ذوالفقار عادل سے ملاقات


گزشتہ برس میرے دبئی جانے کا جب راستہ بنا تو میں طارق فیضی کا دو سبب سے شکر گزار تھا۔ یہ دو اسباب اصل میں دو افراد تھے، جن سے ملنے کے خیال سے میں خوش تھا۔ ذوالفقار عادل اور انعام ندیم۔ انعام ندیم سے اس سے پہلے میں اس قدر واقف نہیں تھا، یہ جانتا تھا کہ وہ شعر کہتے ہیں، تراجم کرتے ہیں اور ایک دفعہ ادبی دنیا پر صغیر ملال کی ایک کتاب اپلوڈ کرنے کے سلسلے میں انہوں نے میری مدد بھی کی تھی اور پوری کتاب کو خود ہی اسکین کر کے مجھے بھیجا بھی تھا۔ میں ان کی ادب دوستی سے واقف تھا، ساتھ ہی ساتھ میں نے ان سے کچھ کتابیں اپنے ساتھ لانے کی درخواست بھی کی تھی، جو انہوں نے قبول کی اور مجھ تک کئی ایسی قیمتی کتابیں پہنچائیں بھی، جو کہ ہندو پاک کے تعلقات کی مہربانی کے سبب آسانی سے میسر نہیں آتیں۔ ذوالفقار عادل سے ملنے کی خوشی دوسرے معنوں میں تھی، غزل کے تعلق سے دوست احباب میری رائے سے واقف ہیں، میں غزل کی صنف کو اپنے آپ میں کوئی معرکتہ الآرا قسم کی چیز نہیں سمجھتا اور میری دانست میں غزل کی شہرت نے اردو کے پورے سماج کو ہی ایک طرح سے سست، سرقے باز اور غیر سیاسی قسم کا اعلیٰ نمونہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ مگر ذوالفقار عادل کی غزل مجھے بے حد پسند ہے۔ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ شائع ہوا تو میری نظر میں وہ اردو غزل میں ایک تغیر کی حیثیت رکھتا تھا، کیونکہ ایسے شعری مجموعے اردو میں بہت کم شائع ہوئے ہیں، جن کی ہر غزل اپنی تازہ کاری اور سادہ الفاظ میں تجربوں کی تابناکی سے آپ کو حیران کر دے۔

Tariq Faizi

میں رات گئے جب طارق فیضی کے گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ جس کمرے میں میرا بستر لگا ہے، وہیں ایک دوسرے ڈبل بیڈ پر انعام ندیم آرام فرما رہے ہیں۔ ان سے اس وقت بس علیک سلیک ہو سکی، کیونکہ وہ سفر کی تھکان اتارنے کے لیے نیند کے رہوار پر کسی طرح سوار ہونے کی کوشش میں تھے۔ رات کی بقیہ تاریکی طارق فیضی کے ساتھ خوش گپیوں اور ہنسی ٹھٹھول میں ڈھل گئی اور میں آدھی رات سے ادھر جب اپنے کمرے میں سونے آیا تو انعام ندیم گہری نیند میں تھے۔ اگلی صبح جاگنے پر ان سے ملاقات ہوئی اور معلوم ہوا کہ وہ میرے لیے ان تمام کتابوں کے ساتھ جن کو لانے کی میں نے ان سے درخواست کی تھی، ایسی بھی کئی کتابیں لائے ہیں، جن کو حاصل کر کے مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ ان میں سے ایک کتاب جو کہ طارق فیضی نے مجھ سے چھین لی، وہ اکبر معصوم کا کلیات تھا۔ انعام ندیم سے ناشتہ کرتے وقت ہند و پاک کے ادبی منظرنامے، تراجم اور دیگر پاکستانی ادیبوں کے سلسلے میں گفتگو ہوتی رہی۔ ان کی باریک بینی کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا، جب انہوں نے مجھے دو خبریں سنائیں۔ اول یہ کہ انہوں نے میری ایک پوسٹ میں ہاروکی مراکامی کی کہانی ’شہرزاد‘ کے ترجمہ ہو جانے کی خواہش کو عملی شکل دے دی تھی اور بعد میں یہ ترجمہ اجمل کمال کے رسالے آج میں شائع بھی ہوا اور میں نے اسے پڑھا بھی، وہ واقعی بہت ایمانداری اور خوش اسلوبی سے کیا گیا ترجمہ تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مراکامی کی ایک اور کہانی آئینہ کا ذکر کیا، جس کا ہندی ترجمہ میں نے اپنے یوٹیوب چینل ’ترجمہ‘ پر پوجا بھاٹیہ کی آواز میں اپلوڈ کیا تھا۔ انعام ندیم نے بتایا کہ اس ترجمے میں بہت خامیاں تھیں اور ترجمہ نگار نے بہت سے حصوں کو نہ صرف ترک کر دیا تھا، بلکہ بدل کر بھی رکھ دیا تھا۔ انعام ندیم کے تعلق سے مجھے ان کے ساتھ چند دنوں رہ کر جو احساس ہوا اور ان کی شخصیت کا مجھ پر جو تاثر قائم ہوا وہ یہ رہا کہ وہ بے حد نفیس انسان ہیں، کھانے، پہننے، چلنے، بیٹھنے، بات کرنے سبھی قسم کے طور طریقوں میں ان کے یہاں ایک قسم کی اشرافیت جھلکتی ہے۔ حالانکہ جاوید اختر سے متاثر ہونے کے ان کے انداز نے مجھے کچھ شش و پنج میں مبتلا رکھا، مگر اس میں کیا کہا جاسکتا ہے، شاید انہیں جاوید صاحب کا دانشورانہ انداز پسند آیا ہو۔

