو پہلے صرف 32 کنال تک محدود تھا 80 کنال کا اضافہ کر چکا تھا۔ مزید اضافہ اگلے منصوبوں کا حصہ تھا۔ 50 کنال میں صرف قلمی آموں کے پودے تھے۔ جن میں بڑا حصہ ”لنگڑے آموں“ کا تھا۔ یہ بھی ماہرین کے مشورے کی وجہ سے تھا کہ ان کے بقول ”لنگڑا آم“ سائز میں بڑا اور ذائقے میں میٹھا ہوتا ہے۔ اس کی گٹھلی باریک ہوتی ہے۔
اسے کاٹ کر یا چوس کر، دونوں طریقے سے استعمال جا سکتا ہے۔ اس کا پودا، قلمی آموں کی دوسری اقسام کی نسبت زیادہ سخت جان اور پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ مزید، اس میں پھل بھی بھر کے لگتا ہے۔ انہی ماہرین کی ہدایت پر ہی اس نے ”انور رٹول“ جیسی قسم، کہ جسے آموں کا بادشاہ کہا جاتا ہے، کاشت کرنے سے پرہیز کیا تھا۔ کیونکہ ”انور رٹول“ بے شک ذائقے میں تو لاجواب ہے، لیکن اس کا پودا بہت نازک ہوتا ہے۔ سردیوں میں اس کی سخت حفاظت کرنا پڑتی ہے اور اس پر پھل بھی دوسری اقسام کی نسبت کم لگتا ہے۔
اور اب تین سال میں ہی ”لنگڑا“ کے پودے تو درختوں کا روپ دھارنے لگے تھے اور دوسری اقسام بھی خوب بڑھ رہی تھیں 32 کنال میں کنو کاشت کیے گئے تھے۔ وہ بھی اب درختوں کی شکل اختیار کرتے جا رہے تھے۔ 16 کنال سے سٹرابری کی جھاڑیوں کا آغاز کیا گیا تھا، جن سے پھل ملنا، پہلے سال سے ہی شروع ہو چکا تھا۔ الغرض فضل داد نے
ماہرین زراعت کی مدد سے جتنے بھی منصوبے شروع کیے تھے، سب کامیابی کی طرف گامزن تھے۔
دونوں سکولوں کی عمارتیں فضل داد کے منصوبے کے مطابق مکمل ہو چکیں تھیں۔ جن میں طلبہ اور طالبات کے کلاس رومز کے علاوہ ان اساتذہ کی رہائش کا بھی انتظام تھا، جو کہیں دور رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے روز ملک پور نہیں آ سکتے تھے۔ لڑکوں کا پرائمری سکول پہلے صرف جہانداد کی مدد سے چل رہا تھا۔ اب فضل داد نے پورے گاؤں کی طرف سے محکمہ تعلیم کو ان سکولوں کے منظور کرنے کی درخواست دے دی تھی۔ یہ ملک نیاز احمد اور ملک فیاض احمد کا مشورہ تھا کہ وہ ایسا کوئی بھی کام، اب اس ڈیپارٹمنٹ کے وکیل سے مشورہ کیے بغیر نہیں کرتا تھا۔ یہ دونوں درخواستیں بھی اس نے محکمۂ تعلیم کے معاملات کے ماہر ایک بڑے وکیل سے لکھوائیں تھیں۔ جو اسی وکیل کے لیٹر پیڈ پر لکھ کر بھیجی گئیں تھیں۔ ان کی کاپیاں وزیر تعلیم، وزیر اعلیٰ اور گورنر کے دفاتر کو بھیج دی گئیں تھیں۔
اور اب خود مختار ہونے کے بعد اسی ضمن میں اس نے ملک پور میں ایک پریس کانفرنس بھی کر ڈالی تھی۔ اس نے بے شک بہت سے اخبارات اور کئی ٹی وی نیوز چینلز کے نمائندوں کو اس پریس کانفرنس میں مدعو کیا تھا۔ لیکن صرف آٹھ اخباروں اور دو ٹی وی چینلز کے مقامی نمائندوں نے ہی اس میں شرکت کی۔ اتفاق سے ان دونوں میں سے ایک ٹی وی چینل وہ تھا جو اپوزیشن کی آواز سمجھا جاتا تھا۔ اس کی کوریج کی وجہ سے دوسرے کئی چینلز اور اخبارات نے بھی اس پریس کانفرنس کی خبر جاری کردی۔ اور اب فضل داد کو سیکرٹری محکمہ تعلیم کی طرف سے ملاقات کے لیے دعوت نامہ بھی آ چکا تھا۔ جہاں ساتھ لے جانے کے لیے فضل داد نے ”ملک پور“ سے دس سر کردہ آدمیوں کا انتخاب کیا تھا۔ اس کا وکیل اور وکیل کا اسسٹنٹ ان کے علاوہ تھے۔
