ایزرا پاؤنڈ۔ ملکی غدار، ذہنی بیمار یا عظیم فنکار؟


1924۔ 1945 اٹلی


اٹلی میں ایزرا پاؤنڈ کے دونوں عشق چلتے رہے۔ بیوی سے بھی اور محبوبہ سے بھی اور پھر دونوں خواتین حاملہ بھی ہو گئیں۔

محبوبہ اولگا سے ایزرا پاؤنڈ کی بیٹی ماریا جولائی انیس سو پچیس میں پیدا ہوئی اور بیوی سے بیٹا ستمبر انیس سو چھبیس میں پیدا ہوا۔

ایزرا پاؤنڈ عمر خیام کی شاعری سے بہت متاثر تھے اس لیے انہوں نے اپنے بیٹے کا نام عمر پاؤنڈ رکھا۔

ایزرا پاؤنڈ اپنی محبوبہ کے ساتھ مختلف ممالک میں سفر کرتے رہے اور اولگا کے کونسرٹ بڑے شوق سے دیکھتے رہے۔ اولگا دھیرے دھیرے ان کی میوس بن گئیں۔

پیرس کے ایک کونسرٹ میں اولگا نے وائلن اور ایزرا پاؤنڈ نے پرکشن بجایا۔ حاضرین میں ہیمنگ وے ’ایلیٹ اور جیمز جوئیس موجود تھے۔

غداری کا مقدمہ


اٹلی میں کچھ عرصہ تو زندگی پرسکون تھی لیکن پھر سنگین سیاسی مسائل کے بادل چھانے لگے۔

ساٹھ برس کی عمر میں ایزرا پاؤنڈ پر امریکی حکومت کی طرف سے غداری کا مقدمہ دائر ہوا اور اس کے بعد انہوں نے تیرہ برس جیلوں اور پاگل خانوں میں گزارے۔ آئیں ہم ایزرا پاؤنڈ کی زندگی کے اس تاریک اور تکلیف دہ باب کا تفصیل سے مطالعہ کریں۔

دو مئی انیس سو پینتالیس کو دو فوجی ایزرا پاؤنڈ کے روپولی کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں حراست میں لے لیا۔ پاؤنڈ کو مجرموں کے ایسے پنجروں میں رکھا گیا جو

GORILLA CAGES

کہلاتے تھے ان پنجروں میں سب سے زیادہ خطرناک مجرموں کو رکھا جاتا تھا۔ امریکہ سے احکام آئے تھے کہ ایزرا پاؤنڈ پر کڑی نگرانی رکھی جائے۔

ایزرا پاؤنڈ کی گرفتاری سے چار دن پہلے اٹلی میں مسولینی کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا اور اس کی لاش کو ’اس کی محبوبہ کلیریٹا کے ہمراہ‘ ملن شہر کے چوراہے میں لٹکا دیا گیا تھا تا کہ لاشوں کو دیکھنے والوں کو عبرت ہو۔

ایزرا پاؤنڈ پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے ہٹلر اور مسولینی کی حمایت اور امریکہ سے غداری کی ہے۔

ایزرا پاؤنڈ اس تاریک جیل میں دو ہفتے رہے جہاں بھوک ’پیاس‘ تپتی دھوپ اور آنکھوں میں تیز روشنی ڈال کر ان پر تشدد کیا گیا۔ اس تشدد کی وجہ سے انہیں ڈراؤنے خواب آنے شروع ہوئے اور وہ اپنا ذہنی توازن اور اپنی یادداشت کھونے لگے۔

جیل میں ایزرا پاؤنڈ کا دو ماہرین نفسیات۔ ڈاکٹر فنر اور ڈاکٹر بائر۔ نے معائنہ کیا اور دونوں اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر ایزرا پاؤنڈ اس جیل میں کچھ اور دن رہے تو وہ اپنا ذہنی توازن کھو دیں گے۔ چنانچہ ایزرا پاؤنڈ کو اٹھارہ جون کو بہتر جیل میں بھیج دیا گیا۔ ماہرین نفسیات نے یہ بھی مشورہ دیا کہ ایزرا پاؤنڈ کو واپس امریکہ بھیج دیا جائے۔

جتنا عرصہ پاؤنڈ اٹلی کی جیل میں رہے اس دوران ان کے کئی ہم خیال دوستوں کو سولی پر چڑھا دیا گیا