Anaam Nadeem

ذوالفقار عادل سے البتہ میری ملاقات دوسرے روز شام کو مشاعرے میں ہوئی۔ چونکہ اس روز نظم کا مشاعرہ (مناظمہ) تھا اس لیے میں، انعام ندیم اور ذوالفقار عادل جلسہ گاہ سے باہر نکل آئے، یہ مشاعرہ ایک ایسی جگہ پر ہو رہا تھا، جو صنعتی علاقہ تھا اور یہاں دور دور تک کوئی چائے خانہ، کیفے یا ریستوراں نام کی چیز دکھائی نہ دیتی تھی۔ رات کے آٹھ بجے تھے، مگر پھیلی ہوئی سرمئی سڑک پر آتے جاتے ٹرکوں اور کچھ ملیالی شکل کے مزدوروں کے سوا وہاں کوئی بھی دکھائی نہ دیتا تھا۔ ہم باہر نکل کر کوئی کیفے تلاش کرنے کی غرض سے یونہی پیدل پیدل چل دیے، کچھ دور چلنے پر کسی سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ مخالف سمت میں کوئی آدھ کلومیٹر چل کر بائیں جانب مڑنے پر ہمیں ایک مالا باری ریستوراں مل جائے گا۔ ذوالفقار عادل کچھ دور چل کر پسینہ پسینہ ہوئے جا رہے تھے، ایسی گرمی بھی نہیں تھی، میں نے سبب پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ کچھ وقت پہلے ان کی بائی پاس سرجری ہوئی ہے۔ یہ خبر پریشان کرنے والی تھی، مگر میں نے محسوس کیا کہ ذوالفقار عادل کی اپنی ذات اس خبر سے تو کیا، اس سرجری سے بھی اتنی ہراساں نہیں ہے۔ پیٹر ہینڈکے نے اپنی کتاب ’A Sorrow Beyond Dreams‘ میں اپنی ماں کی موت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کمرے میں جہاں ان کی والدہ کی لاش رکھی تھی، چند عورتیں بیٹھی تھیں، ان کے چہروں کی اداسی بتاتی تھی کہ وہ ان کی ماں کے مردہ بدن میں اپنا مستقبل دیکھ رہی ہیں۔ میرے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے، جب کوئی مجھے اپنی کسی جسمانی تکلیف، آپریشن یا سرجری کے بارے میں بتاتا ہے تو میرا تصور میری مرضی کے خلاف اس کے زخم آلود جوتوں میں اپنے پاؤں ڈال دیتا ہے۔ بہرحال ذوالفقار کی اس واردات قلبی کو جاننے کے بعد ان کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ انجینئرنگ کے شعبے سے منسلک ہیں، بہت عرصے سے یا تو شاعری کر نہیں رہے یا اس قدر محتاط ہیں کہ زیادہ تر اشعار کو خود ہی رد کر دیا کرتے ہیں۔ جب میں نے ان سے جاننا چاہا کہ ان کا اگلا شعری مجموعہ کب تک آئے گا تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ان کے پاس دوسرے شعری مجموعے کے لیے وافر کلام ابھی تک موجود ہی نہیں تھا۔ یہ صورت حال غزل کے اس شاعر کو دوسرے شہرت کا ہوکا رکھنے اور تیزی کے ساتھ مجموعوں کا انبار لگانے والے بڑے بڑے غزل گویوں سے الگ کرتی تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ غزل کہہ لینے بھر سے کچھ نہیں ہوتا، دیکھنا یہ ہے کہ کچھ کام کی بات بھی بنی ہے یا نہیں۔ ایک ادیب کے یہاں ٹھہراؤ اور خود کو رد کرنے کی طاقت ہی سب کچھ ہے۔ اپنے لکھے کو بندر کے گھاؤ کی طرح پالتے رہنے اور اس کی نمائش کرنے سے بندر کی موت مرنا بھی پڑتا ہے۔

Zulfiqar Adil

ذوالفقار عادل آہستہ بات کرتے ہیں۔ چھوٹے بڑے سبھی کے نام کے ساتھ بھائی ضرور لگاتے ہیں۔ اختلاف کا اظہار ہنستے ہوئے کرتے ہیں اور جو بات ناپسند ہو، اس پر خاموش ہونا مناسب سمجھتے ہیں۔ حالانکہ میری ان سے دو تین روز ہی ملاقاتیں ہو سکیں۔ مگر میں نے ان سے اس دوران ان کی شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے فکشن پر بھی گفتگو کی۔ وہ اپنے لکھے کے حوالے سے زیادہ بات کرنے سے کتراتے رہے، مگر میری کوشش تھی کہ جس ادیب کو میں اس قدر پسند کرتا ہوں، جس کی تخلیقی تجربہ کاری نے مجھے اتنا متاثر کیا ہے، میں اس کی تخلیقات یا تخلیقی منصوبوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان سکوں۔ ابھی تک ہم سب نے غالباً ان کی ایک ہی کہانی ’منٹو‘ پڑھی ہوگی۔ میں نے ہی سب سے پہلے اس کہانی کو ادبی دنیا بلاگ پر شائع کیا تھا اور اسے پڑھ کر مجھے یہ اندازہ تو ہو گیا تھا کہ اگر ذوالفقار عادل فکشن نگاری کی طرف سنجیدگی سے توجہ دے لیں تو ضرور کچھ نیا اور عمدہ فکشن اردو کے مقدر کا حصہ بن سکتا ہے۔ مگر شاید اس کہانی کے بعد ان کی کوئی دوسری کہانی ہم میں سے کسی نے نہیں پڑھی۔ اس بارے میں استفسار کرنے سے پتہ چلا کہ انہوں نے کہانیاں ہی نہیں ایک ناول بھی لکھ رکھا ہے۔ مگر اسے جلد شائع کرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس ناول کا لوکیل بغداد ہے اور اس کا کردار الف لیلوی طرز کا ایک سوداگر ہے، جس کا نام جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، ابوالحسن ہے۔ اس پورے ناول کے قصے کو مجھے ذوالفقار عادل نے اگلے روز کی اپنی ایسی ہی ایک چہل قدمی کے دوران سنایا۔ قصہ دلچسپ ہے، مگر میں اسے یہاں بیان نہیں کرنا چاہتا، کیا پتہ کل کو وہ ناول شائع ہو ہی جائے۔ چنانچہ اس کے بارے میں ابھی سے زیادہ بات کیوں کرنی؟ میں تو اتنی خبر دینا چاہتا تھا کہ وہ ناول لکھ چکے ہیں یا شاید لکھ رہے ہیں۔

ایک دلچسپ بات جو مجھے ذوالفقار عادل کے یہاں نظر آئی وہ یہ کہ آخری روز جب موسیقی کا بازار دبئی کے ایک پرائیویٹ ولا میں گرم تھا اور سبھی مہمان بیٹھے آرام کر رہے تھے۔ ذوالفقار عادل مجھ سے گھر کی پرلی طرف ٹہلتے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ اس بات چیت کے دوران ان کی بیٹی، جس کی عمر قریب تین یا چار برس کی ہوگی۔ بار بار دوڑتی ہوئی کسی مجسمے کو چھونے کی کوشش کرتی، یا پھر دور سامنے لگے گیٹ سے ملحق ولا کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاتی۔ تب یہ دوڑ کر اس کا پیچھا کرتے، اسے گود میں اٹھا کر ٹہلتے، اس کی توتلی باتوں کا بڑے مشفقانہ انداز میں جواب دیتے۔ میں نے ایک دفعہ بھی انہیں اسے ڈانٹتے، پھٹکارتے یا خود کو اس کا پیچھا کرتے ہوئے جھنجھلاتے نہیں دیکھا۔ اردو کا کوئی شاعر بطور ایک باپ اس قدر ذمہ دار اور اپنے ادبی قد سے بے بہرہ اپنی انسانی زندگی میں اتنا سلجھا ہوا ہے یہ دیکھ کر مجھے واقعی خوشی ہوئی۔

zulfiqar adil

ایک اور بات جو عام غزل گویوں سے ان کے یہاں مختلف تھی، وہ یہ کہ وہ اپنے اشعار سناتے ہوئے، خود ہی ان پر تنقیدی تبصرے بھی کرتے تھے، بتاتے جاتے کہ کہاں، کس لفظ سے اور کس مصرعے سے انہیں اڑچن سی محسوس ہو رہی ہے۔ وہ اس سلسلے میں میری رائے بھی طلب کرتے، میں نے ایک دو جگہ جھجکتے ہوئے اپنی رائے پیش کی، اس پر بھی انہوں نے غور کیا اور ہم نے اس حوالے سے مزید گفتگو کی۔ میرے لیے یہ بات تھوڑی انوکھی تھی کہ اردو کا کوئی شاعر اپنی تخلیقی حسیت کو منوا لینے اور سنجیدہ ادبی حلقوں میں ایک قسم کی مقبولیت حاصل کرنے کے بعد بھی خود کے بارے میں اتنا مشکوک کیونکر ہو سکتا ہے۔ یہ رویہ میرے اس شعری اعتماد کے گھٹنوں پر ضرب بھی لگا رہا تھا، جس کی وجہ سے میں ایک بار غزل لکھنے کے بعد اس میں کسی قسم کا پھیر بدل کرنے کا ایک عرصے تک روادار نہیں تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ ذوالفقار عادل کے یہاں لفظ کی پرکھ اور مصرعے کی چستی دونوں بہت اہمیت رکھتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ان دونوں کے چکر میں خیال کا بیڑہ غرق نہ ہو گیا ہو۔ غزل جو ایک حد تک ہمارے اپنے اور پیش رو ادیبوں کے دور میں بھی چونکانے یا ہنسانے کی ایک Trick تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، ذوالفقار عادل کے یہاں کہانی بن کر ابھرتی ہے۔ منٹو والی کہانی نہیں، ہاجرہ مسرور والی کہانی، غلام عباس والی کہانی۔

میں اپنے معاصر پاکستانی ادیبوں میں اجمل کمال، سید کاشف رضا، علی اکبر ناطق، انعام ندیم اور ذوالفقار عادل جیسے اہم ادیبوں سے ملا ہوں۔ ان میں کاشف رضا کے ساتھ گزرے ہوئے دو تین روز دلچسپی سے خالی نہیں تھے۔ کاشف رضا کی شخصیت میں کتابوں کے تعلق سے جو تجسس اور تنوع پایا جاتا ہے، وہ اردو کے ادیبوں کو بے حد کم نصیب ہے۔ کاشف اپنی ذات میں ہی ایک چلتی پھرتی لائبریری ہیں۔ ان سے ادب کے ساتھ ساتھ سیاست، فلسفہ اور سماجیات جیسے مضامین پر بھی بہت کچھ سیکھا سمجھا جاسکتا ہے، بشرطیکہ آپ میں اس کی خواہش ہو۔ وہ جب ہندوستان آئے تھے تو میرے لیے مرزا اطہر بیگ کی کتابوں کے ساتھ ساتھ نزار قبانی کی یادداشتوں کی کتاب کا ترجمہ بھی لے آئے تھے۔ اس کتاب کا تاثر آج بھی قائم ہے۔ مرزا اطہر بیگ کا ذکر ہوا تو مجھے ایک جملہ معترضہ کہنے کی اجازت دیجیے، ان کا ناول غلام باغ دلچسپ ہے، حسن کی صورت حال بہت عمدہ ہے، اور اسی سبب سے میں نے ذوالفقار عادل سے ان کے نئے ناول خفیف مخفی کی آپ بیتی کی خواہش ظاہر کی تھی۔ بیگ صاحب کا یہ ناول ان کے گزشتہ فکشن کے مقابلے میں مجھے کافی بوجھل اور ہارر فکشن کا ایک غیر متاثر کن نمونہ معلوم ہوا، میں اسے مکمل نہیں پڑھ سکا، کیونکہ یہ ایک تھکا دینے والا تجربہ تھا، جس میں ایسی بے جا معلومات کافی سے زیادہ ہے، جو کہ گوگل سرچ (اور اب تو چیٹ جی پی ٹی) کے زمانے میں ایک کلک یا بغیر کلک کے ہی بہ آسانی معلوم کی جا سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ان کی کہانی خاص طور پر سخت پلاستر میں اندمال، میری پسندیدہ کہانیوں میں شامل ہے اور واقعی ایک نادر فن پارہ ہے۔ بہرحال کاشف رضا کے سلسلے میں یہ بات بھی قبول کرنی چاہیے کہ ان کے سبب میں نے ہی نہیں، شاید مجھ جیسے کئی لوگوں نے عمدہ کتابوں کے بارے میں جانا اور انہیں پڑھا ہو گا۔ ان کے سیاسی و ادبی نظریات سے کسی طرح کے اختلاف کا حق اپنی جگہ مگر وہ ہمارے عہد کا ایک اہم علمی سرمایہ ہیں۔

Syed Kashif Raza

ذوالفقار عادل سے میں نے ان ملاقاتوں میں ان کی غزلیں سنیں۔ یادگار کے طور پر کچھ کو ریکارڈ بھی کر لیا۔ ان کے پاس ان کے شعری مجموعے ’شرق مرے شمال میں‘ کی جو آخری کاپی بچی تھی، وہ بھی ان سے دستخط کروا کر حاصل کرلی۔ یہ دراصل میرے لیے دبئی کے سفر کا صحیح معنوں میں حاصل تھا۔ اس مشاعرے میں ایسے لوگ بھی شامل تھے، جو ایک دوسرے کو رد کرنے پر تلے ہوئے تھے، کوئی کسی کو شاعر نہیں مان رہا تھا، کسی کی نظر میں کوئی بکواس کرنے والا تھا، وہی مشاعروں اور ادیبوں کی گروپ بازیاں، وہی ایک دوسرے کی چغلیاں، ایک دوسرے سے بلا سبب کی پریشانی اور دوسروں پر بے وجہ کا غصہ، اپنے خلاف سازش کا ہر وقت ایک ان دیکھا ڈر اس پروگرام کا بھی مقدر تھا۔ مشاعروں کا ادیب ہو یا رسالوں کا۔ اردو کے زیادہ تر ادیب نما لوگوں کا وتیرہ ہے کہ وہ ایک سڑے ہوئے فرسٹیٹڈ اسکول ٹیچر کی طرح ہر دوسری بات پر یہ شکایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ’ہمیں سمجھا نہیں گیا، ہماری قدر نہیں کی گئی۔‘ بلکہ ان کی صبح ہی دوسروں کو جاہل، نا سمجھ اور بونا ثابت کرنے کے اندھے شور سے شروع ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ذوالفقار عادل کے یہاں ایک طمانیت ہے، نہ خود کو منوانے کی کوئی ضد ہے، نہ خود کو نہ سمجھے جانے کا کوئی شکوہ۔ ان کا سارا دھیان اپنے آپ کو ایک ایسا تخلیق کار بنائے رکھنے پر ہے، جس کے یہاں نیرنگی تخلیق ہی آخری معیار ہو۔ ان سے مل کر مجھے خوشی ہوئی ہے اور دل ہے کہ دوبارہ کبھی کوئی ایسا موقع آ سکے جہاں میں ان کے ساتھ ساتھ اپنے باقی ہم عصر پسندیدہ ادیبوں کے ہمراہ بھی کچھ وقت گزار سکوں۔

Facebook Comments HS