اسی دوران میں فضل داد کے اپنے دونوں بہنوئیوں سے بھی مشورے جاری تھے۔ گاہے گاہے اس کی دونوں بہنیں اور ماں گوہر جان بھی ان مشوروں میں شامل ہوتی تھیں۔ ان کے خاندان میں پہلی بار ایسا ہو رہا تھا کہ بچوں کے رشتے طے کرنے کے علاوہ، کسی اہم کام کے لیے عورتوں سے بھی مشاورت کی جا رہی تھی۔ سب سے اہم ٹاپک تو مین روڈ اور ملک پور روڈ کے سنگم پر خریدی جانے والی سو کنال زمین تھی۔ جہاں پہلے فضل داد نے چاہا تھا کہ صرف سبزیوں کا فارم بنایا جائے۔
وہاں اب سب کی رائے تھی کہ ایک لائیو سٹاک فارم بھی بنایا جائے اور ایک چھوٹی سی بستی بھی آباد کی جائے۔ فضل داد نے ہی اس بستی کا نام ”روشن آباد“ تجویز کیا تھا جو سب کو پسند آیا اور اب وہاں کے بارے میں ہر بات ”روشن آباد“ کا نام لے کر کی جانے لگی۔ فضل داد نے دراصل پہلے سے سوچ رکھا تھا کہ جب وہ بیٹے کا باپ بنے گا تو بیٹے کا نام ”روشن داد“ رکھے گا۔ وہ نور بانو کو بھولنا نہیں چاہتا تھا۔ اور اس کا خیال تھا کہ نور، روشن ہوتا ہے، تو اس نے بیٹے کے لیے یہ نام سوچ لیا۔ مگر ابھی اس کے سوا کسی کو اس حقیقت کا ادراک نہیں تھا۔
یہ سب پروگرام ابھی بات چیت میں تھے کہ محکمہ تعلیم کی طرف سے دونوں سکولوں کی منظوریاں آ گئیں۔ استادوں اور دوسرے عملے کی تعیناتی ہو گئی اور وہاں باقاعدہ تعلیم کا بھی آغاز ہو گیا۔ یہ خود مختار ہونے کے بعد فضل داد کی پہلی بڑی کامیابی تھی۔
اب فضل داد چاہتا تھا کہ روشن آباد کے لیے مزید زمین خریدے۔ وہ سب مل کر اسی ضمن میں مختلف ممکنات پر غور کر رہے تھے کہ گوہر جان نے اپنے تمام زیورات (جو تھے بھی بہت) بیچ کر اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کر دیا۔ ابھی وہاں کی زمینوں کی قیمت بہت کم تھی اور گوہر جان کے زیور بیچ کر سو کنال اراضی آرام سے خریدی جا سکتی تھی۔ جو انہوں نے خرید لی۔ پھر سب کے مشورے سے ملک پور والی زمین سے تین سو کنال بینک کے پاس گروی رکھ کر روپیہ حاصل کیا گیا۔
یوں فضل داد، روشن آباد کے لیے مزید سو کنال اراضی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اب روشن آباد کے لیے خریدی گئی تین سو کنال زمین کے حقوق، ضمانت کے طور پر بینک کے سپرد کر کے قرضہ حاصل کیا گیا۔ پھر آرکیٹیکٹ سے نقشے بنوائے گئے اور روشن آباد کی تعمیر کے لیے ملک نیاز احمد کی کنسٹرکشن کمپنی سے معاہدہ طے پا گیا۔
یوں مین روڈ کے متوازی اپنی سڑک ”روشن آباد روڈ“ کے نام سے بنائی گئی۔ دونوں سڑکوں کے درمیان رہائشی مکانات اور دکانیں تعمیر کی گئیں۔ روشن آباد روڈ کے ساتھ ساتھ لائیو سٹاک فارم، ڈیری فارم اور سبزیوں کا فارم کام کرنے لگے۔ ان فارموں پر کام کرنے والوں کو اپنی رہائشوں کی ضرورت تھی، سو روشن آباد روڈ کی جانب سے بنائے گئے مکانات انہیں قسطوں پر بیچ دیے گئے۔ مین روڈ پر تعمیر کی گئی دکانیں آہستہ آہستہ کرایہ پر چڑھنے لگیں۔
دکانیں چلانے والوں نے بھی وہاں کے مکانات قسطوں پر خرید لیے۔ یوں وہ پیسہ جو بینکوں سے روشن آباد کی زمینوں کے بدلے لیا گیا تھا، اس کی قسطیں بینکوں کو جانے لگیں۔ جیسے جیسے آمدنیاں بڑھ رہی تھیں، فضل داد اپنے فارموں کو جدید سے جدید تر بناتا جا رہا تھا۔ جس سے اس کی آمدنیوں میں اضافے کی رفتار بھی تیز ہو رہی تھی۔ یہاں تک کہ چند سالوں میں اس نے بینکوں کے تمام واجبات ادا کر کے، روشن آباد کے آس پاس والی زمینیں بھی خریدنی شروع کر دیں۔ اپنے دونوں بہنوئیوں کے ساتھ پارٹنر شپ پر اپنی کنسٹرکشن کمپنی کھول کر مزید تعمیرات کا کام شروع کر دیا۔ ہر طرف خوشی ہی خوشی تھی، ہر طرف کامیابی ہی کامیابی۔ فتح ہی فتح۔ لیکن ایک محاذ ایسا تھا، جس پر فضل داد کو بری طرح شکست ہوئی۔ آئیے اب اس کہانی کی طرف واپس چلتے ہیں۔
ڈھولن وال سے واپس آنے کے بعد ، نور بانو اپنے ماں باپ کے ساتھ ملک پور میں رہ رہی تھی۔ وہ گھر کے کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹانے کے علاوہ صرف اپنے بیٹے کے ساتھ مصروف رہتی تھی۔ اس کی سہیلیاں اور رشتہ دار لڑکیاں بہت کوشش کرتیں کہ وہ ان کی طرف آیا
جایا کرے یا گاؤں میں لگنے والے میلوں میں شریک ہو، لیکن وہ گھر سے باہر ہی نہیں نکلتی تھی۔ ملک جہانداد کے فوت ہونے اور فضل داد کے خود مختار ہونے تک اس کا بیٹا راشد عمیر بھی اب خود چلنے پھرنے لگا تھا، اور گھر سے باہر جانے کی ضد میں بھی کرتا تھا، مگر نور بانو اسے بھی باہر جانے نہیں دیتی تھی۔ حویلی میں کام کرنے والی عورتوں اور لڑکیوں کی نگرانی نور بانو کی ماں بھاگ بھری کرتی تھی۔ مگر پھر بھاگ بھری کے گھٹنے میں چوٹ لگ گئی اور اس کے لیے حویلی والا کام مشکل ہو گیا۔ تب مجبوراً ماں والی ڈیوٹی نور بانو کو سنبھالنی پڑی۔ یوں کبھی کبھی اس کا فضل داد سے بھی سامنا ہونے لگا۔
یہ وہ وقت تھا جب روشن آباد والے سب منصوبے خوش اسلوبی سے چلنے لگے تھے اور اب گوہر جان جو بیٹیوں کی شادیوں کے بعد گھر میں اکیلی ہو گئی تھی، بہو لانا چاہتی تھی۔ اور اس سلسلے میں فضل داد پر مسلسل دباؤ ڈال رہی تھی۔ وہ اب تک کام کا بہانہ کر کے بات کو ٹال رہا تھا۔ ویسے بھی حویلی میں لڑکیاں تو اسے میسر ہی تھیں۔ اس لیے بھی اسے شادی کے لیے کوئی جلدی نہ تھی۔ لیکن پھر جب نور بانو نے دوبارہ سے حویلی میں آنا شروع کیا تو فضل داد کے سوئے ہوئے جذبات دوبارہ سے جاگ اٹھے۔
ایک تو اس کا خیال تھا کہ اب چونکہ وہ خود مختار ہے تو اسے روکنے والا بھی کوئی نہیں ہو گا۔ دوسرے وہ سمجھتا تھا کہ اس طرح نور بانو کی بھی مدد ہو جائے گی۔ اور وہ جو یوں خاوند کی موت کے بعد دنیا سے کنارہ کشی جیسی زندگی گزار رہی ہے، پھر سے جینے لگے گی۔ اس نے سب سے پہلے منشی چراغ دین سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جس کا یہ کہنا تھا نور بانو تو دوسری شادی کی بات ہی نہیں سنتی۔ سو اگر فضل داد خود اس سے بات کرے اور وہ راضی ہو جائے تو اس کے لیے اس سے بڑی خوشی کی اور کیا بات ہو گی!
ایک دن جب نور بانو حویلی کا کام کاج دیکھ رہی تھی، تو فضل داد نے اسے اپنے کمرے میں بلایا۔ اس کمرے میں، جہاں وہ کبھی بڑے شوق اور جوش و خروش سے آیا کرتی تھی، بڑی بے دلی سے پہنچی اور کھڑے کھڑے بولی ”آپ نے مجھے بلایا ملک صاحب؟“ ۔
یوں نور بانو نے پہلی بار اسے کسی بھی نام سے پکارا۔
”ہاں میں نے ہی تمہیں بلایا ہے“ فضل داد بولا ”ذرا بیٹھو مجھے تم سے کوئی بات کرنی ہے“
نور بانو: (کھڑے کھڑے بولی) آپ کہیے! میں سن رہی ہوں۔
فضل داد: تم بیٹھو تو سہی، بات آرام سے کرنے والی ہے۔
نور بانو ایک صوفے پر بیٹھ گئی۔ ”کہیے!“ لہجے میں بے گانگی کا عنصر نمایاں تھا فضل داد بھی اس کے قریب ہی بیٹھ گیا۔
”تم جانتی ہو کہ ملک پور آنے والے راستے پر پکی سڑک میری کوشش سے بنی ہے؟“
نور بانو: جی نہیں، مجھے پہلے پتہ نہیں تھا۔ اب آپ سے سن کر جان گئی ہوں۔
فضل داد: پھر تو تم یہ بھی نہیں جانتی ہو گی کہ مجھے یہ ضرورت کیوں پڑی ہے؟
نور بانو: جی نہیں، میں نہیں جانتی۔
فضل داد: تم بارش کے بعد ، کچے راستے سے تانگے پر گاؤں آئیں تو تمہیں تکلیف اٹھانی پڑی تھی، اس لیے۔
نور بانو اسی طرح بیٹھی رہی، جیسے فضل داد نے کوئی عام سی بات کی ہو ”مجھے اس بات کا بالکل علم نہیں تھا کہ آپ نے میری تکلیف کو اتنا محسوس کیا“ اس کا لہجہ اب باقاعدہ طنز سے لبریز تھا ”ورنہ میں پہلی فرصت میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آتی۔ مجھے افسوس ہے کہ بدلے میں شکریے سے زیادہ کچھ دے بھی نہیں سکتی تھی۔“ ۔
فضل داد: لیکن یہ میں نے تم پر یا کسی اور پر کوئی احسان تھوڑا ہی کیا تھا کہ تم شکریہ ادا کرو۔
یہ تو میں نے اپنی محبت کے لیے کیا تھا۔
نور بانو: ہاں! یہ تو ہے۔ محبت کے لیے تو آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں! گاؤں میں یہ جو سکول بنوا دیے ہیں اور دوسرے کئی کام، جن پر سارا گاؤں آپ کی تعریف کر رہا ہے۔ وہ سب بھی تو آپ نے کسی کی محبت کے لیے ہی کیے ہوں گے۔
فضل داد سمجھ گیا کہ نور بانو اس سے سخت ناراض ہے اسی لیے ایسے لہجے میں بات کر رہی ہے۔
”وہ سب کچھ تو میں نے سارے گاؤں کے لیے، یہاں کے لوگوں کے لیے، بلکہ خود اپنے لیے کیا ہے۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ اب تمہارے لیے بھی کچھ کروں۔“
نور بانو: تو بتائیے اب آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟
فضل داد:تم جانتی ہو کہ اب میں خود مختار ہو گیا ہوں۔
نور بانو: آپ کو بہت بہت مبارک ہو۔ ویسے وہ تو بڑے ملک صاحب کی وفات کے بعد آپ نے ہونا ہی تھا۔ اب تو پورا گاؤں جانتا ہے کہ آپ مکمل طور پر خود مختار ہو چکے ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں؟ ہاں ان داتا ہو گئے ہیں سارے گاؤں کے، یہی ناں؟
فضل داد:تم شاید طنز کر رہی ہو؟
نور بانو: نہیں، نہیں، میں دل سے کہہ رہی ہوں۔ کتنی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں آپ کی!
فضل داد:ہاں اور اب میری عمر بھی ہو رہی ہے۔
نور بانو: جی جی! وہ بھی ہو رہی ہے شاید!
فضل داد: اسی لیے میری ماں چاہتی ہے کہ میں اب شادی کر لوں۔
نور بانو: تو کر لیں۔ بلکہ جتنی مرضی شادیاں کر لیں۔
فضل داد:یہی تو مصیبت ہے۔ ایک شادی تو مجھے شہر میں بھی کرنی ہی پڑے گی۔ اس گھر کو سنبھالنے والا بھی کوئی ہونا ہی چاہیے۔ مگر پہلے میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔
نور بانو ایک جھٹکے سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور قدرے غصے سے بولی۔
”معاف کیجیے گا ملک صاحب! اگرچہ میری بدقسمتی مجھے کھینچ کھانچ کے پھر اسی حویلی میں لے آئی ہے مگر مت بھولیے کہ میں ایک شادی شدہ عورت اور ایک عدد بیٹے کی ماں ہوں“ ۔
فضل داد بھی کھڑا ہو گیا، اور ذرا اونچی آواز میں بولا۔
” تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نور بانو۔ تم شادی شدہ تھیں، لیکن اب تم ایک بیوہ ہو“
نور بانو: ہاں! مگر میں آج بھی اسی شخص کی محبت سے بندھی ہوئی ہوں۔ جو اچھی طرح جانتا تھا کہ محبت کیا ہے؟ کیسے کی جاتی ہے اور کیسے نبھائی جاتی ہے؟
فضل داد:اور میں آج بھی تم سے بے پناہ محبت کرتا ہوں نور بانو!
نور بانو: ارے چھوڑئیے ملک صاحب! آپ اور آپ کی محبت! یہ تو میں ہی وہ بے وقوف تھی جسے آپ کے عشق کا بخار چڑھا ہوا تھا، جو اترنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ اگر آپ اس وقت کہتے، نور بانو میں تم سے شادی نہیں کر سکتا، تم میری رکھیل بن جاؤ۔ میری محبت کی خاطر میرے نام پر پڑی رہو بغیر نکاح کے۔ تو قسم ہے پیدا کرنے والے کی میں آپ سے کہتی ’سر آنکھوں پر‘ میں آپ کی باندی، آپ کی داسی، آپ کے اشارے کی غلام، بس میرے ماں باپ کو منا لیں، پھر چاہے جیسے بھی رکھیں جہاں بھی رکھیں، میں رہ لوں گی، مگر آپ نے میرے ماں باپ سے تو کیا کہنا تھا، آپ تو مجھے بھی کچھ نہ کہہ سکے۔ میں آپ جیسے بزدل آدمی سے شادی کرنے کی نسبت، خود کشی کرنا بہتر سمجھوں گی۔
فضل داد:میں تو اپنے باپ سے بات کرنے کے لیے موقع ہی تلاش کر رہا تھا کہ انہوں نے مجھے کاغان بھیجا اور میرے پیچھے تمہارا نکاح کر کے رخصت بھی کر دیا۔ مجھے اس بات کا بہت دکھ ہے نور بانو اور اب میں اس غلطی کی تلافی کرنا چاہتا ہوں۔
نور بانو:اب آپ چونکہ خود مختار ہیں، پورا گاؤں آپ کی رعایا کی طرح ہے، تو اس زعم میں میرے ساتھ کوئی زبردستی کرنے کی کوشش مت کیجیے گا۔ ورنہ وہ آپ کی پہلے سے بھی بڑی غلطی ہو گی۔ میں اپنے بیٹے کو لے کر کہیں چلی جاؤں گی۔ کسی ایسی جگہ جہاں سے مجھے آپ کے فرشتے بھی نہیں ڈھونڈ سکیں گے۔ یا ہو سکتا ہے ہم دونوں ماں بیٹا زہر پی کر مر جائیں۔ پھر کر لیجئیے گا میری لاش کے ساتھ جو کچھ بھی آپ کرنا چاہیں۔
فضل داد: تمہاری مرضی کے خلاف یا زبردستی کا کوئی قدم اٹھاؤں اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا نور بانو۔ پورا گاؤں گواہ ہے کہ زور زبردستی میں نے کبھی بھی اور کسی کے ساتھ بھی نہیں کی۔ تم سے تو میں محبت کرتا ہوں۔ یقین کرو میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا۔ تم کہو گی تو میں تمہارے بیٹے کو بھی اپنا نام دے دوں گا۔
نور بانو:میرے بیٹے کے پاس اپنے باپ کا نام ہے۔ اس کے لیے وہی کافی ہے۔ اور اب مجھے اجازت دیجیے، مجھے بہت سے کام کرنے ہیں ابھی اور مہربانی فرما کر آئندہ مجھ سے اس بارے میں کوئی بات مت کیجیے گا۔ (اور نور بانو باہر نکل گئی) ۔
فضل داد نے سوچا بھی نہیں تھا کہ نور بانو اسے ایسا کوئی جواب دے گی۔ وہ تو سمجھ رہا تھا کہ وہ شادی کا سنتے ہی خوشی سے اچھل پڑے گی۔ وہ جو اسے اب تک ایک کے بعد ایک کامیابی ملتی جا رہی تھی، اسی نے اس کی خود اعتمادی اتنی بڑھا دی تھی کہ اس طرح کے جواب کے بارے وہ خیال بھی نہ کر سکا۔ وہ کتنی دیر تک ایک صدمے کی سی کیفیت میں وہاں بیٹھا رہا۔ پھر کچھ سوچ کر اس نے منشی چراغ دین کو بلوا بھیجا۔
منشی چراغ دین پیغام ملتے ہی حاضر ہو گیا۔ وہ اب فضل داد کو بھی وہی احترام دینے کی کوشش کرتا تھا جو ملک جہانداد کے لیے مخصوص تھا۔ جبکہ فضل داد اسے ایسا کرنے سے، کئی بار منع کر چکا تھا۔ کیونکہ وہ منشی چراغ دین کو اپنا بزرگ سمجھتا تھا۔ فضل داد نے اسے اصل معاملے سے آگاہ کیا اور استدعاء کی کہ وہ نور بانو کو منانے کی کوئی ترکیب کرے۔
”میں اپنی پوری کوشش کروں گا“ منشی چراغ دین بولا ”اور اگر وہ پیار سے نہ مانی تو اور بھی طریقے ہیں اسے راستے پر لانے کے“
فضل داد: اور کیا طریقے ہو سکتے ہیں؟
منشی: چار لوگوں کی موجودگی میں نکاح کیا جا سکتا ہے۔ مولوی کو میں سنبھال لوں گا۔
فضل داد: منشی انکل! جبر سے کام نہیں لینا ہے۔ کسی صورت بھی نہیں۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں ایسے رشتے نہیں بنتے۔ نفرتیں جنم لیتی ہیں اور نفرت مجھے ہر گز منظور نہیں۔ بڑے سے بڑے فائدے کے لیے بھی نہیں۔
منشی:آپ تو بڑے ملک صاحب کی طرح بولنے لگے۔ خدا جنت نصیب کرے، ظلم و زیادتی کے وہ بھی سخت خلاف تھے۔ کبھی اجازت نہیں دیتے تھے اس کی۔
فضل داد: میری زندگی کا یہی سب سے بڑا سبق ہے جو میں نے اپنے باپ سے سیکھا۔ آپ نور بانو کو کچھ اچھے دلائل دے کر منانے کی کوشش کریں۔ اسے اس کے نکاح والے حالات کی حقیقت سے آگاہ کریں۔ اسے بتائیں، میں اس وقت کتنا مجبور تھا۔ شاید پھر مان جائے اور یہ خلش جو میرے دل میں پھانس بن کر اٹکی ہوئی ہے ختم ہو سکے۔
منشی: لیکن اگر وہ اپنی ضد پر اڑی رہی تو؟
فضل داد: آپ اپنی سی تدبیر تو کر کے دیکھیں۔ اگر بیٹی کے پاس باپ سے مضبوط دلائل ہوئے تو پھر سوچیں گے، کیا کرنا ہے۔
منشی: میں اپنے داؤ پیچ آزما کر دیکھتا ہوں۔ ممکن ہے کوئی پینترا ٹھیک بیٹھ جائے۔
فضل داد: ذرا موقع محل دیکھ کر بات کیجیے گا۔ ابھی تو وہ یہاں سے گئی ہے غصے میں بھری ہوئی۔
منشی: جی ٹھیک ہے! میں ساز گار ماحول بنا کر ہی بات کروں گا۔ اب اگر آپ اجازت دیں تو۔
فضل داد: جی جی! آپ جائیے، میں کسی اچھی خبر کی امید رکھوں گا۔
اور منشی چراغ دین اسے سلام کر کے چلا گیا۔
فضل داد کو بے شک منشی چراغ دین پر مکمل بھروسا تھا کہ وہ اپنی پوری کوشش کرے گا لیکن نور بانو کے لہجے اور رویے نے اسے باور کروا دیا تھا کہ کسی خوش فہمی کا شکار نہ ہو۔
ادھر منشی چراغ دین نے گھر پہنچ کر بھاگ بھری کو سارا ماجرا سنایا، اور دونوں نے مل کر پروگرام بنایا کہ شام کو جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ کھیل میں مصروف ہو تو منشی چراغ دین اس سے بات کرے۔ بھاگ بھری اس گفتگو میں حصہ لینے سے کترا رہی تھی۔ اس کا بیان تھا کہ اگر نور بانو نے رد عمل میں کوئی سخت الفاظ استعمال کیے تو ہو سکتا ہے، وہ بھی اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور بات بننے کی بجائے بگڑ جائے۔
شام کو جب منشی چراغ دین سمجھ رہا تھا کہ نور بانو اچھے موڈ میں ہے تو اس نے ابتدا کی۔
”نور بانو! تمہاری کیا ملک فضل داد صاحب سے آج کوئی بات ہوئی ہے؟“
نور بانو نے عجیب حیرت اور غصے والی نظروں سے باپ کو دیکھا ”جب آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بات ہوئی ہے اور یہ بھی کہ
کیا ہوئی ہے، تو پھر آپ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟ ”۔
منشی: دیکھو بیٹی! تمہارے ان حالات میں تو اسے ان کی خدا ترسی سمجھنا چاہیے کہ انہوں نے تمہیں نکاح کی دعوت دی ہے۔
نور بانو: جب میں ابھی چھوٹی سی تھی تو میں نے جان لیا تھا کہ میرے پیروں میں آپ کی عزت کی بیڑیاں پڑی ہوئی ہیں۔ پھر آپ نے میری مرضی پوچھے بغیر، نکاح کی زنجیر میرے گلے میں باندھی اور مجھے رخصت کر دیا۔ اب ملک فضل داد کے نام کا طوق میری گردن میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میرا قصور کیا ہے آخر کہ مجھے یوں بار بار قتل کیا جائے؟
منشی: میری پیاری بیٹی! ہم سب تجھے بہت پیار کرتے ہیں۔
نور بانو: تو کیا میں آپ سے پیار نہیں کرتی تھی، جو آپ نے مجھ سے جانوروں جیسا سلوک کیا؟ اور پھر یہ بھی تو بتائیے، یہی کام جو اس وقت آپ کو بہت اچھا اور ضروری لگ رہا ہے، اس وقت اسے کیوں میرا گناہ گردانتے ہوئے مجھے سزا دی گئی تھی؟
منشی: اس وقت حالات بالکل اور تھے بیٹی۔ ملک فضل داد اس وقت تم سے شادی نہیں کر سکتا تھا، اور اگر تب بڑے ملک صاحب کو خبر مل جاتی کہ تم ملک فضل داد کو چاہتی ہو تو یقین کرو قیامت آجاتی۔
نور بانو:قیامت تو آئی بھی اور گزر بھی گئی ابا۔ لیکن یہ قیامت صرف مجھ پر گزری۔ آپ سب تو کہیں دور بیٹھے تماشا دیکھتے رہے۔ بلکہ بڑے ملک صاحب کے حضور ایک معصوم لڑکی کی قربانی دے کر ان سے داد وصول کرتے رہے۔
منشی:تم ابھی تک غصے کی حالت میں ہو بیٹی۔ تمہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ اگر اس وقت تمہیں روکا نہ جاتا تو آج ہم کس حال میں ہوتے۔ تمہارا بڑا بھائی ابھی پڑھائی کر رہا تھا۔ چھوٹا دو بار ایف اے میں فیل ہو چکا تھا۔ تھوڑے سے بینک بیلنس کے سوا ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ یہاں سے نکالے جانا تو پکی بات تھی لیکن یہاں سے نکلنے کے بعد پناہ لینے کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ ہم بہت مجبور تھے بیٹی!
نور بانو: اس وقت اگر مجبور تھے، تو بھی آپ تھے، اور اس وقت اگر کسی کا کوئی لالچ ہے، تو وہ بھی آپ ہی کا ہے۔ مجھے نہ تب کوئی ڈر تھا نہ اب کوئی طمع ہے۔ اس لیے ملک فضل داد سے شادی کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ ایک بزدل آدمی ہے اور کسی بزدل مرد سے کسی لڑکی کو بھی شادی نہیں کرنی چاہیے، اگر اسے ذرا سی بھی عقل ہو تو۔ اب اگر آپ چاہیں تو مجھے اس گھر سے نکال دیں۔
منشی : تم ہماری بیٹی ہو، ہماری جان ہو، ہم تمہیں گھر سے کیوں نکالیں گے؟ لیکن یہ تو دیکھو کہ ہم میاں بیوی نے تو ہمیشہ تمہارے ساتھ نہیں رہنا۔ ہمارے بعد تمہارے بھائی یا ان کی آنے والی بیویاں نجانے تمہارے ساتھ کیا سلوک کریں! اس لیے بہتر ہے کہ تمہارا
اپنا گھر ہو۔ تمہارا اپنا خاوند اور بال بچے ہوں۔
نور بانو:اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس سارے مسئلے کا حل صرف اور صرف میری شادی ہے، تو میں تیار ہوں۔ آپ کسی بھی ایسے شخص سے میری شادی کر دیجیے، جو میرے ساتھ میرے بیٹے کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔ لیکن یہ کوئی بھی شخص ملک فضل داد نہیں ہو سکتا۔ اب آپ کی مرضی ہے، مجھے شادی کر کے اس گھر سے نکالیں یا کسی اور طرح سے۔
(پھر اس نے بیٹے کو اٹھایا اور دوسرے کمرے میں چلی گئی)
منشی چراغ دین مایوس ہو کر ملک فضل داد کے پاس پہنچا اور اسے ساری گفتگو سے آگاہ کیا۔ فضل داد نے یہ کہتے ہوئے اسے تسلی دی کہ ہم نے اپنی سی کوشش کرلی۔ اب اس کی مرضی اور اس کے نصیب۔ آپ آج کے بعد اس موضوع کو ہی چھوڑ دیں۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتا کہ وہ خود اب شاید ہی کبھی اس خلش سے چھٹکارا حاصل کر سکے۔ خودمختاری کی طاقت سے ملنے والی بے شمار توانائی اور ایک عام سی لڑکی کے مقابل ایسی بے بسی، وہ کیسے برداشت کر سکتا تھا؟


