بت پرستوں کی نئی نسلیں (8)
نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو اسے پاش پاش کر دیتے۔ مگر پرانے بت کے ٹکڑوں کو پاؤں تلے روندنے اور نیا بت تراشنے کے درمیان بس ایک مختصر سا وقفہ ہوتا تھا۔
—————————————————-
آٹھواں باب : سیاست اور ثمینہ سے فضل داد کے بیٹے کے مسائل
پیر علیم الدین شاہ، پیر کلیم الدین شاہ اور ان کا چھوٹا بھائی پیر سلیم الدین شاہ ایک مدت سے اس علاقے میں آزاد امیدواران کے طور پر الیکشن لڑتے اور جیتتے چلے آ رہے تھے۔ الیکشن جیت کر وہ ہمیشہ حکومتی پارٹی یا اپوزیشن کے ساتھ سودے بازیاں کرتے رہتے تھے۔ جہاں بھی انہیں بڑا فائدہ نظر آتا، اسی طرف کو ہو جاتے۔ بعد میں اگر دوسری پارٹی کی طرف سے زیادہ بڑی آفر آ جاتی، تو ادھر پھر جاتے۔ حکومت سے علاقے کی ترقی کے لیے جو بھی فنڈز لیتے، اس کا بڑا حصہ خود خود ہضم کر جاتے۔
چونکہ حکومت اور اپوزیشن، دونوں کو اکثر ان کی ضرورت پڑتی رہتی تھی، اس لیے کوئی بھی ان سے پنگا لینے کی کوشش نہیں کرتا تھا۔ ہر بار ان کے مقابلے میں نئے سے نئے امیدوار لانے کی کوشش کی جاتی مگر کوئی کامیاب نہ ہو پاتا۔ انہیں الیکشن لڑنے کے لیے کبھی بھی زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی تھی کہ ان کی پیری مریدی کا گھر گھر میں پھیلا ہوا جال ہی ان کے سب کام کر دیتا تھا۔
عام طور پر کلیم الدین صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے ملک فضل داد کے علاقے سے الیکشن لڑا کرتا تھا اور سلیم الدین اس سے ملحقہ علاقے سے۔ علیم الدین یہیں سے قومی اسمبلی کی سیٹ کے لیے کھڑا ہوتا۔ اور یہ تینوں ہر بار کبھی تھوڑی اور کبھی اچھی اکثریت سے جیت جاتے۔ اس بار علیم الدین نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا، اس کی نظریں سینٹ کی سیٹ پر تھیں۔ سلیم الدین نے فضل داد کے ملحقہ علاقے سے صوبائی اسمبلی کے لیے اور کلیم الدین نے علیم الدین والی قومی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن لڑا تھا۔
اس بار انتخابات کا نتیجہ یوں تھا کہ مرکز میں حکومتی پارٹی اچھی اکثریت سے جیت گئی تھی۔ کامیابی تو اس نے صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں بھی حاصل کی تھی، مگر صوبائی سطح پر حکومت بنانے کے لیے اسے مزید چند ووٹوں کی ضرورت تھی۔
سلیم الدین بڑی مشکل سے اپنی صوبائی اسمبلی کی نشست پھر سے جیت پایا تھا۔ کلیم الدین بھی قومی اسمبلی کے لیے منتخب ہو گیا تھا۔ اسے سب سے زیادہ ووٹ فضل داد کے علاقہ سے ملے تھے۔ خود ملک فضل داد کو تاریخی کامیابی ملی تھی۔ اس کے مقابل کوئی امیدوار بھی اپنی ضمانت بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔
ایک کامیاب منصوبہ ساز کی حیثیت سے فضل داد کی شہرت پہلے ہی حکومتی ایوانوں میں پہنچی ہوئی تھی۔ انتخابی کامیابی کے بعد حکومتی پارٹی کے
نامزد وزیراعلیٰ نے اسے ترقیاتی منصوبہ بندی کے مشیر کی حیثیت سے حکومت میں شمولیت کی دعوت دی، جو اس نے قبول کر لی۔ حکومت بنانے کے لیے جو ووٹ درکار تھے، ان میں تو پیر سلیم الدین شاہ بھی شامل ہوا، لیکن اپنے ذاتی مفادات کے لیے۔
نئی صوبائی حکومت تشکیل پا جانے کے بعد ، بعض حکومتی ممبران نے اعتراض کیا کہ ایک اکیلی سیٹ والے آزاد ممبر کو ضرورت سے کہیں بڑا عہدہ دے دیا گیا ہے۔ لیکن وزیراعلیٰ نے ان سے بات چیت کر کے انہیں راضی کر لیا۔
جب کام کا آغاز ہوا تو ملک فضل داد نے اپنے منصوبوں کا خاکہ اپنے متعلقہ وزیر صاحب کو پیش کیا۔ وزیر صاحب وزیراعلیٰ کے سالے بھی تھے، انہوں نے ان منصوبوں پر بہت سے اعتراضات اٹھا دیے۔ فضل داد سیدھا وزیراعلیٰ کے پاس پہنچا اور اسے حالات سے آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے خود سب منصوبوں پر غور کیا اور نہ صرف ان کی منظوری دے دی بلکہ اسے آئندہ سے بھی ہر کام کے لئے براہ راست وزیراعلیٰ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔ اس نے اپنے وزیر (سالے ) کو بھی سمجھا دیا کہ وہ اپنی وزارت کے مزے لوٹے، مگر فضل داد کو اس کے کام اس کے طریقے سے کرنے دے۔
اختیار حاصل ہوتے ہی فضل داد نے اپنے علاقے کے تمام دیہاتوں اور قصبوں میں، جہاں پہلے سے سکول موجود نہیں تھے، وہاں لڑکیوں اور لڑکوں، دونوں کے سکول کھلوائے۔ ہر گاؤں اور قصبہ میں کم از کم ایک ڈسپنسری قائم کروائی۔ وہاں دیگر سہولتوں کے علاوہ تربیت یافتہ دائیاں تعینات کروائیں۔ پہلے سے موجود دائیوں کو باقاعدہ تربیت دلوائی۔ ہر ڈسپنسری میں ایک لیڈی ڈاکٹر کا ہفتے میں کم از کم تین دن وزٹ کا بھی بندوبست کروایا۔ دستکاری اور دیگر تکنیکی پیشوں کی تربیت گاہوں کا آغاز یا ان میں اضافے کروائے۔
پیر برادران کی خوش قسمتی کہ جب ان ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ ترتیب پا رہے تھے تو اسی دوران میں سینٹ کے انتخابات بھی آ گئے۔ فضل داد چونکہ اس وقت بہت مضبوط پوزیشن میں تھا، لہٰذا وہ پیر علیم الدین شاہ کو سینٹ کا ممبر منتخب کروانے میں کامیاب ہو گیا۔
ادھر ثمینہ بی بی نے، جو پہلے ہی ماہ حاملہ ہو چکی تھی اب حویلی میں آنا جانا بہت کم کر دیا تھا۔ اس کا خاوند ”شاہ محمد“ بہت خوش تھا۔ وہ اکثر ثمینہ کو یاد دلاتا ”میں نے تمہیں کہا تھا نا، جب خدا کو منظور ہو گا بچہ ہو جائے گا“ ۔ ثمینہ اس کی ہاں میں ہاں ملاتی، دل ہی دل میں اس کے بھولپن پر ہنستی اور ملک فضل داد کو دعائیں دیتی رہتی۔
جب سے بھاگ بھری کے گھٹنے میں چوٹ آئی تھی، گھر کا سب کام کاج نور بانو نے ہی سنبھالا ہوا تھا۔ اب جب نور بانو بھی شادی کے بعد اپنے خاوند کے گھر چلی گئی تو منشی چراغ دین کے گھر میں ایک ایسی عورت کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی جو اس کے گھر کی نگہداشت کر سکے کہ منشی کا گھر بھی کافی بڑا تھا۔ آخری راستہ کے طور پر منشی کو اپنے بڑے بیٹے محمد دین کی شادی کرنا پڑی۔
محمد دین عمر میں فضل داد سے دو ڈھائی ماہ ہی چھوٹا تھا۔ فضل داد اس سے دوستوں کی طرح پیش آتا۔ وہ بھی جب سے زرعی سائنس دان کی ڈگری لے کر آیا تھا، فضل داد کے ساتھ ہی کام کر رہا تھا۔ اس وقت تمام باغات کا کام اس کی نگرانی میں چل رہا تھا۔ جہاں سے کہ اچھی خاصی آمدنی ہو رہی تھی۔ بے شک محمد دین کو تنخواہ بھی بہت معقول مل رہی تھی۔
فضل داد کے ایم پی اے بن جانے کے بعد اس کی ماں گوہر جان نے بھی بی اے پاس کر کے ڈگری حاصل کر لی تھی اور اب مزید پڑھنے کا ارادہ ترک کر کے فضل داد کے کاموں میں اس کی مدد کر رہی تھی۔
عروسہ فضل پہلے ایک بچی ”رخشندہ فضل“ کی ماں بنی اور پھر مقابلے کا امتحان پاس کر کے سول سروس میں چلی گئی۔ فضل داد کے خاندان میں پہلی بار بیٹی کا نام ”جان“ کے لاحقہ کے بغیر رکھا گیا تھا۔ ورنہ سب گوہر جان، جمیلہ جان، ثریا جان، مطلب ”جان“ ضرور ہوتی تھیں۔
ثمینہ بی بی کا بیٹا کوئی ڈھائی سال کا ہو گا جب وہ اسے اپنے ساتھ حویلی لے کر آئی تھی۔ فضل داد نے اس کے بیٹے ”عطا محمد“ کو دیکھا تو پریشانی لازمی تھی۔ کیونکہ عطا محمد کی شکل بہت حد تک فضل داد سے ملتی تھی۔ فضل داد نے ثمینہ سے بات کی، پھر اس کے خاوند شاہ محمد کو بلایا اور اسے روشن آباد میں اپنے سبزیوں کے فارم پر خوبصورت تنخواہ کے بدلے کام کرنے اور روشن آباد میں ہی قیام کرنے پر راضی کر لیا۔ وہ ان تینوں کو، جتنا بھی ممکن ہو سکے ملک پور سے دور لے جانا چاہتا تھا کہ ملک پور میں بہت سے لوگ جانتے تھے کہ ثمینہ حویلی میں کام کرتی رہی تھی۔ اور عطا محمد کی فضل داد سے اس قدر مماثلت کسی وقت بھی کوئی ہنگامہ کھڑا کر سکتی تھی۔
