سنسنی خیز خبریں اور ہیجان خیز اشتہارات
ایک زمانے میں سہولیات ناپید اور ذرائع محدود تھے، ڈیجیٹل دنیا کی دستیابی کم یا پھر نہ ہونے کی وجہ سے دوپہر کے بیشتر اخبارات سنسنی اور فحاشی پھیلانے کا کردار بخوبی نبھاتے تھے۔ جھوٹ پر مبنی خبریں بہت بڑے فونٹ سائز میں ان اخبارات میں چھاپی جاتی تھیں اور چوک پر فروخت کرتے افراد خبروں کو نمایاں کر کے لہراتے نظر آیا کرتے تھے، بعد میں اکثر کی تردید بھی آجاتی تھی یا خبر کے آخر میں تردید مل جاتی تھی، ایک مشہور گروپ کا دوپہر کا اخبار آگے آگے ہوتا تھا جس کا نام یہاں لینا مناسب نہیں۔ ان اخبارات میں شہوت پرستوں کے لئے ہیجان انگیز اور نیم عریاں تصاویر اینٹرٹینمنٹ کے صفحات کی زینت بنتی تھیں۔ مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا اور چھاتیوں کے سائز بڑھانے کے ایسے اشتہارات چھاپے جاتے تھے کہ شرفاء گھر میں وہ اخبار لاتے شرم محسوس کرتے تھے۔ نوجوان اور ”پچپن میں بچپن“ والے شوقین افراد اکثر سٹال، نائی کی دکان یا سڑکوں پر محظوظ ہو لیا کرتے تھے۔ اخبار پڑھنے سے زیادہ دیکھنے کا رواج تھا۔
سنجیدہ اور سچ کے شیدائی افراد کے لئے صبح کے اخبارات شائع ہوتے تھے۔
میرے اسلام آباد شفٹ ہونے سے کافی پہلے کے یہ وہ دن تھے جب لاہور کی نہر پر رات ہوتے ہی کھسرے جگہ جگہ کھڑے نظر آتے تھے، کچھ ذہنی بیمار افراد اپنے سیاہ کرتوتوں کے ذریعے اعمال بھی کالے کیا کرتے تھے۔ بے راہ روی کے حوالے سے ایک واقعہ سنا کر آگے بڑھتا ہوں جو ابھی ابھی یاد آ گیا۔ انہی دنوں، ایک شام کسی واقف سے ملاقات کے لئے میں نے صدیق ٹریڈ سینٹر کے سامنے کار روکی اور ایک صاحب کو مودبانہ انداز میں سلام کر کے راستہ پوچھا، موصوف کسی جن کی طرح آنکھوں سے اوجھل ہو گئے اور ایک بنی سنوری سینے کی گہرائی دکھاتی عورت نے کار کی کھڑکی سے منہ لگا کر تین کاموں کے ریٹ ڈسکاونٹ کے ساتھ بتا دیے۔ شرم اور خوف کا ایسا احساس پیدا ہوا کہ میں نے کار واپسی کے لئے بھگا دی اور آئندہ اس چوک پر کبھی بریک نہیں لگائی۔
زرد صحافت کے بارے میں ہم نے بی اے جرنلزم میں تفصیل کے ساتھ پڑھا تھا اور ہمیشہ صحافت کے زرد رخ سے سخت نفرت بھی کی تھی لیکن حقیقت سے انکار کبھی ممکن نہیں ہو سکا۔ ریاست کے باقی تین ستونوں کی طرح اس ستون میں بھی اصلاح کی گنجائش ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ جہاں صحافت کا عوام کی اخلاقی تربیت اور ملکی ترقی میں اہم کردار ہوتا ہے وہاں زرد صحافت اور لفافے والی صحافت ملک اور معاشرے کی بربادی کا باعث ہیں۔
دنیا اب گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔ اخبارات اور واحد چینل پی ٹی وی ڈیجٹل دنیا میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں اخبارات کے ساتھ ساتھ بے شمار ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں کو آسانی اور آسائشوں سے بھر دیا ہے۔ گوگل کے بغیر ہم سانس نہیں لینا چاہتے۔ سفر کرنا ہو تو اب راستہ پوچھنے پر انسانیت کی تذلیل کے ریٹس نہیں ملتے، میپ سے زندگی آسان ہو چکی ہے۔ گوگل کی دنیا پر میرا ایک مضمون تفصیل کے ساتھ ”ہم سب“ پر شائع ہو چکا ہے، آپ مطالعہ کر سکتے ہیں۔
جہاں ترقی نے آسانیاں پیدا کی ہیں وہاں شر کے مواقع بھی بڑھ گئے ہیں، انٹرنیٹ کی دنیا نے بھلائی کے ساتھ ساتھ گناہ کو بھی آسان بنا دیا ہے۔ بھٹکے ہوئے نوجوانوں کو اب لاہور میں ہال روڈ کی سی ڈی شاپ جانے کی ضرورت نہیں ہے، سڑکوں اور کوٹھوں پر راہ تکتی گناہ کی چادر میں لپٹی عورتیں بے لباس ہو کر انٹرنیٹ کی دنیا میں بس چکی ہیں۔ بیمار روحوں اور جسموں کو دوپہر کے اخبارات کے اشتہارات کی ضرورت نہیں رہی اور نہ ہی بے قابو جذبات کو تھمنے کے لئے نیم برہنہ تصویروں کی ضرورت ہے، ڈیجیٹل دنیا نے اس میں سے نیم کو مٹا دیا ہے، برہنہ رہ گیا ہے۔ اسی طرح عامل بابا بھی اب اخباروں اور دیواروں کی دنیا تک محدود نہیں رہے۔
حال ہی میں ایک نیوز ویب سائٹ نے قارئین کو متوجہ کرنے کے لئے ایک مضمون کے عنوان کے ساتھ ایک عورت کی سینے کے ابھار دکھاتی تصویر لگائی اور لکھا کہ ”ٹوتھ پیسٹ لگاؤ اور پوری رات لگاؤ، بیوی خود بولے گی بس کرو، ٹوتھ پیسٹ کا کمال“ ۔ اس کے بعد ٹوتھ پیسٹ کے انتہائی شریفانہ استعمال پر تفصیلی مضمون تھا جس کو پڑھ کر معلومات میں یقینی طور پر اضافہ ہوا، لیکن ان جاہل اور ٹھرکی افراد کا کیا قصور جو صرف تصویر اور اس کے ساتھ لکھی تحریر دیکھ کر کچھ غلط کر بیٹھیں۔
میڈیا سے منسلک بھٹکے ہوئے افراد کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ بھلائی، اصلاحی اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے خود کو برائی اور گناہ سے نکالنا ضروری ہے۔ حلال کمائی میں حرام کی آمیزش اور اس کی وجہ سے بے برکتی کو سمجھیں۔ ہر صحافی اور لکھاری کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی اصلاح اور پاکستان کی بہتری کے لیے کردار ادا کرے۔ قدرتی آفات اور وباؤں کے گھیرے میں آ کر بھی ہم راہ راست پر نہیں آ سکے ہیں۔
ضروری ہے کہ ہر شعبے کے اچھے لوگ برائیوں کے خاتمے کے لئے آگے آئیں اور جو لوگ برائیوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں وہ انسان کی حقیقت اور مقصدیت کو سمجھ کر فلاح کے راستے کو اپنا لیں۔ ہر ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ اولاد کو حالات اور وقت کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں، تربیت کو سمجھیں اور فرض نبھائیں۔ ہر فرد کو سمجھنا ہے کہ وہ اللہ کو جواب دہ ہے۔


