عوامی دانش کسے کہتے ہیں؟


مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم ’عوامی دانش‘ پر بات کرتے ہوئے یونی ورسٹیاں اور طالب علم بیچ میں کیوں گھسیٹ لاتے ہیں اور شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ ہماری جامعات طلبا کی ایسی کھیپ تیار کرنے میں ناکام ہے جو عوامی سمجھ بوجھ کے نمائندہ ہوں۔ بھئی! مگر یہ تو بتائیے کہ لوک فکر یونی ورسٹیوں کے انکیوبیٹر میں کب سے پھلنے پھولنے لگی؟ اس کا ناتا مدرسوں کے تعلیمی نصاب سے کب بنا؟ جامعات ٹھہریں نرسری میں اگے گلاب۔ عوامی دانش تو خودرو بوٹی ہے۔

نہ جانے کب، کہاں، کون سا بیج پھوٹ پڑے۔ ہاں! اساس دونوں کی مٹی ہے۔ علمی دانش تو ذرا سی محنت سے پیدا کی جا سکتی ہے۔ بس پودے کو پانی وقت پر دینا ہے، پیسوں کی رسید کی صورت کھاد ڈالنی ہے اور پیار بھرے لمس سے گوڈی کرتے رہنا ہے۔ مگر عوامی آگہی کا ’ڈیمانڈ اینڈ سپلائی‘ کے قانون سے ککھ تعلق نہیں۔ یہ سماجی اخلاقیات کی بھٹی میں صدیوں پکتی ہے۔ تہذیب اس کی آب یاری کرتی ہے۔ تب کہیں جا کر مست توکلی، بلھے شاہ اور مادھو لال جیسے لوک دانش ور نصیب ہوتے ہیں۔

جس طرح عوام میں شعور کا یکایک پیدا ہو جانا آسان نہیں۔ ایسے ہی معاشرے سے اس کو اکھاڑ پھینکنا بھی میرے آپ کے بس کی بات نہیں۔ خراب دال پکانے کے لیے بہت کاری گری چاہیے۔ مگر ثم الحمدللہ ہم نے یہی ایک کام پچھلی پوری صدی میں نہایت جان فشانی اور ایمان داری سے کیا ہے۔ مٹی سے جڑی فکر کو معاشرے کی جڑوں سے کاٹنا آسان تھوڑی تھا۔ وارث شاہ کی ہیر کو پنجاب کے جزدانوں سے دربدر کرنے کے لیے ایک پوری ٹاسک فورس چاہیے تھی۔

وتائیو فقیر سے کسی نے مٹھائی بانٹنے کو کہا تو انھوں نے پوچھا کہ ’رب کی تقسیم پر بانٹوں یا انسان بن کر؟‘ لوگوں نے ربانی تقسیم کو چنا۔ بس پھر کیا تھا؛ وتائیو سائیں نے کسی کو دو مٹھائیاں دیں، کسی کو پورا ڈبہ دے دیا، کسی کو گھونسے مارے تو کسی کو دھکے دیے۔ مجمعے نے جب سخت تشویش کا اظہار کیا تو کہنے لگے : ’رب کی تقسیم تو ایسی ہی ہے، کسی کو چھپر پھاڑ کر دے دیا تو کسی کو ایک روٹی کے لیے بھی دھکے کھانے پڑے۔

‘ میرا دل یہ سوچ کر ڈوب رہا ہے کہ اگر وتائیو سائیں آج ہوتے تو تلمبہ میں درخت سے الٹے لٹکا دیے گئے ہوتے۔ یہی کردار ہماری لوک تہذیب کا استعارہ ہیں۔ کسی یونی ورسٹی سے ہرگز ڈگری یافتہ نہیں۔ مٹی سے ان کا ربط اتنا اٹوٹ ہے کہ ان کی ذات فطرت میں ضم ہو جاتی ہے۔ پھر دریا ان کی بولیاں بولنے لگتے ہیں یا وہ پانی سے اس کی سرگم سیکھ جاتے ہیں۔

آپ بار بار تعلیمی نصاب کا رونا روتے ہیں۔ کبھی یکساں قومی نصاب کا رولا تو کبھی صوبائی نصابوں پر نکتہ چینی۔ کبھی پاکستانی ادب کی نعرے بازی تو کبھی اسلامی ادب کا چرچا۔ ابا بتاتے ہیں کہ بی اے کی مطالعہ پاکستان کی پہلی کلاس ہی میں ان کے استاد نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا؛ ’امتحان میں پاس ہونا ہے تو اس کتاب کو خود ہی رٹa مار لو، میں یہ نہیں پڑھاؤں گا اور میری پڑھائی ہوئی تاریخ پرچے میں مت لکھنا۔‘ آپ کیمبرج کا نصاب لائیں، اوکسفورڈ کا یا آغا خاں کا۔ کیا فرق پڑتا ہے؟ اصل چیز ہے آپ کا استاد۔ اور ہماری کام یابی کی معراج یہ ہے کہ دو قومی نظریے سے لے کر ختم نبوت ایکٹ پر اس کا یقین مقننہ سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ منطق اس کے لیے بھی ہوائی بات ہے۔ عوامی فکر کی تربیت کے بغیر تو علمی شعور بھی ممکن نہیں۔

دانش کدوں کی رسائی تو پورے پاکستان کی دس فی صد آبادی تک بھی نہیں جب کہ باقی 90 فی صد عوام جیسا سوچتے ہیں، وہی ان کے مجموعی شعور کا شاخسانہ ہے۔ اس کا تعلق کسی حد تک ’فوک وزڈم‘ سے بھی ہے۔ مجھے ہنزہ کا وہ شخص نہیں بھولتا جس نے بڑے فخر سے سینہ تان کر کہا تھا: ’میرے ہنزہ میں آپ کو کہیں کھلا سیوریج نہیں ملے گا۔‘ دھرتی ماں کی ملکیت کا اتنا گہرا احساس کس دانش گاہ میں سکھایا جاتا ہے؟ پورے ہنزہ میں ہوٹلوں سے لے کر گھروں تک، فاریسٹ گارڈز سے لے کر پولیس چوکیوں تک مجھے ایک گندا واش روم نہیں دکھا۔ یہ تمدنی شعور کس ادارے سے ڈگری یافتہ ہو سکتا ہے؟

کیا میں عوامی دانش کو کسی قوم کا مجموعی ’کامن سینس‘ کہہ سکتی ہوں؟ 99 فی صدی عوام یعنی ہجوم کی نفسیات؟ معاشرے کے سب سے نچلے فرد کی ثقافتی فکر۔ کہ اسے کسی بھی جعلی بیانیے کے پیچھے ہانک دیا جانا کتنا آسان ہے! ممکن بھی ہے یا نہیں! خادم رضوی ان کے ہیرو کے طور پر مقبول ہو سکتا ہے یا نہیں! گستاخیٔ رسول کے کسی انجانے مرتکب پر وہ لٹھ لے کر دوڑ پڑنے سے پہلے تصدیق بھی کریں گے یا نہیں! یہ سب عوام کی اجتماعی خرد مندی ہی کی کرامات ہیں۔ اس کا ہیرو صرف اور صرف ’عام آدمی‘ ہے۔ وہ اگر مضبوط ہو گا تو جامعات میں منطق، فلسفہ بھی خود بخود پھلنے پھولنے لگے گا۔

عوامی دانش اپنے ساتھ لاتی ہے مزاحمت اور مزاحمت کا قالب ہے طنز یعنی سیٹائر

یہ امتزاج بڑا مہلک ہے۔ بھلے وقتوں میں تو مطلق العنان بادشاہ بھی اپنے ساتھ مسخروں کی ٹولی رکھا کرتے تھے۔ یہ حاکم اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کی سرکوبی کرنا عین فرض سمجھتے تھے مگر ان لوک فن کاروں کا ہر نشتر سمجھتے تھے۔ روزمرہ محاورے سے لے کر بازاری بولیاں بھی تو مٹی کی پیداوار ہیں۔

اس عوامی زیرک فہمی کا منبع عورت ہے۔ کیوں کہ وہ کہانی کار ہے اور تخلیق کار بھی۔ 1947 ء کے فسادات میں جو ہوا، آپ سب نے دیکھا، سنا اور پڑھا۔ مگر ایمن آباد کے مرد جب اپنے اپنے حصے کا سامان اور عورت لوٹ کر گھروں کو آئے تو ان کی عورتوں نے اپنے ہی شوہروں، بھائیوں، بیٹوں سے دشمنی مول لی۔ اغوا شدہ لڑکیوں کو اپنے ہاں پناہ دی اور مردوں کو مار پیٹ کر گھروں سے نکال دیا۔ آج ہمارے سامنے نبیل گبول ہو یا عمران خاں، مردوں کی مملکت خداداد میں عورت کی تو ساری زندگی مزاحمت اور طنز دونوں سے بھری ہوئی ہے۔

تو حضور والا! عام آدمی لوک دانش کا سر چشمہ ہے اور استعارہ بھی۔ صدیوں کے جینیاتی تغیرات کی طاقت اس کے پاس ہے۔ آپ اور میں یعنی جامعات کی سدھائی ہوئی دو نمبر الیٹ اس کے سامنے ایسے ہی ہے جیسے اسٹیج پر بیٹھے دانشوروں کا مائیک بند کر دیا جائے تو وہ ایک دوسرے سے مغز ماری کرتے رہیں گے اور آڈیٹوریم میں بیٹھے عوام آپس میں گپیں ہانک کر نکل لیں گے۔

 کب تک مذاق ہو گا مری آگہی کے ساتھ
مجھ کو سوال دیجیے میرے جواب کا
(سید مبارک شاہ)

Facebook Comments HS