پاکستانی آئین سے کھلواڑ اور ترامیم کی ہوشربا داستان
کسی بھی ملک کا آئین ایک ایسی دستاویز ہوتی ہیں جس میں ریاست کو چلانے کے طریق کار وضع کیے ہوتے ہیں۔ یہی پہلی اینٹ ہوتی ہے جس پر ریاست کی پوری عمارت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس کی تیاری اور منظوری حقیقت میں کسی بھی ریاست کے مستقبل کی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ اسی آئین کے مطابق ہر پاکستانی کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور مساوی حقوق کا تعین ہوتا ہے اس میں سیاسی، مذہبی، معاشی، تعلیمی اور دیگر حقوق شامل ہوتے ہیں۔
اگست 2023 میں اس کے نفاذ کے 50 سال پورے ہو رہے ہیں۔ پچاس سال کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں پشیمانی اور ندامت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ آزادی کے 26 سال کے بعد پاکستان کا پہلا آئین 1973 میں بنا اور 14 اگست کو اس کا نفاذ ہوا۔ دوسری طرف بھارت میں عوامی آئین تقریباً ڈیڑھ سال بعد ہی جنوری 1949 ہی میں تیار کر ہو کر نافذ ہو گیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان اگر آج جمہوریت کا موازنہ کیا جائے تو بنیادی فرق انہی سالوں کا ہے۔
آزادی کے چند سالوں بعد ہی پاکستان میں عسکریت کی مداخلت ہو گئی تھی جب کہ بھارت محفوظ رہا۔ اسی فرق کے نتیجہ میں بھارت ترقی کرتا ہوا کہیں سے کہیں پہنچ گیا اور پاکستان جہاں پہنچا ہے اس کا پتہ مفت آٹا سکیم سے چل چکا ہے۔ یہ ایک عجیب بات تھی کہ آئین کے نفاذ کے ساتھ ہی اس میں ترامیم کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ ایسا کیوں ہوا تھا؟ اس کے پس پردہ سازشوں کی عجیب و غریب داستانیں موجود ہیں وہ سب کہانیاں اتنی ہی پراسرار بھی ہیں جتنی کہ شرمناک اور المناک۔
شو مئی قسمت آزادی کے باوجود 6 195 تک برطانوی آئین سے ہی کام چلایا جاتا رہا، بعد ازاں پہلے دستور کی تشکیل تو ہو گئی لیکن دستور میں حقوق اور طاقت کا توازن نہ تھا جس کے باعث مشرقی اور مغربی پاکستان کی سیاسی طاقتوں میں تو تو ، میں میں بڑھ جانے کی وجہ سے اکتوبر 1958 میں جنرل ایوب خان نے بطور کمانڈر انچیف آئین کو روندتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ 1962 میں جنرل ایوب خان نے ایک اور نئے آئین کو نافذ کیا جس میں خود ان کے لئے بہت کچھ تھا جس کا خلاصہ یہی تھا کہ ان کی اپنی حکومت کو تحفظ ملے جب کہ دوسری طرف عوام کو ان کے بنیادی حق رائے دہی سے محروم کر دیا گیا تھا۔
جس آئین میں عوامی حقوق کو نظر انداز کیا گیا جس کے نتیجہ میں لوگ مشتعل ہونے لگے لہذا سیاسی حالات بگڑنے لگے اور پھر بگڑتے ہی چلے گئے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ جنرل ایوب کو اپنا ہی بنایا ہوا آئین توڑنا پڑا اور اقتدار کی طاقت کی چھڑی اپنے پیش رو جنرل یحٰیی کے سپرد کردی۔ گویا اقتدار ایک فوجی حکومت سے دوسری فوجی حکومت کو منتقل ہو گیا۔ چونکہ ملک میں کوئی باقاعدہ آئین موجود نہ تھا لہذا جنرل یحیی نے لیگل فریم آرڈر کا سہارا لیا اور ایک عبوری آئین کی شکل اختیار کرتے ہوئے ریاستی معاملات چلانے شروع کیے اس دور میں کیا کچھ ہوا وہ ایک سیاہ ترین باب ہے۔
اس باب میں ہوشربا رنگین اور شرمناک کہانیاں لکھی ہوئی ہیں جس میں اندرونی سازشوں اور مالی وسائل لی لوٹ کھسوٹ کے قصے بھی پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ان حرکتوں کا وہی نتیجہ نکلا جیسا کہ نکلا کرتا ہے۔ 1970 میں پہلی بار جنرل الیکشن ہوئے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کو ووٹ ملے۔ مشرقی پاکستان میں اکثریتی جماعت کا مینڈیٹ تسلیم نہ کیا گیا جس کے نتیجہ میں سیاسی کشیدگی اور فوجی مداخلت بڑھتی گئی اور بدقسمتی سے پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔
آج بھی اس سانحہ سے کسی نے سبق نہیں سیکھا ہے۔ 1971 میں یحٰیی خان نے پاکستان کی عنان ذوالفقار علی بھٹو کو سونپ دی اور وہ صدر بن گئے اور بعد ازاں 1973 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے فوجی مداخلت کے بغیر پہلا متفقہ دستور ملک کو دیا 14 جو اگست کو نافذ ہوا۔ اب تک یہی آئین ہے جس کے سہارے فوجی، نگران اور سول حکومتوں نے اپنی اپنی رنگ بازیاں دکھائی ہیں۔ کبھی مذہب کے نام پر اور کبھی روشن خیالی کے نام پر اور ہر بار اپنی ذات کو ہی دوام بخشا۔
ہر فوجی حکومت نے اپنے مفادات کو مدنظر رکھا جب کہ سول حکومتوں نے جمہوریت اور صوبائی اختیارات اور حقوق کے نام پر آئینی ترامیم کیں لیکن چونکہ مقصد مفادات کا حصول تھا نہ کہ عوامی فلاح و ترقی، لہذا انجام بھی برا ہی ہوا۔ اس پچاس سالہ آئین کے ساتھ کچھ ہوا وہ ایک الگ داستان ہے، ایسی داستان جو اپنے اندر نفرت، تعصب، مفاد پرستی سمیٹے ہوئے ہے۔ مضمون ہذا میں کچھ آئینی ترامیم کا ذکر کیا جا رہا ہے جو ذاتی و سیاسی مفادات اور مذہبی منافرت کے تناظر میں کی گئیں تھیں۔
ان میں جمہوری اصولوں کی پاسداری کی بجائے ”چاپلوسی“ نمایاں تھیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آئین کے خالق کے اپنے پہلے دور ہی میں سات ترامیم کی گئیں تھیں، سب سے پہلی ترمیم بھٹو کے دور میں 1974 ہی میں ہوئی جس میں مشرقی پاکستان کو تسلیم کیا گیا اور ملک کی نئی حدود کا تعین کیا گیا تھا، جب کہ چند ماہ بعد ہی دوسری ترمیم کے ذریعے احمدیوں کو سرکاری طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بارے بھی ڈاکٹر مبشر حسن اور دیگر وفات سے پہلے بتا چکے تھے کہ اس دوسری آئینی ترمیم کے پس پردہ کیا سیاسی عوامل تھے۔ اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہ تھا۔
پانچویں ترمیم کے ذریعے سندھ اور بلوچستان کی ہائی کورٹس کو الگ الگ کیا گیا وہاں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے عہدوں کی میعاد پانچ اور چار سال مقرر کی گئیں ساتویں ترمیم جو بھٹو کی آخری ترمیم ثابت ہوئی اس میں ریفرنڈم کے ذریعے عوام سے رجوع کرنے کا اختیار حاصل کیا گیا تھا۔ ضیاء الحق کے اقتدار پر قبضہ کے بعد 1985 میں پارلیمان نے معمولی ترمیم کے ساتھ آٹھویں ترمیم کو آئین کا حصہ بنا دیا جنرل ضیاء کا نام آئین میں داخل کیا گیا اور حکومتوں کو ختم کرنے کا اختیار حاصل کیا گیا۔ اس ناجائز طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بعد میں چار حکومتوں کو ان کی آئینی مدت مکمل کرنے سے قبل ہی تحلیل کر دیا گیا تھا۔
پاکستان کی سیاست اور آئین کی داستان کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے دونوں ادوار میں ایک بھی آئینی ترمیم ممکن نہ ہو سکی جب کہ نواز شریف کے دو پہلے ادوار میں جتنی بھی اہم ترین آئینی ترامیم میں ان میں محترمہ نے نواز شریف کا بھرپور اور مکمل ساتھ دیا اور یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ اگر محترمہ ساتھ نہ دیتیں تو نواز شریف کے لئے ترامیم کرنا ممکن نہ ہوتا لیکن چونکہ بینظیر بھٹو ایک باعمل اور حقیقی معنوں میں جمہوری قائد اور سیاسی لیڈر تھیں لہذا انہوں نے جمہوریت کے استحکام کے لئے نواز شریف کا ساتھ دیا تھا۔
نواز شریف کے دوسرے دور میں کی جانے والی تیرہویں ترمیم کے ذریعے اسمبلی کے ختم کرنے اور عسکری قیادت کے چناؤ کے اختیارات ختم کر دئے تھے جو صدر کو حاصل تھے۔ اسی دور میں جب کہ ارکان اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کرنے کا کاروبار عروج پر تھا اس کے سامنے بند باندھنے کے لئے چودھویں ترمیم منظور کرائی گئی اور ہارس ٹریڈنگ روکنے کی کوشش کی۔ ان دونوں ترامیم کی منظوری میں محترمہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت کے مفاد میں نواز شریف کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔
طاقت کا نشہ ہمیشہ ہی سے نواز شریف سمیت ہر ڈکٹیٹر شب کی کمزوری اور خواہش رہی ہے اہم ترین ترامیم کے بعد ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے نواز شریف نے پندرہویں ترمیم کے ذریعے اسلام کے نام پر مزید اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کی اور مجوزہ بل قومی اسمبلی سے منظور بھی ہو چکا تھا سینٹ میں اکثریت نہ تھی لیکن اسی دوران حالات نے پلٹا کھایا اور پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اس عرصہ کے دوران ایک بار پھر وقت کا پہیہ الٹا گھوما اور پرویز مشرف نے 2002 میں معطل شدہ آئین کو بحال کرنے کے بعد لیگل فریم آرڈر کے ذریعے اسمبلیوں کو تحلیل کرنے اور فوجی سربراہوں کی تقرری کے اختیارات واپس لے لئے اور قومی کونسل بھی دوبارہ قائم کردی اسی سال معرض وجود میں آنے والی قومی اسمبلی نے متحدہ مجلس عمل کے تعاون سے ایف ایل او کو سترہویں ترمیم کے ذریعے آئین کا حصہ بنا دیا تھا۔
اب تک کی جانے والی آئینی ترامیم میں تیرہویں اور چودھویں ترامیم کے ذریعے حکومتوں کے احتساب کو مزید کمزور کر دیا گیا جس سے من مانی کرنے کی مزید نئی راہیں کھلتی گئیں اور پاناما کیس سمیت کرپشن اور بد عنوانی کے سب ریکارڈ انہی من پسند آئینی ترامیم کا شاخسانہ ہے۔ اٹھارہویں ترمیم ایک اہم ترین ترمیم ہے جس کا سبب اب تک کی آنکھ مچولی ہے جو فوجی اور سول حکومتوں کے درمیان کھیلی جاتی رہی ہے پیپلز پارٹی کے دور میں منظور ہونے والی اس آئینی ترمیم میں اپوزیشن کے دیرینہ مطالبات بھی شامل تھے اور اس میں صوبوں کو بہت سے اختیارات دیے گئے اس ترمیم کے ذریعے قومی اسمبلی توڑنے کا صدارتی اختیار ایک بار پھر ختم کر دیا گیا، صوبہ سرحد کا نام تبدیل کیا گیا، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کا اختیار پارلیمانی کمیٹی کو دیا گیا، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری قائد حزب اختلاف کے مشورہ سے مشروط ہے، گورنر کے بہت سے اختیارات وزراء اعلی کو مل گئے اور گورنر وزیر اعلی کے مشورے کا پابند کر دیا گیا اور سب سے اہم بات یہ کہ صوبوں کو مزید قانون سازی کے اختیارات بھی مل گئے میٹرک تک مفت تعلیم دینا صوبے کی ذمہ داری قرار پائی یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔
جنوری 2015 میں اکیسویں ترمیم منظور ہوئی اور یہ دور بھی نواز شریف کا ہی تھا اور اس ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی گئی تھی اور قومی اسمبلی میں یہ بل نواز شریف کی منظوری میں ہوا تھا جمہوری سول حکومت میں ایسے بل کی منظوری افسوسناک امر ہے۔
جون 2016 میں بائیسویں ترمیم کی گئی جس کے تحت الیکشن کمیشن کے اختیارات چیف الیکشن کمشنر کر تفویض کیے گئے۔ 23 ویں آئینی ترمیم جنوری 2017 میں کی گئی جس کے تحت دوبارہ ملٹری عدالتوں کو مزید دو سالوں کے لئے ایکسٹینشن دی گئی جو جنوری 2019 تک کے لئے تھی۔ 24 ویں ترمیم جو دسمبر 2017 میں کی گئی تھی کے تحت وفاق کی اکائیوں کے مابین نشستوں کے تعین اور مردم شماری 2017 کی روشنی میں نئی انتخابی حلقوں کا تعین کرنا ہے۔
25 ویں آئین ترمیم کے ذریعے قبائلی علاقہ جات کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا تھا جو مئی 2018 میں کی گئی تھی۔ چھبیس ویں ترمیم مئی 2019 میں تحریک انصاف کے دور میں کی گئی تھی جس میں قبائلی علاقوں کی سیٹوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ یہ متفقہ ترمیم تھی۔ ان ترامیم پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں حالیہ اٹھارہویں ترمیم کے علاوہ کہیں بھی عام شہری کی ترقی اور اس کا مفاد کہیں نظر نہیں آتا۔ ہر ترمیم کے پیچھے سیاسی ذاتی اقتدار اور مفاد کا حصول ہی سر فہرست رہا لیکن عام شہری کے مفاد اور فائدہ لئے نہ پہلے کوئی سیاسی آواز اٹھی نہ کسی کو اب کوئی امید ہے سب ہی مفاد پرستی کی جنگ اپنے اپنے لئے لڑ رہے ہیں۔ آئین کے گولڈن جوبلی کے موقع پر ملک کی عدالتی، معاشی، سیاسی اور سماجی بدحالی اور ہاتھ میں پکڑا ”کشکول“ گواہی دیتا ہے کہ آج کے دور میں غیر مذہبی آئین ہی ملکی بقاء اور ترقی کا ضامن ہو سکتا ہے۔