چھ نومبر انیس سو پینتالیس کو جب ایزرا پاؤنڈ جیل میں بیٹھے ایک کتاب پڑھ رہے تھے انہیں حکم دیا گیا کہ اپنا سامان تیار کر لیں وہ ایک گھنٹے بعد واشنگٹن امریکہ کی جیل میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔

ایزرا پاؤنڈ پر جو الزامات لگائے گئے آئیں ہم ذرا ان کا پس منظر جان لیں۔

غداری کیس کا پس منظر


ایذرا پاؤنڈ نے انیس سو بائیس سے ہی مسولینی کے سیاسی و سماجی کارناموں میں دلچسپی لینی شروع کر دی تھی۔ پاؤں ڈ مسولینی سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے مسولینی کو کئی خط لکھے اور مسولینی ان کے خطوط سے اتنا متاثر ہوا کہ دونوں کی ملاقات تیس جنوری انیس سو تیتیس کو ہوئی اور انہوں نے یورپ اور عالمی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات کے بعد پاؤنڈ مسولینی کے کچھ اور ہی گرویدہ ہو گئے۔

انیس سو تیس کی دہائی میں پاؤنڈ نے امریکہ کی داخلی اور خارجہ پالیسی پر تنقید کرنے شروع کر دی تھی اور امریکی صدر روزویلٹ کے خلاف بیان دینے شروع کر دیے تھے۔

انیس سو اکتالیس میں ایزرا پاؤنڈ نے اٹلی کے ایک ریڈیو پروگرام
AMERICAN HOUR

میں اپنی سات منٹ کی تقریریں نشر کرنی شروع کر دی تھیں۔ ان تقاریر میں جب پاؤنڈ نے مسولینی اور ہٹلر کو سراہا تو ان کے مخلص دوستوں نے انہیں روکا اور کہا کہ ایک دن ان پر غداری کا الزام لگ سکتا ہے لیکن پاؤنڈ نے دوستوں کے مشوروں پر کان نہ دھرا اور اپنی تقاریر جاری رکھیں۔

گیارہ دسمبر انیس سو اکتالیس کو جب امریکہ نے اٹلی کے خلاف اعلان جنگ کیا تو ایزرا پاؤنڈ کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ چھبیس جنوری کے ٹائم میگزین میں اعلان کیا گیا کہ ایزرا پاؤنڈ واپس روپولی چلے گئے ہیں تا کہ وہ چینی شاعری کا انگریزی میں ترجمہ کریں۔ پاؤنڈ نے اپنی ملازمت سے بے طرفی کے خلاف سپریم کورٹ میں احتجاج کیا اور انہیں ان کا ریڈیو پروگرام دوبارہ مل گیا۔

پاؤنڈ کے مخلص اٹیلین دوستوں نے انہیں تنبیہ کی کہ اگر اٹلی جنگ ہار گیا تو انہیں موت کی سزا ہو جائے گی۔ ایزرا پاؤنڈ نے ایک دفعہ پھر دوستوں کی بات نہ مانی اور اپنے ریڈیو پروگرام جاری رکھے۔

چھبیس جولائی انیس سو ترتالیس کو جب مسولینی نے استعفیٰ دیا تو پاؤنڈ پر غداری کا مقدمہ دائر کر دیا گیا۔ پاؤنڈ نے پھر بھی پروگرام نہ بند کیے۔

پاؤنڈ اپنے آپ کو عظیم شاعر اور دانشور سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ میں امریکی حکومت پر اسی طرح تنقید کرتا ہوں جیسے سقراط یونان کی حکومت پر تنقید کرتے تھے۔

آخر دو مئی انیس سو پینتالیس کو ایزرا پوئانڈ کو دو فوجیوں نے گرفتار کر لیا۔

1945۔ 1958 امریکہ


اٹھارہ نومبر انیس سو پینتالیس کو پابند سلاسل کر کے ایزرا پاؤنڈ کو اٹلی سے امریکہ لے جایا گیا۔ وہ پچاس گھنٹے کا تکلیف دہ سفر تھا۔ راستے میں ان کا جہاز چیکوسلواکیہ ’بیلجیم‘ انگلستان اور برمیودا رکا۔

امریکہ پہنچ کر ایزرا پاؤنڈ نے اپنا موقف بدل دیا اور کہا کہ انہوں نے کبھی ہٹلر اور مسولینی کی حمایت نہیں کی۔ انہیں اپنے موقف پر اتنا اعتماد اور اپنی شخصیت پر اتنا ناز تھا کہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا کیس خود لڑیں گے۔

انیس نومبر کو جب وہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے تو جج نے کہا کہ ان پر غداری کا الزام ہے اور وہ الزام اتنا سنگین ہے کہ ایزرا پاؤنڈ کو اپنا کیس لڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایزرا پاؤنڈ کو مجبوراٌ وکیل تلاش کرنا پڑا۔

اس مشکل وقت میں ایزرا پاؤنڈ کے چار وفادار دوست۔ میکلیش۔ فٹز۔ لافلن اور موور ان کی مدد کے لیے آئے۔ انہوں نے اپنے سر جوڑ کر یہ سوچا کہ اگر ایزرا پاؤنڈ پر غداری کا الزام ثابت ہو گیا تو انہیں قتل کی سزا ہو جائے گی۔ انہوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ یہ ثابت کیا جائے کہ ایزرا پاؤنڈ اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں اور انہیں علاج کے لیے جیل کی بجائے نفسیاتی ہسپتال بھیجا جائے۔

ان دوستوں نے ییل یونیورسٹی کے ایک مایہ ناز وکیل کورنیل سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ وہ ایزرا پاؤنڈ کے وکیل بن جائیں۔ وہ ایزرا پاؤنڈ کی شاعرانہ شہرت اور عظمت کو دیکھ کر راضی ہو گئے۔

جہاں ایزرا پاؤنڈ کے دوست انہیں موت کی سزا سے بچانا چاہتے تھے وہیں وکیل استغاثہ پوری کوشش کر رہا تھا کہ ایزرا پاؤنڈ کو غدار ثابت کیا جائے تا کہ انہیں سخت سزا ملے۔

وکیل استغاثہ نے ریڈیو اسٹیشن کے ان سات کارندوں کو اٹلی سے امریکہ بلایا جو ایزرا پاؤنڈ کی سات منٹ کی تقریروں کے وقت ریڈیو اسٹیشن میں موجود ہوتے تھے۔ دلچسپی کی بات یہ تھی ان میں سے کسی کو بھی انگریزی نہیں آتی تھی اور ان میں سے صرف ایک کارندہ ڈیوٹی پر ہوتا تھا اور امریکہ کے قانون کے مطابق کم از کم دو انسانوں کی شہادت ضروری تھی۔ وکیل استغاثہ کو اندازہ نہ تھا کہ ایزرا پاؤنڈ کا کیس کتنا پیچیدہ اور گنجلک ہے۔

چھبیس نومبر انیس سو پینتالیس کو جب ایزرا پاؤنڈ عدالت میں حاضر ہوئے تو ان کے وکیل نے یہ ثابت کیا کہ اٹلی کی جیلوں کی صعوبتوں کی وجہ سے اپنا ذہنی توازن کھو چکے تھے۔ اس نے جج کو مشورہ دیا کہ انہیں ذہنی ہسپتال بھیجا جائے تا کہ چند ماہرین نفسیات ان کا معائنہ کر سکیں۔ جج نے حکم دیا کہ ایذرا پاؤنڈ کو معائنے کے لیے ہسپتال میں بھیجا جائے اور ماہرین نفسیات اپنی رپورٹ عدالت میں چودہ دسمبر انیس سو پینتالیس کو پیش کریں۔

عدالت نے جن چار ماہرین نفسیات کو یہ کام سونپا ان کے نام ڈاکٹر گلبرٹ۔ ڈاکٹر کنگ۔ ڈاکٹر وائٹ اور ڈاکٹر اوورہولسر تھے جو اس دور کے صف اول کے ماہر نفسیات تھے۔ ڈاکٹر اوور ہولسر ایزرا پاؤنڈ کی شخصیت اور شاعری کے پرستار تھے اور انہیں ایک نابغہ روزگار شاعر سمجھتے تھے۔ وہ ایزرا پاؤنڈ کو موت کی سزا سے بچانا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے باقی تین ماہرین نفسیات سے میٹنگ کی اور انہیں قائل کیا کہ ایزرا پاؤنڈ کو جیل کی کوٹھڑی میں بند کرنے اور سولی پر چڑھانے سے بچایا جائے۔ انہوں نے جج کے سامنے رپورٹ پیش کی اور مشورہ دیا کہ انہیں غیر معینہ مدت تک نفسیاتی ہسپتال میں رکھا جائے۔ جج نے چار ماہرین کے مشورے پر عمل کیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail