ایزرا پاؤنڈ۔ ملکی غدار، ذہنی بیمار یا عظیم فنکار؟
نفسیاتی ہسپتال میں کئی سال
ایزرا پاؤنڈ کئی سال نفسیاتی ہسپتال میں رہے۔
ہسپتال میں وہ چینی شاعری اور کنفیوشس کے اقوال کا انگریزی میں ترجمہ کرتے رہے۔
ان کے مداح ڈاکٹر اوورہولسر نے انہیں ہسپتال میں خاص مراعات دلوائیں۔
ایزرا پاؤنڈ شام کو ایک درخت کے نیچے بیٹھ جاتے اور ان کے مداحین ان کے گرد ایک حلقہ بنا لیتے۔ وہ ان کی نظمیں بھی سنتے اور جدید شاعری پر تبادلہ خیال بھی کرتے۔ دور سے یوں لگتا جیسے کوئی پیر و مرشد اپنے ادبی مریدوں میں گھرا ہوا ہو۔
ایزرا پاؤنڈ کی ذہنی کیفیات بھی ان کے سیاسی نظریات کی طرح متنازعہ فیہہہ رہیں۔ بعض امریکی ماہرین نفسیات انہیں صحیح معنوں میں ذہنی مریض سمجھتے تھے جب کہ بعض کا خیال تھا کہ انہوں نے ایک سماجی ڈرامہ تخلیق کیا ہے اور انہوں نے ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر ججوں کو دھوکہ دیا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ ایزرا پاؤنڈ ایک ایسے نرگسیت زدہ سائیکوپیتھ ہیں جو خبط عظمت کا شکار ہیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ ایزرا پاؤنڈ کی عوام و خواص میں مقبولیت بڑھتی گئی اور ان کے خلاف نفرت میں کمی آتی گئی۔
ایزرا پاؤنڈ کی زندگی میں ایک دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب ارنسٹ ہیمنگ وے کو انیس سو چون کا ادب کا نوبل انعام ملا اور انہوں نے انعام لیتے وقت کہا کہ اس انعام کا صحیح حقدار ایزرا پاؤنڈ ہے۔
اس واقعہ کے بعد ایزرا پاؤنڈ کے ساتھیوں نے ان کی رہائی کی کوشش تیز تر کر دی۔ ان کے دوست میکلیش نے مقبول عام اخباروں میں ایک خط چھپوایا جس میں لکھا تھا کہ اگر ایزرا پاؤنڈ کو ادب کا نوبل انعام ملا تو امریکی حکومت کے لیے کتنی خجالت ہوگی کہ انہوں نے اپنے عظیم شاعر کو پاگل خانے میں قید رکھا ہوا ہے۔
ایزرا پاؤنڈ کے دوستوں نے ان کے ماہر نفسیات سے دوبارہ مشورہ کیا اور ڈاکٹر اووور ہولسر نے ایک دفہ پھر ایزرا پاؤنڈ سے اپنی وفاداری نبھائی۔ انہوں نے ایک نفسیاتی رپورٹ تیار کی اور اصحاب بست و کشاد کو مشورہ دیا کہ ایزرا پاؤنڈ کو رہا کر دیا جائے۔ ڈاکٹر اوور ہولسر کے مشورے پر عمل کیا گیا اور ایزرا پاؤنڈ کو چھ مئی انیس سو اٹھاون کو ’جب ان کی عمر تہتر برس تھی‘ ہسپتال سے جانے کی اجازت مل گئی۔
1958۔ 1972 اٹلی
ہسپتال سے آزادی ملنے کے بعد ایزرا پاؤنڈ دوبارہ اٹلی چلے گئے اور زندگی کے بقیہ دن وہیں گزارے۔
ایزرا پاؤنڈ کی زندگی کے آخری چودہ سال بہت پریشان کن تھے۔
وہ اٹلی میں بہت تنہا اور دکھی ہو گئے۔ ان پر اداسی اور ڈپریشن کے دورے پڑنے لگے۔
ایزرا پاؤنڈ کی ڈپریشن کی دو بنیادی وجوہات تھیں۔
پہلی وجہ یہ تھی کہ پانچ سالوں میں ان کے قریبی اور ادبی دوست ایک ایک کر کے فوت ہونے لگے
ہیمنگ وے نے انیس سو اکسٹھ میں خود کشی کر لی
کمنگز انیس سو باسٹھ میں فوت ہو گئے
ولیمز انیس سو تریسٹھ میں اور ایلیٹ انیس سو پینسٹھ میں دار فانی سے کوچ کر گئے۔
دوسری وجہ یہ تھی کہ ایزرا پاؤنڈ زندگی کے ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکے تھے جہاں انسان اپنی ذات سے سچ بولنا شروع کر دیتا ہے۔ اس خود آگہی ’اس بصیرت اور اس خود شناسی کی وجہ سے انہیں شدت سے احساس ہوا کہ انہوں نے ہٹلر اور مسولینی کا ساتھ دے کر زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی۔ غلطی کا احساس ہونے کے بعد ان کا ضمیر انہیں کچوکے لگانے لگا اور وہ ندامت اور خجالت کی بارش میں اندر تک بھیگ گئے۔
ایزرا پاؤنڈ نے عوام و خواص کے سامنے اپنے تلخ سچ کا اقرار کیا کہ ان کی ماضی کی زندگی میں جہالت کا وہ دور بھی تھا جب ان کے دل میں محبت کی ہوا نہیں چلتی تھی بلکہ تعصب کے شعلے لپکتے تھے۔
پہلی نومبر انیس سو بہتر کو اپنی ستائیسویں سالگرہ کے دو دن بعد وہ سونے کے لیے اپنی خواب گاہ کے اندر گئے اور پھر کبھی باہر نہ آئے۔ وہ نیند میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔
ایزرا پاؤنڈ کی وفات کے وقت ان کی بیوی ڈوروتھی اور محبوبہ اولگا دونوں حیات تھیں۔ ڈوروتھی اگلے سال ستاسی برس کی عمر میں اور ان کی محبوبہ اولگا انیس سو چھیانوے میں سو برس کی عمر میں فوت ہوئیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہے مرنے کے بعد بھی ان کی بیگم کی قبر ان سے سینکڑوں میل دور تھی جب کہ ان کی محبوبہ ان کی قبر کی ساتھ والی قبر میں دفن ہوئیں۔
ایزرا پاؤنڈ کی محبوبہ زندگی میں ہی نہیں مرنے کے بعد بھی ان کے دل کے قریب رہیں۔
نفسیاتی تجزیہ
جب ہم ایزرا پاؤنڈ کی شخصیت کا نفسیاتی تجزیہ کرتے ہین تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جوانی میں خود پسندی اور نرگسیت کا شکار رہے۔ وہ اپنے آپ کو نہ صرف اپنے عہد کا سب سے بڑا شاعر سمجھتے تھے بلکہ ایک عظیم دانشور بھی سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے دور کے سقراط ہیں۔ وہ امریکی حکومت پر اپنی تنقید کو سقراط کی یونانی حکومت پر تنقید کے برابر سمجھتے تھے۔
ایذرا پاؤنڈ کی شخصیت کا دوسرا اہم پہلو ان کی دیگر ادیبوں اور شاعروں سے دوستی تھی۔ ان کے چار ادبی دوستوں کو ادب کا نوبل انعام ملا۔ وہ سب ایذرا پاؤنڈ کی شاعری کی اتنی عزت کرتے تھے اور ان کی ادبی رائے کا اتنا احترام کرتے تھے کہ ارنسٹ ہیمنگ وے نے ادب کا نوبل انعام لیتے ہوئے کہہ دیا کہ اس انعام کا اصل حقدار ایذرا پاؤنڈ ہے۔
ایذرا پاؤنڈ کے دوستوں کے ساتھ ساتھ ان کے مداحوں اور پرستاروں کا حلقہ بھی وسیع تھا۔ اس حلقے میں عوام و خواص سبھی شامل تھے اور وہ ان کی ہر طرح سے مدد کرنے کو تیار تھے۔ ایذرا پاؤنڈ کے مداحوں میں وہ ماہرین نفسیات بھی شامل تھے جنہوں نے انہیں غداری کے مقدمے میں سزائے موت سے بچایا۔ ان ماہرین نفسیات نے اپنی پیشہ ورانہ شہرت اور عزت کو داؤ پر لگاتے ہوئے ان کی حمایت کی۔
ایذرا پاؤنڈ کی زندگی کے آخری چند سال بہت تکلیف دہ تھے۔ جب ان کے ادبی دوست ایک ایک کر کے دار فانی سے کوچ کر گئے تو وہ نہ صرف تنہا رہ گئے بلکہ بہت دکھی اور اداس بھی ہو گئے۔
جب بڑھاپے میں انہوں نے ماضی کی طرف نگاہ کی اور وہ خود احتسابی کے مرحلے سے گزرے تو ان کے دل پر ندامت و خجالت کے مہیب سائے لہرانے لگے اور ان کی نرگسی شخصیت شکست و ریخت کا شکار ہو گئی۔
ایذرا پاؤنڈ کی شخصیت اور شاعری ہم سب سے ایک چبھتا ہوا سوال پوچھتی ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں کسی شاعر کی شاعری کو ادب اور فن کے پیمانوں پر پرکھنا چاہیے یا شاعر کی اخلاقی اور سیاسی قدروں کی کسوٹی پر؟
فکر ہر کس بقدر ہمت اوست۔