عروسہ فضل اسی دوران میں ایک اور بیٹی ”تابندہ فضل“ کی ماں بن چکی تھی۔ کچھ ماہ بعد اگلے الیکشن کا اعلان بھی ہونے ہی والا تھا۔
احمد دین کی بھی شادی ہو چکی تھی اور اسے بھی فضل داد نے روشن آباد میں منتقل کروا لیا تھا۔ فضل داد نے دوسرا الیکشن بلامقابلہ جیتا اور سلیم الدین اپنی سیٹ حکومتی پارٹی کے ایک امیدوار کے مقابلے میں ہار گیا۔ کلیم الدین شاہ جسے فضل داد کی مکمل حمایت حاصل تھی بڑی مشکل سے قومی اسمبلی کی سیٹ جیت سکا۔
ادھر فضل داد نے دوسرا الیکشن جیتا، ادھر عروسہ فضل نے ایک بیٹے ”روشن داد“ کو جنم دیا اور مزید بچے پیدا کرنے سے انکار کا اعلان کر دیا۔
گوہر جان جو پہلے دو بچیوں کی دادی تھی، اب اسے ایک پوتا بھی مل گیا۔ پیار تو اسے اپنی پوتیوں سے بھی بہت تھا، لیکن پوتے پر تو جیسے وہ جان چھڑکتی تھی۔
نور بانو اپنے دوسرے خاوند سے بھی دو بیٹوں کی ماں بن چکی تھی اور پھر سے حاملہ تھی جب وہ گھر کے کوٹھے کی سیڑھیاں اترتی ہوئی گر پڑی اور حمل ضائع ہو گیا۔ ساتھ ہی کوئی ایسی الجھن بھی اس کے نظام میں پیدا ہو گئی کہ وہ اب ماں نہیں بن سکتی تھی۔ شاید اسی لیے محمد دین کی بڑی بیٹی
مہرالنساء سے اس کا پیار اور بھی بڑھ گیا۔ اور وہ اسی بچی کو مستقبل کے لیے اپنی بہو بنانے کی خواہش بھی پالنے لگی۔
ثمینہ بی بی، جس نے دائیوں کا کورس کر کے روشن آباد کی ڈسپنسری میں کام شروع کر دیا تھا، ایک دن اس وقت عروسہ فضل کے سامنے آ گئی جب عروسہ فضل وہاں کے کام کاج دیکھنے کے لیے وہاں ٹھہری ہوئی تھی۔ اتفاق سے ثمینہ کا بیٹا عطا محمد بھی اس وقت اس کے ساتھ تھا۔ عروسہ نے عطا محمد کو دیکھا تو شک نے فوراً اس کے دماغ پر حملہ کیا۔ فضل داد سے بچے کی اس قدر مشابہت نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ ثمینہ سے بہت سارے سوال کرے۔ بے شک ثمینہ کے جوابات بہت نپے تلے اور پہلے سے تیار کیے ہوئے تھے مگر عروسہ کی تسلی نہ ہوئی۔ لیکن وہ ایک عقلمند عورت تھی، کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے، اور غلطی سے بچنے کے لئے وہ اپنی ماں مہ جبیں علوی کے پاس پہنچی اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔
”اس کا مطلب ہے، میری پیاری، بہادر اور دانش ور بیٹی کو ایک دشوار اور پیچیدہ مسئلے کا سامنا ہے“ ۔ مہ جبیں علوی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
عروسہ :میں سخت ٹینشن میں ہوں امی جان اور آپ شاید اسے کوئی لطیفہ سمجھ رہی ہیں۔
مہ جبیں : نہیں نہیں۔ میں بالکل سنجیدہ ہوں۔ مذاق کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا۔
عروسہ : تو پھر اس مسئلے کو سلجھانے میں میری مدد کیجیے۔
مہ جبیں : بالکل! کرتے ہیں۔ کیوں نہیں کریں گے؟ آپ کا مسئلہ اتنا ہی ہمارا بھی ہے۔ ، جتنا کہ یہ آپ کا ہے۔ مگر پہلا سوال یہ ہے کہ اس حل کے لیے کون سا طریقہ اپنانا ہے؟ جذبات کا یا عقل کا؟
عروسہ : عقل کا امی جان! لیکن جذبات کو اس سے کیسے الگ کریں گے؟ اور کیوں؟
مہ جبیں :اس لیے کہ جذبات ساتھ رکھیں گے تو عقل کام نہیں کرے گی۔ اور عقل کام نہیں کرے گی تو جو بھی راستہ اختیار کیا جائے گا، وہ غلط ہی ہو گا۔
عروسہ : میں کوئی غلط راستہ اختیار کرنا نہیں چاہتی۔
مہ جبیں :تو پھر دماغ کو جذبات سے خالی کریں۔
عروسہ : جی لیجیے کر لیا۔
مہ جبیں : یوں نہیں، پہلے اس بچے کی تصویر کو ذہن سے نکالیں۔
عروسہ : وہ کیسے نکالوں امی جان؟ وہ تو میرے دماغ سے چپک گئی ہے۔
مہ جبیں : خود کو سمجھائیں کہ وہ صورت ویسی نہیں تھی جیسی کہ آپ نے سمجھی۔ ضرورت ہے تو خود کو تھوڑا وقت دیں۔ دماغ کو کہیں اور مصروف
کریں۔ ہم یہ بات بعد میں بھی کر سکتے ہیں۔
عروسہ : نہیں نہیں، میں فرض کر لیتی ہوں کہ مجھے سمجھنے میں شاید غلطی لگی ہو۔
مہ جبیں : چلیں، یہ کچھ بہتر ہے۔ اب بتائیں کہ بچے کی عمر کیا ہے؟
عروسہ : یہی ہو گا کوئی ہماری رخشندہ کی عمر کا۔ چار یا ساڑھے چار سال۔
مہ جبیں : اس کا مطلب ہے کہ اگر تمہارا شک درست ہے تو فضل داد مذکورہ عورت کے پاس اس وقت گیا ہو گا، جب تمہاری شادی ہو رہی تھی یا ہو چکی تھی۔
عروسہ : جی! حساب کتاب سے تو ایسا ہی لگتا ہے۔
مہ جبیں : لیکن اگر کوئی آدمی بہت ہی عیاش قسم کا نہ ہو تو وہ اپنی شادی کے دنوں میں، ذہنی طور پر اپنی بیوی کے ساتھ اتنا مصروف ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسری عورت کے پاس نہیں جاتا، اگر اس کی شادی مجبوری کی شادی نہ ہو تو۔
عروسہ : مجبوری تو خیر بالکل نہیں کہہ سکتے۔ ہم نے ازدواجی زندگی کے ہر پہلو پر بات چیت کی تھی شادی سے پہلے۔ کسی موضوع کو تشنہ نہیں چھوڑا تھا۔
مہ جبیں : مطلب مجبوری کا کوئی کردار نہیں ہے! تو پھر عیاشی کے معاملے پر غور کریں۔
عروسہ : لیکن وہ کیسے کریں؟
مہ جبیں : کر تو سکتے ہیں، لیکن اس سے پہلے سوچنے کی بات یہ ہے کہ شادی کے فوراً بعد اس نے الیکشن میں حصہ لینا شروع کیا اور آپ بھی جانتی ہیں کہ سیاست نہایت نازک اور بے رحم کاروبار ہے۔ سو دوست، سو دشمن۔ کسی لحاظ پاس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مطلب اگر فضل داد کے کردار میں ایسی کوئی کمزوری ہوتی تو اس کے سیاسی مخالفین نے اب تک ایک کی دس بنائی ہوتیں۔
عروسہ : جی، عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔
مہ جبیں : سو، عقل کہتی ہے کہ یا تو اس کے کردار میں ایسی کوئی کمزوری سرے سے ہے ہی نہیں، اور اگر ہے تو وہ اسے نہایت ہوشیاری بلکہ عیاری سے چھپا لیتا ہے۔
عروسہ : وہ اتنے عیار بھی ہو سکتے ہیں، دل نہیں مانتا۔
مہ جبیں : ہم نے بات شروع کرنے سے پہلے طے کیا تھا کہ معاملے کو جذبات کی آنکھ سے یا دل کی نظر سے نہیں دیکھنا ہے۔ اس مسئلے کو عقل
سے حل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔
عروسہ : آئی ایم سوری۔
مہ جبیں : اور اگر وہ ہوشیار اور عیار ہے تو وہ ایسی عیاشی کے نتیجہ میں، اور پھر خاص طور پر ایسی کسی عورت سے، جیسا کہ تم بتا رہی ہو، بچے تو پیدا ہونے نہیں دے گا۔
عروسہ : ہاں! ثمینہ جیسی عورت کا تو وہ زبردستی ابارشن بھی کروا دے۔ وہ کچھ نہ کر سکے گی۔ پھر وہ ہے بھی عام سی شکل والی عورت۔
مہ جبیں : لہٰذا عقل کہتی ہے، آپ کا شک درست نہیں۔ اب آ جائیں تجربے کے راستے پر۔ اور کچھ جاننے کی کوشش کریں بڑے بوڑھوں کے فرمودات کی روشنی میں۔
عروسہ : بڑے بوڑھوں سے اس کا کیا تعلق امی جان؟
مہ جبیں : تو آپ سمجھتی ہیں کہ آپ دنیا کی پہلی ہستی ہیں جنہیں ایسے کسی مسئلے کا سامنا ہے؟
عروسہ : نہیں نہیں، یقیناً ہزاروں بلکہ شاید لاکھوں کی زندگی میں ایسا کوئی موڑ آیا ہو گا۔
مہ جبیں : تو سنیں بڑے بوڑھے ایسے موقع پر کیا کہتے ہیں، اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
عروسہ : وہ کیسے؟
مہ جبیں : عقل استعمال کر کے۔
(عروسہ نے ماں کو حیرت بھری نظروں سے دیکھا)
مہ جبیں : اب ہم فرض کر لیتے ہیں کہ فضل داد آپ کی اور ہماری سوچ سے کہیں زیادہ عیار اور مکار انسان ہے۔ وہ بہت محتاط ہے۔ کوئی غلطی نہیں کرتا۔ اور اگر کر لے تو نشانیاں مٹا دیتا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ اس بچے کو دنیا میں آنے سے نہیں روک سکا۔ مطلب بچہ اسی کا ہے؟
عروسہ : پھر تو اس کے ساتھ نہیں رہا جا سکتا۔
مہ جبیں : نہیں نہیں، جذبات کی بات بالکل نہیں۔
عروسہ : چلیں پھر آگے بتائیں!
