میری تصویر والی فیک آئی ڈی اور سائبر سیکیورٹی


آج پہلی بار مجھے پتا چلا کہ میری تصویر کاپی کر کے کوئی صاحب یا صاحبہ میرے کانٹیکٹس کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیج رہا ہے۔ بھلا ہو میری اس فرینڈ کا جس نے فرینڈ ریکوئسٹ قبول کرنے سے پہلے مجھ سے کنفرم کیا۔

میں نے اپنے پروفائل پہ پوسٹ لگائی ساتھ وہ آئی ڈی رپورٹ کردی اور جتنی دیر میں کوئی اور اسے رپورٹ کرتا وہ آئی ڈی بند کی جا چکی تھی۔

ممکن ہے میری وہ پوسٹ دیکھ کر کئی لوگوں نے سوچا ہو اسے تو فوراً اپنی آئی ڈی لاک کر لینی چاہیے اسے پتا نہیں انٹرنیٹ کتنی خطرناک جگہ ہے۔ یا کم از کم اپنی تصویر ہٹا لینی چاہیے تاکہ کوئی اس تصویر سے جھوٹی آئی ڈی نہ بنا لے اور دوسروں سے پیسے مانگنا شروع کردے یا تصاویر کا غلط استعمال کر لے۔

جناب آئیے اب اسی نکتے کو لے کر چلتے ہیں کہ سائبر ورلڈ میں کیا یہی ننھے منے خطرے ہیں یا اس کے علاوہ مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ کب کب آپ خود بھی لا علمی کے باعث سائبر کرائمز کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں اور خود کو ایسے کرائمز کا شکار ہونے یا مرتکب ہونے سے کیسے بچایا جاسکتا ہے۔

ایک نکتہ یہ ذہن میں رکھیے کہ مجرمانہ سوچ رکھنے والے افراد اپنی تمام تر چالاکی اور ذہانت جرم کرنے کے طریقوں پہ لگا رہے ہوتے ہیں۔ ان کا ٹارگٹ آپ کا پروفائل یا تصویر نہیں بلکہ آپ کے تحفظات یا ان سیکیورٹیز ہیں۔ اسی کا فائدہ مجرم طبقہ ہمیشہ سے اٹھاتا آ رہا ہے۔ اسی لیے مردوں اور عورتوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم اکثر الگ الگ نوعیت کے ہوتے ہیں۔ لڑکیوں سے ان کی نیوڈز مانگی جاتی ہیں اور مردوں کو صرف سریلی آواز میں دوستی کا لالچ دیا جاتا ہے۔

یہ بھی نکتہ ذہن میں رکھیے کہ فیک آئی ڈیز بنانے کے پیچھے مقصد صرف اس کے جان پہچان کے لوگوں سے پیسے بٹورنا نہیں ہوتا۔ بد قسمتی سے ہمارا ایک بڑا طبقہ اس اخلاقی حد کو نہیں جانتا کہ فیس بک پہ موجود کسی کے پروفائل پہ لگی تصویر عوامی ملکیت نہیں ہے۔ کبھی کبھی لوگ صرف اپنی ذاتی تصویر نہیں لگانا چاہتے اور نیٹ سے کوئی بھی رینڈم تصویر یا پروفائل دیکھ کر وہاں سے تصاویر کاپی کر کے لگا لیتے ہیں۔ اور اس میں کوئی برائی نہیں سمجھی جاتی۔

کئی ایسے گروپس بنے ہوئے ہیں جہاں گھریلو ٹائپ لڑکیوں کے پروفائل سے تصاویر صرف اپنے جنسی تلذذ کے لیے شیئر کی جاتی ہیں اور ان پہ فحش کمنٹس کیے جاتے ہیں۔ لوگ مذاق میں منفرد چہرے کی ساخت رکھنے والوں یا منفرد جسمانی ساخت رکھنے والوں کی تصاویر کاپی کر کے ان پہ لطیفے یا میمز بناتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اور اس کو کسی قسم کا اخلاقی یا سائبر کرائم نہیں سمجھتے جب کہ یہ سنجیدہ نوعیت کا سائبر کرائم ہے ساتھ ہی غیر متوازن نفسیاتی صحت کی علامت بھی ہے۔

یہ بنیادی اخلاقی حد نہ سمجھ پانا کہ میری پروفائل پہ موجود تصویر یا معلومات میری اجازت کے بغیر یا اپنے نام سے شیئر کرنا یا مجرمانہ فعل ہے بطور قوم ہماری شعوری سطح پہ جہالت ہے۔ کئی افراد ذاتی تلذذ کے لیے انٹرنیٹ یا سوشل پروفائلز سے تصاویر سیو کرتے ہیں اور ذاتی سطح پہ ہی پورن یا اس قسم کی دوسری ایکٹیوٹیز کے لیے استعمال کرتے ہیں ان کا خیال ہوتا ہے کہ چوں کہ متعلقہ بندے کو نہ اس بات کا پتا ہے نہ اس کا ہمارے ذاتی کاموں سے لینا دینا ہے تو یہ غیر اخلاقی یا مجرمانہ عمل نہیں۔ لیکن آپ کی غلط فہمی دور کردوں۔ یہ بھی مجرمانہ عمل ہی ہے۔

کئی لوگ مشہور افراد کے لیے بھی کسی قسم کی اس نوعیت کی حدود کا خیال بالکل نہیں رکھتے۔ اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی ان کے نام کا پروفائل بنا کے یا ان کی تصویر پنی ڈی پی پہ لگا کر کرتے ہیں۔ خاص طور سے اداکار، ماڈلز یا اسٹیج پر فارمرز کی۔

یہ اہم نکتہ سمجھیے کہ آپ کسی کو اپنے آپ سے بھی زیادہ اہمیت دے رہے ہیں یہ آپ کا اپنی ذات پہ کم ہوتے اعتبار کی نشانی ہے۔ کسی کو پسند کرنا اپنی جگہ لیکن اپنی شناخت کی جگہ دوسرے کو پنی شناخت سمجھنا مثبت رویہ نہیں۔ جس طرح آپ اپنے والدین، کسی سیاسی لیڈر یا اداکار بلکہ محبوب سے بھی جتنی ہی محبت کر لیں شناختی کارڈ اپنی ہی تصویر والا بنوائیں گے اسی طرح سوشل پروفائلز سائبر ورلڈ میں آپ کی شناخت ہیں۔ اس کو کسی اور کی تصویر کے پیچھے چھپانا آپ کے اپنی ذات پہ موجود تحفظات کی طرف اشارے ہیں۔

یہاں ہمارے معاشرے میں خواتین کے لیے یہ مجبوری بھی ہے کہ انہیں یا تو خود اس بات کا خوف ہے کہ ان کی تصاویر کا غلط استعمال ہو گا یا ان کے گھر والوں کو ہے۔ چلیے مان لیا کہ گھٹیا افراد ان تصاویر کا غلط استعمال کریں گے لیکن یہاں نکتہ ان کے غلط استعمال کا نہیں آپ کا اپنے گھر کی عورتوں پہ اعتبار نہ کرنے کا ہے کہ آپ کو ڈر ہے کہ آپ کی نظر سے اپنے گھر کی عورت کی کوئی فحش تصویر گزری تو آپ اس کی سپورٹ نہیں کریں گے آپ مجرم کا گریبان پکڑ کر اس سے پوچھنے کی بجائے کہ تمہاری ہمت کیسے ہوئی اپنی ہی بہن بیٹی کو چار جوتے ماریں گے۔

اور نکتے کا فائدہ جنسی ہراساں کرنے والے اٹھاتے ہیں۔ وہ ایسے بچوں اور لڑکیوں کو شکار بناتے ہیں جو گھریلو ماحول کی گھٹن سے پریشان ہوں۔ ان کا اعتماد حاصل کر کے مختلف حربوں سے ان کی تصاویر اور دوسری ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ ممکن ہے وہ تصاویر بھی لڑکی نے خود نہ دی ہوں بلکہ موبائل ہیک کر کے لی ہوں۔ اور ممکن ہے اس لڑکی کے اپنے پاس موبائل اور سوشل اکاؤنٹ ہو ہی نہیں وہ معلومات اس کے باپ بھائی کے موبائل سے نکالی ہو۔

کیوں کہ ایسے غیر منطقی تحفظات کا شکار مرد گھر کی عورت سے زیادہ اعتبار اپنے بدمعاش دوست پہ کرتے ہیں۔ اور خود ہی یہ معلومات اپنی حماقت سے غلط لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچا دیتے ہیں اور نتیجہ وہ بہن یا بیٹی بھگتتی ہے۔ آج اگر سارے گھر والے اپنی بہن بیوی بیٹی اور بچوں پہ اعتبار کرنے لگیں یہ جنسی ہراسانی اور بلیک میلنگ کے کیسز بالکل ختم ہوجائیں۔

یہ فرق سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اداکاروں اور دوسرے پرفارمنگ آرٹسٹس کا فن عوام کے لیے ہے ان کا چہرہ یا جسم نہیں۔ وہ ہمیشہ اس شخص کی ملکیت رہے گا اور کسی بھی صورت کسی دوسرے شخص کے لیے یہ اجازت نہیں کہ وہ ان کی تصاویر، وڈیوز یا آواز ایسی جگہ استعمال کرے جہاں ان کی اجازت نہیں۔

یہاں سے ہم ملک میں بڑھتے ایک زیادہ سنجیدہ مسئلے کی طرف آتے ہیں یعنی کسی کی تصویر، یا نام یا دونوں چیزیں استعمال کر کے جھوٹا پروفائل بنا لیا گیا۔ لیکن وہ نہ اس سے عقیدت میں کیا نہ پیسے بٹورنے کے لیے۔ بلکہ شر انگیز مواد پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ کہ اس شر پسند کو اپنی شناخت چھپانے کے لیے کوئی بھی دوسرا نام اور شکل درکار تھی اور آپ اس کی رینڈم سرچ کے لپیٹے میں آ گئے۔ یا پھر جان بوجھ کے آپ کو ہی بدنام کرنے کے لیے آپ کا نام اور تصویر چرائی گئی۔

اب ممکن ہے اس شخص کو اچھی طرح سمجھنے والے اس شر انگیز پوسٹ پہ یقین نہ کریں لیکن اکثر افراد اتنا دماغ لڑانے کی زحمت نہیں کرتے اور فوراً اس منفی پروپیگنڈا والی پوسٹس کو اسی شخص سے منسلک سمجھنے لگتے ہیں۔ آج کل ایسی لاکھوں فیک ٹویٹس روز کی بنیاد پہ بنائی جا رہی ہیں۔ ابھی ابھی یہ مضمون لکھنے سے پہلے شگفتہ اعجاز کی مریم نواز کے خلاف ایک ٹویٹ نظر سے گزری جس کی شگفتہ اعجاز نے تردید کی کہ یہ اکاؤنٹ ان کا نہیں۔ یہی کام پروفائل کو وقتی طور پہ ہیک کر کے بھی ہوتا ہے۔

کئی افراد اس تاک میں بھی ہوتے ہیں کہ وہ جن سے نظریاتی طور پہ متفق نہیں ان کی کوئی منفی بات نظر سے گزرے ایسے افراد ان مجرموں کے بڑے کام آتے ہیں کیوں کہ یہی لوگ بات کو مزید پھیلانے کا کام کرتے ہیں یہ پراپیگنڈا کے عمل میں کیٹلسٹ ہیں۔ اور بدقسمتی سے ہمارے یہاں کثرت سے موجود ہیں۔ اپنے عقیدے اور نظریات میں بہت مثبت اور منطقی اطوار رکھنے والے دوسروں کے لیے بالکل غیر منطقی رویہ اختیار کرتے ہیں۔

خیر بات کو سمیٹتے ہیں اور اس پہ آتے ہیں کہ ان مسائل کا حل کیا ہے۔ آپ ایسے مجرمانہ رویے کے حامل افراد کو سو فیصد روک نہیں سکتے۔ لیکن ان کے ڈر سے اپنے حدود کو مزید مختصر کر لینا انہیں کھل کر کھیلنے کے لیے بڑا میدان فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ آپ اپنی ذاتی زندگی اور سائبر اسپیس میں اپنی موجودگی کو حق کے ساتھ کلیم کریں۔ لیکن اپنے پروفائل پہ وہ تمام سکیورٹی آپشن ایکٹیویٹ کر لیں جو اس سوشل سائیٹ نے آپ کو مہیا کی ہیں۔ خود پروفائل سے شر انگیز پوسٹ کرنے سے اجتناب کریں ایسے میں خطرناک معلومات آپ کے نام سے شیئر کرنا آسان ہو گا۔ میں اگر ہلکی پھلکی گالی دیتی ہوں تو میرے نام سے زیادہ بڑی گالی بھی ماننا لوگوں کے لیے مشکل نہیں ہو گا۔

