سلمی اعوان کا سفر نامہ: حیرت بھری آنکھ میں چین

سیرو سیاحت کا شوق گھٹی میں پڑا ہے۔ جہاں تک رسائی ہو پہنچ جاتے ہیں۔ اور جہاں حدود و قیود اور بے بسی حائل ہو وہاں کتابوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کتابیں بھی کیا عجب شے ہیں۔ دیکھنے میں سیاہی بھرے چند صفات۔ لیکن ایک جہاں آباد کیے ہوئے۔
چند دن پہلے سلمی اعوان صاحبہ کا سفرنامہ ”حیرت بھری آنکھ میں چین“ نظر سے گزرا۔ سرورق اتنا خوبصورت کہ کتاب پڑھنے کو جی چاہے۔
شروع کیا تو انداز بیاں اتنا دلچسپ لگا کہ پڑھتی چلی گئی۔ بے ساختہ، بے تکلف انداز اور ساتھ پنجابی کا خوبصورت تڑکا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اگر جابجا گوڈوں گٹوں کا ذکر نہ ہو تو یوں لگے کوئی الہڑ دوشیزہ اپنے سفر کا حال بیان کر رہی ہے۔
ابتدا میں وانگ وی کی نظم کا عنوان ہی توجہ کھینچتا ہے۔ دفعتا امجد اسلام امجد یاد آئے۔ پڑھیے اور لطف لیجیے۔
”محبت کے بیج“
جنوب کی سر زمین پر سرخ بیریاں اگتی ہیں
ہائے بہار میں بے چارے درختوں کا بوجھ کتنا بڑھ جاتا ہے
اکٹھا کرو انہیں کہ تمہاری مٹھی بھر جائے
یہ تمھاری محبت بھری میٹھی یادوں کو
پھر سے زندہ کر دیں گی
ابتدا اتنی معصومانہ اور دلچسپ ہے کہ بے اختیار ہونٹوں پہ مسکراہٹ مچلنے لگتی ہے۔ ملاحظہ کیجئے۔
”ایک دیہاتی خوبصورت چادر اوڑھ کر میلہ دیکھنے گیا اور وہاں اس کی چادر کسی نے چھین لی۔ واپسی پر ہمسائے نے پوچھا:
ہاں تو بھئی سناؤ میلہ کیسا تھا؟
”لو میلہ کب تھا وہ؟ نرا میری چادر لوٹنے کا بہانہ تھا“
اے او میری بھولی بھالی نور چشم اب میں منہ پھاڑ کر یہ نہیں کہہ سکتی ہوں کہ اوپر والے نے تیری آوارہ ماں کے سیر سپاٹے اور اسے ایک نیا جہان دکھانے کا شاہی بندوبست کیا ہے ”
ملازمہ کے ساتھ لے جانے کا قصہ دلچسپی لئے ہوئے ہے۔
دیوار چین کو دیکھنے لفظوں کے توسط سے ہم بھی مصنفہ کی انگلی پکڑے بے ڈھنگی ڈب کھڑبی سی بڑے بڑے پتھروں والی سیڑھیوں پر قدم رکھتے رہے اور حیرت زدہ سے دنیا کے اس عجوبے کو دیکھتے رہے۔
چینی اور پاکستانی شادی بیاہ کے معاملات میں مماثلت نے بے حد حیران کیا۔ ہمسائیگی کا کچھ حق تو ادا کرنا بنتا ہے ناں!
شاہراہ ریشم پر سفر کرتے ہوئے مصنفہ ماضی کے دھندلکوں میں پرواز کرنے لگتی ہیں ( ماضی کا سفر تو ہمیشہ ہمیں مرغوب رہا ہے ) اور ہم بھی اس سفر کا حصہ بنتے جاتے ہیں۔ جو نہایت مسحورکن ہے۔ دیکھیے۔
”مولا وہ بھی کیا زمانہ ہو گا۔ قافلوں کی لمبی قطاریں، اونٹوں کی گردنوں میں بندھی گھنٹیوں کی آوازیں، کجاؤں میں بیٹھے مردوزن، سرائیں، آگ کے آلاؤ میں رقص کرتی حسینائیں۔ سالوں کے لئے گھر سے دوری، نہ خط نہ پتر“
وانگ فوجنگ سٹریٹ کی آرائش و زیبائش بھی بھلی لگی۔ بھاگ بھاگ جانے کو جی مچلے۔
فاربیڈن سٹی کی پراسرار اور طلسماتی دنیا نے جکڑ لیا۔
ایک اور چیز جو پورے سفر نامے میں نظر آئی، جس نے ہمیں بھی بے حد افسردہ کر دیا، وہ وطن سے محبت کے نوحے ہیں، جابجا موازنہ ہے۔
دو جگری یار۔ لیکن فرق ہی فرق۔
مصنفہ غریب کے دکھ پہ نوحہ کناں ہیں۔
”ہمارے غریب پر جوانی تو بس ایک لہر کی مانند آتی اور گزر جاتی ہے“
کل تینتیس ابواب ہیں، ہر باب حیرتوں بھرے جہاں میں لے جاتا ہے۔ ابواب کی سرخیاں بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔
”مادام، عمران خان کیا پیسے مانگنے آیا ہے؟“
”شہر ممنوعہ کے عشق کی پہلی کہانی“
اب تو یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ہم ابھی ابھی چین یاترا کر کے لوٹے ہیں۔