مہ جبیں : مطلب، ہم نے مان لیا، بچہ اسی کا ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کبھی فضل داد نے آپ سے کہا؟ ”عروسہ مجھ سے ایک غلطی ہو گئی، میں آپ سے معافی مانگنا چاہتا ہوں“ ۔
عروسہ : نہیں، انہوں نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی۔
مہ جبیں : کسی اور نے کی؟
عروسہ : نہیں، کسی اور نے بھی نہیں۔
مہ جبیں : مطلب، بچہ اگر اس کا ہے بھی تو وہ اسے اپنانا نہیں چاہتا۔ وہ اس بچے اور اس کی ماں کو آپ اور آپ کے بچوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں دیتا۔ مزید یہ کہ کسی اور میں اتنی ہمت نہیں کہ یہ راز فاش کرنے کی کوشش کرے۔
عروسہ : یقیناً ایسا ہی ہو گا۔
مہ جبیں : تو پھر آپ کیوں چاہتی ہیں کہ یہ راز کھلے اور نہ صرف یہ کہ دنیا ہم سب کا تماشا دیکھے بلکہ فضل داد کی بے شمار دولت اور جائیداد کے حصے کا ایک اور حق دار پیدا ہو؟ نکاح نامہ کہیں سے نکال لیا جائے یا پرانی تاریخوں میں بنوا لیا جائے۔
عروسہ : نہیں، میں کیوں چاہوں گی؟
مہ جبیں : تو پھر میری پیاری بیٹی! یہ سب حقیقت یا وہم جو کچھ بھی ہے اسے دفن ہی رہنے دیں۔ یہی عقل کا تقاضا بھی ہے اور ہمارے بڑوں کی تعلیم بھی۔ یہ ظلم یا بے وفائی کو برداشت کرنا نہیں ہے بلکہ آ سکنے والے طوفان سے بچنے کی حکمت عملی ہے۔ پھر اگر کبھی فضل داد خود تم سے کوئی ایسی بات کرے گا تو تب دیکھیں گے، اس سے کیسے نمٹنا ہے؟
عروسہ : امی جان! آپ تو بہت بڑی فلاسفر ہیں۔ یہ بات مجھے اس طریقے سے کوئی نہیں سمجھا سکتا تھا۔
مہ جبیں : لگے ہاتھوں آپ کو کام کی ایک اور بات بتاتی ہوں۔
عروسہ : جی امی جان؟
مہ جبیں : شک اور فاصلہ، لکھنے پڑھنے میں، بولنے میں، صرف دو الفاظ ہیں۔ لیکن اصل میں یہ دو نہایت وحشی اور خونخوار طاقتیں ہیں۔ یہ سوچ کی زمینوں میں پیدا ہوتی اور پروان چڑھتی ہیں۔ ان کا بیج اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ بنجر سے بنجر زمینوں میں بھی اگتا، پلتا اور پھولتا پھلتا رہتا ہے۔ اسے بے شک کہیں سے بھی کوئی خوراک نہ ملے، یہ تب بھی بڑھتا رہتا ہے۔ آپ اسے صرف بیج کی شکل اختیار کرنے کا موقع دے دیں، باقی سارے کام یہ خود کر لے گا اور بستیوں کی بستیاں برباد کر کے بھی نہیں رکے گا۔ کسی انسانی جوڑے کی ازدواجی زندگی تو اس کے لیے کوئی شے ہی نہیں۔
عروسہ : تو ان سے بچنے کا بھی کوئی طریقہ ہو گا!
مہ جبیں : جہاں بھی آپ کو لگے کہ یہ بیج کی شکل اختیار کرنے لگا ہے، اسے کچل ڈالیں۔ فضل داد ایک بڑا زمیندار ہے، ایک سیاستدان ہے، ایک بہت بڑا بزنس مین ہے۔ ہزاروں لوگ روز اسے ملتے، اسے ٹیلی فون کرتے یا اس سے ای میل وغیرہ پر رابطہ کرتے ہیں۔ وہ خود بہتر جانتا ہے کہ کس کو کب اور کیا جواب دینا ہے۔ اتنی بڑی امپائر کو چلانے والا ہر وقت اور ہر کسی سے پورا سچ نہیں بول سکتا، اس لیے کبھی اس کا فون سننے یا چیک کرنے کی کوشش مت کریں۔
(انہوں نے ایک چھوٹا سا وقفہ دیا اور پھر بات آگے جاری رکھی)
اس کی ای میلز کھولنے کی سعی بھی فضول کام ہے۔
اس نے اپنے کام کی تمام جگہوں پر کیمرے نصب کر رکھے ہیں۔ جب تک وہ خود نہ کہے ان کیمروں کی ریکارڈنگز مت دیکھیں۔ مبادا اس کا کوئی ملنے والا کسی اور کام سے آیا ہو اور آپ کچھ اور مطلب نکال کر شک میں مبتلا ہو جائیں۔
کبھی اسے، اس کے کام کے اوقات میں براہ راست ٹیلی فون نہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ جب آپ کال کریں تو وہ کسی سے کام کی بات کر رہا ہو۔ آپ پانچ دس منٹ ٹھہر کر دوبارہ فون کریں تو اب وہ کسی اور سے گفتگو میں مصروف ہو اور آپ یہ سوچ کر پریشان ہو جائیں کہ وہ اتنی لمبی لمبی بات کس کے ساتھ کر رہا ہے۔
پھر یہ بھی ممکن ہے، آپ کے فون سے پہلے کسی نے کام کے دوران اسے کسی بات پر غصہ دلا دیا ہو۔ جب وہ آپ کا فون سنے تو وہ ابھی غصے کی حالت سے باہر نہ آیا ہو اور وہ آپ سے اچھے طریقے سے بات نہ کر سکے۔ جس کا آپ پر یقیناً برا اثر ہو گا۔ آپ اس سے جو نتیجہ نکالیں گی وہ اس سے بھی برا ہو گا۔ اس لیے اسے فون کرنے کی بجائے message لکھیں کہ جب بھی وہ فارغ ہو آپ کو فون کر لے۔ تو وہ جب بھی فارغ ہو گا آپ سے آرام سے بات کر لے گا۔
عروسہ : میری ڈیوٹی کے دوران وہ مجھے ہمیشہ ایسا ہی message لکھتے ہیں۔
مہ جبیں : اس کا مطلب ہے وہ آپ سے زیادہ عقلمند ہے۔ اب آپ بھی عقل کا راستہ اختیار کریں۔ بنیادی باتیں میں نے آپ کو بتا دی ہیں، باقی آپ خود بھی تلاش کر سکتی ہیں۔ یوں غلط فہمیاں پیدا کرنے والے تمام عناصر سے دور رہ کر آپ شک کے عذاب سے خود کو، اپنے گھر کو اور اپنے آس پاس کے سب لوگوں کو بچا سکتی ہیں۔
عروسہ : شک کی حد تک تو بات کافی سمجھ میں آ گئی ہے، لیکن فاصلے والی بات ابھی پلے نہیں پڑی۔
مہ جبیں : پھر کبھی بتاؤں گی فاصلے کی بات بھی۔ آج کے لیے اتنا ہی۔
(عروسہ نے بھی مزید جاننے کی ضد نہیں کی اور پھر دونوں ماں بیٹی کافی دیر تک ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہیں۔ بعد میں عروسہ گھر واپس آ گئی کہ اپنے بیٹے کو آیا کے پاس چھوڑ کر گئی تھی)
اس کے بعد عروسہ نے ثمینہ یا اس کے بیٹے کا خیال کبھی دل دماغ تک نہیں آنے دیا۔ وہ اپنی ماں کی دی ہوئی تمام ہدایات پر عمل کرتی رہی۔ اور ان کی زندگیاں بغیر کسی غیر ضروری اتار چڑھاؤ کے، بہت حد تک سکون سے گزرتی رہیں۔
فضل داد نے دو بار صوبائی اسمبلی کا ممبر منتخب ہونے کے بعد ، دونوں بہنوئیوں کو اپنی اور سلیم الدین شاہ والی صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر الیکشن لڑوانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ اگلے انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کی سیٹ کے لیے کھڑا ہوا۔ دونوں بہنوئی صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے، اور تینوں جیت گئے۔
(مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر فضل داد اور پیر برادران کے درمیان ایک خاص قسم کی دشمنی پیدا ہو گئی، جو بے شک ظاہری سطح پر بالکل نظر نہیں آتی تھی، مگر وہ ماحول میں صاف طور پر موجود تھی)
اب فضل داد اور اس کے بہنوئیوں کی سیاست ان کے کاروباروں کو، اور ان کے کاروبار ان کی سیاست کو سپورٹ کر رہے تھے۔ سارے کام متعلقہ ماتحتوں میں بانٹے ہوئے تھے۔ کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور کیمروں کا نظام ان کا مددگار تھا اور تمام معاملات پورے کنٹرول میں تھے۔ جو اکا دکا واقعات ہوتے یا کسی جگہ ماتحتوں اور افسران کے درمیان مسائل جنم لیتے تو انہیں ہمیشہ بات چیت اور خوش اسلوبی سے نمٹانے کی کوشش کی جاتی۔ جہاں ضرورت پڑتی وہاں ملک نیاز احمد اور ملک فیاض احمد بھی پہنچتے۔ اگر مسئلہ زیادہ ہی بڑا ہوتا تو ملک فضل داد خود سب پارٹیوں کی، دیگر متعلقہ فریقین کی موجودگی میں بات سنتا اور فیصلہ کرنے سے پہلے ہی سب کو رضامند کر لیتا۔
سب لوگ فضل داد کی قابلیت اور معاملہ فہمی کی فراست پر اسے داد دیتے۔ یوں اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو جاتا۔ ملک پور اور روشن آباد سمیت اس کے انتخاب کے حلقہ میں شاید ہی کوئی فرد ہو، جو اسے عزت کی نظر سے نہ دیکھتا ہو۔ حالانکہ اس کی عمر ابھی بھی بیالیس تینتالیس سال سے زیادہ نہیں تھی مگر پورے علاقے میں اس کا احترام ایک بزرگ کی طرح سے کیا جاتا تھا۔ بے شک اس کی جنسی بھوک میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ مگر یہ راز اس کے انتہائی جانثاروں کے علاوہ صرف ان عورتوں تک محدود تھا جو اس کی خلوت میں آتی تھیں۔
عروسہ فضل کو ماں کی گفتگو یاد تھی، اس لیے اس نے پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ جب تک فضل داد خود کوئی بات نہیں کرتا، وہ اس موضوع پر سوچے گی بھی نہیں۔ فضل داد نے تو آج تک ایسی کوئی کمزور بات کی ہی نہیں تھی اور دیگر کسی ذرائع سے بھی کوئی شکایت اس کے کانوں تک نہیں پہنچی تھی۔ سیاسی حلقوں میں ویسے ہی مشہور تھا کہ وہ ایک نہایت سادہ اور پاکباز انسان ہے، جو نہ تو شراب پیتا ہے اور نہ ہی عورتوں والی پارٹیوں میں
جاتا ہے۔ سو اس کے کردار کا یہ سیاہ حصہ لوگوں کی آنکھوں سے ابھی تک اوجھل تھا۔
اس تمام عرصہ میں نور بانو نے زیادہ سے زیادہ توجہ راشد عمیر اور اس کی پڑھائی کو دی تھی۔ وہ تھا بھی پڑھائی میں اچھا۔ خوب دل لگا کر پڑھ رہا تھا۔ راشد عمیر کے بعد نور بانو کی محبت مہرالنساء کو ملتی تھی۔ حالات ایسے تھے کہ کبھی کبھی، بے شک مزاح کے انداز میں ہی محمد بشیر اسے کہنے پر مجبور ہو جاتا ”نور بانو! یہ محمد کبیر اور محمد صغیر بھی تمہارے ہی بیٹے ہیں۔ اور تمہارے پیار کے اتنے ہی حقدار ہیں جتنا کہ راشد عمیر، اگر تم بھول نہیں گئی ہو تو“ ۔
”میں یہ کیسے بھول سکتی ہوں؟ کبیر اور صغیر بھی میرے جگر کے ٹکڑے ہیں اور مجھے اتنے ہی پیارے ہیں جتنا کہ راشد۔ پتہ نہیں تمہیں کیوں ایسا لگتا ہے کہ میں انہیں کم پیار کرتی ہوں“ ۔ شاید وہ سمجھتی بھی ایسا ہی تھی، جیسا کہ وہ کہتی تھی۔ مگر زمینی حقائق ویسے ہی تھے جیسا کہ محمد بشیر خیال کرتا تھا۔ وہ بھی جواب میں اتنا ہی کہہ کر خاموش ہو جاتا ”چلو شکر ہے تمہیں سب یاد تو ہے“ ۔
محمد بشیر سیدھا سادہ کسان آدمی تھا۔ کھیتی باڑی اور گھر کے ضروری کاموں کے سوا اس کا نہ تو کہیں اٹھنا بیٹھنا تھا اور نہ ہی کوئی مشغلہ۔ حقیقت کی نظر سے دیکھا جاتا تو یہ نور بانو کی خوش قسمتی تھی کہ اسے بیوہ ہونے کے بعد بھی ایسا خاوند مل گیا تھا۔ مگر اس کے دل و دماغ سے محمد عمیر اترتا ہی نہیں تھا اور اب وہ راشد کی شکل میں محمد عمیر کو ہی دیکھتی تھی۔
راشد عمیر نے میٹرک بہت اچھے نمبروں سے پاس کیا اور پھر اس نے روشن آباد والے انٹرمیڈیٹ کالج میں داخلہ لینے کی بجائے شہر والے کالج میں جانا مناسب سمجھا۔ نور بانو تو کسی صورت بھی اسے وہاں بھیجنے کے لئے تیار نہیں تھی کہ شہر والے کالج کا مطلب تھا ہوسٹل میں قیام۔ صرف منشی چراغ دین ہی ایک ایسا فرد تھا، جس کے ساتھ نور بانو ایسے موقع پر صلاح مشورہ کر سکتی تھی۔
