پاکستانی دستور کی گولڈن جوبلی

پاکستان کی سیاسی تاریخ بنیادی طور پر دستور سازی اور دستور شکنی کی تاریخ ہے۔ جب دل چاہا دستور بنایا گیا اور جب کوئی رکاوٹ محسوس ہوئی تو اسی دستور کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔ اگر قائد اعظم کی حیات میں ہی دستور تشکیل پا جاتا تو شاید قوم کی ابتدائی تین دہائیاں بھی سکون سے گزر جاتیں اور ملک بھی دولخت نا ہوتا۔ پاکستان کے دستور کی تشکیل کا سفر 10 اگست 1947 سے شروع ہوا اور 11 اگست کو قائد اعظم دستور ساز اسمبلی کے بلامقابلہ قائد ایوان منتخب ہوئے۔ تاہم ملک بننے کے بعد قائد کو اتنا وقت نا ملا کہ دستور سازی کا عمل مکمل ہو پاتا۔
قائد کے بعد تو گویا کسی ضابطے اور قانون کے بغیر طاقت کے بل پر وقت گزرتا رہا۔ 1956 کے آئین کی عمر ہی دو سال رہی جبکہ 1962 میں مارشل لا کو جمہوری لباس پہنانے کے لیے ایک دستور تشکیل دیا گیا۔ بالآخر 1970 کے انتخابات ہوئے۔ 16 دسمبر 1971 کو ملک دولخت ہوا اور 20 دسمبر 1971 کو ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار میں مارشل لا ورثے میں ملا۔ دستور کی عدم موجودگی کے سبب ذوالفقار علی بھٹو پہلے سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے۔ چار ماہ بعد اپریل 1972 میں بھٹو نے عبوری آئین نافذ کر دیا جس کے تحت وہ صدر بنے۔
آئین سازی کا عمل شروع ہوا اور فروری 1973 میں بھٹو نے بلوچستان میں نیپ کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ اس پر بطور احتجاج صوبہ سرحد میں مولانا مفتی محمود جو کہ وزیراعلیٰ تھے مستعفی ہو گئے۔ ایک سیاسی بحران پیدا ہو گیا۔ آئین سازی کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہو گئی۔ ولی خان نے قومی اسمبلی میں آئین سازی کا بائیکاٹ کر دیا۔ صوبائی حکومتوں کے خاتمے کے بعد قومی اسمبلی میں موجود نیپ، جے یو آئی، جماعت اسلامی، مولانا شاہ احمد نورانی اور مسلم لیگ پگاڑا نے بھی آئین سازی کے عمل کا بائیکاٹ کر دیا۔
ملک کو آئین کی ضرورت تھی ایک ایسے متفقہ دستور کی ضرورت تھی کہ جس کے تحت آگے کا سفر شروع کیا جا سکے اور سیاسی بحران کے سبب آئین سازی کا عمل رک گیا۔ ایسے میں 27 کو ذوالفقار علی بھٹو نے اپوزیشن کو آخری بار آئین سازی کی دعوت دیتے ہوئے عندیہ دیا کہ اگر اپوزیشن کا بائیکاٹ جاری رہا تو یک طرفہ طور پر بھی آئین منظور ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اپوزیشن مذاکرات پر واپس آ جائے۔ 29 مارچ کو حاکم علی زرداری کی سربراہی میں اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے چار رکنی کمیٹٰی بنائی گئی جس میں ملک جعفر اور علی بخش تالپور شامل تھے۔ کمیٹٰی نے اپوزیشن سے مذاکرات کیے اور اپوزیشن نے 2 اپریل کو چوہدری ظہور الہیٰ کے گھر پر اجلاس بلا لیا۔ 24 آئینی دفعات پر اتفاق ہوا کہ ان پر بات چیت کی جائے گی۔ یوں آئینی سازی کا عمل دوبارہ شروع ہوا۔
اس وقت کی سیاسی قیادت چاہے وہ حکومتی یا اپوزیشن کی بینچوں پر موجود تھی سیاسی بصیرت رکھتی تھی۔ ان کو احساس تھا کہ آئین کی کیا اہمیت ہے اور اس کے لیے ان کا آئین سازی کے عمل میں شریک رہنا کتنا اہم اور ضروری ہے۔ اپوزیشن کے آئین سازی کے عمل میں شریک ہونے پر غوث بخش بزنجو نے طنز کیا کہ بھٹو صوبوں میں ہماری حکومتیں ختم کرتا ہے اور ہم مرکز میں اس کے ساتھ بیٹھے ہیں اس پر مولانا مفتی محمود نے تاریخی جواب دیا تھا کہ بھٹو کے ساتھ ہماری سیاسی لڑائی ہے جو ہم صوبوں کی گلیوں میں لڑیں گے مگر یہ قوم 25 سال سے متفقہ آئین کی منتظر ہے ہم انہیں مایوس نہیں کر سکتے۔
لہذا اپوزیشن نے مذاکرات کے بعد آئین سازی کے عمل میں حصہ لیا اور 10 اپریل کو اسمبلی میں آئین کی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ پر حکومت اور عبدالولی خان سمیت اپوزیشن کے کم وبیش تمام اراکین نے دستخط کیے جبکہ 9 اراکین اسمبلی جن میں نواب خیر بخش مری، احمد رضا قصوری، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ سمیت دیگر اراکین نے دستخط نہیں کیے۔ یوں 135 اراکین نے آئین کی دستاویز پر دستخط کر کے اس کو منظور کر لیا۔ 25 سال بعد پہلی بار ملک کو ایک متفقہ آئین مل گیا۔
دستور سازی کا مرحلہ اپنی جگہ مگر اس متفقہ آئین کو بھی معاف نہیں کیا گیا جنرل ضیا الحق کے مارشل لا میں آئین کو معطل کیا گیا پھر اس میں ترامیم کی گئیں۔ جنرل مشرف کے دور میں بھی آئین کے ساتھ یہی کھلواڑ کیا گیا۔ من پسند ترامیم نے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا۔ آئین کو اپنی اصلی حالت میں واپس لانے کے لیے 2010 میں سیاسی اتفاق رائے سے 18 ویں آئینی ترمیم کی گئی اور اس وقت کی سیاسی قیادت نے بھی 1973 کی سیاسی قیادت کی طرح کا اعلیٰ سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔
آج 1973 کے آئین کو بنے ہوئے 50 سال ہو گئے ہیں اور ان پانچ دہائیوں میں گو کہ آئین کی روح پر من و عن عمل نہیں ہوسکا اور اس کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں من پسند آئینی ترامیم بھی کی گئیں تاہم اس آئین کی موجودگی روشنی کی وہ کرن ہے جس کے سہارے سیاہ رات گزاری جا سکتی ہے۔ یہ آئین ہی محکوم اور پسے ہوئے طبقات کو تحفظ فراہم کرتا ہے شہریوں کو بنیادی حقوق دیتا ہے۔ یہ آئین وہ ضابطہ اخلاق اور قوانین دیتا ہے جس کے تحت ریاست اور حکومت نے چلنا ہوتا ہے۔
یہ بھی غنیمت ہے کہ آج کی سیاسی قیادت اس متفقہ آئین پر ایک بار پھر متفق ہے اس آئین کی حفاظت کا عزم کر رہی ہے اس آئین پر چلنے کا اعلان کر رہی ہے اور تمام اداروں کو اپنا متعین کردہ آئینی کردار ادا کرنے کا کہہ رہی ہے۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں یہ اطمینان بہت ہے کہ کم ازکم ایک ایسا لائحہ عمل تو موجود ہے جس پر اگر عمل شروع کر دیا جائے تو خوشحالی اور آسودگی کی منزل کو حاصل کر لیں گے۔ 1973 کے آئین کو منظور کرنے والی اور اس آئین کی حفاظت کرنے والی سیاسی قیادت خراج تحسین کی مستحق ہے۔