کچھ مسائل انفرادی سطح پہ حل نہیں ہوسکتے۔ میں سو فیصد محفوظ تب ہوں جب میرے فرینڈ سرکل کے افراد بھی اپنی اور میری سائبر سیکیورٹی کا خیال رکھیں گے۔ میری نظر سے ایک ہی شخص کی دو آئی ڈیز گزر رہی ہیں تو میں اندھا دھند انہیں ایکسیپٹ نہیں کرتی۔ بھلے وہ اس کی اصل آئی ڈیز ہی کیوں نہ ہوں جب تک باقاعدہ پتا نہ چلے کہ وہ اسی کی آئی ڈی ہے۔ میں پھر اس کی دوسری آئی ڈی فوراً انفرینڈ کر دیتی ہوں۔ مجھ سے انباکس میں ایسا فیس بک فرینڈ رابطہ کرتا ہے جس نے پہلے کبھی رابطہ نہ کیا ہو۔ یا اس نوعیت کی بات نہ کی ہو تو میں کسی اور طریقے سے اس سے رابطہ کر کے اسے مطلع کرتی ہوں یا پوچھتی ہوں کہ آپ نے مجھ سے وہاں بھی رابطہ کیا ہے اور کیوں۔ فیس بک پہ پوسٹ میں فحش لنک کھولنے سے گریز کیجئے وہاں کچھ دلچسپ نہیں ملنے والا بلکہ آپ کے پروفائل سے ایسا ہی لنک پوسٹ ہو جائے گا۔

یہ بھی خیال رکھیے کہ کوئی آپ سے کہے کہ میرا ایک کوڈ آپ کے نمبر پہ آئے مجھے بتا دیجیے گا تو وہ اس کا نہیں آپ کے ہی پروفائل کا کوڈ ہے۔ وہ کسی اور کو نہیں بتانا۔ اور یہ بتانا تو میرے خیال میں خیر ضروری نہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ، بول ٹی وی اور جیتو پاکستان کی جانب سے آپ کا لاکھوں کروڑوں کا انعام اور بائک نہیں نکلتی۔ جس جگہ آپ نے رجسٹریشن نہیں کروائی وہاں آپ کا انعام نہیں نکل سکتا۔ اور نکلے بھی تو انہیں پہلے پیسے نہیں دینے ہوتے۔ یہ بھی سائبر کرائم کا ہی طریقہ ہے۔ ذاتی موبائل نمبر سے کبھی بھی بینک والے یا ادارے والے رابطہ نہیں کرتے۔ ان کے مخصوص کوڈ والے نمبرز ہوتے ہیں جو اکثر صرف چار یا پانچ اعداد پہ مشتمل ہوتے ہیں اور وہ بھی آپ کے خفیہ اکاؤنٹ یا اے ٹی ایم پن نمبر کبھی آپ سے نہیں پوچھتے۔

کوئی اجنبی یا معمولی جان پہچان والا شخص کسی ادارے کا حوالہ دے کر آپ سے بہت زیادہ معلومات لے رہا ہے یا آپ کو کسی ایسی جگہ بلا رہا ہے جو پبلک پلیس نہیں ایسے میں وہ معلومات دینے اور ایسی جگہ جانے سے گریز کریں یا متعلقہ ادارے کے آفیشل نمبر پہ کال کر کے پہلے کنفرم کریں۔

قریبی سے قریبی شخص سے فیس بک پہ پیسے کی لین دین کرتے ہوئے محتاط رہیں۔ ممکن ہے آپ سے وہ بندہ میرے نام سے ہزار روپے ہی مانگے اور

آپ سوچیں کہ ابصار کو ہزار روپے دینے میں کیا مضائقہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ میں آپ سے پیسے مانگوں ہی کیوں۔ ضرورت مند افراد پیسے مانگتے ہوئے بھی سب سے پہلے قریبی اور قابل اعتبار شخص سے رجوع کرتے ہیں۔ بہت سے افراد اپنی اصل پروفائل سے بھی لوگوں سے پیسے مانگتے ہیں اور آپ ہر طرح سے کنفرم کر کے پھر یہ چھوٹی موٹی رقم دے دیتے ہیں لیکن وہ پھر کبھی واپس نہیں ملتی۔ اللہ کے نام پہ نیکی کرنے کے شوق میں ایسے دھوکوں میں نہ آئیں۔ کسی عادی کو پیسے دینے پہ آپ کے ساتھ دھوکا ہوا ہے ثواب ملنے کے چانس نہیں۔

Facebook Comments HS

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 115 posts and counting.See all posts by absar-fatima