باپ سے ملی تو اس نے کہا ”تمہارا بیٹا پڑھائی میں بہت اچھا ہے، اور ایسے لوگ عام طور پر تھوڑے بزدل اور انتہائی مطلب پرست ہوتے ہیں۔ بزدل آدمی اپنے دل کی پوری بات کبھی نہیں بتاتا، لیکن کرتا وہی ہے جو وہ کرنا چاہتا ہے۔ دوسرے مطلب پرست لوگوں کی طرح اسے بھی سب سے زیادہ اپنا مستقبل عزیز ہے۔ وہ تمہارے پیار پر ہمیشہ اپنے مفاد کو ترجیح دے گا۔ تم روکو گی تو وہ کوئی دوسرے راستے تلاش کرے گا۔ آگے تمہاری مرضی ہے“ ۔
راشد عمیر تو یوں بھی نور بانو کی کمزوریوں کو اچھی طرح جانتا تھا۔ اسے خوب علم تھا کہ ماں سے اپنی بات کیسے منوانی ہے۔ سو اس نے نور بانو کو منا لیا اور شہر پڑھنے چلا گیا۔
ادھر عطا محمد ابھی مشکل سے دس سال کا ہوا تھا کہ لوگوں سے بار بار سننے کے بعد اس نے اپنی ماں (ثمینہ بی بی) سے سوال کر دیا کہ اس کی
شکل ملک فضل داد سے کیوں ملتی ہے؟ ثمینہ بی بی کے پاس بے شک بہت موثر اور مضبوط جوابات موجود تھے مگر پھر بھی اس نے اس سوال کا جواب مانگنے کے لیے اسے شاہ محمد کے پاس بھیج دیا۔
شاہ محمد کیا اور کتنا جانتا تھا، اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے مگر اس نے عطا محمد کو جواب دینے سے پہلے، پیار سے پاس بٹھایا اور پھر بولا ”دیکھو بیٹا! ملک صاحب ہمارے مائی باپ ہیں۔ ہم ان کی بہت قدر کرتے اور انہیں احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ آج اگر ہم لوگ عزت کی زندگی بسر کر رہے ہیں تو اس میں بڑی مہربانی ملک صاحب ہی کی ہے۔ ہماری طرح یہاں اور ہزاروں لوگوں پر بھی ان کے بے شمار احسانات ہیں۔ سو اگر تمہاری شکل ان پر ہوتی تو ہم اس کو خدا کا خاص کرم سمجھتے۔ جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ تم ہوبہو میرے دادا پر گئے ہو۔ اگر آج وہ زندہ ہوتے یا میرے پاس ان کی کوئی تصویر ہوتی تو میں تمہیں دکھاتا کہ تم تو جیسے میرے دادا ہی ہو، جو میرے بیٹے بن کر آ گئے ہو۔ اس لیے میرے پیارے بیٹے! جس کسی نے بھی تمہیں ایسا کچھ کہا ہے، اس نے تمہارے ساتھ مذاق کیا ہے“ ۔
اس گفتگو کے بعد عطا محمد کے سوچنے کا انداز بدل گیا۔ شاید انسان کی سوچ اس کی شکل کو بنانے بگاڑنے میں بھی کوئی کردار ادا کرتی ہو کہ عطا محمد کی شکل میں بھی تبدیلیاں آنا شروع ہو گئیں۔ اور قدرت کا کرشمہ دیکھئے، کالج کے دوسرے سال میں جب اس نے ڈاڑھی رکھ لی تو فضل داد کی تھوڑی بہت جھلک بھی جو اس میں باقی تھی وہ بھی جاتی رہی۔ شاہ محمد اور ثمینہ بی بی کے بھی نہ اور کوئی اولاد تھی اور نہ ہی کوئی دوسرے مسائل، وہ بھی اس کی تعلیم کے ضمن میں ہر طرح مددگار ثابت ہو رہے تھے۔
فضل داد کو بھی کبھی کبھی حیرت ہوتی تھی کہ کیسے فطرت ایک ان چاہے بچے کی پیدائش اور پرورش کا سامان کر دیتی ہے۔ وہ بھی بہانے بہانے سے شاہ محمد کو تاکید کرتا رہتا کہ اگر بچہ تعلیم میں اتنا اچھا جا رہا ہے تو اس کی ضرورتوں کا بھی پورا پورا خیال رکھا جانا چاہیے۔ اسی لئے وہ خود بھی شاہ محمد کو کسی نہ کسی کام کا نام لے کر زائد ادائیگی کرتا رہتا، تاکہ بچہ مالی تنگی کا شکار نہ ہونے پائے۔
وقت گزرتا رہا۔ عطا محمد کی محنت جاری رہی اور وہ چارٹرڈ اکاؤنٹینسی میں پہنچ گیا۔ یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران بھی اسے تمام مطلوبہ معاشی سہولتیں حاصل رہیں۔ ثمینہ بی بی اور شاہ محمد کے علاوہ فضل داد کو بھی بہت خوشی ہوئی جب عطا محمد نے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننے کے بعد فضل داد کی نوکری قبول کر لی۔ اب شاہ محمد اور ثمینہ بی بی، عطا محمد کے ساتھ اس نئے اور بڑے مکان میں اٹھ آئے جو فضل داد نے اسے جاب کے ساتھ رہنے کے لیے دیا تھا۔ تنخواہ میں سے قسطیں کٹتی رہنے کے بعد یہ مکان اور گاڑی شاہ محمد کی ملکیت بننے والے تھے۔
وقت کی نئی کروٹوں میں اسی عطا محمد نے جو دراصل فضل داد کا ہی بیٹا تھا، فضل داد کے کاروبار اور اس کے بیٹے روشن داد کے لئے کیسے کیسے حیرت انگیز کام کرنے تھے، اس بارے میں اب تک کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔


